حدیث نمبر: 7519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ ، وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ، ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً ، ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور امام نکل آتا ہے تو فرشتے وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا بکری قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر بطخ پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ دینے والے کی طرح ثواب پاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1384، م:.2659.
حدیث نمبر: 7521
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ يَخْلُقُ كَخَلْقِي ! فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً ، أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ایک مکھی یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7559، م: 2111.
حدیث نمبر: 7522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت حبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً ، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً ، فَحَلَبَهَا ، فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ : بِالْخِيَارِ إِلَى أَنْ يَحُوزَهَا ، أَوْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ایک برتن گندم بھی ساتھ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2151، م: 1524، إسناده متصل من جهة محمد، ومنقطع من جهة خلاس، فإنه يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ ، حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ ، فَأَكَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خوب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کردے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس بن عمرو لم يسمع من أبي هريرة، لكن توبع.
حدیث نمبر: 7525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 239، م: 282، وإسناده كسابقه.
حدیث نمبر: 7526
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ ، فَهُوَ إِذْنُهَا ، وَإِنْ أَبَتْ ، فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور ہوگی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده حسن، خ: 6970، م: 1419.
حدیث نمبر: 7528
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751.
حدیث نمبر: 7529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ، الأَنبِياءُ إِخْوَةٌ بَنُو عَلَّاتٍ ، وليسَ بَيْني وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365.
حدیث نمبر: 7530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ ، وَحُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کو خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6487، م: 2823.
حدیث نمبر: 7531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَوْدُودٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلْيَدْفِنْهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوکنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ دور چلا جائے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن خ: 416، م: 550.
حدیث نمبر: 7532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو۔ لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
حدیث نمبر: 7533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ غَالِبٍ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ، قَالَ : " يَا ابْنَ أَخِي ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَهِيَ مُنَاخَةٌ ، وَأَنَا آخِذٌ بِخِطَامِهَا ، أَوْ زِمَامِهَا وَاضِعًا رِجْلِي عَلَى يَدِهَا ، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَامُوا حَوْلَهُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي يَلِيهِ ، عَنْ يَمِينِهِ ، فَشَرِبَ قَائِمًا ، حَتَّى شَرِبَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قِيَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے ! میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو باندھا وہ بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے اس کی لگام اس طرح پکڑ رکھی تھی کہ میرا پاؤں اس کے ہاتھ پر تھا اتنی دیر میں قریش کے کچھ لوگ آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک برتن لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر ہی اسے نوش فرمایا پھر دائیں جانب والے صاحب کو مرحمت فرما دیا انہوں نے اسے کھڑے کھڑے پی لیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے ہی کھڑے کھڑے وہ دودھ پیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لجهالة الصلت ومسلم.
حدیث نمبر: 7534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427.
حدیث نمبر: 7535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُؤْمِنُ الَّذِي يَرْفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ ، وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، خ: 1178، م: 721، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه.
حدیث نمبر: 7537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ ، وَلَمْ يُصَلِّ ، حَتَّى أَصْبَحَ ، قَالَ : " بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں لوگوں نے یا ایک آدمی نے ایک شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں آدمی ساری رات سوتا رہا اور فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی یہاں تک کہ صبح ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عنعنة الحسن البصري.
حدیث نمبر: 7538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
حدیث نمبر: 7539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ ، وَالتَّمْرَتَانِ ، وَالْأُكْلَةُ ، وَالْأُكْلَتَانِ " ، قَالُوا : فَمَنْ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى ، وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِهِ ، فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَذَلِكَ هُوَ الْمَحْرُومُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ پھر مسکین کون ہوتا ہے ؟ فرمایا جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور دوسری کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کر دیں۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص محروم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039.
حدیث نمبر: 7540
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ الْمِسْكِينُ ؟ قَالَ : " الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! پھر مسکین کون ہوتا ہے ؟ فرمایا جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال بھی نہ کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخِي وَهْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2400، م: 1564.
حدیث نمبر: 7542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ ، فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5899، م: 2103.
حدیث نمبر: 7543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقِهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3496، م: 2526.
حدیث نمبر: 7544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُجِّرَتْ أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنَ الْجَنَّةِ : الْفُرَاتُ ، وَالنِّيلُ ، وَسَيْحَانُ ، وَجَيْحَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی چار نہریں دنیا میں بہتی ہیں دریائے فرات دریائے نیل دریائے جیحون دریائے سیحون۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2839.
حدیث نمبر: 7545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ ، وَلَا بِالنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی سفیدی کو بدل لیا کرو اور یہود و نصاری کی مشابہت اختیار نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5899، م: 2103
حدیث نمبر: 7546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا ، وَقَالَ يَزِيدُ : أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، فَيُقَالُ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ رَبَّنَا ، هَذَا الْمَوْتُ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، فَيَطَّلِعُونَ فَرِحِينَ مُسْتَبْشِرِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ ، فَيُقَالُ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، هَذَا الْمَوْتُ ، فَيَأْمُرُ بِهِ ، فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا : خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ ، لَا مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ جی پروردگار ! یہ موت ہے پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی وہ اس خوشی سے جھانک کر دیکھیں گے کہ شاید انہیں اس جگہ سے نکلنا نصیب ہوجائے پھر ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے اس میں کبھی موت نہ آئے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تُرْسِلْهَا ، فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2242.
حدیث نمبر: 7548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أخبرنا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي ، إِنَّ اللَّهَ حِبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ " . وَقَالَ يَزِيدُ : " إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ، 1966، م: 1103.
حدیث نمبر: 7549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
حدیث نمبر: 7551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ ، لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ ، أَوْ يَقُومْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھتا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق، وإن كان مدلسا وقد عنعن، توبع.
حدیث نمبر: 7552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَزِيدُ : مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ أُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَشَبَّهُ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6993، م: 2266.
حدیث نمبر: 7554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7119، م: 2894.
حدیث نمبر: 7555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6446، م: 1051.
حدیث نمبر: 7556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أَخبرنا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، خِيَارُهُمْ تَبَعٌ لِخِيَارِهِمْ ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں اچھے لوگ اچھے لوگوں کے اور برے لوگ برے لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3495، م: 1818.
حدیث نمبر: 7557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ ، إِلَّا السَّامَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : " الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں سام کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سام سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215.
حدیث نمبر: 7558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سرابر وزن کرکے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1588.