حدیث نمبر: 8039
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ ، فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ ، فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1914
حدیث نمبر: 8040
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ : انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا ، ثُمَّ اطْحَنُوهُ ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ " قَالَ : أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ ، قَالَ : فَغُفِرَ لَهُ بِهَا ، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا یہاں تک وہ کوئلہ بن جائے پھر اسے خوب باریک کر کے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اسی لمحے وہ بندہ اللہ کے قبضہ میں تھا اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم تجھے اس حرکت پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا ؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ حالانکہ اس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وله إسنادان: الأول متصل صحيح، والثاني ضعيف لارساله وللجهالة، خ: 3481، م: 2756
حدیث نمبر: 8041
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8042
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ : عَمْرٌو ، وَهِشَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8043
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَبُو النَّضْرِ : سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِذَا رَأَيْنَاكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا ، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ ! قَالَ : " لَوْ تَكُونُونَ أَوْ قَالَ : لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي أَنْتُمْ عَلَيْهَا عِنْدِي ، لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهِمْ ، وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا ، لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ " . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ ، مَا بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ : " لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبؤُسُ ، وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ . ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاواتِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : " وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کی زیارت کرتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور ہم اہل آخرت میں سے ہوجاتے ہیں اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگتی ہے اور ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو سونگھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی کیفیت پر رہنے لگو جو تمہیں میرے پاس حاصل ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آنے لگیں اور اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے کر آئے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران روزہ دار تاآنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بد دعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبو المدلة
حدیث نمبر: 8044
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، قُلْتُ لِزُهَيْرٍ : أَهُوَ أَبُو الْمُجَاهِدِ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَال : حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول : قلنا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 8045
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ ، فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ ، فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ مُنْتَبَذَتَان تُوطَآَنِ ، وَمُرْ بِالْكَلْبِ يُخْرَجَ " . فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَام تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کو کاٹنے کا حکم دیجئے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے اور گھر سے کتے کو نکالنے کا حکم دے دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ اور فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قصة تمثال الرجل، فقد تفرد بها يونس، و ربما وهم فى روايته
حدیث نمبر: 8046
قَالَ : " وَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8047
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ ، يَقُولُ : " انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل عرفات کو دیکھ کر اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو بکھرے ہوئے بالوں اور گرد و غبار کے ساتھ آئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8048
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ادویات کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8049
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ ، أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8050
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ ، أَكَلَ ، وَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : " كُلُوا " ، وَلَمْ يَأْكُلْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 8051
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي هَذِهِ الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26 ، فَقَالُوا : نَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8052
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَّا وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ ، لِيَنْتَبِذْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے نفس کا خود محاسب ہے اور ہر قوم ان برتنوں میں نبیذ بنا سکتی ہے جو انہیں مناسب معلوم ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8053
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں فقر و فاقہ قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کی بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8054
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ : مَنْ يُقْرِضْ الْيَوْمَ ، يُجْزَ غَدًا ، وَمَلَكًا بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان کے ایک دروازے پر ایک فرشتہ مقرر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کون ہے جو قرض دے اور کل اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے ؟ اور دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور روک کر رکھنے والے کا مال جلد ہلاک فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1442، م: 1010
حدیث نمبر: 8055
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ ، وَمَعَهُ قِرْدٌ ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ ، شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ ، فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ ، حَتَّى قَسَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات ، لكن الصواب وقفه
حدیث نمبر: 8056
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ هَمَّامٌ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے فجر کی ایک رکعت یہ پڑھی تھی کہ سورج نکل آیا تو اسے اپنی نماز مکمل کرلینی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 556، م: 608 ، قتادة لا يعرف له سماع من بشير، والصواب أن بينهما النضر
حدیث نمبر: 8057
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 8058
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، قتادة لا يعرف له سماع من بشير، وذكر النضر بينهما - إن صح - هو الصواب ، فيتصل حينئذ
حدیث نمبر: 8059
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 8060
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ وَقَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، فَاسْتَقْبَلْنَا وَقَالَ عَفَّانُ : فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا وَنَقْتُلُهُنَّ ، فَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا ، فَقُلْنَا : مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ؟ ! فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم نے اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں ؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً ، أبو المهزم متروك الحديث
حدیث نمبر: 8061
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، وَخَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ ، فَمَاتَ ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي بِسَيْفِهِ ، يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا ، لَا يُحَاشِي مُؤْمِنًا لِإِيمَانِهِ ، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ بِعَهْدِهِ ، فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي ، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ ، يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ ، أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ ، أَوْ يَدْعُو إِلَى الْعَصَبِيَّةِ ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بدسب کو مارے مومن سے حیاء کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے وہ میرا امتی نہیں ہے اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بےمقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1448
حدیث نمبر: 8062
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعُونَ أَوْ قَالَ : تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ، كُلُّهُمْ يَرَى أَنَّهُ يَنْجُو " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے قریب) دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں حتی کہ ہر سو میں سے نوے (یا ننانوے) آدمی مارے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا خیال یہی ہوگا کہ وہ بچ جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2894
حدیث نمبر: 8063
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً ، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ ، قَالَ : فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ ، فَأَقْعَى وَاسْتَذْفَرَ ، وَقَالَ : عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْتَزَعْتَهُ مِنِّي . فَقَالَ الرَّجُلُ : تَالَلَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ ! فقَالَ الذِّئْبُ : أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ ، يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ وَخَبَّرَهُ ، وصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا أَمَارَةٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعَ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے ایک ریوڑ کے پاس آیا اور وہاں سے ایک بکری لے کر بھاگ گیا چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور بکری کو اس سے چھڑا لیا وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور لوٹ پوٹ ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے مجھے جو رزق دیا تھا تو نے وہ مجھ سے چھین لیا ؟ وہ آدمی حیران ہو کر کہنے لگا واللہ میں نے آج جیسا دن پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا بات کر رہا ہے یہ سن کر وہ بھیڑیا کہنے لگا کہ اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ دو پتھریلے علاقوں کے درمیان درختوں میں ایک آدمی ہے جو تمہیں ماضی کی خبریں اور آئندہ کے واقعات بتارہا ہے۔ وہ چرواہا یہودی تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا قرار دیا اور فرمایا کہ یہ قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے عنقریب ایک آدمی اپنے گھر سے نکلے گا اور جب واپس آئے گا تو اس کے جوتے اور کوڑے اسے یہ بتائیں گے کہ اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ نے کیا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شھر
حدیث نمبر: 8064
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَكًا ، فَسَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحِمَارِ ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم رات کے وقت مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو اور جب رات کے وقت گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2792
حدیث نمبر: 8065
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبي عبيدة
حدیث نمبر: 8066
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَا فِرْسِنَ شَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030
حدیث نمبر: 8067
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، أَعَزَّ جُنْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
حدیث نمبر: 8068
حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ ، فَقَالَ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا ، لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکرکے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3016
حدیث نمبر: 8069
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ ، يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سب سے بد ترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526
حدیث نمبر: 8070
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، والْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا يَهُمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا ، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہاہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میرے نزدیک لوگوں کا سیلاب جنت کے دروازے پر آنا میری شفاعت کی تکمیل سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لاالہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « والذي نفسي بيده لما يهمني ۔۔۔ شفاعتی » وإسناد الحدیث قابل للتحسین ، خ: 6570
حدیث نمبر: 8071
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، قال : وَكَانَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رجلٌ عَابِدٌ يُقَالُ لَهُ : جُرَيْجٌ ، فَابْتَنَى صَوْمَعَةً وَتَعَبَّدَ فِيهَا ، قَالَ فَذَكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا عِبَادَةَ جُرَيْجٍ ، فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْهُمْ : لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُصْبِيَنَّهُ ! فَقَالُوا : قَدْ شِئْنَا . قَالَ : فَأَتَتْهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا ، فَأَمْكَنَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَاعٍ كَانَ يؤُوِي غَنَمَهُ إِلَى أَصْلِ صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ ، فَحَمَلَتْ ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالُوا : مِمَّنْ ؟ قَالَتْ : مِنْ جُرَيْجٍ . فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ ، فَشَتَمُوهُ وَضَرَبُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : إِنَّكَ زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا . قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالُوا : هَا هُوَ ذَا . قَالَ : فَقَامَ فَصَلَّى وَدَعَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْغُلَامِ فَطَعَنَهُ بِإِصْبَعِهِ ، فَقَالَ : بِاللَّهِ يَا غُلَامُ ، مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : أَنَا ابْنُ الرَّاعِي ، فَوَثَبُوا إِلَى جُرَيْجٍ فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَهُ ، وَقَالُوا : نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ، ابْنُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ . قَالَ : وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ لَهَا تُرْضِعُهُ ، إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا . قَالَ : فَتَرَكَ ثَدْيَهَا ، وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . قَالَ : ثُمَّ عَادَ إِلَى ثَدْيِهَا يَمُصُّهُ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَلَيَّ صَنِيعَ الصَّبِيِّ وَوَضْعَهُ إِصْبَعَهُ فِي فَمِهِ ، فَجَعَلَ يَمُصُّهَا " ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ تُضْرَبُ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا . قَالَ : فَتَرَكَ ثَدْيَهَا ، وَأَقْبَلَ عَلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا . قَالَ : فَذَلِكَ حِينَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَتْ : حَلْقَى ! مَرَّ الرَّاكِبُ ذُو الشَّارَةِ فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَمُرَّ بِهَذِهِ الْأَمَةِ فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ! فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ ذُو الشَّارَةِ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ يَقُولُونَ : زَنَتْ ، وَلَمْ تَزْنِ ، وَسَرَقَتْ ، وَلَمْ تَسْرِقْ ، وَهِيَ تَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین لڑکوں کے علاوہ گہوارے کے اندر اور کسی نے کلام نہیں کیا۔ (١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام (٢) وہ لڑکا جو جریج سے بولا تھا۔ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص کا نام تھا اس نے اپنا گرجا بنا رکھا تھا اور وہاں عبادت کرتا تھا ایک دن بنی اسرائیل کے لوگ اس کی عبادت کا تذکرہ کر رہے تھے جسے سن کر ایک فاحشہ عورت نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں مبتلا کرسکتی ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہماری خواہش ہے۔ چنانچہ ایک روز جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ وہ عورت اس کے پاس آئی اور جریج سے کار برآری کی خواستگار ہوئی جریج نے انکار کیا تو اس عورت نے جا کر ایک چرواہے کو اپنے نفس پر قابو دیا جو جریج کے گرجے کے نیچے اپنی بکریاں رکھتا تھا اور چرواہے کے نطفہ سے اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن اس نے یہ اظہار کیا کہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے (اور غصہ میں) اسے نیچے اتارا اسے گالیاں دیں مارا پیٹا اور اس کا عبادت خانہ ڈھا دیا جریج نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس فاحشہ کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اس کے یہاں بچہ بھی پیدا ہوگیا ہے جریج نے پوچھا کہ وہ بچہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ہے چنانچہ جریج نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور پھر اس بچہ کے پاس آ کر اسے انگلی چبھا کر دریافت کیا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے ؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) اسے چومنے اور کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں پہلے کی طرح صرف مٹی کا بنادو۔ (٣) بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلا رہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کر کے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جا رہے تھے) عورت نے کہا الہٰی میرے بچہ کو ایسا نہ کرنا بچہ نے فورا دودھ پینا چھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تو نے یہ خواہش کیوں کی ؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی) اور اس باندی کو لوگ کہتے ہیں کہ تو نے زنا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے یہ فعل نہیں کئے اور وہ کہتی رہی کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے۔ (١) حضرت عیسیٰ السلام (٢) وہ بچہ جو جریج کے زمانے میں تھا (٣) اور ایک اور بچہ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار آدمی تھا اس کی ایک ماں تھی ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں اس سے ملنے کے شوق میں اس کے پاس آئی اور اس کا نام لے کر اسے پکارا اس نے اپنے دل میں کہا کہ پروردگار نماز بہتر ہے یا ماں کے پاس جانا ؟ پھر وہ نماز پڑھتا رہا اس کی ماں نے تین مرتبہ اسے پکارا پھر اس کی طبیعت پر سخت گرانی ہوئی اور وہ کہنے لگی کہ اے اللہ جریج کو فاحشہ عورتوں کا چہرہ دکھا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550
حدیث نمبر: 8072
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَانِ جُرَيْجٍ ، وَصَبِيٌّ آخَرُ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " وَأَمَّا جُرَيْجٌ فَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ ، فَكَانَ يَوْمًا يُصَلِّي ، إِذْ اشْتَاقَتْ إِلَيْهِ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ أَمْ أُمِّي آتِيهَا ؟ ثُمَّ صَلَّى ، وَدَعَتْهُ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ دَعَتْهُ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَصَلَّى ، فَاشْتَدَّ عَلَى أُمِّهِ ، وَقَالَتْ : اللَّهُمَّ أَرِ جُرَيْجًا الْمُومِسَاتِ ، ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَةً لَهُ ، وَكَانَتْ زَانِيَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8073
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ طَالَ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ ، فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2857
حدیث نمبر: 8074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ ، وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : " فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : " فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا الدَّيْنَ ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَارَّنِي بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ اور جہاد فی سبییل اللہ کو اللہ کے نزدیک افضل اعمال میں سے قرار دیا ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں میں اپنے دین پر ثابت قدم رہا ہوں اور ثواب کی نیت سے جہاد میں شریک ہوں میں آگے بڑھتا رہا ہوں اور پیٹھ نہ پھیری ہو تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے یہی سوال تین مرتبہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا آخری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی کان میں بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8076
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فِي الصَّلَاةِ ، فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ ، فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ فِيهِ ، وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ فِيهِ ، وسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز میں ہماری امامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے وہ کبھی جہری قرأت فرماتے تھے اور کبھی سری۔ لہٰذا ہم بھی ان نمازوں میں جہر کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہر کیا اور ہم بھی ان نمازوں میں سری قرأت کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سری قرأت فرمائی ہے اور میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 772، م: 396، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 8077
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 8078
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ : مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرلے حضرموت کے ایک آدمی نے یہ سن کر پوچھا اے ابوہریرہ ! حدث سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہلکی یا زوردار آواز میں ہوا کا خارج ہونا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 135، م: 225