حدیث نمبر: 8079
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ صَوْتَهُ ، فَقَالَ : " ادْخُلْ " ، فَقَالَ : إِنَّ فِي الْبَيْتِ سِتْرًا فِي الْحَائِطِ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَاقْطَعُوا رُؤُوسَهَا ، فَاجْعَلُوهَا بِسَاطًا أَوْ وَسَائِدَ فَأَوْطَئُوهُ ، فَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا دراصل گھر میں ایک پردہ ہے جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی ہے اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے کیونکہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویریں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ ، دَخَلَ عُمَرُ ، فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کچھ حبشی نیزوں سے کرتب دکھا رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے وہ انہیں مارنے کے لئے کنکریاں اٹھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر انہیں چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2901، م: 893
حدیث نمبر: 8081
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا ، لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2546
حدیث نمبر: 8082
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا ، لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کروگے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی پھر اللہ سے معافی مانگے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2749
حدیث نمبر: 8083
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ ، فَخَالِفُوهُمْ " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ ، فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیاہ خضاب بہت پسند ہے اور معمر کہتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ سیاہ خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيحان، خ: 5899، م: 2103
حدیث نمبر: 8084
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جاسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2354، م: 1566
حدیث نمبر: 8085
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَى بِكَفِّيْهِ (۱) عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ». ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَثْرَ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: «لَا حَوْلَ (۲) وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ». ثُمَّ مَشَى سَاعَةٌ فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ، وَمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقُّ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جا رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیرچلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ ولا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے ؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8086
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُحْسِنٌ فَيَزْدَادَ إِحْسَانًا ، وَإِمَّا مُسِيءٌ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7235، م: 2682
حدیث نمبر: 8087
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ : وَاللَّاتِ ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس میں یوں کہہ دے لات کی قسم تو اسے دوبارہ کلمہ پڑھنا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلتے ہیں تو اسے صرف اتنی بات کہنے پر کوئی چیز صدقہ کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4860، م: 1647
حدیث نمبر: 8088
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لَمْ يَحْنَثْ " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَهُوَ اخْتَصَرَهُ ، يَعْنِي مَعْمَرًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ لے تو وہ اپنی قسم میں حانث نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8089
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يوُحَنِّسَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ابوقاسم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1386
حدیث نمبر: 8090
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ ، يَعْنِي لِرَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ : " هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا ، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ : إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا ، وَقَدْ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَى النَّارِ " ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيلَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَمُتْ ، وَلَكِنْ بِهِ جِرَاحٌ شَدِيدٌ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَإنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدعی اسلام کے متعلق فرمایا کہ یہ جہنمی ہے جب ہم لوگ لڑائی میں شریک ہوئے تو اس نے خوب بہادری کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا اور اسے کئی زخم آئے کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے جس آدمی کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے اس نے تو آج بڑی بہادری سے جنگ میں حصہ لیا ہے اور فوت ہوگیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم میں پہنچ گیا۔ اس پر قریب تھا کہ لوگ شک میں پڑجاتے کہ اسی دوران کسی نے کہا کہ وہ ابھی مرا نہیں ہے البتہ اس کے زخم انتہائی کاری ہیں رات ہوئی تو وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا اور اس نے خودکشی کرلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوسکے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد بعض اوقات کسی فاسق و فاجر آدمی سے بھی کروا لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3062، م: 111
حدیث نمبر: 8091
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يُذْعِنُ بِالْإِسْلَامِ : " إِنَّ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَاشْتَدَّ عَلَى رِجَالٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ ، وَقَدْ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3062، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8092
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " ، قَالُوا : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطَنُ شَهَادَةٌ ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہداء کی تعداد بہت کم ہوگی جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرنا بھی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
حدیث نمبر: 8093
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرَُ ، وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ بِهَا عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً ، وَمَنْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، كُتِبَ لَهُ بِهَا ثَلَاثُونَ حَسَنَةً ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمد للہ و لاالہ اللہ واللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جو شخص اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العلمین کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2695
حدیث نمبر: 8094
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَظْهَرُ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ عَلَى الْكَعْبَةِ قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ فَيَهْدِمُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک آدمی خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا اور اسے منہدم کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1591، م: 2909
حدیث نمبر: 8095
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي طَارِقٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْخُذُ مِنْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّهُنَّ فِيهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا ، وَلَا تُكْثِرْ الضَّحِكَ ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون آدمی ہے جو مجھ سے پانچ باتیں حاصل کرے اور ان پر عمل کرے یا کم از کم کسی شخص کو بتادے جو ان پر عمل کرے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور انہیں شمار کرنے لگے۔ (١) حرام کاموں سے بچوسب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔ (٢) اللہ کی تقسیم پر راضی رہو سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ (٣) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو مومن بن جاؤ گے۔ (٤) جو اپنے لئے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو مسلمان بن جاؤ گے۔ (٥) کثرت سے نہ ہنسا کرو کیونکہ کثرت ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث جيد، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي طارق، والحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8096
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، فَانْطَلَقُوا ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولًا ، ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو لِحْيَانَ ، فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ ، حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالُوا : هَذَا مِنْ تَمْرِ يَثْرِبَ ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ ، فَلَمَّا أَحَسَّهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ ، وَقَدْ جَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ ، وَقَالُوا : لَكُمْ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رجلاً ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ : أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ . قَالَ : فَقَاتَلُوهُمْ ، فَرَمَوْهُمْ ، فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ ، وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَأَعْطَوْهُمْ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ إِنْ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا ، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا : هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ ، فَجَرُّوهُ ، فَأَبَى أَنْ يَتْبَعَهُمْ ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ ، حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ ، فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ ، وَكَانَ قَدْ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمُ بَدْرٍ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا ، حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسَى مِنْ إِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا ، فَأَعَارَتْهُ ، قَالَتْ : فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي ، فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ ، قَالَتْ : فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزَعًا عَرَفَهُ ، وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ ، فَقَالَ : أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ ! مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . قَالَ : وَكَانَتْ تَقُولُ : مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ ، قَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ ، وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ . قَالَ : ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ ، فَقَالَ : دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثم قَالَ : لَوْلَا أَنْ تَرَوْا مَا بِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ . قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا : ولستُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ ، وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمی فوج کی طرف سے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجے اور عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار مقرر کیا چنانچہ وہ جاجوس چلے گئے جب مقام ہدہ میں جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے پہنچے تو قبیلہ ہذیل یعنی بنو لحیان کو ان کا علم ہوگیا اور ایک سو تیر انداز ان کے واسطے چلے اور جس جگہ جاسوسوں نے کھجوریں بیٹھ کر کھائی تھیں جو بطور زاد راہ کے مدینہ سے لائے تھے وہاں پہنچ کر کہنے لگے یہ مدینہ کی کھجوریں ہیں پھر وہ کھجوروں کے نشان کی وجہ سے ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے جو کافروں کو دیکھا تو ایک اونچی جگہ پر پناہ لے لی کافروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور کہنے لگے تم اترآؤ اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو ہم اقرار کرتے ہیں کہ کسی کو قتل نہیں کریں گے سردار جماعت یعنی حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ کی قسم آج میں تو کافر کی پناہ میں نہ اتروں گا الٰہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حال کی اطلاع دے دے کفار نے یہ سن کر ان کے تیر مارے اور عاصم سمیت سات آدمیوں کو شہید کردیا با قی تین آدمی یعنی خبیب انصاری زید بن دثنہ اور ایک اور شخص قول وقرار لے کر کفار کی پناہ میں گئے کافروں کا جب ان پر قابو چل گیا تو کمانوں کی تانت اتار کر ان کو مضبوط جکڑ لیا ان میں تیسرا آدمی بولا یہ پہلی عہد شکنی ہے اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا مجھ کو ان شہیدوں کی راہ پر چلنا ہے کافروں نے اس کو پکڑ کر کھینچا اور ہرچند ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ گیا آخر کار اس کو قتل کردیا اور خبیب و ابن دثنہ کو لے چلے اور واقعہ بدر کے بعد دونوں کو فروخت کردیا خبیب کو حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا جنگ بدر کے دن خبیب نے ہی حارث بن عامر کو قتل کیا تھا بہر حال خبیب ان کے پاس قید رہے حارث کی بیٹی کا بیان ہے کہ جب سب کافر خبیب کو شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے تو خبیب نے اصلاح کرنے کے لئے مجھ سے استرا مانگا میں نے دے دیا خبیب نے میرے ایک لڑکے کو ران پر بٹھا لیا مجھے اس وقت خبر نہ ہوئی جب میں اس کے پاس پہنچی اور میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا اس کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا اس کے ہاتھ میں ہے تو میں گھبرا گئی خبیب نے بھی خوف کے آثار میرے چہرہ پر دیکھ کر پہچان لیا اور کہنے لگے کہ کیا تم کو اس بات کا خوف ہے کہ میں اس کو قتل کردوں گا اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا بنت حارث کہتی ہے واللہ میں نے خبیب سے بہتر کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم میں نے ایک روز دیکھا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا انگور کا ایک خوشہ ہاتھ میں لئے کھا رہا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں میوہ نہ تھا درحقیقت وہ اللہ داد حصہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو مرحمت فرمایا تھا جب کفار خبیب کو قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر حل میں لے چلے تو قتل ہونے سے قبل خبیب بولے مجھے ذرا چھوڑ دو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں کافروں نے چھوڑ دیا خبیب نے دو رکعتیں پڑھ کر کہا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ یہ لوگ گمان کریں گے کہ موت سے ڈر گیا تو نماز طویل پڑھتا پھر کہنے لگے الہٰی ان سب کو ہلاک کردے ایک کو باقی نہ چھوڑ اس کے بعدیہ شعر پڑھے۔ اگرحالت اسلام میں میرا قتل ہو تو پھر مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ اللہ کے راستہ میں کس پہلو پر میری موت ہوگی۔ میرا یہ مارا جانا اللہ کے راستہ میں ہے اور اگر اللہ چاہے گا تو کٹے ہوئے عضو کے جوڑوں پر برکت نازل فرمائے گا اس کے بعدحارث کے بیٹے نے خبیب کو قتل کردیا۔ حضرت خبیب سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ہر اس مسلمان کے لئے جو اللہ کے راستہ میں گرفتار ہو کر مارا جائے قتل ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ نکالا ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے شہید ہوتے وقت جو دعا کی تھی خدا تعالیٰ نے وہ قبول کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبردے دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے عاصم رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مصائب کی کیفیت بیان فرما دی۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے چونکہ بدر کے دن کفار قریش کے ایک بڑے سردار کو مارا تھا اس لئے کافروں نے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ جا کر عاصم کی کوئی نشانی لے آؤ تاکہ نشانی کے ذریعہ سے عاصم کی شناخت ہوجائے لیکن کچھ بھڑوں (زنبور) نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش کو محفوظ رکھا اور کفار حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے بدن کا گوشت نہ کاٹ سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4086
حدیث نمبر: 8097
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8098
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَدُ الزِّنَا َشَرُّ الثَّلَاثَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زناء کی پیداوار تین آدمیوں کا شر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8099
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب
حدیث نمبر: 8100
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْتَاعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ ، وَلَا تَشْتَرِطُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اسے وہ مل کررہے گا جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8101
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَرَجُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَعَوَاتٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دعائیں سنی ہیں میں جب تک زندہ ہوں انہیں ترک نہیں کروں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے اے اللہ مجھے اپنا شکر ادا کرنے والا کثرت سے اپنا ذکر کرنے والا اپنی نصیحت کی پیروی کرنے والا اور اپنی وصیت کی حفاظت کرنے والا بنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الفرج، وأبو سعيد اختلف فى تعيينه
حدیث نمبر: 8102
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ ، وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ ، وَفِيهَا الْبَطْشَةُ ، وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جمعہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کو جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسی دن تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی جمع کی گئی اسی دن صور پھونکاجائے گا اسی میں مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اسی میں پکڑ ہوگی اور اس دن کی آخری تین ساعتیں ایسی ہیں کہ ان میں جو شخص اللہ سے دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الفرج، وعلي ليس بذاك، ولم يدرك أبا هريرة، فهو منقطع
حدیث نمبر: 8103
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ ، وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده جيد، م: 2564
حدیث نمبر: 8104
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى المعنى ، واللفظ لفظ يحيى بن آدم قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ ، فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَاسْتَنْجَى ، ثُمَّ مَسَحَ بيَدَهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ غَسَلَهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ ، فَتَوَضَّأَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی ایک مرتبہ بیت الخلاء میں داخل ہوئے میں ایک برتن لے کر حاضر ہوا جس میں پانی تھا نبی نے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر اسے دھویا پھر میں ایک برتن لایا نبی نے اس سے وضو فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8105
قَالَ أَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ : إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ فِي رَكْوَةٍ ، وَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8106
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ ، وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ : أَمَرَنِي بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى كُلَّ يَوْمٍ ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ ، وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، کتے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف شريك، وأصله في، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 8107
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
حدیث نمبر: 8108
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى جِلْدِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کی کھال تک پہنچ جائے یہ کسی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 971، وهذا إسناد فيه شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8109
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي ، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي ، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8110
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا سورة البقرة آية 58 ، قَالَ : " دَخَلُوا زَحْفًا " ، وَقُولُوا حِطَّةٌ سورة البقرة آية 58 ، قَالَ : " بَدَّلُوا فَقَالُوا : حِنْطَةٌ فِي شَعَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادباری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حنطۃ فی شعیرۃ (گندم درکار ہے جو کے ساتھ)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4479، م: 3015
حدیث نمبر: 8111
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ أَوْ قَالَ : إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2707، م: 1009
حدیث نمبر: 8112
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " سَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کا نام چال رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3029، م: 1740
حدیث نمبر: 8113
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ ، قَالَ : " إِنَّمَا سُمِّيَ خَضِرًا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ ، فَإِذَا هِيَ تَحْتَهُ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3402
حدیث نمبر: 8114
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَجِيءُ الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا ، هُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8115
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ ، الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وہ روایات ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 876، م: 855
حدیث نمبر: 8116
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا ، فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَجْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ ، وَيُعْجِبُهُمْ الْبُنْيَانُ ، فَيَقُولُونَ : أَلَا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً ، فَيَتِمُّ بُنْيَانُكَ " فَقَالَ مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے ایک نہایت حسین و جمیل اور مکمل عمارت بنائی البتہ اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286
حدیث نمبر: 8117
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا ، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي يَقَعْنَ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا ، وَجَعَلَ يَحْجِزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ ، فَتَتَقَحَّمُ فِيهَا " ، قَالَ : " فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ : هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّّ فَتَغْلِبُونِي ، تَقْتَحِمُونَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کردیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے وہ شخص انہیں پشت سے پکڑ کر کھینچنے رہا ہوں کہ آگ سے بچ جاؤ اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284
حدیث نمبر: 8118
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے باہم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے مسابقت نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ کرو ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563