حدیث نمبر: 7599
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيُبْغِضُ أَوْ يَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمْ : هَا ، هَا ، فَإِنَّمَا ذَلِكَ الشَّيْطَانُ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ جب کوئی آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 3289، م: 2995.
حدیث نمبر: 7600
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ قَالَ : فِي وَضُوئِهِ ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7601
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْن ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ جَامِدًا ، فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا ، فَلَا تَقْرَبُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ في إسناده، وأخطأ في متنه، فزاد: وإن كان مائعا فلا تقربوه. انظر، خ: 5538.
حدیث نمبر: 7602
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، ويذكره عن عبيد الله .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناد لا باس به، انظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7603
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282.
حدیث نمبر: 7604
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وقَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ ، فَاغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی برتن میں کتا منہ مار دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھو لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيحان، خ: 172، م: 279.
حدیث نمبر: 7605
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ ؟ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَوَضئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا تو وہ وضو کررہے تھے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں ؟ میں نے پینر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 352.
حدیث نمبر: 7606
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وابن جريج ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟ ! " . قَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515.
حدیث نمبر: 7607
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ تُضَاعَفُ عَشْرًا ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَّا الصِّيَامَ ، فَهُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي ، وَيَدَعُ طَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي ، فَرْحَتَانِ لِلصَّائِمِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
حدیث نمبر: 7608
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
حدیث نمبر: 7609
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا بِمَرْوَةٍ أَوْ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَمَامَهُ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا ، وَلَكِنْ لِيَتَنَخَّمْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو اسے کسی پتھر وغیرہ سے صاف کرکے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 416، م: 550.
حدیث نمبر: 7610
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ ، فَلَا يُؤْذِينَا فِي مَسْجِدِنَا " وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَر : " فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، وَلَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس درخت (لہسن) میں سے کچھ کھا کر آئے وہ ہمیں ہماری مسجد میں تکلیف نہ پہنچائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 563.
حدیث نمبر: 7611
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤَذِّنَ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ ، وَيُصَدِّقُهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَهُ ، وللشَّاهِدُ عَلَيْهِ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی اذان کی آواز جہاں جہاں تک جاتی (ان سب کی گواہی کی برکت سے) اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور ہر خشک اور تر چیز جس نے اذان کی آواز سنی ہو مؤذن کی تصدیق کرتی ہے اور اس پر شہادت دینے والے کو پچیس درجات ملتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد قابل للتحسين.
حدیث نمبر: 7612
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ ، وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " . قَال : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7613
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وابن جريج ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبي سَلَمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615.
حدیث نمبر: 7614
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ ، تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
حدیث نمبر: 7615
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ فَعَصًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا ، فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز ( بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو عمرو وحريث جده، كلاهما مجهولان.
حدیث نمبر: 7616
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اطَّلَعَ عَلَى قَوْمٍ فِي بَيْتِهِمْ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَؤُوا عَيْنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی کسی کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158.
حدیث نمبر: 7617
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبْتَدِءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم یہود و نصاریٰ سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2167.
حدیث نمبر: 7618
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ : " لَا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ فال سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فال سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223.
حدیث نمبر: 7619
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7620
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ " ، قَالَ أَعْرَابِيٌّ : فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ كَانَ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحرا میں ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس سے پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220.
حدیث نمبر: 7621
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2322، م: 1575.
حدیث نمبر: 7622
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَال : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْأَغَرُّ ، صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ ، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ، إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو ہمارا رب آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کو قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
حدیث نمبر: 7623
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ ، عَنْ وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا اور ہمام سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6410، م: 2677.
حدیث نمبر: 7624
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبَ ، وَالْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، يُدْعَى الْغَنِيُّ ، وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ ، وَهِيَ حَقُّ ، وَمَنْ تَرَكَهَا ، فَقَدْ عَصَى " . وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ : " وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ بد ترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے حالانکہ وہ برحق ہے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5177، م: 1432.
حدیث نمبر: 7625
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ : " إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا ، فَأَحِبَّهُ " ، قَالَ : فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ رَبَّكُمْ يُحِبُّ فُلَانًا ، فَأَحِبُّوهُ ، قَالَ : فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، قَالَ : وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ ، قَالَ : وَإِذَا أَبْغَضَ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو اور جبرائیل علیہ السلام آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7485، م: 2637.
حدیث نمبر: 7626
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6138، م: 47.
حدیث نمبر: 7627
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7628
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ " ، وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَج " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ " ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں انصار کے سب سے بہترین گھر کا پتہ نہ بتاؤں۔ ؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا عبد الاشہل کے لوگ ( جو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا گروہ تھا) لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا بنی نجار لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا بنی حارث بن خزرج۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کے بعد کون ہیں ؟ فرمایا بنی ساعدہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا اس کے بعد انصار کے ہر گھر میں ہی خیر و برکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2512.
حدیث نمبر: 7629
قَالَ مَعْمَرٌ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، وَقَتَادَةُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
یہی روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ اس میں بنی نجار پھر بنی عبدالاشہل کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وسيأتي في مسند نفسه.
حدیث نمبر: 7630
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ ، مُعْجَبٌ بِجُمَّتِهِ ، قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ أَوْ قَالَ : يَهْوِي فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کر کے ناز وتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088.
حدیث نمبر: 7631
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَة ، قَالَ : أَخَذَتْ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌّ ، فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ : مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّيحِ ؟ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا ، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا ، فَلَا تَسُبُّوهَا ، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا ، وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جا رہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا ؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جا لیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین ! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیر طلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7632
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 523.
حدیث نمبر: 7633
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں اپنے مال میں سے دو جوڑے والی چیزیں خرچ کرے اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں جو اہل نماز میں سے ہوگا اسے باب الصلاۃ سے پکارا جائے گا جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے باب الصدقہ سے پکارا جائے گا جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے باب الجہاد سے پکارا جائے گا جو اہل صیام سے ہوگا اسے باب الریان سے پکارا جائے گا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویسے ضرورت تو کوئی نہیں لیکن کیا کسی آدمی کو سارے دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1897، م: 1027
حدیث نمبر: 7634
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَيِّبٍ ، تَقَبَّلَهَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَخَذَهَا بِيَمِينِهِ ، وَرَبَّاهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَةِ ، فَتَرْبُو فِي يَدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ : فِي كَفِّ اللَّهِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ ، فَتَصَدَّقُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے اس لئے خوب صدقہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014.
حدیث نمبر: 7635
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ ، وَمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ الَّذِي أَدْخَلْتَ ذُرِّيَّتَكَ النَّارَ ؟ فَقَالَ آدَمُ : يَا مُوسَى ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ ، فَهَلْ وَجَدْتَ أَنِّي أَهْبِطُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَحَجَّهُ آدَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور موسیٰ علیہما السلام میں مباحثہ ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو جہنم میں داخل کرا دیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ ! اللہ نے تمہیں اپنی رسالت اور اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تم پر تورات نازل فرمائی کیا تم نے مجھے بھی زمین پر اترا ہوا دیکھا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652.
حدیث نمبر: 7636
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7637
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال انجام دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659.
حدیث نمبر: 7638
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلشُّونِيزِ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ، إِلَّا السَّامَ " يُرِيدُ الْمَوْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5688، م: 2215.