حدیث نمبر: 8199
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ ، أَوْ شَتَمْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، أَوْ لَعَنْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 8200
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ قَبْلَنَا ، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجَزَنَا ، فَطَيَّبَهَا لَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال قرار نہیں دیا گیا لیکن اللہ نے جب ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو اسے ہمارے لئے حلال قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
حدیث نمبر: 8201
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَتْ النَّارَ امْرَأَةٌ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا ، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا ، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا ، تُرَمِّمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 8202
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسْرِقُ سَارِقٌ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي زَانٍ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، وَلَا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَغِلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغِلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی عمدہ چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اٹھا کر دیکھیں لوٹتے وقت مومن نہیں ہوتا اور تم میں سے کوئی شخص خیانت کرتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57، وقوله: « فإياكم إياكم » من قول أبي هريرة
حدیث نمبر: 8203
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 153
حدیث نمبر: 8204
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلْقَوْمِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 8205
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا ، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ " . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : يَعْنِي : الْعَرْفُ : الرِّيحُ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تر و تازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 8206
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي ، فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا وَلَا آكُلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واللہ جب میں اپنے گھر واپس جاتاہوں اور مجھے اپنے بستر پر یا گھر کے اندر کوئی کھجور گری پڑی نظر آتی ہے تو میں اسے کھانے کے لئے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہیں یہ صدقہ کی نہ ہو تو میں اسے ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2432، م: 1070
حدیث نمبر: 8207
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُونَ تَسْتَفْتُونَ حَتَّى يَقُولَ أَحَدُكُمْ : هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتی کہ تم میں سے بعض لوگ یہ سوال بھی کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135
حدیث نمبر: 8208
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے متعلق اپنی قسم پر (غلط ہونے کے باوجود) اصرار کرے تو یہ اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں اس کفارہ سے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے زیادہ بڑے گناہ کی بات ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6625، م: 1655
حدیث نمبر: 8209
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ ، وَاسْتَحَبَّاهَا ، فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو آدمیوں کو قسم کھانے پر مجبور کیا جائے اور دونوں قسم کھانا چاہیں تو قرعہ اندازی کر لینی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2674
حدیث نمبر: 8210
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا أَحَدُكُمْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً ، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا يَرْضَى ، وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 8211
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّيْخُ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت پیدا ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 8212
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ نَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ہوسکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ سے اسے چھین لے اور وہ آدمی جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7072، م: 2617
حدیث نمبر: 8213
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4073، م: 1793
حدیث نمبر: 8214
وَقَالَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آدمی پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوتا ہے جسے کسی نبی نے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنے ہاتھ سے قتل کیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8215
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا ، أَدْرَكَ لَا مَحَالَةَ ، فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ ، وَيُصَدِّقُهَا الإِعْرَاضُ ، وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ النُّطْقُ ، وَالْقَلْبُ التَّمَنِّي ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا ثَمَّ وَيُكَذِّبُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے۔ انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657
حدیث نمبر: 8216
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا فَأَقَمْتُمْ فِيهَا ، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا ، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس بستی میں تم داخل ہوئے اور وہاں کچھ عرصہ اقامت کی اس کی فتح کے بعد مال غنیمت میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا ہے پھر تمہارا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1756
حدیث نمبر: 8217
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے اسلام میں حسن پیدا ہوجائے تو ہر وہ نیکی جو وہ کرتا ہے اس کے بدلے میں دس سے لے کر سات سو گنا تک ثواب لکھا جاتا ہے اور ہر وہ گناہ جو اس سے سرزد ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہی لکھا جاتا ہے۔ تاآنکہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 42، م: 129
حدیث نمبر: 8218
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ ، فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ ، فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَفِيهِمْ الضَّعِيفَ وَفِيهِمْ السَّقِيمَ ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ ، فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بیمار سب ہی ہوتے ہیں البتہ جب تنہا نماز پڑھا کرو تو جتنی مرضی طویل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 703، م: 467
حدیث نمبر: 8219
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ : رَبِّ ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً ، وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ ، فَقَالَ : " ارْقُبُوهُ ، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا ، وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً ، إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے عرض کرتے ہیں پروردگار آپ کا فلاں بندہ گناہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہے اللہ باوجودیکہ اسے خوب دیکھ رہا ہوتا ہے فرشتے سے فرماتا ہے کہ اس کی نگرانی کرتے رہوا گر یہ گناہ کر بیٹھے تو صرف اتنا ہی لکھنا جتنا اس نے کیا اور اگر گناہ چھوڑ دے تو اس کے لئے نیکی لکھ دینا کیونکہ اس نے گناہ میری وجہ سے چھوڑا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 129
حدیث نمبر: 8220
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ : فَلَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ يَقُولُ : اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 4975
حدیث نمبر: 8221
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا مِنَ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 8222
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اللہ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ وضو کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 135، م: 225
حدیث نمبر: 8223
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے پکارا جائے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 8224
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " ، قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَقْتُلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کردیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کس طرح ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی تو شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگیا پھر اللہ نے دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اسے بھی اسلام کی طرف ہدایت دے دی اور وہ بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کر کے شہید ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890
حدیث نمبر: 8225
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 8226
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلَ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5396، م: 2062
حدیث نمبر: 8227
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْت أَبِي يَقُولُ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ : يَا أَبَا بَكْرٍ أُفَصِّلُ ، يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ ، كَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ حُسْنُ هَذَا الْحَدِيثِ وَجَوْدَتُهُ . قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8227
حدیث نمبر: 8228
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يُسَمَّ خَضِرًا إِلَّا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ " . الْفَرْوَةُ : الْحَشِيشُ الْأَبْيَضُ وَمَا أَشْبِهُهُ . قَالَ عَبْد اللَّهِ : أَظُنُّ هَذَا تَفْسِيرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3402
حدیث نمبر: 8229
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى الْمُسْبِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے والے پر نظر رحم نہیں فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو بلفظ آخر فى البخاري: 5788
حدیث نمبر: 8230
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ سورة البقرة آية 58 ، فَبَدَّلُوا ، فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ ، وَقَالُوا : حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد باری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حبۃ فی شعرۃ (جو کے دانے درکار ہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3403، م: 3015
حدیث نمبر: 8231
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ ، فَلْيَضْطَجِعْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو اور اس کی زبان پر قرآن نہ چڑھ رہاہو اور اسے یہ پتہ ہی نہ چل رہا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے (نیند کا اتنا اثر ہو) تو اسے دوبارہ لیٹ جانا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 787
حدیث نمبر: 8232
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُلُ ابْنُ آدَمَ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ، إِنِّي أَنَا الدَّهْرُ ، أُرْسِلُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 8233
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى بِحُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ وَصَحَابَةِ سَيِّدِهِ ، نِعِمَّا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی غلام کے لئے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اپنی بہترین عبادت اور اس کے آقا کی اطاعت کے ساتھ موت دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1667
حدیث نمبر: 8234
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ ، فَإِنَّهُ مُنَاجٍ لِلَّهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا ، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ جب تک وہ اپنے مصلی پر رہتا ہے اللہ سے مناجات کرتا رہتا ہے اور نہ ہی دائیں جانب تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور بعد میں اسے مٹی میں ملا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 8235
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ : أَنْصِتُوا ، وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ ، فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جب وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 8236
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي ، فَأَنَا وَلِيُّهُ ، وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْ مَالَهُ عُصْبَتُهُ مَنْ كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق تمام مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں لہٰذا تم میں سے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 8237
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، وَارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ، وَارْزُقْنِي ، لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعا کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے مجھ پر رحم فرما دے یا مجھے رزق دے دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 8238
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لَا يَتَّبِعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ ، وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا ، وَلَا أَحَدٌ قَدْ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا . فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا ، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا ، فَأَقْبَلَتْ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ ، فَقَالَ : فِيكُمْ غُلُولٌ ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ ، فَبَايَعُوهُ ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : فِيكُمْ الْغُلُولُ ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ ، قال : فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ ، فَلَصِقَ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : فِيكُمْ الْغُلُولُ ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ ، فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ ، فَأَقْبَلَتْ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا ، فَطَيَّبَهَا لَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی جہاد کے لئے روانہ ہوئے انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ آدمی نہ جائے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو ابھی تک رخصتی نہ ہوئی ہو اور وہ اب رخصتی چاہتا ہو یا وہ آدمی جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو مگر ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو یا وہ آدمی جس نے بکریاں یا امید کی اونٹنیاں خریدی ہو اور وہ ان کے یہاں بچے پیدا ہونے کے منتظر ہو یہ کہہ کر وہ روانہ ہوئے اور نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب قریب اس بستی میں پہنچے (جہاں انہوں نے دشمن سے جنگ کرنا تھی) انہوں نے سورج سے کہا کہ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اللہ کے حکم کا پابند ہوں اے اللہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی جگہ پر محبوس فرما دے چنانچہ سورج اپنی جگہ ٹھہرا رہا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح سے ہمکنار کردیا انہوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا آگ اسے جلانے کے لئے آئی لیکن اسے جلایا نہیں پیغمبر وقت نے فرمایا تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے اس لئے ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے سب لوگوں نے بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گئے انہوں نے فرمایا کہ تم نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے چنانچہ انہوں نے گائے کی سری کے برابر سونا نکالا اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا جو ایک چبوترے پر جمع تھا آگ آئی اور اسے کھا گئی ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال نہ تھا یہ تو اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو ہمارے لئے اسے حلال کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747