حدیث نمبر: 7639
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ " قَالَ مَعْمَرٌ : وَقَالَ غَيْرُ سُهَيْلٍ : " وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ ، يَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ : " ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں (دوسری روایت کے مطابق اعمال پیش کئے جاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
حدیث نمبر: 7640
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ " ، قَالُوا : فَمَنْ الشَّدِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٍپہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ پھر پہلوان کون ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے
حدیث نمبر: 7641
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد فرمایا حج مبرور۔
حدیث نمبر: 7642
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ : الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ ، وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا ، فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ، الْقَيْدُ : ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ . وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوا کرے گا اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہوگا جو بات کا سچا ہوگا اور خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں قید کا دکھائی دینا پسند ہے لیکن بیڑی ناپسند ہے کیونکہ قید کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے۔
حدیث نمبر: 7643
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھپالیسواں جز ہے
حدیث نمبر: 7644
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَجِبْ عَنِّي ، أَيَّدَكَ اللَّهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " ؟ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک حلقے کے لوگوں سے جن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے فرمایا اے ابوہریرہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری طرف سے جواب دو اللہ روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں بخدا۔
حدیث نمبر: 7645
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 7646
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى ، فَلَمَّا جَاءَهُ ، صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ! قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، وَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ " . فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ . قَالَ : فَالْآنَ . فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا گیا اور وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مارا ان کی آنکھ پھوٹ گئی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر بیت المقدس کے قریب کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی جانب ایک سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا۔
حدیث نمبر: 7647
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ : عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ ، فَقَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ ، فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اسْحَقُونِي ، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا مَا عُذِّبَهُ أَحَدٌ ، قَالَ : فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْأَرْضِ : " أَدِّي مَا أَخَذْتِ " ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ ، فَقَالَ له : " مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " قَالَ : خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ ، أَوْ مَخَافَتُكَ ، فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا پھر اسے خوب باریک کرکے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا واللہ اگر اللہ کو مجھ پر قدرت اور دسترس حاصل ہوگئی تو وہ مجھے ایسی سزا دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی ہوگی۔ اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ تو نے اس کے جتنے حصے وصول کئے ہیں سب کو واپس کر اسی لمحے وہ بندہ پھر اپنی شکل و صورت میں کھڑا ہوگیا اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے اس حرکت پر کس چیز نے برانگیختہ کیا ؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔
حدیث نمبر: 7648
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ ، رَبَطَتْهَا ، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، حَتَّى مَاتَتْ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : ذَلِكَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ رَجُلٌ ، وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حدیث نمبر: 7649
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ إِنْسَانًا مِنْهُمْ قَطُّ ! قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : " إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا اس وقت مجلس میں اقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے ہوئے تھے وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا۔ اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 7650
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ ، وَلِي عِيَالٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإٍبلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی چچا زاد بہن ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے لئے پیغام نکاح بھیجا وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام نے کبھی اونٹ کی سواری نہیں کی۔
حدیث نمبر: 7651
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، إِلَّا قَوْلَهُ : وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں آخری جملہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7652
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة ، أو أحدهما ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ مِنْ أَهْلِ الْوَبَرِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فخر و تکبراونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون اطمینان بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور اہل یمن کا ایمان اور ان کی حکمت بہت عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 7653
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا ، وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ، وَائْتُمِنُوا فَأَدَّوْا ، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا قریش پر ایک حق ہے اور قریش کا تم پر ایک حق ہے جب فیصلہ کریں عدل سے کام لیں جب امین بنائے جائیں تو امانت ادا کریں اور جب ان سے رحم کی بھیک مانگی جائے رحم کریں۔
حدیث نمبر: 7654
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 7655
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ ، وَبِطَاعَةِ سَيِّدِهِ ، نِعِمَّا لَهُ ، وَنِعِمَّا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی غلام کے لئے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اپنی بہترین عبادت اور اس کے آقا کی اطاعت کے ساتھ موت دے دے کیا ہی خوب ہے کیا ہی خوب ہے۔
حدیث نمبر: 7656
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 7657
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاق ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُصَلِّي بِنَا ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ، وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ ، وَإِذَا جَلَسَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي صَلَاتَهُ ، مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے وہ جب کھڑے ہوتے یا رکوع میں جاتے یا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سجدہ میں جانے کا ارادہ کرتے یا ایک سجدہ سے سر اٹھا کر دوسرا سجدہ کرنا چاہتے یا جب قعدہ میں بیٹھتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتے اسی طرح دیگر رکعتوں میں بھی تکبیر کہتے تھے اور جب سلام پھیرتے تو فرماتے کہ واللہ نماز میں میں تم سے سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریبی مشابہت رکھتا ہوں ان کی نماز بھی ہمیشہ اسی طرح رہی یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 7658
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7659
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7660
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تقولُ : آمِينَ ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ : آمِينَ ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 7661
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو کہتے تھے اللہم ربنا و لک الحمد
حدیث نمبر: 7662
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَقَدْ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ ، وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ ، وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حدیث نمبر: 7663
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ " ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7664
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " . قَالَ مَعْمَرٌ : وَلَمْ يَذْكُرْ سُجُودًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حدیث نمبر: 7665
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
حدیث نمبر: 7666
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وأبِي بَكْر بن أبي حَثْمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ : أَخُفِّفَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " ، قَالُوا : صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَأَتَمَّ بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کا حلیف تھے نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا۔
حدیث نمبر: 7667
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأَبي سَلَمة ، أو أحدهما ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ ، وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ ، وَذَا الْحَاجَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص امام بن کر نماز پڑھایا کرے تو ہلکی نماز پڑھایا کرے کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور اہل حاجت سب ہی ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7668
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُؤْمِنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
حدیث نمبر: 7669
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْجِ الْوَلِيدَ بن الوليد ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو اللہم ربنا و لک الحمد کہہ کر یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطاء فرما اے اللہ قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حدیث نمبر: 7670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں دی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 7671
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ ، لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ ، نَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى " . قَالَ : ثُمَّ أَوْهَمَ الْحَسَنُ بعدُ فَجَعَلَ مَكَانَ " الضُّحَى " : " غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں سفر و حضر میں کبھی نہ چھوڑوں (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی۔ بعد میں حسن کو وہم ہوا تو وہ اس کی جگہ۔۔ غسل جمعہ۔۔ کا ذکر کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 7672
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ عِيَاضٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہیے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔
حدیث نمبر: 7673
قَالَ : وَأَخْبَرَنِي زيادٌ أَيْضًا ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ بِذَلِكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7674
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ نَائِمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَأَرَادَ الْوُضُوءَ ، فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَصُبَّ عَلَى يَدِهِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حدیث نمبر: 7675
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے ہوئے دیکھا وہ فرمانے لگے میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اس لئے وضو کر رہا ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حدیث نمبر: 7676
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَكُمْ قَوْمٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ ، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 7677
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ " ، وَكَانَتْ صَنَمًا يَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، بِتَبَالَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کی سرینیں ذوالخلصہ کے گرد حرکت نہ کرنے لگیں ذوالخلصہ ایک بت کا نام ہے جس کی پوجا قبیلہ دوس کے لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7678
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَذْهَبُ كِسْرَى ، فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَيَذْهَبُ قَيْصَرُ ، فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
…