حدیث نمبر: 7879
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِأُصْبُعِهِ ، إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ ، وَابْنَهَا عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچہ کو شیطان کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7880
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَرَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَسًا مِنْ رِقَاعٍ فِي يَدِ جَارِيَةٍ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَى هَذَا ؟ ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَعْمَلُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک بچی کے ہاتھ میں کپڑے کا گھوڑا دیکھا تو فرمانے لگے اسے تو دیکھو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ کام وہ کرتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الذي من قريش وأبيه، وهذا الخبر يخالف ما ثبت من حديث عائشة عند البخاري: 6130، ومسلم: 2440.
حدیث نمبر: 7881
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ ، وَيَقُولُ : " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن پختہ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو قیام پر جمع نہیں فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7882
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " فُقِدَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَذَكَرَ الْفَأْرَةَ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَى أَنَّكَ لَوْ أَدْنَيْتَ مِنْهَا لَبَنَ الْإِبِلِ لَمْ تَقْرَبْهُ ؟ وَإِنْ قَرَّبْتَ إِلَيْهَا لَبَنَ الْغَنَمِ شَرِبَتْهُ ؟ " فَقَالَ : أَكَذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی ؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے ؟ اس پر کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے کہا کہ کیا میں تورات پڑھتا ہوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7883
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ : فِي الْمَسْكَنِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِذاً أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہوتی ہے گھر میں۔ گھوڑے میں۔ عورت میں انہوں نے فرمایا اگر میں اثبات میں اس کا جواب دوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات کی نسبت کروں گا جو انہوں نے نہیں فرمائی البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے سچا شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 5755، م: 2187،2223، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر.
حدیث نمبر: 7884
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْغَادِيَةَ الْيَمَامِيَّ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، فَدَعَاهُمْ ، فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ وَخَمْسَةٌ معه ، أَنَا أَحَدُهُمْ ، فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ ، يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ ، إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوغادیہ یمامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا وہاں کثیر بن صلت کا قاصد آگیا اس نے وہاں کے لوگوں کی دعوت کی لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمیوں کے علاوہ جن میں سے ایک میں بھی تھا کوئی کھڑا نہ ہوا یہ حضرات چلے گئے اور اس کے یہاں کھانا تناول فرمایا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آ کر ہاتھ دھوئے اور فرمایا بخدا ! تم لوگ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو غادية اليمامي، مجهول.
حدیث نمبر: 7885
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
حدیث نمبر: 7886
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيْحَانُ ، وَجَيْحَانُ ، وَالنِّيلُ ، وَالْفُرَاتُ ، كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، یہ سب جنت کی نہریں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2839.
حدیث نمبر: 7887
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ومحمدُ بن عمرو ، عن أبي سَلَمة ، عن أبي هريرة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا خَلِيفَةٍ " ، أَوْ قَالَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا ، وَمَنْ وُقِيَ شَرَّ بِطَانَةِ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا وَهُوَ مَعَ الْغَالِبَةِ عَلَيْهِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا گروہ (اس کی بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں) کوئی کسر نہیں چھوڑتا جو اس برے گروہ کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا (تین مرتبہ فرمایا) ورنہ جو گروہ اس پر غالب آگیا اس کا شمار انہی میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7888
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَنْشَقَ أَدْخَلَ الْمَاءَ مَنْخِرَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ناک میں پانی ڈالتے تو ناک کے نتھنوں میں پانی داخل کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7889
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلطَّاعِمِ الشَّاكِرِ ، مِثْلُ مَا لِلصَّائِمِ الصَّابِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھا کر شکر کرنے والے کا ثواب روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7890
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، وإسناده هنا منقطع، عبيدالله لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7891
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ ، وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، الَّذِينَ يَقُولُونَ : لَا نَتَزَوَّجُ ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ ، وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ ، وَقَالَ : الْبَائِتُ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر گوشہ نشین مردوں پر جو یہ کہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے اور گوشہ نشین عورتوں پر جو یہی بات کہیں اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات اتنی محسوس ہوئی کہ اس کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے رات گذارنے والے کا بھی ذکر فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «لعنة راكب الفلاة والبائت وحده» ، وإسناده ضعيف لجهالة طيب.
حدیث نمبر: 7892
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ ، أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ وَهْبًا يَقُولُ : أَخْبَرَنِي ، يَعْنِي هَمَّامًا ، قال عبد الله بن أحمد : كَذَا قَالَ أَبِي ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا ، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ ، تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ : وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ : إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فر شتے اس کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے اس پر حضرموت کے ایک آدمی نے پوچھا اے ابوہریرہ بےوضو ہونے سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا اس کی ہوا خارج ہوجائے یا زور سے آواز نکلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 477، م: 649، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن وهب.
حدیث نمبر: 7893
رقم الحديث : 7694 حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، اسْتَأْذَنَ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَبَّحَ لِي ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُسَبِّحَ ، وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن کیسان رحمہ اللہ ایک مرتبہ نماز پڑہ رہے تھے کہ سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی انہوں نے سبحان اللہ کہہ دیا سلام پھیرنے کے بعد وہ کہنے لگے اگر مرد نماز پڑھ رہاہو تو اس کی طرف سے سبحان اللہ کہنے کو اجازت سمجھنا چاہئے اور عورت کا تالی بجانا اس کی طرف سے اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا أثر عن سالم بن أبي الجعد، وليس بحديث، وإسناده إليه صحيح، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7894
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا مرسل لأن الحسن تابعي، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7895
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنِي عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
حدیث نمبر: 7896
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ ، يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
حدیث نمبر: 7897
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نُهِيَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ " . قَالَ : قُلْنَا لِهِشَامٍ : مَا الِاخْتِصَارُ ؟ قَالَ : يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَصْرِهِ وَهُوَ يُصَلِّي . قَالَ يَزِيدُ : قُلْنَا لِهِشَامٍ : ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ بِرَأْسِهِ ، أَيْ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545.
حدیث نمبر: 7898
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ تَضُرَّهُ حُمَةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ " . قَالَ : فَكَانَ أَهْلُنَا قَدْ تَعَلَّمُوهَا ، فَكَانُوا يَقُولُونَهَا ، فَلُدِغَتْ جَارِيَةٌ مِنْهُمْ ، فَلَمْ تَجِدْ لَهَا وَجَعًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شام ہونے پر تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق۔ اس رات اسے کوئی زہریلی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی ہمارے اہل خانہ نے اس دعا کو سیکھ رکھا تھا اور وہ دعا کو پڑھتے تھے اتفاق سے ایک مرتبہ ہماری ایک بچی کو کسی چیز نے ڈس لیا لیکن اسے کسی قسم کا کوئی درد محسوس نہ ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2709.
حدیث نمبر: 7899
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَ جَنَازَةً سَأَلَ : " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ " فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " هَلْ لَهُ وَفَاءٌ ؟ " فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، صَلَّى عَلَيْهِ ، وَإِنْ قَالُوا : لَا ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو پھر اللہ نے فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619.
حدیث نمبر: 7900
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنِ ابْنِ مِكْرَزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَجْرَ لَهُ " ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ : عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَعَلَّهُ لَمْ يَفْهَمْ . فَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَجْرَ لَهُ " ، ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَجْرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کا مقصد دنیاوی ساز و سامان کا حصول ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا لوگوں پر یہ چیز بڑی گراں گذری انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ مسئلہ پوچھو ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات اچھی طرح نہ سمجھ سکے ہوں اس نے دوبارہ وہی سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا اس نے سہ بارہ وہی سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن مكرز مجهول.
حدیث نمبر: 7901
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے، نامکمل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 395.
حدیث نمبر: 7902
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَوَّلُ شَيْءٍ ما يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ الْمَكْتُوبَةُ ، فَإِنْ صَلَحَتْ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : فَإِنْ أَتَمَّهَا ، وَإِلَّا زِيدَ فِيهَا مِنْ تَطَوُّعِهِ ، ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
انس بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی اگر وہ صحیح نکل آئی تو بہت اچھا ورنہ نوافل کے ذریعے اس میں اضافہ کیا جائے اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أنس مجهول، وعلي ضعيف.
حدیث نمبر: 7903
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَمْحُو الصَّلِيبَ ، وَتُجْمَعُ لَهُ الصَّلَاةُ ، وَيُعْطَى الْمَالُ حَتَّى لَا يُقْبَلَ ، وَيَضَعُ الْخَرَاجَ ، وَيَنْزِلُ الرَّوْحَاءَ ، فَيَحُجُّ مِنْهَا أَوْ يَعْتَمِرُ ، أَوْ يَجْمَعُهُمَا " . قَالَ : وَتَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ : وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا سورة النساء آية 159 ، فَزَعَمَ حَنْظَلَةُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : يُؤْمِنُ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ : عِيسَى . فَلَا أَدْرِي ، هَذَا كُلُّهُ حَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ شَيْءٌ قَالَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے نماز قائم کریں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور روحاء میں پڑاؤ کر کے وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھیں گے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اہل کتاب میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو ان کی وفات سے قبل ان پر ایمان نہ لے آئے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے حنظلہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یومن کا فاعل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دیتے ہیں اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ مکمل حدیث ہے یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1252.
حدیث نمبر: 7904
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارٌ ، وَأَشْجَعُ : مَوَالِيَّ ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش انصار جہینہ مزینہ اسلم غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3504، م: 2520، وهذا إسناد ضعيف، المسعودي مختلط.
حدیث نمبر: 7905
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، الْمَعْنَى ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ ومَسِيحُ الضَّلَالَةِ ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا ، فَأُنْسِيتُهُمَا ، وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهُمَا شَدْوًا : أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ ، فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، عَرِيضُ النَّحْرِ ، فِيهِ دَفَاً ، كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ ، وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آنے کے لئے گھر سے نکلا تھا درحقیقت لیلۃ القدر اور مسیح الضلالۃ (دجال) کی تعیین مجھ پر واضح کردی گئی تھی لیکن مسجد کے ایک دروازے کے قریب دو آدمیوں کے درمیان کچھ جھگڑا ہو رہا تھا میں نے ان دونوں کے درمیان معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے آیا تو مجھے وہ دونوں چیزیں بھول گئیں البتہ میں تمہیں اس کی علامت کا کچھ اندازہ بتائے دیتا ہوں۔ جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے تو تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو باقی رہامسیح ضلالت تو وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا کشادہ پیشانی اور چوڑے سینے والا ہوگا اس کے جسم میں کندھے کا جھکاؤ سینہ کی طرف ہوگا اور وہ قطن بن عبد العزی کے مشابہہ ہوگا یہ سن کر قطن کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے مشابہت میرے لئے نقصان دہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم ایک مسلمان آدمی ہو اور وہ کافر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7906
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " ، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا السَّبَّابَةِ ، فَقَالَ لَهَا : " مَنْ أَنَا ؟ " ، فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ ، أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَعْتِقْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ذمے ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا واجب ہے (کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باندی سے پوچھا اللہ کہاں ہے ؟ اس نے اپنی شہادت والی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا میں کون ہوں ؟ اس نے اپنی انگلی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آسمان کی طرف اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لا ختلاط المسعودي.
حدیث نمبر: 7907
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ النَّاسُ بِهِ النَّارَ ؟ فَقَالَ : " الْأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ " . وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ الناس بِهِ الْجَنَّةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُسْنُ الْخُلُقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جہنم میں کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت سے داخل کرے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ پھر سوال ہوا کہ جنت میں کون سی چیز لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت سے لے جائے گی ؟ تو فرمایا حسن اخلاق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، المسعودي مختلط.
حدیث نمبر: 7908
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ : التَّعْيِيرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ ، وَالْأَنْوَاءُ ، والعَدْوى : َأَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةً ، مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے حسب نسب میں عار دلانا میت پر نوحہ کرنا بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المسعودي مختلط، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7909
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا لِحَائِطِ الْعِنَبِ : الْكَرْمَ ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُؤْمِنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6183، م: 2247، وهذا الإسناد فيه محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن.
حدیث نمبر: 7910
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُ ، أَبَا قَتَادَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ ، فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں۔ پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہو سکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7911
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ فِي الرَّابِعَةِ ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پئے تو پھر کوڑے مارو سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پیئے تو قتل کردو امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب نوشی کی تھی تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي.
حدیث نمبر: 7912
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ ، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " ، قِيلَ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ يا رسول الله ؟ قَالَ : " السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھوکے کے سال ہوں گے ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور اس میں رویبضہ کلام کرے گا کسی نے پوچھا کہ روبیضہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا بیوقوف آدمی بھی عوام کے معاملات میں بولنا شروع کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالملك، وجهالة إسحاق.
حدیث نمبر: 7913
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَإِسْرَافِي ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7914
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ : لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا ، وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ ، وَأَسْرِعُوا بِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ : يَا وَيْلَهُ ! أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن مہران رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہگار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس مجھے کہاں لئے جاتے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944.
حدیث نمبر: 7915
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا عَلَيْهِمَا السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان اپنی انگلی سے کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7916
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي الْجَمِيعِ ، أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے اردگرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کرکے انہیں آگ لگا دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651.
حدیث نمبر: 7917
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ ، لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ : خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا ، وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " يُوشِكُ عِبَادِي الصَّالِحُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ ، فَلَا يَخْلُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ ، وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو رمضان میں پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے افطار تک فرشتے ان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کو مزین فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت و تکلیف کو اتار پھینکیں گے اور تیرے پاس آئیں گے اس مہینے میں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر رمضان میں انہیں جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ اس میہنے میں نہیں ہوتی اور ماہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی بخشش کردی جاتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہی شب قد رہے ؟ فرمایا نہیں البتہ بات یہ ہے کہ جب مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اسے اس کی تنخواہ پوری پوری دے دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، هشام متفق على ضعفه، ومحمد مجهول الحال.
حدیث نمبر: 7918
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً ، فَعَوَّضَهُ منها سِتَّ بَكَرَاتٍ ، فَتَسَخَّطَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً ، وَهِيَ نَاقَتِي ، أَعْرِفُهَا كَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَهْلِي ، ذَهَبَتْ مِنِّي يَوْمَ زَغَابَاتٍ ، فَعَوَّضْتُهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ ، فَظَلَّ سَاخِطًا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ ، أَوْ دَوْسِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان اونٹ کا ہدیہ پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھ جوان اونٹ عطا فرمائے لیکن وہ اس پر بھی ناخوش رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ فلاں آدمی نے مجھے اونٹ ہدیہ کے طور پر دیا حالانکہ وہ میرا ہی اونٹ تھا اور میں اسے اسی طرح پہنچاتا تھا جیسے اپنے کسی گھر والے کو پہچانتا ہوں یوم زغابات کے موقع پر وہ میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا (لیکن پھر بھی میں نے اسے قبول کرلیا) اور اسے چھ جوان اونٹ دیئے تاہم وہ اس پر بھی ناخوش ہے میں تو یہ ارادہ کر رہا ہوں کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں سوائے اس کے جو قریش یا انصار یا ثقیف یا دوس سے تعلق رکھتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، لكنه قد توبع.