حدیث نمبر: 7719
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا ، أَدْرَكَهُ ذلك لَا مَحَالَةَ ، وَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ ، وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صغیرہ گناہ کے سب سے زیادہ مشابہہ کوئی چیز نہیں دیکھی بہ نسبت اس کے کہ جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان فرمائی کہ اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657.
حدیث نمبر: 7720
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ ، يُكْوَى بِهَا جَبِينُهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حتي يُقضى بين الناسِ ، ثمَّ يُرَى سبيلَه ، وإِنْ كانت إبلاً إٍلا بُطِحَ لها بِقَاعٍ قَرْقرٍ في يومٍ كان مِقْدارُه خَمسين ألفَ سنةٍ ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، حَسِبْتُهُ قَالَ : وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا يَرِدُ أَوَّلُهَا عَنْ آخِرِهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ غَنَمًا فَكَمِثْلِ ذَلِكَ ، إِلَّا أَنَّهَا تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے اس کے بعد اسے اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو اس کا بھی یہی حال ہوگا البتہ وہ اسے سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1402، م: 987.
حدیث نمبر: 7721
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " يَعْنِي الْوُرُودَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جاناپڑے (ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632.
حدیث نمبر: 7722
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَنَفِّسْنِي ، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ ، فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ ، مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ ، مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھالیا ہے اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی اسی وجہ سے انتہائی شدید سردی جہنم کے زمہریر کی وجہ سے ہوتی ہے اور شدیدترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 537، م: 617.
حدیث نمبر: 7723
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، الْفِقْهُ يَمَانٍ ، الْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7724
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَكَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمّ قَالَ بَعْدُ : عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ : " عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ " . قَالَ مَعْمَرٌ : وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ ہر اس شخص پر جو آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت۔ بچہ ہو یا بوڑھا تنگدست ہو یا مالدار صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم ادا کرنا واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وهو موقوف.
حدیث نمبر: 7725
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثٍ ، لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا : لَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَفِي صَلَاةِ الضُّحَى ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1178، م: 721.
حدیث نمبر: 7726
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوفًا قَلِيلًا ، فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے اور اس کی گرمی سردی سے بچانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر کھانا تھوڑا ہو تو ایک دو لقمے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.
حدیث نمبر: 7727
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ ، وَلَا يَخْذُلُهُ ، وَلَا يَحْقِرُهُ ، التَّقْوَى هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، حَسْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ : دَمُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعِرْضُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو دھوکہ نہ دو بغض نہ رکھو قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا تقویٰ یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو قابل احترام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده جيد، م: 2564.
حدیث نمبر: 7728
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو میں ابوالقاسم ہوں صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
حدیث نمبر: 7729
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَذَلِكَ الرِّبَاطُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے ؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹاھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ سرحدوں کی حفاظت کرنے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 251.
حدیث نمبر: 7730
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237.
حدیث نمبر: 7731
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ ، يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
حدیث نمبر: 7732
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ ، يُحِبُّ الْوَتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
حدیث نمبر: 7733
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7734
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت عائشہ رض سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1190، م: 1394، وهذا إسناد ضعيف، سماع ابن جريج عن عطاء بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 7735
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَهُ ، وَلَمْ يَشُكَّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بغیر شک کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه.
حدیث نمبر: 7736
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا لِثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي هَذَا ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
حدیث نمبر: 7737
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي عُنُقِهَا نَعْلٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا جا رہا ہے اور اونٹ کی گردن میں جوتی پڑی ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1706، م: 1322.
حدیث نمبر: 7738
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِمَا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " . فَقُلْتُ لِمَالِكٍ : أَمَا يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ : الْعَتَمَةَ ؟ قَالَ : هَكَذَا قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے (اور پھر انہیں یہ چیزیں۔ قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں) تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کیا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 615، م: 437.
حدیث نمبر: 7739
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن جريج روى عن عطاء بعد الاختلاط، لكن الحديث صحيح باللفظ: «إلا المسجد الحرام» ، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7740
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَهُ ، وَلَمْ يَشُكَّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بغیر شک کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7741
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " ، قُلْتُ لِأَيُّوبَ : " مَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى ؟ " قَالَ : عَنْ فَضْلِ غِنَاكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1426.
حدیث نمبر: 7742
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً ، فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ ، فَيَدْخُلُ النَّارَ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً ، فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ سورة النساء آية 13 إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ مُهِين سورة النساء آية 14 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان ستر سال تک نیکو کاروں والے اعمال سر انجام دیتا ہے لیکن جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ناانصافی کرتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ بدترین عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے جبکہ دوسرا آدمی ستر سال تک گناہگاروں والے اعمال سر انجام دیتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف سے کام لیتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو تلک حدود اللہ الی قولہ عذاب مہین۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر.
حدیث نمبر: 7743
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَلْجَجَ أَحَدُكُمْ بِالْيَمِينِ فِي أَهْلِهِ ، فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے متعلق اپنی قسم پر (غلط ہونے کے باوجود) اصرار کرے تو یہ اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں اس کفارہ سے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے زیادہ بڑے گناہ کی بات ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6625، م: 1655.
حدیث نمبر: 7744
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَيْخٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ ، فَلْيَخْتَرْ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں انسان کو لاچاری اور فسق و فجور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا جو شخص وہ زمانہ پائے اسے چاہئے کہ لاچاری کو فسق و فجور پر ترجیح دے کر اسی کو اختیار کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الراوي المبهم.
حدیث نمبر: 7745
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنَا مِينَاءُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْعَنْ حِمْيَرَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : الْعَنْ حِمْيَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ ، أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ ، وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ ، أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کیجیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا وہ دوسری جانب سے سامنے آیا اور پھر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ قبیلہ حمیر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ان کی زبانوں پر سلام اور ہاتھوں میں (دوسروں کے لئے) طعام ہوتا ہے اور یہ امن و ایمان والے لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، ميناء متروك.
حدیث نمبر: 7746
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ، ثُمَّ لِيَْنُثِرْ ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7747
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ ، فَيَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ ، فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : " عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، المثنى ضعيف اختلط بآخرة.
حدیث نمبر: 7748
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلْيَسْتَفْتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 768.
حدیث نمبر: 7749
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا ، فَلْيُصَلِّ وَلْيَدْعُ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے نہ ہو تو اسے کھا لینا چاہئے اور اگر روزے سے ہو تو ان کے حق میں دعا کرنی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1431.
حدیث نمبر: 7750
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " الْفَأْرَةُ مَمْسُوخَةٌ ، بِآيَةِ أَنَّهُ يُقَرَّبُ لَهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ فَلَا تَذُوقُهُ ، وَيُقَرَّبُ لَهَا لَبَنُ الْغَنَمِ فَتَشْرَبُهُ ، أَوْ قَالَ : فَتَأْكُلُهُ " . فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ : أَشَيْءٌ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " أَفَنَزَلَتْ التَّوْرَاةُ عَلَيَّ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے ؟ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7751
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا فَرَعَ ، وَلَا عَتِيرَةَ " ، وَالْفَرَعُ : أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ ، فَيَذْبَحُونَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5474، م: 1976.
حدیث نمبر: 7752
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباء اور مزفت حنتم اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1993.
حدیث نمبر: 7753
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ : النَّخْلَةِ ، وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1985.
حدیث نمبر: 7754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا ، وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حِمًى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے اس لئے اگر میں مدینہ منورہ میں ہر نوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے آس پاس بارہ میل کی جگہ کو چرا گاہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1873، م: 1372.
حدیث نمبر: 7755
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ ، يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1386.
حدیث نمبر: 7756
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلَمْ يُؤَدِّ حَقَّهُ ، جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ ، يَتْبَعُهُ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ فِي فِيهِ ، فَلَا يَزَالُ يَقْضِمُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس مال و دولت ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو دھاریں ہوں گی بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر اسے چبانے لگا اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک بندوں کے درمیان فیصلہ شروع نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6958، م: 987.
حدیث نمبر: 7757
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1464، م: 982، وهذا الإسناد فيه هنا انقطاع، مكحول لم يسمع من عراك هذا الحديث بعينه.
حدیث نمبر: 7758
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب انہیں تقسیم کرکے فارغ ہوئے تو امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کجھور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر ان کے منہ میں سے وہ کجھور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069.