حدیث نمبر: 7839
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ . وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ ، مَا أَنَا قُلْتُ : " مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ جُنُبًا فَلْيُفْطِرْ " ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ ، أَخْبَرَهُ ، عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت جنابت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم ! یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، قد وهم محمد بن بكر في تسمية الراوي عن أبي هريرة، والصواب كما رواه عبدالرزاق.
حدیث نمبر: 7840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151.
حدیث نمبر: 7841
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا رَفَعَ غُصْنَ شَوْكٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ ، فَغُفِرَ لَهُ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَهَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعٌ ، وَلَكِنْ سُفْيَانُ قَصَّرَ فِي رَفْعِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914.
حدیث نمبر: 7842
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : رَجُلٌ خَطَبَ امْرَأَةً ، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1424.
حدیث نمبر: 7843
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے (جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے) منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1416.
حدیث نمبر: 7844
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ " . ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي حَارِثَةَ ، مَا أُرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ " ، ثُمَّ نَظَرَ ، فَقَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ ، بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری زبانی مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کا درمیانی علاقہ حرم قرار دیا گیا ہے تھوڑی دیر بعد بنوحارثہ کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنوحارثہ میرا خیال ہے کہ تم لوگوں کی رہائش حرم سے باہر نکل رہی ہے پھر تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد فرمایا نہیں تم حرم کے اندر ہی ہو تم حرم کے اندر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1869، م: 1372.
حدیث نمبر: 7845
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا : يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ ، قَالَ : وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ ، إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " هَذَا غُلَامُكَ " ، قُلْتُ : هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَأَعْتَقْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں یہ شعر پڑھتا جاتا تھا اگرچہ یہ رات کٹھن اور لمبی ہے لیکن ہے پیاری۔ کیونکہ اسی نے مجھے دارالکفر سے نجات دلائی ہے۔ میرا ایک غلام راستے میں میرے پاس سے بھاگ گیا تھا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کرلی ابھی میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ میرا غلام آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوہریرہ ! یہ تمہارا غلام ہے میں نے عرض کیا کہ یہ اللہ کے راستہ میں آزاد ہے چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2530.
حدیث نمبر: 7846
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1876، م: 147.
حدیث نمبر: 7847
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ ، أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ ، لَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا ، وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ ، وَغُفِرَ لِرَجُلٍ نَحَّى غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا نہ خودا سے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243،1914.
حدیث نمبر: 7848
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7849
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَلَمَّا جَاءَ فِي الرَّابِعَةِ ، أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابومالک اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ واپس بھیجا تھا پھر جب وہ چوتھی مرتبہ آئے تو انہیں رجم کرنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6815، م: 1691، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك لا يعرف.
حدیث نمبر: 7850
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7851
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2283.
حدیث نمبر: 7852
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْمَجْلِسَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَقْعُدَ ، فَلْيُسَلِّمْ إِذَا قَامَ ، فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَوْجَبَ مِنَ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہئے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہئے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7853
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7854
وقَالَ ، يَعْنِي عَبْدَةَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7855
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ ، الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ ، وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: «وراكب الفلاة وحده» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طيب.
حدیث نمبر: 7856
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَاجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَقَالَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ الَّذِي أَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ وَأَشْقَيْتَهُمْ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ آدَمُ : أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِهِ وَكَلَامِهِ ، فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ كَتَبَهُ اللَّهُ أَوْ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي ؟ ! " ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ نے اپنی معمولی غلطی کی وجہ سے لوگوں کو شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنی پیغمبری اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے بھی پہلے کرلیا تھا ؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4838، م: 2652.
حدیث نمبر: 7857
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ ، أَوْ ابْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى عَضَلَةِ سَاقَيْهِ ، ثُمَّ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ ، ثُمَّ إِلَى كَعْبَيْهِ ، فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنون تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5787، وقد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
حدیث نمبر: 7858
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، لَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے آپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563.
حدیث نمبر: 7859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ ، فِي جَسَدِهِ ، وَفِي مَالِهِ ، وَفِي وَلَدِهِ ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مرد و عورت پر جسمانی یا مالی یا اولاد کی طرف سے مستقل پریشانیاں آتی رہتیں ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملتا ہے تو اس کا ایک گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَقَالَ : " قُومُوا ، فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ کیونکہ موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7861
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مرے وہ اس کے اہل خانہ کی ملیکت ہے اور جو شخص یتیم بچے چھوڑ جائے ان کی ضرویات میرے ذمے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619.
حدیث نمبر: 7862
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ لَضِجْعَةٌ مَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، وهذا الإسناد أخطأ فيه محمد بن عمرو، والصواب، عن أبي سلمة عن يعيش عن أبيه.
حدیث نمبر: 7863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ، وَأَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ " ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا جہادفی سبیل اللہ عمل کا کوہان ہے سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد ؟ فرمایا حج مبرور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 26، م: 83.
حدیث نمبر: 7864
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ ، فقَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7865
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا وَشَهِيدًا ، أَوْ شَهِيدًا وَشَفِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1378، وهذا إسناد منقطع، أبو صالح لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7866
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، شَكَّ فِيهِ : " شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7867
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي، خ: 1427.
حدیث نمبر: 7868
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَرْيَمَ ، يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ، ثُمَّ يُتَوَضَّأَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کہ پھر اس سے وضو کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282.
حدیث نمبر: 7869
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : أَعْطِنِي يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَقَالَ : " لَا ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " . فَجَذَبَهُ بحُجْزَتِه ، فَخَدَشَهُ ، قَالَ : فَهَمُّوا بِهِ ، قَالَ : " دَعُوهُ " . قَالَ : ثُمَّ أَعْطَاهُ ، قَالَ : وَكَانَتْ يَمِينُهُ أَنْ يَقُولَ : " لَا ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نہیں استغفر اللہ " یہ سن کر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم پر خراشیں ڈال دیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ کر سزا دینا چاہی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دے دیا دراصل یہ الفاظ " نہیں استغفر اللہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے الفاظ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، هلال والد محمد، لا يعرف.
حدیث نمبر: 7870
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1377، م: 588.
حدیث نمبر: 7871
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ مجھے میرے محبوب ابوالقاسم جو کہ صادق ومصدوق تھے صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث سنائی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3605، وهذا إسناد ضعيف، مالك مجهول، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 7872
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : مَا أَدْرِي كَمْ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَائِمًا فِي السُّوقِ يَقُولُ : " يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَحَرَّفَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سالم کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنی مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بازار میں کھڑے ہو کر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا (قتل قتل)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7873
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7874
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6155، م: 2257.
حدیث نمبر: 7875
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563.
حدیث نمبر: 7876
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " يَعْنِي حَسَنًا ، وَحُسَيْنًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7877
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7878
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ " ، قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " شَرُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واللہ وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون ؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.