حدیث نمبر: 7159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ : " أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ : أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ ، تَخْشَى الْفَقْرَ ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ ، وَلا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلَانٍ كَذَا ، وَلِفُلَانٍ كَذَا ، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیرے باپ کی قسم ! تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہو چکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
حدیث نمبر: 7160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ ، قَالَ : أَفَمَلِكًا نَبِيًّا يَجْعَلُكَ ، أَوْ عَبْدًا رَسُولًا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ : تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : بَلْ عَبْدًا رَسُولًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کی نظر آسمان پر پڑی انہوں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ اتر رہا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ یہ فرشتہ جب سے پید ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک اس وقت سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا جب وہ نیچے اتر کر آیا تو کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ کے رب نے آپ کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ وہ آپ کو فرشتہ بنا کر نبوت عطاء کر دے یا اپنا بندہ بنا کر رسالت عطاء کر دے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے سامنے تواضع اختیار کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ مجھے بندہ بنا کر رسالت عطاء کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ ، آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا ، فَذَلِكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4635، م : 157
حدیث نمبر: 7162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
حدیث نمبر: 7163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ ، أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کثرت حاصل کرنے کے لئے لوگوں سے روپے پیسے مانگتا پھرتا ہے (کہ اس کے پاس پیسوں کی تعداد زیادہ ہو جائے) تو وہ یاد رکھے کہ وہ انگارے مانگ رہا ہے اب چاہے تھوڑے مانگے یا زیادہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1041
حدیث نمبر: 7164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ . وَجَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ " ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، أَخْبِرْنِي مَا هُوَ ؟ قَالَ : أَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ ، قَالَ جَرِيرٌ : كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : كُلُّهَا ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ إِلَّا هَذَا ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں یہ بتائیے کہ آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا فرما دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف فرمادے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں سے دھو کر صاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
حدیث نمبر: 7165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ، لَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَتْفُلُونَ ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ ، أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ ، وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ ، أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ ، فِي طُولِ سِتِّينَ ذِرَاعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہو گا یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہو گا۔ ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے۔ وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان ذكر أبى صالح فيه محفوظا، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 7166
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ ، وَهِيَ تُبْنَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي ، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً ، أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً ، أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً " . ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَيْنِ ، فَلَمَّا غَسَلَ رِجْلَيْهِ ، جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ إِلَى السَّاقَيْنِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا مَبْلَغُ الْحِلْيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزرعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان بن حکم کے گھر میں داخل ہوا وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کچھ تصاویر نظر آئیں وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اور اپنے بازؤوں کو دھوتے ہوئے کہنیوں سے بھی آگے بڑھ گئے اور جب پاؤں دھونے لگے تو ٹخنوں سے آگے بڑھ کر پنڈلیوں تک پہنچ گئے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا : یہ زیور کی انتہاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7559، م: 2111
حدیث نمبر: 7167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان عمل میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6406، م: 2694
حدیث نمبر: 7168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي ، وَقَالَ ابْنُ فُضَيْلٍ مَرَّةً : يَتَخَيَّلُ بِي ، وَإِنَّ رُؤْيَا الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ الصَّادِقَةَ الصَّالِحَةَ ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے اسے یقین کر لینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 6993، م: 2266
حدیث نمبر: 7169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار، اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه الأعمش
حدیث نمبر: 7170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 38، م: 760
حدیث نمبر: 7171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، كَيْلًا بِكَيْلٍ ، وَوَزْنًا بِوَزْنٍ ، فَمَنْ زَادَ ، أَوْ أَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَ أَلْوَانُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گندم کو گندم کے بدلے جو کو جو کے کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر ماپ کر یا وزن کر کے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافہ کا مطالبہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا الاّ یہ کہ اس کا رنگ مختلف ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1588
حدیث نمبر: 7172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز کا اول وقت بھی ہوتا ہے اور آخر وقت بھی چنانچہ ظہر کا اول وقت زوال شمس کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخروقت نماز عصر کا وقت داخل ہونے تک ہوتا ہے۔ عصر کا اول وقت اس کا وقت داخل ہونے پر ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت سورج کے پیلا پڑنے تک ہوتا ہے۔ مغرب کا اول وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت افق کے غائب ہونے تک ہوتا ہے۔ نماز عشاء کا اول وقت افق کے غائب ہونے کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت نصف رات تک ہوتا ہے اور فجر کا اول وقت طلوع فجر کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخروقت طلوع آفتاب تک ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَيْتِي قُوتًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا : اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گزارہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 7174
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : " إِنَّ الصَّوْمَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ : إِذَا أَفْطَرَ ، فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ ، فَرِحَ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب بھی وہ خوش ہو گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1055
حدیث نمبر: 7175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545
حدیث نمبر: 7176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ، فَلْيَبْدَأْ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 768
حدیث نمبر: 7177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ ، فَمَاتَتْ ؟ فقَالَ : " إِنْ كَانَ جَامِدًا ، فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، ثُمَّ كُلُوا مَا بَقِيَ ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا ، فَلَا تَأْكُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں مر جائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کر لو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ فى إسناده، فقد خالفه أصحاب الزهري انظر : خ: 5538، وأخطأ فى متنه أيضا. فزاد : وإن كان مائعا فلا تأكلوه
حدیث نمبر: 7178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ " . فَقُلْتُ لِيَحْيَى : مَا يَعْنِي بِالْأَسْوَدَيْنِ ؟ قَالَ : " الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جا سکتا ہے۔ راوی نے اپنے استاذ یحییٰ سے دو کالی چیزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَبْدَأْ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا خَلَعَ ، فَلْيَبْدَأْ بِشِمَالِهِ " ، وَقَالَ " انْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، أو أَحْفِهما جَميعاً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیزیہ بھی فرمایا : کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو۔ (ایسا نہ کیا کرو کہ ایک پاؤں میں جوتی ہو اور دوسرے میں نہ ہو جیسا کہ بعض لوگ کرتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 7180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 7181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَة ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، أوَ يُنَصِّرَانِهِ ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَد ، إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ ، إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ " . ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
حدیث نمبر: 7184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى ، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرَ ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصرہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918.
حدیث نمبر: 7185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ، وتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ ، وَيُلْقَى الشُّحُّ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، قَالَ : قَالُوا : أَيُّمَا هو يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ ، الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب زمانہ قریب آ جائے گا لوگوں کے دلوں میں بخل اور کنجوسی انڈیل دی جائے گی۔ فتنوں کا ظہور ہو گا اور ہرج کی کثرت ہو گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قتل قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ : آمِينَ ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ : آمِينَ ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 782، م: 410.
حدیث نمبر: 7188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قَالُوا : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
حدیث نمبر: 7189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ إِبِلٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا أَلْوَانُهَا ؟ " قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ ، قَالَ : " وَمِمَّا ذَاكَ ؟ " قَالَ : لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی ! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے ؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا ؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیاہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7190
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ صَاحَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ : إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي هَذَا ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام۔ دوسرے میری یہ مسجد ( مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
حدیث نمبر: 7192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ ، لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزَةِ ، لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5644، م: 2809.
حدیث نمبر: 7193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي ، قَالَ : يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ، وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ ، يَنْعِقَانِ لِغَنَمِهِمَا ، فَيَجِدَاهَا وُحُوشًا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا ، أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آ کر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے آخر میں وہاں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع ہوں گے جو اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر وحشی جانوروں کو پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیتہ الوداع نامی گھاٹی پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گرپڑیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389.
حدیث نمبر: 7194
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا ، يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ ، وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطاء فرمادیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں دینے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو في الصحيحين من حديث معاوية، خ: 3116، م: 1037.
حدیث نمبر: 7195
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالصَّوْمُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ بِجَرَّايَ ، قَالَ يَزِيدُ : مِنْ أَجْلِي ، الصَّوْمُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ ، أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
حدیث نمبر: 7196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كُتِبَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا ، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا ، لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گزرے تو اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر عمل نہ کرسکے تو فقط ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جاتا ہے۔ اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ گناہ نہیں لکھا جاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130.
حدیث نمبر: 7197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُدْرَ مَا فَعَلَتْ ، وَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ ، أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَا تَشْرَبُ ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ ؟ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ كَعْبًا ، فَقَالَ : سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ لِي ذَلِكَ مِرَارًا ، فَقُلْتُ : أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہو گئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی ؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھآ جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے _x000D_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کو سنائی تو وہ کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے مجھ سے یہی سوال کئی مرتبہ کیا۔ بالاخر میں نے ان سے کہا کیا تم نے تورات پڑھی ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ قَطَنٍ وَهُوَ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو قَطَن : قَالَ : فِي الْكِتَابِ مَرْفُوعٌ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَهَا ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہو گیا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 291، م: 348.