حدیث نمبر: 8159
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا ، خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ : " يَا أَيُّوبُ ، أَلَمْ أَكُنْ أُغْنِيكَ عَمَّا تَرَى ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر جبکہ وہ کپڑے اتار کر غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں پروردگار لیکن آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 8160
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُفِّفَتْ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام الْقِرَاءَةُ ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ فَتُسْرَجُ ، وَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام پر قرأت کو ہلکا پھلکا کردیا گیا تھا چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے کتاب (زبور) پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 8161
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے
حدیث نمبر: 8162
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُسَلِّمْ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹا بڑے کو گذرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ افراد کو سلام کریں۔
حدیث نمبر: 8163
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔
حدیث نمبر: 8164
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتْ النَّارُ : أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ : فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ سَفَلَتُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ ؟ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْجَنَّةِ : " إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَةٌ أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي " ، وَقَالَ لِلنَّارِ : " إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي " ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِجْلَهُ فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ قَطْ أَيْ : حَسْبِي ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا ، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔ اور جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 8165
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 8166
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : " إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً ، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَفْعَلْ ، فَإِذَا عَمِلَهَا ، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا ، وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَفْعَلَ سَيِّئَةً ، فَأَنَا أَغْفِرُهَا مَا لَمْ يَفْعَلْهَا ، فَإِذَا عَمِلَهَا ، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو میں اسے ایک نیکی لکھتا ہوں پھر اگر وہ اس پر عمل کرلے تو اسے دس گنا بڑھا کر لکھ لیتاہوں اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے نہیں لکھتا اگر وہ گناہ کر گذرے تو صرف ایک ہی گناہ لکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8167
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَيْدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سے کسی ایک کے کوڑے کی جگہ آسمان اور زمین سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8168
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ : تَمَنَّ وَيَتَمَنَّى ، فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ تَمَنَّيْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں ؟ وہ کہے گا جی ہاں تو حکم ہوگا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے عطاء ہوں گی اور اتنی ہی مزید عطاء ہوں گی۔
حدیث نمبر: 8169
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ يَنْدَفِعُ النَّاسُ فِي شُعْبَةٍ ، أَوْ فِي وَادٍ ، وَالْأَنْصَارُ فِي شُعْبَةٍ ، لَانْدَفَعْتُ معَ الأْنصارِ فِي شِعْبِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا۔
حدیث نمبر: 8170
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ ، لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
حدیث نمبر: 8171
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ لَهُ : " اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ ، فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ " . قَالَ : فَذَهَبَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالُوا : السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَزَادُوهُ : رَحْمَةَ اللَّهِ ، قَالَ : فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ ، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، فَلَمْ يَزَلْ يَنْقُصُ الْخَلْقُ بَعْدُ حَتَّى الْآنَ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اپنی صورت پر فرمائی ان کا قد ساٹھ گز لمبا رکھا اور تخلیق کے بعد ان سے فرمایا اس جماعت کے پاس جو فرشتوں پر مشتمل ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی جاؤ اور انہیں سلام کرو اور وہ جو جواب دیں اسے توجہ سے سنو کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا باہمی ملاقات کے وقت افتتاحی کلام ہوگا چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام نے وہاں جا کر السلام علیکم کہا فرشتوں نے جوابا کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ گویا انہوں نے و رحمۃ اللہ کا اضافہ کردیا اب ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ گز لمبا ہوگا دنیا میں البتہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق کا قد مسلسل گھٹتا رہا یہاں تک کہ اس صورت حال پر آپہنچا (جو ہم دیکھ رہے ہیں) ۔
حدیث نمبر: 8172
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، قَالَ : فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي . قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ عَيْنَهُ ، وَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي ، فَقُلْ : الْحَيَاةَ تُرِيدُ ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ بِيَدِكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً " . قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ تَمُوتُ " ، قَالَ : فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ ، قَالَ : رَبِّ أَدْنِنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ " ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملک الموت کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا گیا اور وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا ؟ اور اس نے میری آنکھ بھی پھوڑ دی اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ اگر زندگی کے خواہاں ہیں تو ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر بیت المقدس کے قریب کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی جانب ایک سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا۔
حدیث نمبر: 8173
وَقَالَ : وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً ، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ ، قَالَ : فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِ مُوسَى ، قَالَ : فَجَمَحَ مُوسَى يَأْمُرُهُ يَقُولُ : ثَوْبِي حَجَرُ ، ثَوْبِي حَجَرُ . حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى ، وَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا " ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ نَدْبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً ، ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے واللہ انہیں ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف اس وجہ سے رکاوٹ ہوتی ہے کہ ان کے غدود پھولے ہوئے ہیں ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ پر پڑگئی اور وہ کہنے لگے کہ واللہ موسیٰ میں تو کوئی عیب نہیں ہے وہیں وہ پتھر بھی رک گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے اپنے کپڑے لے کر اسے مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ اس پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مار کی وجہ سے چھ سات نشان پڑگئے تھے۔
حدیث نمبر: 8174
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے
حدیث نمبر: 8175
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الظُّلْمِ مَطْلَ الْغَنِيِّ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 8176
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ ، رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ ، لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر اور پسندیدہ نام اس شخص کا ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے حالانکہ اصل حکومت تو اللہ کی ہے۔
حدیث نمبر: 8177
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ ، خُسِفَتْ بِهِ الْأَرْضُ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا حَتَّى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے ناز وتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے آپ پر بڑا عجب محسوس ہو رہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 8178
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8179
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ ، كَمَا تُنْتِجُونَ الْإِبِلَ ، فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو ؟ الاّ یہ کہ تم خود ہی اس کی ناک کاٹ دو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ بچے جو بچپن میں ہی مرجاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے ؟
حدیث نمبر: 8180
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا ، فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالُوا : أَيُّ عَظْمٍ هُوَ ؟ قَالَ : " عَجْمُ الذَّنَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسم انسانی میں ایک ہڈی ایسی ہے جسے زمین کبھی نہیں کھاتی۔ اس سے انسان کو قیامت کے دن جوڑ کر کھڑا کردیا جائے گا لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون سی ہڈی ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ریڑھ کی ہڈی۔
حدیث نمبر: 8181
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَاكُمْ مِثْلُكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حدیث نمبر: 8182
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْوَضُوءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ، إِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حدیث نمبر: 8183
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ الشَّمْسُ " ، قَالَ : " تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ تَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ " ، وَقَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ " ، وَقَالَ : " كُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر عضو پر صدقہ ہے اور یہ حکم روزانہ کا ہے جب تک سورج طلوع ہوتا رہے نیز فرمایا کہ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا بھی صدقہ ہے کسی کو جانور پر سوار ہونے میں مدد فراہم کرنا یا اس پر کسی کا سامان لادنا بھی صدقہ ہے اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 8184
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا رَبُّ النَّعَمِ لَمْ يُعْطِ حَقَّهَا ، تُسَلَّطُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَخْبِطُ وَجْهَهُ بِأَخْفَافِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بکریوں کا مالک ان کا حق زکوٰۃ ادانہ کرے قیامت کے دن ان بکریوں کو اس پر مسلط کردیا جائے گا جو اس کے چہرے کو کھروں سے روندتی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 8185
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ " ، قَالَ : " وَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَيَطْلُبُهُ وَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن خزانے والے کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن جائے گا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا اور کہتا جائے کہ میں تیرا خزانہ ہوں واللہ وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے منہ میں لقمہ بنا لے گا۔
حدیث نمبر: 8186
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ، ثُمَّ تَغْتَسِلْ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 8187
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ هَذَا الطَّوَافَ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ ، تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ ، وَيَسْتَحِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ ، فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جس کے پاس خود ہی مالی کشادگی نہ ہو اور وہ لوگوں سے سوال کرتے ہوئے بھی شرماتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔
حدیث نمبر: 8188
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور کوئی عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں نہ آنے دے اور عورت اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرتی ہے اس کا نصف ثواب اس کے شوہر کو ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 8189
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ انْقَطَعَ عَمَلُهُ ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنُ عُمُرُه إِلَّا خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنانہ کرے اور موت آنے سے قبل اس کی دعانہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی بھی جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں جبکہ مومن اپنی زندگی میں خیر ہی کا اضافہ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 8190
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی انگور کے باغ کو کرم نہ کہے کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
حدیث نمبر: 8191
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ ، فَقَالَ له الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ : خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي ، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ ، وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ . وَقَالَ الَّذِي بَاعَ الْأَرْضَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا ، قَالَ : فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا : لِي غُلَامٌ . وَقَالَ الْآخَرُ : لِي جَارِيَةٌ قَالَ : أَنْكِحْ الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ ، وَتَصَدَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے دوسرے سے زمین کا ایک حصہ خریدا خریدار کو اس زمین میں سونے سے بھرا ہوا ایک مٹکا ملا اس نے جس سے وہ زمین خریدی تھی اس سے جا کر کہا کہ یہ اپنا سونا لے لیجئے میں نے تو آپ سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا بائع (بچنے والا) کہنے لگا کہ میں نے تو آپ کے ہاتھ وہ زمین اس میں موجود تمام چیزوں کے ساتھ فروخت کردی ہے (لہٰذا اس سونے کے مالک آپ ہیں) وہ دونوں اپنا جھگڑا ایک تیسرے آدمی کے پاس فیصلے کے لئے لے گئے فیصلہ کرنے والے نے پوچھا کہ کیا تم دونوں کے یہاں اولاد ہے ؟ ایک نے کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے دوسرے نے کہا کہ میری ایک بیٹی ہے ثالث نے کہا کہ لڑکے کا نکاح لڑکی سے کردو اور اس سونے کو ان دونوں پر خرچ کرکے صدقہ کردو۔
حدیث نمبر: 8192
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا ضَلَّتْ مِنْهُ ثُمَّ وَجَدَهَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ مِنْ أَحَدِكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا وَجَدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی شخص کی سواری گم ہوجائے اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے یا نہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ توبہ کرتا ہے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی سواری ملنے پر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 8193
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ ، تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ ، تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ ، جِئْتُهُ بِأَسْرَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8194
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اسے ناک کے نتھنوں میں پانی ڈال کر اسے اچھی طرح صاف کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 8195
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنِّي ، لَيْسَ شَيْئًا أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حدیث نمبر: 8196
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَكُمْ الصَّانِعُ بِطَعَامِكُمْ قَدْ أَغْنَى عَنْكُمْ عَنَاءَ حَرِّهِ وَدُخَانِهِ ، فَادْعُوهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَكُمْ ، وَإِلَّا فَلَقِّمُوهُ فِي يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں گرمی سردی اور مشقت سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
حدیث نمبر: 8197
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : اسْقِ رَبَّكَ ، أَطْعِمْ رَبَّكَ ، وَضِّئْ رَبَّكَ ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : رَبِّي ، وَلْيَقُلْ : سَيِّدِي وَمَوْلَايَ ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي ، وَأَمَتِي ، وَلْيَقُلْ : فَتَايَ فَتَاتِي ، وَغُلَامِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص آقا کے متعلق یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلاؤ اپنے رب کو کھانا کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ اسی طرح کوئی شخص اپنے آقا کو میرا رب نہ کہے بلکہ میرا سردار میرا آقا کہے اور تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی، اَمَتی بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان میرا غلام۔
حدیث نمبر: 8198
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، لَا يَبْصُقُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ فِيهَا ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ فِيهَا ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا ، آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ ، يُرَى مُخَّ سَاقَهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ ، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے ان کی کنگھیاں اور برتن سونے کے ہوں گے ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوگی جن کی پنڈلیوں کا گودا حسن کی وجہ سے گوشت سے باہر نظر آئے گا ان کے درمیان کوئی اختلاف اور بغض نہیں ہوگا ان سب کے دل قلب قلب واحد کی طرح ہوں گے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے۔
…