حدیث نمبر: 8119
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ يَسْأَلُ رَبَّهُ شَيْئًا ، إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 8120
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ : مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ ، وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ " ، وَقَالَ : " يَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَقَالُوا : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو باری باری تمہارے پاس آتے ہیں ان میں سے کچھ فرشتے رات کو آتے ہیں اور کچھ دن کو آتے ہیں یہ فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکھٹے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رہ چکے ہوتے ہیں وہ آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 555، م: 632
حدیث نمبر: 8121
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649
حدیث نمبر: 8122
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ : أَحَدُكُمْ آمِينَ ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ ، فَيُوَافِقُ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہے اور فرشتے بھی اس پر آمین کہیں تو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 781، م: 410
حدیث نمبر: 8123
وَقَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " ، قَالَ : بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کرلیے جارہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس پر سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1322
حدیث نمبر: 8124
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6637
حدیث نمبر: 8125
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 8126
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَارُكُمْ هَذِهِ ، مَا يُوقِدُ بَنُو آدَمَ ، جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِن حَرِّ جَهَنَّمَ " ، قَالُوا : وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا ، كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری یہ آگ جسے بنی آدم جلاتے ہیں جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! واللہ یہ ایک جز بھی کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ اس سے ٦٩ درجے زیادہ تیز ہے اور ان میں سے ہر درجہ اس کی حرارت کی مانند ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3265، م: 2843
حدیث نمبر: 8127
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ ، كَتَبَ كِتَابًا ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا تو اپنی کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751
حدیث نمبر: 8128
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا ، فَلَا يَجْهَلْ ، وَلَا يَرْفُثْ ، فَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ ، إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہئے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 8129
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ جَرَّايَ ، فَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے روزہ دار میری وجہ سے اپنا کھانا پینا اور خواہش پر عمل کرنا ترک کردیتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 8130
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، وَأَمَرَ بِالنَّارِ ، فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اپنے سامان کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا اور چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ سزا دی ؟ (صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا سب نے تو نہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241
حدیث نمبر: 8131
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي ، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ انہیں سواری مہیا کرسکوں اور وہ اتنی وسعت نہیں پاتے کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 8132
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ تُسْتَجَابُ لَهُ ، وَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198
حدیث نمبر: 8133
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ لَمْ يُحِبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، لَمْ يُحِبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس ملنے کو پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7504، م: 2685
حدیث نمبر: 8134
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ يَعْصِينِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعْ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835
حدیث نمبر: 8135
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمْ الْمَالُ ، وَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ " وَقَالَ : " وَيُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَيَقْتَرِبَ الزَّمَانُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : الْهَرْجُ ، أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ ، الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم میں مال کی ریل پیل نہ ہوجائے یہاں تک کہ مالدار آدمی ان لوگوں کو تلاش کرنے میں فکرمند ہوگا کہ جو اس کے مال کا صدقہ قبول لیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب علم اٹھا لیا جائے گا زمانہ قریب آجائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل۔ قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 8136
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو بڑے عظیم لشکروں میں جنگ نہ ہوجائے ان دونوں کے درمیان خوب خونریزی ہوگی اور دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3609، م: 157
حدیث نمبر: 8137
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْبَعِثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب دجال و کذاب لوگ نہ آجائیں جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7121، م: 157
حدیث نمبر: 8138
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ ، آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، وَذَلِكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4636، م: 157
حدیث نمبر: 8139
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، وَيَقُولَ لَهُ : اذْكُرْ كَذَا ، واذْكُرْ كَذَا ، لِمَا لَمْ يَكُنْ يُذْكَرُ مِنْ قَبْلُ ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دو بارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو اور وہ باتیں یاد کراتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں حتی کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389
حدیث نمبر: 8140
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى ، لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ! فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ ، قَالَ : وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضُ ، يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے تم یہی دیکھ لو کہ اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں قبضہ ہے جس سے وہ بلند کرتا اور جھکاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7419، م: 993
حدیث نمبر: 8141
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ ، لَأَنْ يَرَانِي ، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَمِثْلِهِمْ مَعَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3589، م:2364
حدیث نمبر: 8142
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ كِسْرَى ، ثُمَّ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَقَيْصَرُ لَيَهْلِكَنَّ ، ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ ، وَلَتُقَسِّمُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3618 م: 2918
حدیث نمبر: 8143
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 8144
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا أُهْلِكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ ، فَاجْتَنِبُوهُ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ ، فَأْتَمِرُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 8145
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ ، صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَأَحَدُكُمْ جُنُبٌ ، فَلَا يَصُمْ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب فجر کی نماز کے لئے اذان ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص جنبی ہو تو وہ اس دن کا روزہ نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8146
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677
حدیث نمبر: 8147
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخُلُقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ فِيمَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو جسم اور مال کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والا نظر آئے تو یاد رکھو کہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963
حدیث نمبر: 8148
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طُهْرُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ ، أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 172 ، م: 279
حدیث نمبر: 8149
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي لِلنَّاسِ ، ثُمَّ نُحَرِّقَ بُيُوتًا عَلَى مَنْ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میرا دل چاہتا ہے کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیاں جمع کریں پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے پھر ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 8150
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6998، م: 523
حدیث نمبر: 8151
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ ، أَوْ شِرَاكُهُ ، فَلَا يَمْشِ فِي إِحْدَاهُمَا بِنَعْلٍ وَالْأُخْرَى حَافِيَةٌ ، لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا ، أَوْ لِيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک پاؤں میں جوتی اور دوسرا پاؤں خالی لے کر نہ چلے یا تو دونوں جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 8152
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : " لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدَّرْتُهُ لَهُ ، وَلَكِنَّهُ يَلْقِيهِ النَّذْرُ بِمَا قَدَّرْتُهُ لَهُ ، يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ، يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ آتَانِي عَلَيْهِ مِنْ قَبْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں نے جس چیز کا فیصلہ نہیں کیا ابن آدم کی منت اسے وہ چیز نہیں دلا سکتی۔ البتہ منت کے ذریعے میں کنجوس آدمی سے پیسہ نکلوا لیتا ہوں وہ مجھے منت مان کر وہ کچھ دے دیتا ہے جو اپنے بخل کی حالت میں کبھی نہیں دیتا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (اے ابن آدم) خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640
حدیث نمبر: 8153
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ " ، وَسَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کا نام چال رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3029، م: 993، 1740
حدیث نمبر: 8154
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا يَسْرِقُ ، فَقَالَ لَهُ عِيسَى : سَرَقْتَ ؟ قَالَ : كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، قَالَ عِيسَى : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، وَكَذَّبْتُ عَيْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا کہ چوری کرتے ہو ؟ اس نے جھٹ کہا ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں (جس کی تو نے قسم کھائی) اور اپنی آنکھوں کو خطاء کار قرار دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3444، م: 2368
حدیث نمبر: 8155
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ مَا أُوتِيكُمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَا أَمْنَعُكُمُوهُ ، إِنْ أَنَا إِلَّا خَازِنٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں کچھ نہیں دیتا اور نہ ہی روکتا ہوں میں تو خازن ہوں جہاں حکم ہوتا ہے وہاں رکھ دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3117
حدیث نمبر: 8156
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے تم امام سے اختلاف نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 8157
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں صفیں سیدھی رکھا کرو کیونکہ صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 722، م: 435
حدیث نمبر: 8158
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ ؟ ! فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَاصْطَفَاكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَانَ قَدْ كُتِبَ عَلَيَّ أَنْ أَفْعَلَ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُخْلَقَ ؟ ! قَالَ : فَحَاجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السلام " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ ہمارے باوا ہیں آپ نے ہمیں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوادیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کرلیا تھا ؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652