حدیث نمبر: 7999
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ ، فَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي ، فَأَنَا بَرِيءٌ مِنْهُ ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2985.
حدیث نمبر: 8000
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ ، مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 8001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ أَبَا الْقَاسِمِ صَاحِبَ الْحُجْرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ " . قَالَ شُعْبَةُ : كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، يَعْنِي مَنْصُورًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص سے کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8002
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَشْرَبُ قَائِمًا ، فَقَالَ لَهُ : " قِه " ، قَالَ : لِمَهْ ؟ قَالَ : " أَيَسُرُّكَ أَنْ يَشْرَبَ مَعَكَ الْهِرُّ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَإِنَّهُ قَدْ شَرِبَ مَعَكَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ ، الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا اسے قے کردو اس نے پوچھا کیوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی بلا پانی پیئے ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ساتھ بلے سے بھی زیادہ شر والی چیز نے پانی پیا ہے اور وہ ہے شیطان۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث غريب، تفرد بروايته أبو زياد، والغرابة بينة فى متنه
حدیث نمبر: 8004
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكررما قبله
حدیث نمبر: 8005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ " . قال عبد الله بن أحمد : وقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ ، فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي قَوْلَهُ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کردے گا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا اگر لوگ الگ ہی رہیں تو بہتر ہے عبداللہ بن احمد۔ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے ہیں کہتے ہیں کہ میرے والد نے مرض الموت میں فرمایا اس حدیث پر نشان لگا دو کیونکہ یہ دیگر احادیث کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بات سنو اطاعت کرو اور صبر کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3604، م: 2917
حدیث نمبر: 8006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سُئِلَ عَنْ قِرَاءَةِ الْإِمَامِ فِي الصَّلواتُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يُقْرَأُ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا ، أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سرا قرأت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 8007
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ! " . قَالَ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَواتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہری نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا کہ کیا تم میں کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا کہ جی یا رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا ؟ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8008
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ ، إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات کہہ لے۔ لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہوعلی کل شیء قدیر تو یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے سونیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹادئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں پیش کرسکے گا۔ سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3293، م: 2691
حدیث نمبر: 8009
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹادئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6405، م: 2691
حدیث نمبر: 8010
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان میں سب سے بدترین چیز بےصبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8011
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سورت اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8012
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِشْرِينَ حَسَنَةً ، أَوْ حَطَّ عَنْهُ عِشْرِينَ سَيِّئَةً ، وَمَنْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چارقسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ اللہ واللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جو شخص اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العلمین کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2695
حدیث نمبر: 8013
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ . وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جارہی ہوتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 8014
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ ، أَكَلَ ، وَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : " كُلُوا " ، وَلَمْ يَأْكُلْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھرکے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرمالیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرمادیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 8015
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 8016
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَدْخُلُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فقال : " اللَّهُمَّّّ اجْعَلْه مِنهُم " ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کردی اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6542، م: 216
حدیث نمبر: 8017
حدثنا عبدُ الرحمن ، حدثنا عبدُ الواحد يعني ابنَ زيادٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد : وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ الْأَنْمَاطِيُّ ، وَكَانَ ثِقَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ مثله ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس خطبے میں توحید و رسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه قويان، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8018
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخُطْبَةُ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ ، كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8019
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں ادا کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8020
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، أَوْ نَحْوَ هَذَا ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ ، خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ مومن وضو کرتا ہے اور اپناچہرہ دھوتا ہے تو وضو کے پانی کے ساتھ اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو جب ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ کے وہ سارے گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے ہاتھ سے پکڑ کر کیے ہوں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکل آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 244
حدیث نمبر: 8021
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا ، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ ، قَالَ إِسْحَاقُ : فِي الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ ، فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ ، فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہبتاوں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے ؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی چیزسرحدوں کی حفاظت کرنے کی طرح ہے (تین مرتبہ فرمایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 251
حدیث نمبر: 8022
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ ، لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتناثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرورت شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آناپڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 615، م: 437
حدیث نمبر: 8023
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رُبَّ يَمِينٍ لَا تَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ " ، فَرَأَيْتُ فِيهَا النَّخَّاسِينَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قسم کے بہت سے مواقع ایسے ہیں جن میں انسان کی قسم زمین کے اس تکڑے سے بھی اوپر چڑھ کر اللہ کے پاس نہیں پہنچتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اس جگہ غلاموں اور جانوروں کی تجارت کرنے والوں کو دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم، وعبيد ليس بذاك المعروف
حدیث نمبر: 8024
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا ؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَا رُكُوعُكُمْ ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو ؟ واللہ مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتاہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8025
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ ، فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ ، إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہوتا ہے اس لئے عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ بھی رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، والحديث صحيح، خ: 1985، م: 1144
حدیث نمبر: 8026
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ " . قِيلَ : قِيلَ : أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا فرض نمازوں کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز پوچھا گیا کہ ماہ رمضان کے روزوں کے بعد کس دن کا روزہ سب سے زیادہ افضل ہے ؟ فرمایا اللہ کا مہینہ جسے تم محرم کہتے ہو (اس کے روزے افضل ہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1163
حدیث نمبر: 8027
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد الخدري ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم مشکل اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2573
حدیث نمبر: 8028
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ مُؤَمَّلٌ : الْخُرَاسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُ " . وَقَالَ مُؤَمَّلٌ : " مَنْ يُخَالِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تمہیں غور کرلینا چاہئے کہ تم کسے اپنا دوست بنا رہے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8029
حَدَّثَنَا مُؤَمَّّّّّّّل ، وعَبْدُ الرَّحْمَن ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ ؟ " قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصِيَامٍ وَصَلَاةٍ وَزَكَاةٍ ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ عِرْضَ هَذَا ، وَقَذَفَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، فَيُقْعَدُ ، فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2581
حدیث نمبر: 8030
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 118
حدیث نمبر: 8031
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ ؟ فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : عَنْ مَهْدِيٍّ الْعَبْديِّ .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مهدي، لكن ثبت أنه صلى الله عليه وسلم لم يصمه، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 8032
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا بَنُوا إِسْرَائِيلَ ، لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ ، وَلَمْ يَخْبُثْ الطَّعَامُ ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 3330، م: 1470، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، خلاس لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8033
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك
حدیث نمبر: 8034
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ ، إِلَّا رَجُلَيْنِ أَرَادَا الشُّهْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم کی تلاوت فرمائی آیت سجدہ پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا۔ سوائے دو آدمیوں کے جو شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8035
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ يَعْنِي الْفَرْوِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا ، فَلَا تَشْهَدَنَّ عِشَاءَ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت خوشبو لگائے وہ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 444
حدیث نمبر: 8036
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شتير مجهول
حدیث نمبر: 8037
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ ، أَوْ أُثَالَةَ أَسْلَمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ ، فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں فلاں آدمی کے باغ میں لے جاؤ اور انہیں غسل کرنے کا حکم دو ۔ فائدہ ان کا مکمل واقعہ حدیث نمبر ٧٣٥٥ میں مفصل گذر چکا ہے وہاں ملاحظہ کیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، خ: 462، م: 1764، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله، وقد توبع
حدیث نمبر: 8038
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ ؟ " قَالَ : يَا رَبِّ ، وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ أَوْ قَالَ : " مِنْ فَضْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب ! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 279