حدیث نمبر: 7799
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ ، فَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلَ مَاءٍ ، أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا اور مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا لوگ جلدی سے اس کی طرف دوڑے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دو تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے اس کے پیشاب کی جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 220.
حدیث نمبر: 7800
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 220، 7255.
حدیث نمبر: 7801
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ ، يُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ ، وَيُمْحَى عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ قدم جو نماز کے لئے اٹھتا ہے اس کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 666.
حدیث نمبر: 7802
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ! فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ : " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم بھی ان کے ہمراہ کھڑے ہوگئے دوران نماز ایک دیہاتی یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تو نے وسعت والے اللہ (کی رحمت) کو پابند کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6010.
حدیث نمبر: 7803
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَا يَدْرِي أَنْ زَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 7804
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ رَبَاحٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ لِلصَّلَاةِ ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِهِ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي ، حَتَّى قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : " مَكَانَكُمْ " ، فَرَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ صُفُوفٌ ، فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ يَنْطُفُ رَأْسَهُ ، قَدْ اغْتَسَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور چلتے ہوئے اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے تو غسل ہی نہیں کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم یہیں رکو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 640، م: 605.
حدیث نمبر: 7805
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ وَدُخَانَهُ وَمُؤْنَتَهُ ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے اور اس کی گرمی سردی سے بچانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر کھانا تھوڑا ہو تو ایک دو لقمے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وله إسنادان: الأول منقطع، فإن الزهري لم يدرك أبا هريرة، والثاني متصل، خ: 2557، م: 1663.
حدیث نمبر: 7806
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ ، كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھا کر شکر کرنے والا روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من بني غفار.
حدیث نمبر: 7807
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي السَّحُورِ وَالثَّرِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔ (ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں روٹیوں کو ٹکڑے کرکے شوربے میں بھگو دیتے ہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف ابن أبي ليلى.
حدیث نمبر: 7808
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ مَا فِي بَطْنِهِ ، لَاسْتَقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کھڑے ہو کر پانی پینے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کے پیٹ میں کیا جا رہا ہے تو وہ اسی وقت قے کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2026، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7809
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7810
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179.
حدیث نمبر: 7811
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ بَعْدُ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ وَضَعْتُ جَنْبِي ، وَبِاسْمِكَ أَرْفَعُهُ ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ الصَّالِحِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آگئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7393، م: 2714.
حدیث نمبر: 7812
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى ، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى ، وَلْيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا ، وَلْيَنْعَلْهُمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیز یہ بھی فرمایا کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو (ایسا نہ کیا کرو کہ ایک پاؤں میں جوتی ہو اور دوسرے میں نہ ہو۔ جیسا کہ بعض لوگ کرتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097.
حدیث نمبر: 7813
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : الِاسْتِحْدَادُ ، وَالْخِتَانُ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) زیر ناف بال صاف کرنا۔ (٢) ختنہ کرنا (٣) مونچھیں تراشنا (٤) بغل کے بال نوچنا (٥) ناخن کاٹنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5889، م: 257.
حدیث نمبر: 7814
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ ، لَا يَزَالُ الرِّيحُ تُفِيئُهُ ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ بَلَاءٌ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ ، لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خودحرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5644، م: 2809.
حدیث نمبر: 7815
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ قَالَ فِي وَضُوئِهِ ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7816
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مَرَّ بِقَوْمٍ يَتَوَضَّئُونَ مِنْ مَطْهَرَةٍ ، فَقَالَ : أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ يَرْحَمْكُمْ اللَّهُ ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کر رہے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے وضو خوب اچھی طرح کرو کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242.
حدیث نمبر: 7817
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أُرَاهُ قَالَ : عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْتُلَ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ : الْعَقْرَبَ ، وَالْحَيَّةَ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : هَكَذَا حَدَّثَنَا مَا لَا أُحْصِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو مارا جاسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7818
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ أَمِينٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7819
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَمَا سَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مَعِي آنِفًا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ! " ، فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ مِنَ الْقِرَاءَةِ ، حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے ؟ لوگوں نے کہا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا ؟ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7820
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، فَقَالُوا : خُفِّفَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ : أَخُفِّفَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : صَدَقَ . فَصَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَرَكَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، بَعْدَ مَا سَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اس پر جلد باز لوگ نکل گئے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں ادھر ذوالشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کے حلیف تھے نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا پھر سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7821
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 780.
حدیث نمبر: 7822
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بنُ عبد الأعلى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَا يَدْرِي : أَزَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 7823
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852.
حدیث نمبر: 7824
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں کوئی حدیث اور اس کی سند موجود نہیں ہے صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے اور حاشیے میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ مسنداحمد کے بعض نسخوں میں یہاں یہ غلطی ہوئی ہے کہ کاتبین نے حدیث نمبر (7489) کی سند کو لے کر اس پر حدیث نمبر (7491) کا متن چڑھا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852.
حدیث نمبر: 7825
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْأَجْلَابِ ، فَمَنْ تَلَقَّى وَاشْتَرَى ، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا هَبَطَ السُّوقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1519.
حدیث نمبر: 7826
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِد ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530.
حدیث نمبر: 7827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2564.
حدیث نمبر: 7828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن بن عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710.
حدیث نمبر: 7829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی تپش شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615.
حدیث نمبر: 7830
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ فَقَالَ : " أَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515.
حدیث نمبر: 7831
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قال ابنُ بَكْرٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530.
حدیث نمبر: 7832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَأْذَنْ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : لِمَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ " ، قَالَ صَاحِبٌ لَهُ ، زَادَ : " فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں جی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5023، م: 792.
حدیث نمبر: 7833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَني ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً يَجْهَرُ فِيهَا ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ آنِفًا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی جہری نماز پڑھائی پھر سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے ؟ لوگوں نے کہا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُخْبِرُهُمْ ، قَالَ : " وَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا ، أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396.
حدیث نمبر: 7835
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ : قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُعِنَ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530.
حدیث نمبر: 7836
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً فلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " . قَالَ أَبُو السَّائِبِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ ! قَالَ أَبُو السَّائِبِ : فَغَمَزَ قَالَ أَبُو السَّائِبِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ ! قَالَ أَبُو السَّائِبِ : فَغَمَزَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذِرَاعِي ، فَقَالَ : يَا فَارِسِيُّ ، اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي ، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا ، يَقُولُ : " فَيَقُولُ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، فَيَقُولُ اللَّهُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 ، فَيَقُولُ اللَّهُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، فَيَقُولُ اللَّهُ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، وَقَالَ : هَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، قَالَ : أَجِدُهَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، قَالَ : يَقُولُ عَبْدِي : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7 ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے ابوسائب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ بعض اوقات میں امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر کہا کہ اے فارسی ! اپنے دل میں سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے (اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا اجر میرے بندے کے لئے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدنا الصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو اس نے مجھ سے مانگا وہ تجھے مل کر رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَا كُلٌّ مِنْهُمَا : مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، وَقَالَا : مَالِكِ سورة الفاتحة آية 4 ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا ، يَقُومُ الْعَبْدُ فَيَقُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7838
وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُهْرَةَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث، وانظر ماقبله.