حدیث نمبر: 7479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ أَحَدُكُمْ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ ، وَفَضْلٍ " وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد، لكنه تابع.
حدیث نمبر: 7480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مُنْخُرَيْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ ، وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکھٹے نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وفي إسناده حصين، وقد اختلف في اسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع، وإلا فلين الحديث.
حدیث نمبر: 7481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلْمَانَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرَّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَبَقَ ، إِلَّا فِي خُفٍّ ، أَوْ حَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي إسناد الحديث أبو الحكم، وهو لا يعرف.
حدیث نمبر: 7483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْبَخِيلِ ، وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ ، مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا ، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ ، فَلَا يُنْفِقُ مِنْهَا إِلَّا اتَّسَعَتْ حَلَقَةٌ مَكَانَهَا ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا عَلَيْهِ ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ ، فَإِنَّهَا لَا تَزْدَادُ عَلَيْهِ ، إِلَّا اسْتِحْكَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1443، م: 1021.
حدیث نمبر: 7484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ : " لَوْ كَانَ أُحُدٌ عِنْدِي ذَهَبًا ، لَسَرَّنِي أَنْ أُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 2389، م: 991، وهذا الإسناد تفرد به أحمد، وفيه عنعنة ابن إسحاق.
حدیث نمبر: 7485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي ، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا ، فَأَحْسَنَهُ ، وَأَكْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ ، وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ ، وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا ، إِلَّا مَوْضِعَ هَذِهِ اللَّبِنَةِ ، فَكُنْتُ أَنَا هَذِهِ اللَّبِنَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے نہایت حسین و جمیل عمارت بنائی البتہ اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3535، م: 2286، وهذا الإسناد فيه خطأ، وانظر مابعده.
حدیث نمبر: 7486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا الإسناد فيه خطأ، وذلك في قوله: «عياض عن أبيه» ، والصواب في الإسناد إسقاط دينار هذا منه.
حدیث نمبر: 7487
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا الإسناد كسابقه.
حدیث نمبر: 7488
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک علم کو اٹھا نہ لیا جائے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا نبی اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، وهو بإسناد سابقه.
حدیث نمبر: 7489
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ دِينَارٍ اللَّيْثِيُّ وَكَانَ ثِقَةً ، قال : قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، خَلِيفَةَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَيَّامَ الْحَجِّ ، يَقُول : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث خطبہ جمعہ میں سنائی تھی جبکہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا الإسناد فيه عياض، فإنه لم يرو عنه غير محمد بن إسحاق ووثقه.
حدیث نمبر: 7490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ ، فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ ، فَيَحْتَطِبَ ، ثُمَّ يَأْتِيَ بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَيَبِيعَهُ ، فَيَأْكُلَ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا ، فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ پر جا کر لکڑیاں کاٹے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے بہ نسبت اس کے کسی سے جا کر سوال کرے اور انسان کے لئے مٹی لے کر اپنے منہ میں ڈال لینا اس سے بہتر ہے کہ اپنے منہ میں حرام کا لقمہ ڈالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن.
حدیث نمبر: 7491
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَتَعَاقَبُونَ ، مَلَائِكَةَ اللَّيْلِ ، وَمَلَائِكَةَ النَّهَارِ ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ كَانُوا فِيكُمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ، فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر باری باری آتے ہیں ان میں سے کچھ فرشتے رات کے ہیں اور کچھ دن کے یہ فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رہ چکے ہوتے ہیں وہ آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 555، م: 632، فيه عنعنة ابن إسحاق، لكن له طرقا أخرى يصح بها.
حدیث نمبر: 7492
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ ، أَوْ شَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ ، إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1894، م: 1151، وله إسنادان: الأول: كإسناد الحديث السابق، والثاني: فيه عنعنة محمد بن إسحاق لكن توبع.
حدیث نمبر: 7493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ ، فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، محمد بن إسحاق- وإن رواه بالعنعنة وهو مدلس- قد توبع.
حدیث نمبر: 7494
(حديث قدسي) (حديث موقوف) وَقَالَ : وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ ، إِلَّا الصِّيَامَ ، فَهُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، إِنَّمَا يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي ، فَصِيَامُهُ لي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَّا الصِّيَامَ ، فَهُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
نیز ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم کا ہر عمل اسی کے مناسب ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے مناسب ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری خاطر اپنا کھانا پینا چھوڑتا ہے لہذا اس کا روزہ میری وجہ سے ہوا اس لئے بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے اور سات سو گنا تک چلی جاتی ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7492، م: 1151، وهو بإسناد سابقه.
حدیث نمبر: 7495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1966، م: 1103، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا، وقد عنعنه، لكنه توبع.
حدیث نمبر: 7496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ تَجِدُونَ خِيَارَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقِهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 3496، م: 2526، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا، وقد عنعنه، قد توبع.
حدیث نمبر: 7497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5396، م: 2026، محمد بن إسحاق متابع.
حدیث نمبر: 7498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ ، لَا يَقْطَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4881، م: 2826، محمد بن إسحاق متابع.
حدیث نمبر: 7499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ ، مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6637، فيه عنعنة ابن إسحاق لكنه قد توبع.
حدیث نمبر: 7500
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3194، م: 2751، محمد بن إسحاق متابع.
حدیث نمبر: 7501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنِ الشَّيْءِ ، فَاجْتَنِبُوهُ ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالشَّيْءِ ، فَائْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاو اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7288، م: 1338، وهذا إسناد فيه محمد بن إسحاق مدلس لكنه قد توبع.
حدیث نمبر: 7502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6410، م: 2677، محمد بن إسحاق متابع.
حدیث نمبر: 7503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا ، أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 772، م: 296.
حدیث نمبر: 7504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ ، لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَرَأَيْتُ حَلْقَةً عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُ ، فَقِيلَ لِي : أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ ، فَقَالَ لِي : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ حِبِّي ، أَوْ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا ، وَالْجَفَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ ، أَصْحَابِ الْوَبَرِ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ .
مولانا ظفر اقبال
ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ حاضر ہوا میں نے مسجد نبوی میں منبر کے قریب ایک حلقہ درس دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا حلقہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حلقہ ہے میں نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا وہ کہنے لگے کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں اہل یمن میں سے ہوں یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ایمان اور حکمت یمن والوں کی بہت عمدہ ہے یہ لوگ نرم دل ہوتے ہیں جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَكُنْتُ إِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي ، فَأُهَرْوِلُ ، فَإِذَا هَرْوَلْتُ سَبَقْتُهُ ، فَالْتَفَتُّ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَنْبِي ، فَقُلْتُ : تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ ، وَخَلِيلِ إِبْرَاهِيمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں گیا میں جب اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے بڑھ جاتے پھر میں دوڑنا شروع کردیتا تو میں آگے نکل جاتا اچانک میری نظر اپنے پہلو کے ایک آدمی پر پڑی تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ خلیل ابراہیم کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي محمد عبدالرحمن.
حدیث نمبر: 7507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ ، أَوْ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559.
حدیث نمبر: 7508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7509
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَقِيَ ثُلُثُ اللَّيْلِ نَزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي ، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي ، فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي ، فَأَرْزُقَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ ، فَأَكْشِفَهُ عَنْهُ ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے رزق طلب کرے کہ میں اسے رزق عطا کروں ؟ کون ہے جو مصائب دور کرنے کی درخواست کرے کہ میں اس کے مصائب دور کروں ؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد فيه أبو جعفر مقبول، وقد توبع.
حدیث نمبر: 7510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہ نہیں مظلوم کی دعا مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وإسناد الحديث كسابقه.
حدیث نمبر: 7511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ : إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ يُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایسا ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 26، م: 83، أبو جعفر وإن كان في عداد المجهولين، قد توبع.
حدیث نمبر: 7512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَصَمِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَصَلَاةِ الضُّحَى ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) ۔ (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721.
حدیث نمبر: 7513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ ، أَوْ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ سِوَاكٌ ، وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَصْلَحَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامَهُ ، فَكَفَاهُ حَرَّهُ وَبَرْدَهُ ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکائے اور گرمی سردی سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2557، م:.1663.
حدیث نمبر: 7515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فِي مُصَلَّاهُ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ ، فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ قَالَ : " كَمَا أَنْتُمْ " ، فَصَفَفْنَا ، وَإِنَّ رَأْسَهُ لَيَنْطِفُ ، فَصَلَّى بِنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے غسل نہیں کیا چنانچہ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 640، م: 605.
حدیث نمبر: 7516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ ، فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی بھی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات پھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُولُوا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ، إِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ، وَلَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو کہ زمانے کی تباہی ہو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے اور انگور کو کرم نہ کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6182، م: 2246.