حدیث نمبر: 7559
" ولَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ ، حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور کسی قسم کا پھل اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک وہ پک نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1538.
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ : النِّيَاحَةُ ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ ، وَكَذَا " . قُلْتُ لِسَعِيدٍ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ ، يَا آلَ فُلَانٍ ، يَا آلَ فُلَانٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کے تین کام ایسے ہیں جنہیں مسلمان نہیں چھوڑیں گے میت پر نوحہ، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور اس طرح کرنا میں نے سعید سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ؟ انہوں نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت کی طرح لڑائی جھگڑوں میں اپنے اپنے خاندان والوں کو یا آل فلاں، یا آل فلاں کہہ کر بلانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7561
حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً ، كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ دورد بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 408.
حدیث نمبر: 7562
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عن أبيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً ، كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں کوئی حدیث اور اس کی سند موجود نہیں ہے صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے اور حاشیے میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ مسنداحمد کے بعض نسخوں میں یہاں یہ غلطی ہوئی ہے کہ کاتبین نے حدیث نمبر ٧٥٥٣ کی سند کو لے کر اس پر حدیث نمبر ٧٥٥١ کا متن چڑھا دیا جو کہ غلط ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7563
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ ، إلَّا جُعِلَ صَفَائِحَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِه ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّة ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ . وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا ، إلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَظلَافِهَا ، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ ولَا جَلْحَاءُ ، كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَه ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّة ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ . وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " . ثُمَّ ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الْخَيْلِ ، فَقَال : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَجَمَالٌ ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ ، أَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا يُعِدُّهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ ، وَإِنْ مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ ، وَإِنْ مَرَّتْ بَمرْجٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ ، وَإِنْ اسْتَنَّتْ شَرَفًا ، فلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ ، حَتَّى ذَكَرَ أَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ وَجَمَالٌ ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمَُّلَاً ، ولا يَنْسَى حَقَّ بُطُونِهَا وَظُهُورِهَا ، وعُسْرِهَا وَيُسْرِهَا ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا بَذَخًا وَأَشَرًا ، وَرِيَاءً وَبَطَرًا " . ثُمَّ ثُمَّ سُئِلَ عَنِ الْحُمُرِ ، فَقَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شيئاً ، إِلَّا الآية الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ : مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 8 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مندحالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بےسینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستروجمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھالے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب وزینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور وتکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987.
حدیث نمبر: 7564
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا لَا تُكِنُّ مِنْهُ بُيُوتُ الْمَدَرِ ، ولَا تُكِنُّ مِنْهُ إِلَا بُيُوتُ الشَّعَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ ایسی بارش نہ ہوجائے جس سے پکے مکانات بھی نہ بچ سکیں صرف بالوں سے بنے ہوئے مکانات ہی بچ پائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7565
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنَعَتْ الْعِرَاقُ قَفِيزَهَا وَدِرْهَمَهَا ، وَمَنَعْتِ الشَّامُ مُديَّهَا وَدِينَارَهَا ، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ " . يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ ، وَذَكَرَ أَبَا كَامِلٍ ، فَقَالَ : كُنْتُ آخُذُ مِنْهُ ذَا الشَّأْنَ ، وَكَانَ أَبُو كَامِلٍ بَغْدَادِيًّا مِنَ الْأَبْنَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرب قیامت میں عراق اپنے قفیز اور درہم روک لے گا شام اپنے مد اور دینار روک لے گا مصر اپنے اردب اور دینار روک لے گا اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں واپس آ جاؤگے (یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا) اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا گوشت اور خون گواہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2896.
حدیث نمبر: 7566
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2113.
حدیث نمبر: 7567
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ ، فَلا تَبْدَءُوهُمْ بالسَّلام ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا " . قَالَ زُهَيْرٌ : فَقُلْتُ لِسُهَيْلٍ : الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ؟ فَقَالَ : الْمُشْرِكُونَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ان لوگوں سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو راوی حدیث زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سہیل سے پوچھا کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمام مشرکین مراد ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2167.
حدیث نمبر: 7568
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179.
حدیث نمبر: 7569
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ ، فَلا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سو جائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھو کر نہ سویا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7570
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ ، إِلَا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا ، فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1510.
حدیث نمبر: 7571
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ ، أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7572
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْمِسْهُ ، فَإِنَّ في أَحَدَ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ ، وفي َالْآَخَرَ دَوَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5782، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ثمامة لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7573
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنْ تَجُرَّ الذَّيْلَ ذِرَاعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ (یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے کا دامن ایک گز تک لمبا رکھ سکتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف جداً، أبو المهزم متروك.
حدیث نمبر: 7574
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے دہرا اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7575
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ فِي النَّارِ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ، ثُمَّ سَدَّدَ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7576
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنْ أَرَدْتَ تَلْيِينَ قَلْبِكَ ، فَأَطْعِمْ الْمِسْكِينَ ، وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیم کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7577
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ ، وثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، صَوْمُ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صبر کے مہینے (رمضان) کا روزہ اور ہر مہینے تین دن کا روزہ رکھنا ایسے ہے جیسے پورے سال روزہ رکھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7578
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، وَيَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ ، إِمَّا مُحْسِنٌ ، فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ خَيْرًا ، وَإِمَّا مُسِيءٌ ، لَعَلَّهُ يَسْتَعْتِبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7235، م: 2682.
حدیث نمبر: 7579
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ : إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا ، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا . قَالَ : فَلَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوانوں سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ تم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562.
حدیث نمبر: 7580
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائیں تھیں میں پڑاوکریں گے (مراد وادی محصب تھی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1590، م: 1314.
حدیث نمبر: 7581
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ ، فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7582
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْأََََََََََغَرِّ ، وأبي سَلَمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَيَعْقُوبُ ، قَال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَغرَّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ ، أَبَا سَلَمَةَ . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَاه يُونُسُ ، عَنِ الْأغَرِّ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ ، يَكْتُبُونَ الَأوَّلَ فَالْأَوَّلَ ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ ، وَجَاءُوا فَاسْتَمَعُوا الذِّكْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
یہاں حدیث کی صرف سند مذکور ہے غالباً اس کا متن وہی ہے جو اگلی حدیث کا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے آجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أسانيده صحاح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7583
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا " . قَالَ يَعْقُوبُ : يَعْنِي الثُّومَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس درخت (لہسن) میں سے کچھ کھا کر آئے وہ ہمیں ہماری اس مسجد میں تکلیف نہ پہنچائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 563.
حدیث نمبر: 7584
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وحدثنا يعقوبُ ، حدثنا أَبي ، عن ابن شهابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وَلَمْ يَشُكَّ يَعْقُوبُ ، قَالَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ جُزْءًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7585
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِم ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7273، م: 523.
حدیث نمبر: 7586
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ ، رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ ، وَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ ، فَلَطَمَ عَيْنَ الْيَهُودِيِّ ، فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ ، فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ ، فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي ؟ أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں میں جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلا کر اس سے دریافت فرمایا اس نے تھپڑ مارنے کا اعتراف کیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بیہوشی طاری ہوجائے گی سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2411، م: 2373.
حدیث نمبر: 7587
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ولَا أَنَا ، إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں۔ الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816.
حدیث نمبر: 7588
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ ! فَقَالَ لَهُ آدَمُ : وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَبِرِسَالَتِهِ ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ ! " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ ہی ہیں جن کی غلطی نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ تم وہی ہو کہ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے اور اپنی پیغام بری کے لئے منتخب کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے پہلے کرلیا تھا ؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3409، م: 2652.
حدیث نمبر: 7589
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7590
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ فقَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " ، قَالَ ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَال : " ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد ؟ فرمایا حج مبرور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 26، م: 83.
حدیث نمبر: 7591
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام ! کوئی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030.
حدیث نمبر: 7592
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ ، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآَخِرُ ، إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَه ؟ " حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " . فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردوں ؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے اسی وجہ سے وہ لوگ رات کے پہلے حصے کی بجائے آخری حصے میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
حدیث نمبر: 7593
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ مَرْجَانَةَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا ، فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے لیکن تدفین کے لئے اس کے ساتھ نہ جاسکے تو اسے جنازہ کی نظروں سے غائب ہونے تک کھڑا رہنا چاہئے اور جو شخص جنازے کے ساتھ چلا جائے وہ قبرستان پہنچ کر جنازہ زمین پر رکھے جانے سے قبل نہ بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعنة.
حدیث نمبر: 7594
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 580، م: 607، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ ، وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ : أَوْصَانِي بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى ، قَالَ : وَنَهَانِي عَنِ الِالْتِفَاتِ ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْقِرْدِ ، وَنَقْرٍ كَنَقْرِ الدِّيكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة، ولكن الشطر الأول من الحديث- وهو الأمر بالثلاث- صحيح، خ: 1178، م: 721.
حدیث نمبر: 7596
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّمَّاكِ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَبِصَلَاةِ الضُّحَى ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ین چیزوں کی وصیت کی ہے) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) چاشت کی نماز کی کیونکہ یہ رجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف للراوي المبهم، وهو سليمان: مجهول.
حدیث نمبر: 7597
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ : " مَنْ أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْهِ ، فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، لَمْ أَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں جس شخص کی دونوں پیاری آنکھوں کا نور ختم کردوں اور وہ اس پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں اس کے لئے جنت کے سوا کسی دوسرے ثواب پر راضی نہیں ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7598
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْوَسِيلَةُ ؟ قَالَ : " أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مجھ پر درود بھیجا کرو تو اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! وسیلہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا یہ جنت کے سب سے اعلیٰ ترین درجے کا نام ہے جو صرف ایک آدمی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ليث ضعيف، وكعب ليس هو بمعروف، ويغني عنه حديث عبدالله ابن عمرو عند مسلم: 384.