حدیث نمبر: 7959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً ، فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً ، فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ : الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : وَلَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " ، فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي .
مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبو لگا رکھی تھی ؟ انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارا مسجد کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے لہٰذا تم جا کر اسے دھو دو ۔
حدیث نمبر: 7960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُرَاتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، قَالَ : قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَ نَبِيٌّ ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، إِنَّهُ سَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " فُوابِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ الَّذِي جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھنے کا شرف پانچ سال تک حاصل ہوا ہے میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں ملکی نظم و نسق انبیاء کرام علیہماالسلام ہی چلایا کرتے تھے جب ایک نبی رخصت ہوتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین بن جاتے لیکن میرے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں ہے اس لئے اس امت میں خلفاء ہوں گے اور خوب ہوں گے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درجہ بدرجہ ہر ایک کی بیعت پوری کرو اور انہیں ان کا وہ حق دو جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے کیونکہ اللہ ان سے ان کی رعایا کے متعلق خود ہی پوچھ گچھ کرلے گا۔
حدیث نمبر: 7961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ ، قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح وشام پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو کہ اے اللہ اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ہر چیز کے پالنہار اور مالک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہوسکتا میں اپنی ذات کے شر شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں یہ کلمات صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت کہہ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 7962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرَ وَالْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں کھجور اور پانی کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 7963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : هَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : شَهْرًا ، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ ، قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِظَهْرِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَأَنْتَ هَكَذَا ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ ، هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو (ایک مہینہ) کے لئے چھوڑ دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمرے میں چٹائی پر تشریف فرما تھے جس کے نشانات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر پڑگئے تھے یہ دیکھ کر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (قیصر و) کسریٰ تو سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پئیں اور آپ اس حال میں رہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو عمدہ چیزیں فوری طور پر اسی دنیا کی زندگی میں دے دی گئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا بھی ہوتا ہے اتنا اتنا اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھا بند کرلیا۔
حدیث نمبر: 7964
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عذاب جہنم سے عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 7965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ ، قَالَ : وَنَحْنُ سَبْعَةٌ ، قال : " فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ ، لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے ستایا ہم سات افراد تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں عطاء فرمائیں ہر آدمی کے لئے صرف ایک کھجور تھی۔
حدیث نمبر: 7966
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ هَاشِمٌ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَلَا أُعَلِّمُكَ قَالَ هَاشِمٌ : أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ : لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، يَقُولُ : " أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے وہ کلمہ ہے لا قوۃ الا باللہ جسے سن کر اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے آپ کو سپرد کردیا۔
حدیث نمبر: 7967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ هَاشِمٌ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، وقَالَ مُحَمَّدٌ : عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ وَقَالَ هَاشِمٌ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ ، فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو یہ بات محبوب ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے اسے چاہئے کہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضا کے لئے محبت کیا کرے۔
حدیث نمبر: 7968
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَأَذُودَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں تم سے کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دور کروں گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو حوض سے دور کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذعَتُّهُ ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ : رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، قَالَ : فَرَدَّهُ خَاسِئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات ایک سرکش جن مجھ پر حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا کہ میری نماز تڑوا دے اللہ نے مجھے اس پر قابو فرما دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں اور صبح ہو تو تم سب اسے دیکھو لیکن پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ پروردگار مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھتکار کر بھگا دیا۔
حدیث نمبر: 7970
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمُرٌ أَنْ أَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 7971
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَتْ بِي حَيَاةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 7972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يُحَدِّثَانَ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَمَّا عَلِيٌّ فَرَفَعَهُ إلى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا يُونُسُ ، فَلَمْ يَعْدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ سورة البروج آية 3 ، قَالَ : يَعْنِي : " الشَّاهِدَ : يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَالْمَوْعُودَ : يَوْمَ الْقِيَامَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔
حدیث نمبر: 7973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ يُحَدِّثُ ، عن أبي هريرة ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ سورة البروج آية 3 ، قَالَ : " الشَّاهِدُ : يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْمَشْهُودُ : يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَالْمَوْعُودُ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یا مرفوعاً مروی ہے کہ و شاہد و مشہود میں شاہد سے مراد یوم عرفہ ہے اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔
حدیث نمبر: 7974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ : " إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي أَوْ فَسَادَ أُمَّتِي رُؤُوسٌ أُمَرَاءُ أُغَيْلِمَةٌ سُفَهَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
حدیث نمبر: 7975
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، ثَلَاثُونَ آيَةً ، شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ ، وَهِيَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ایسی ہے جس نے ایک آدمی کے حق میں سفارش کی حتی کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ سورت ملک ہے۔
حدیث نمبر: 7976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد : قَالَ أَبِي : إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، وَلَكِنْ غُنْدَرٌ كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ " ، قَالَ : وَعَسْبِ الْفَحْلِ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : هَذِهِ مِنْ كِيسِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت کو بھی شامل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ میری تھیلی میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 7977
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، حِيث بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِ بَرَاءَةٌ . فَقَالَ : مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ ؟ قَالَ : كُنَّا نُنَادِي : أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ ، فَإِنَّ أَجَلَهُ أَوْ أَمَدَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ، فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ ، وَلَا يَحُجُّ هَذَا الْبَيْتَ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ . قَالَ : فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی طرف برأت کا پیغام دے کر بھیجا تھا میں ان کے ساتھ ہی تھا کسی نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا اعلان کررہے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ یہ منادی کررہے تھے کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو مومن ہو آج کے بعد بیت اللہ کا طواف کوئی شخص برہنہ ہو کر نہیں کرسکے گا جس شخص کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو اس کی مدت چار مہینے مقرر کی جاتی ہے۔ چار مہینے گذرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری ہوں گے اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کرسکے گا یہ اعلان کرتے کرتے میری آواز بیٹھ گئی تھی۔
حدیث نمبر: 7978
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ " إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَتْ بِي حَيَاةٌ أَنْ أُدْرِكَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میری ملاقات حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوجائے گی لیکن میری رخصت کا پیغام پہلے آجائے گا تو تم میں سے جس کی بھی ان کے ساتھ ملاقات ہو وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 7979
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً ، يَعْنِي مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7980
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ تَضْرِبُوا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ ، يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ ، لَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " . وَقَالَ قَوْمٌ : هُوَ الْعُمَرِيُّ ، قَالَ : فَقَدَّمُوا مَالِكًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ زمانہ قریب ہے کہ جب لوگ دور دراز سے حصول علم کے لئے سفر پر نکلیں گے اس وقت وہ مدینہ منورہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ پائیں گے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا اور لوگ امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حدیث نمبر: 7981
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي سُهَيْلًا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُهُمْ ذَلِكَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ صَنْعَةَ طَعَامِهِ ، وَكَفَاهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا ، ثُمَّ لِيُعْطِهَا إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اور اس کی گرمی سردی میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تربتر کر کے ہی اسے دے دے۔
حدیث نمبر: 7982
قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ الزُّبَيْدِيِّ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أو عَنْ أَحَدِهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ تَجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ؟ قُولُوا : اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْرِكَ ، وَذِكْرِكَ ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم دعا میں خوب محنت کرنا چاہتے ہو ؟ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ اپناشکر ادا کرنے اپنا ذکر اور اپنی بہترین عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما۔
حدیث نمبر: 7983
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ ، وَالْكَلْبُ ، وَالْحِمَارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 7984
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِذَا شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعِي كَانَ لَهُ أَعْظَمُ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ أَوْ شَاتَيْنِ لَفَعَلَ ، فَمَا يُصِيبُ مِنَ الْأَجْرِ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ میرے ساتھ نماز میں شریک ہونے پر اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں شرکت کرے حالانکہ اس پر ملنے والا اجر اس سے بھی زیادہ افضل ہے۔
حدیث نمبر: 7985
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً يَعْنِي مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " انْظُرْ إِلَيْهَا ، يَعْنِي أَنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7986
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اضْرِبُوهُ " ، قَالَ : فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ ، وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَخْزَاكَ اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا هَكَذَا ، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ ، وَلَكِنْ قُولُوا : رَحِمَكَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو چنانچہ ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھوں سے مارا کسی نے جوتیوں سے اور کسی نے کپڑے سے ماراجب وہ واپس چلا گیا تو کسی نے اس سے کہا اللہ تجھے رسوا کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات نہ کہو اس کے معاملے میں شیطان کی مدد نہ کرو بلکہ یوں کہو اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔
حدیث نمبر: 7987
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : قال إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ : عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : نَزَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، بِالْكُوفَةِ ، قَالَ : وكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوْلَانَا قَرَابَةٌ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهُوَ مَوْلَى الْأَحْمَسِ فَاجْتَمَعَتْ أَحْمَسُ ، قَالَ قَيْسٌ : فَأَتَيْنَاهُ نُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : فَأَتَاهُ الْحَيُّ فَقَالَ لَهُ أَبِي : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَؤُلَاءِ أَنْسِبَاؤُكَ أَتَوْكَ يُسَلِّمُونَ عَلَيْكَ وَتُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : مَرْحَبًا بِهِمْ وَأَهْلًا ، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ ، لَمْ أَكُنْ أَحْرَصَ عَلَى أَنْ أَعِيَ الْحَدِيثَ مِنِّي فِيهِنَّ ، حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ ، فَيَسْأَلَهُ ، أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ " . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ : " قَرِيبٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ السَّاعَةِ سَتَأْتُونَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہمارے مہمان بنے ان کے ہمارے آقاؤں کے ساتھ کچھ تعلقات قرابت داری کے تھے ہم ان کے پاس سلام کے لئے حاضر ہوئے تو میرے والد صاحب نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ آپ کے ہم نسب لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ کو سلام کریں اور آپ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خوش آمدید کہا اور فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں تین سال رہا ہوں جماعت صحابہ میں ان تین سالوں کے درمیان حفظ حدیث کا مجھ سے زیادہ شیدائی نہیں رہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے واللہ تم میں سے کوئی آدمی رسی لے اور اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے اور اس کی کمائی خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنے فضل سے مال و دولت عطاء فرما رکھا ہو اور اس سے جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے دے یا نہ دے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا قیامت کے قریب تم ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 7988
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ الله : " اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي ، وَيَشْتُمُنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي ، يَقُولُ : وَادَهْرَاهْ ، وَادَهْرَاهْ ، وَأَنَا الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے نہیں دیا اور میرا بندہ مجھے انجانے میں برا بھلا کہتا ہے اور یوں کہتا ہے ہائے زمانہ ہائے زمانہ حالانکہ زمانے کا خالق بھی تو میں ہی ہوں۔
حدیث نمبر: 7989
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے قرآن میں جھگڑنا کفر ہے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا اس لئے جو تمہیں سمجھ آجائے اس پر عمل کرو اور جو سمجھ نہ آئے اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو (اس سے پوچھ لو)
حدیث نمبر: 7990
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا اللہ اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 7991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : " كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ ، وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتًا لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرأت کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 7992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونيَ ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ . قَالَ : " لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ ، فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں میں ان سے درگذر کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر واقعۃ حقیقت اسی طرح ہے جیسے تم نے بیان کی تو گویا تم انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اپنی روش پر قائم رہوگے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔
حدیث نمبر: 7993
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ أَتَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ ، فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ ، فَقَالَ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " ، قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ بَعْدُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ ، أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا سُحْقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستاں تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آ کر ملنے والے ہیں پھر فرمایا کہ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ سکیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور جن کا میں حوض کوثر پر منتظر ہوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے جو امتی ابھی تک نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کا سفید روشن پیشانی والا گھوڑا کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچان سکے گا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ لوگ بھی قیامت کے دن وضو کے آثار کی برکت سے روشن سفید پیشانی کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا انتظار کروں گا۔ پھر فرمایا یاد رکھو تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو بھگایا جاتا ہے میں انہیں آواز دوں گا کہ ادھر آؤ لیکن کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں۔
حدیث نمبر: 7994
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ ، الْمُؤْمِنُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، يَغَارُ يَغَارُ ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔
حدیث نمبر: 7995
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ، وَيَمْحُو بِهِ الْخَطَايَا ؟ كَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے ؟ کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا۔
حدیث نمبر: 7996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7997
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيِّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ زِيَادُ بْنُ حُدَيْرٍ : " وَدِدْتُ أَنِّي فِي حَيِّزٍ مِنْ حَدِيدٍ ، مَعِي مَا يُصْلِحُنِي ، لَا أُكَلِّمُ النَّاسَ وَلَا يُكَلِّمُونِي " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ میں لوہے کی کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں میرے پاس صرف ضرورت کی چیزیں ہوں نہ میں کسی سے بات کروں اور نہ کوئی مجھ سے بات کرے۔
حدیث نمبر: 7998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ ، وَقَالَ : " لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے تقدیر ٹل نہیں سکتی البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔
…