حدیث نمبر: 7679
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا ، وَإِمَامًا مُقْسِطًا ، يَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَيَفِيضُ الْمَالُ ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهَا أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2476، م: 155.
حدیث نمبر: 7680
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ بِكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ ، فَأَمَّكُمْ أَوْ قَالَ : إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہاری امامت تم ہی میں کا ایک فرد کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3449، م: 155.
حدیث نمبر: 7681
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ مِنْ فَجِّ الرَّوْحَاءِ ، بِالْحَجِّ أَوْ بالْعُمْرَةِ ، أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ وسلم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1252.
حدیث نمبر: 7682
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمْ الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ : الْكَرْمَ ، فَإِنَّ الْكَرْمَ هُوَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا بھلا نہ کہے کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے اور انگور کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مسلم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2247.
حدیث نمبر: 7683
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ ، قَالَ : يَقُولُ : يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ! فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ ، فَإِنْ شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آم مجھے ایذاء دیتا ہے کہتا ہے کہ زمانے کی تباہی حالانکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
حدیث نمبر: 7684
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی شرمگاہ میں آتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الحارث.
حدیث نمبر: 7685
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَمِعْتُمْ رَجُلًا يَقُولُ : قَدْ هَلَكَ النَّاسُ ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ ، يَقُولُ اللَّهُ : " إِنَّهُ هُوَ هَالِكٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2623.
حدیث نمبر: 7686
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَدْ لَغَوْتَ " . قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وعَنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له إسنادان، وهما صحيحان، خ: 934، م: 851.
حدیث نمبر: 7687
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ ، إِلَّا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ ، يَكْتُبَانِ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ، فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً ، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ ، طُوِيَتْ الصُّحُفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن سے زیادہ کسی افضل دن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا اور جن و انس کے علاوہ ہر جاندار مخلوق جمعہ کے دن گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے (کہ کہیں آج ہی کا جمعہ وہ نہ ہو جس میں قیامت قائم ہوگی) جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو درجہ بدرجہ پہلے آنے والے افراد کو لکھتے رہتے ہیں اس آدمی کی طرح جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کی پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے پرندہ پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا اور جب امام آ کر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7688
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ حديثاً ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَهِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے اور وہ عصر کے بعد ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، خ: 6400، م: 852، وهذا إسناد ضعيف، العباس و محمد بن مسلمة مجهولان.
حدیث نمبر: 7689
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ غُسْلِهَا الْغُسْلُ ، وَمِنْ حَمْلِهَا الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنازہ کو غسل دینے سے غسل دینے والے پر بھی غسل مستحسن ہوتا ہے اور جنازے کو اٹھانے سے وضو کرنا مستحسن ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن اختلف في رفعه ووقفه.
حدیث نمبر: 7690
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَاتَّبَعَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِثْلَيْ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى وَلَمْ يَتْبَعْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ مِثْلُ أُحُدٍ " . قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اور جنازے کے ساتھ جائے تو اسے احد پہاڑ کے برابر دو قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص نماز تو پڑھ لے لیکن جنازے کے ساتھ نہ جاسکے اسے احد پہاڑ کے برابر ایک قیراط ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1325، م: 945، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحارث.
حدیث نمبر: 7691
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ ، فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَعَابَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَانْتَهَرَهُنَّ ، فَقَالَ لَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ : لَا تَقُلْ ذَلِكَ ، فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : وَتُوُفِّيَتْ امْرَأَةٌ مِنْ كَنَائِنِ مَرْوَانَ وَشَهِدَهَا ، وَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالنِّسَاءِ اللَّاتِي يَبْكِينَ يُطْرَدْنَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ، فَإِنَّهُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَانْتَهَرَ عُمَرُ اللَّاتِي يَبْكِينَ مَعَ الْجِنَازَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ " . قَالَ : آنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلمہ بن ازرق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں وہاں سے جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آرہی تھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معیوب قرار دے کر انہیں ڈانٹا سلمہ بن ازرق کہنے لگے آپ اس طرح نہ کہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ گواہی دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی عورت مرگئی عورتیں اکھٹی ہو کر اس پر رونے لگیں مروان کہنے لگا کہ عبد الملک جاؤ اور ان عورتوں کو رونے سے منع کرو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ اے ابوعبدالملک رہنے دو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بھی ایک جنازہ گذرا تھا جس پر رویا جا رہا تھا میں بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے جنازے کے ساتھ رونے والی عورتوں کو ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سلمة مجهول.
حدیث نمبر: 7692
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً ، أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ ، أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے ماہ رمضان کے روزے میں بیوی کے قریب جا کر روزہ توڑ دیا تھا حکم دیا کہ ایک غلام آزاد کرے یا دومہینے کے مسلسل روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6709، م: 1111.
حدیث نمبر: 7693
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ ، فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ ، وَلَا يَصْخَبْ ، فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ ، مَرَّتَيْنِ " . " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا : إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصِيَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ ڈھال ہے جس دن تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو اسے اس دن بےتکلفی کی باتیں اور شور و غل نہیں کرنا چاہئے اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں (دومرتبہ) روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
حدیث نمبر: 7694
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ ، فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 7695
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، إِذْ مَرَّ بِهِمَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : ابْنِ الزَّبَّانِ ، فَدَعَاهُ نَافِعٌ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ مَعَ الْإِمَامِ ، أَفْضَلُ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7696
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا ، أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " . قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : فِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396.
حدیث نمبر: 7697
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جاسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2354، م: 1566.
حدیث نمبر: 7698
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَإِنَّهُ يَحْلُبُهَا ، فَإِنْ رَضِيَهَا أَخَذَهَا ، وَإِلَّا رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524.
حدیث نمبر: 7699
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللَّقْحَةَ فَلَا يُحَفِّلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری اونٹنی کو بیچنا چاہے تو اس کے تھن نہ باندھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524.
حدیث نمبر: 7700
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ ، وَلَا تَسْأَلُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے بیع میں دھوکہ نہ دے کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ نہ کرے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413.
حدیث نمبر: 7701
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَسَّعَ عَلَى مَكْرُوبٍ كُرْبَةً فِي الدُّنْيَا ، وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ كُرْبَةً فِي الْآخِرَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا ، سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ فِي الْآخِرَةِ ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْمَرْءِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2699، وهذا إسناد قد أعل بالانقطاع بين معمر وبين محمد، وكذا بين محمد وبين أبي صالح.
حدیث نمبر: 7702
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَالِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ ! وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2463، م: 1609.
حدیث نمبر: 7703
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ ، فَأَصَابَتْ بَطْنَهَا ، فَقَتَلَتْهَا ، وَأَلْقَتْ جَنِينًا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهَا عَلَى الْعَاقِلَةِ ، وَفِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ : عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، فَقَالَ قَائِلٌ : كَيْفَ يُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ ، وَلَا شَرِبَ ، وَلَا نَطَقَ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681.
حدیث نمبر: 7704
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُها جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " . وَالْجُبَارُ : الْهَدَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710.
حدیث نمبر: 7705
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّكُمْ تَقُولُونَ : أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! وَاللَّهُ الْمُوعِدُ ، إِنَّكُمْ تَقُولُونَ : مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ لَا يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ ؟ ! وَمَا بَالُ الْأَنْصَارِ لَا يُحَدِّثُونَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ ؟ ! وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ صَفَقَاتُهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ ، وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَالْقِيَامُ عَلَيْهَا ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرءاًَ مُعْتَكِفًا ، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مُجَالَسَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْضُرُ إِذَا غَابُوا ، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَدِيثِي ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَيْهِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي أَبَدًا " ، فَبَسَطْتُ ثَوْبِي ، أَوْ قَالَ : نَمِرَتِي ، ثُمَّ قَبَضْتُهُ إِلَيَّ ، فَوَاللَّهِ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ أَبَدًا ، ثُمَّ تَلَا : إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159 الْآيَةَ كُلَّهَا .
مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے اور تم کہتے کہ یہ احادیث مہاجرین صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں روایت نہیں کرتے ؟ یا انصار ان احادیث کو کیوں بیان نہیں کرتے ؟ تو بات یہ ہے کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبر گیری میں مصروف رہتے تھے جبکہ میں اکیلا آدمی تھا اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں موجود ہوتا تھا جب وہ غائب ہوتے تھے تو میں حاضر ہوتا تھا جب وہ بھول جاتے تو میں یاد رکھتا تھا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے ؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادراوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔ اور واللہ اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا پھر انہوں نے ان دو آیتوں کی تلاوت فرمائی جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 118، م: 2492.
حدیث نمبر: 7706
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نَحْنُ أَوَّلُ النَّاسِ دُخُولًا الْجَنَّة ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي هَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ ، غَدًا لِلْيَهُوَدِ ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7707
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ ، فَالْيَهُودُ غَدًا ، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7708
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا الشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرءَُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم سورة آل عمران آية 36 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7709
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ ، صُلَّحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ لِزَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا قَطُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام نے کبھی اونٹ کی سواری نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527.
حدیث نمبر: 7710
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ يَعْنِي الْأَمْعَاءَ ، فِي النَّارِ ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں عمرو بن عامرخزاعی کو اپنی آنتیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑنے کا رواج قائم کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3521، م: 2856، وهذا إسناد منقطع، الزهري لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7711
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ أَبِي عُرْوَةَ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، قُبِلَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157.
حدیث نمبر: 7712
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ ، وَيُمَجِّسَانِهِ ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ ! " . ثُمَّ يَقُولُ أَبو هريرة : وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو ؟ یہ حدیث بیان کر کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو یہ اللہ کی تخلیق ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7713
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى عَبْدٍ أَحْيَاهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّينَ أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً ، لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إليه لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے کا عذر پورا کردیتے ہیں جسے اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 6419.
حدیث نمبر: 7714
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَكَعْبٌ ، فَجَعَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ كَعْبًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَعْبٌ يُحَدِّثُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الْكُتُبِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
قاسم بن محمد کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ اکٹھے ہوگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سناتے اور کعب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سابقہ آسمانی کتابوں کی باتیں سناتے اسی اثناء میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198.
حدیث نمبر: 7715
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ ، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : وَنَسِيَ أَنْ يَقُولَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَأَطَافَ بِهِنَّ ، قَالَ : فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ امرأَةٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لَمْ يَحْنَثْ ، وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا آج رات میں سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتا سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، خ: 5242، م: 1654.
حدیث نمبر: 7716
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ! فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ زمانے کی تباہی کیونکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4826، م: 2246.
حدیث نمبر: 7717
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ؟ قَالُوا : لَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ؟ ، فَقَالُوا : لَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ ، فَيَقُولُ : " مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَيَتْبَعُهُ " ، فَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ ، وَيَتْبَعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا ، فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : " أَنَا رَبُّكُمْ " ، فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا ، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : " أَنَا رَبُّكُمْ " ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ رَبُّنَا ، فَيَتْبَعُونَهُ ، قَالَ : وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ ، وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ : اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَبِهَا كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ ، فَمِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ ، وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ ، ثُمَّ يَنْجُو ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَرْحَمَ ، مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنَ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءٍ يُقَالُ لَهُ : مَاءُ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ . وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا ، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا ، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ ، حَتَّى يَقُولَ : " فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ " فَيَقُولُ : لَا ، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ ، فَيَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ : يَا رَبِّ ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : " أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَغْدَرَكَ ! " فَلَا يَزَالُ يَدْعُو ، حَتَّى يَقُولَ : " فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذلك أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ " ، فَيَقُولُ : لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، وَيُعْطِي الله مِنْ عُهُودِهِ وَمَوَاثِيقِهِ أَنْ لَا يَسْأَلَ غَيْرَهُ ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا دَنَا مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْحِبَرَةِ وَالسُّرُورِ ، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : " أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَهُ ؟ ! ، وَقَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ وَمَوَاثِيقَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ ؟ ! " فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ ، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ ، أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا ، فَإِذَا دَخِلَ ، قِيلَ لَهُ : تَمَنَّ مِنْ كَذَا ، فَيَتَمَنَّى ، ثُمَّ يُقَالُ : تَمَنَّ مِنْ كَذَا ، فَيَتَمَنَّى ، حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . قَالَ : وَأَبُو سَعِيدٍ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ قَوْلِهِ ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ : " هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : حَفِظْتُ : " مِثْلُهُ مَعَهُ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل نہ ہو دشواری ہوتی ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ درمیان میں کوئی بادل بھی نہ ہو کوئی دشواری پیش آتی ہے ؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کروگے۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہوجائے اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ اس کے ساتھ ہوجائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہوجائے اور اس میں اس امت کے منافق باقی رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں ان کے سامنے آئے گا کہ جس صورت میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہنچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بیشک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط قائم کیا جائے گا اور سب سے پہلے اس پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم اے اللہ سلامتی رکھ ہوگی اور جہنم میں سعدان نامی خاردار جھاڑی کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے ؟ لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پاجائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جہنوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لاالہ الا اللہ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو اس علامت سے پہچان لیں گے کہ ان کے (چہروں) پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان پر حرام کردیا ہے کہ وہ انسان کے سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تروتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ میں نے تیرا سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا ؟ وہ کہے گا کہ آپ کی عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے ( اور جنت کی طرف کردیں گے) پھر کہے گا اے میرے پروردگار مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا ؟ وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم میں کچھ اور نہیں مانگوں گا اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہ وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں راحتیں اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182.
حدیث نمبر: 7718
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَقَالَتْ الْجَنَّةُ : يَا رَبِّ ، مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا فُقَرَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ ؟ وَقَالَتْ النَّارُ : يا رَبِّ ، مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ ؟ فَقَالَ لِلنَّارِ : " أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ " ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : " أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ، فَأَمَّا الْجَنَّةُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا مَا يَشَاءُ ، وَأَمَّا النَّارُ ، فَيُلْقَوْنَ فِيهَا " ، وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فِيهَا ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَتَقُولُ : قَطْ ، قَطْ ، قَطْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4849، م: 2846.