حدیث نمبر: 7119
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِير ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ِِِيَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) بھی کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 1653
حدیث نمبر: 7120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے ، کان اور صحرا میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے ، اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 7121
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الزُّهْرِيّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا ، فَقَالَ لَهُ : أتُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عیینہ بن حصن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کو چوم رہے ہیں، وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! آپ انہیں چوم رہے ہیں، جبکہ میرے یہاں تو دس بیٹے ہیں، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو کسی پر رحم نہیں کرتا ، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5997، م: 2318
حدیث نمبر: 7122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِقَوْمٍ يَتوضَّئونَ ، فَقَالَ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہے تھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 7123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ ، يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میری امت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے۔ “ (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی بعد والوں کا ذکر فرمایا یا نہیں) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہو گی ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2534
حدیث نمبر: 7124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2404، م: 1559
حدیث نمبر: 7125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً ، فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا ، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُهُ نَفَقَتُهُ ، وَيَرْكَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہو گا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جا سکتا ہے، البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہو گا اور اس پر سواری بھی کی جا سکتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2512، هشيم صرح بالتحديث عندالدارقطني، وقد توبع .
حدیث نمبر: 7126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يُوسُفَ ، أَوْ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ ، رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُع " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے سات گز پر اتفاق کر کے دور کر لیا جائے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 7127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُهَيْمِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”امرؤالقیس جہنم میں جانے والے شعراء کا علم بردار ہو گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، أبو الجهم الواسطي مجهول، واهي الحديث .
حدیث نمبر: 7128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ ، فَإِنْ اسْتُشْهِدْتُ ، كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ ، وَإِنْ رَجَعْتُ ، فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرما رکھا ہے ، اگر میں اس جہاد میں شرکت کر سکا اور شہید ہو گیا تو میرا شمار بہترین شہداء میں ہو گا اور اگر میں زندہ واپس آ گیا تو میں نار جہنم سے آزاد ابوہریرہ ہوں گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، جبر مجهول .
حدیث نمبر: 7129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا " ، قَالَ " وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ يَعْنِي رَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : " إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ " ، قَالَ : فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَلِكَ الْأَمْرَ حَدَثَ : " إِلَّا مِنَ الْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ ، وَتَرْكِ السُّنَّةِ " ، قَالَ : أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ : أَنْ تُبَايِعَ رَجُلًا ثُمَّ تُخَالِفَ إِلَيْهِ تُقَاتِلُهُ بِسَيْفِكَ ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ ، قال : قلتُ : يا رسولَ الله ، أما الإشراكُ بالله فقد عَرَفْناهُ ، فما نَكْثُ الصَّفْقةِ ؟ قال : " فأن تُبايعَ رجلاً ثم تخالِفَ إليهِ تُقاتِلُه بسَيْفكَ ، وأَما تَرْكُ السُّنةِ ، فََالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ایک فرض نماز اگلی نماز تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے، اسی طرح ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، ایک مہینہ (رمضان) دوسرے مہینے (رمضان) تک بھی درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ۔“ اس کے بعد فرمایا : ”سوائے تین گناہوں کے۔ “ میں سمجھ گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کسی خاص وجہ کی بناء پر فرمایا ہے ۔ (بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے ، معاملہ توڑنے کے اور سنت چھوڑنے کے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطلب تو ہم سمجھ گئے ، معاملہ توڑنے سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”معاملہ توڑنے سے مراد یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرو ، پھر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہو جاؤ اور تلوار پکڑ کر اس سے قتال شروع کر دو اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت مسلمین سے خروج ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث ....» إلى آخر الحديث، أخرجه مسلم: 233 مختصرا، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى هريرة، كما روى يزيد بن هارون وسيأتي بزيادة رجل مبهم بين عبدالله وبين أبى هريرة، وقال الدارقطني : قول يزيد أشبه بالصواب من قول هشيم .
حدیث نمبر: 7130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 7131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ ، وَالثَّيِّبُ تُشَاوَرُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي ! قَال : " سُكُوتُهَا رِضَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے۔ “ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کنواری لڑکی شرماتی ہے (تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کی خاموشی ہی اس کی رضامندی کی علامت ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6970، م: 1419
حدیث نمبر: 7132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرنا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُصُّوا الشَّوَارِبَ ، وَأَعْفُوا اللِّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 8593، م: 259
حدیث نمبر: 7133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا قَالَ : " أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 7134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ طُعْمٍ ، وَذِكْرِ اللَّهِ " . قَالَ مَرَّةً : " أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں ۔“ ایک دوسری سند میں صرف کھانے پینے کا ذکر ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 7135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ، فَحَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَتِيرَةَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا فَرَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں، اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5474، م: 1976، وهذا إسناد صحيح إن كان هشيم سمعه من الزهري، وإن كان الواسطة بينهما سفيان بن حسين فالإسناد لأجله ضعيف، ومع ذلك فهو متابع .
حدیث نمبر: 7136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ ، رَجَعَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے، وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1521، م: 1350، هشيم وإن كان مدلسا وقد عنعن، قد تابعه شعبة .
حدیث نمبر: 7137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : أَطُوفُ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ ، تَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَمْ يَسْتَثْنِ ، فَمَا وَلَدَتْ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشِقِّ إِنْسَانٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ اسْتَثْنَى ، لَوُلِدَ لَهُ مِائَةُ غُلَامٍ كُلُّهُمْ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : آج رات ميں عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا ، ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا ، جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے ، چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتاً سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7469، م: 1654، لا تضر عنعنة هشيم، فقد تابعه يزيد بن هارون .
حدیث نمبر: 7138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ قَالَ هُشَيْمٌ : فَلَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ : بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) ۔ سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی ، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی ، جمعہ کے دن غسل کرنے کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، خ: 1178، م: 721، فيه تدليس الحسن، وقد توبع .
حدیث نمبر: 7139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَة : قَصُّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَالِاسْتِحْدَاد ، وَالْخِتَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ۔ مونچھیں تراشنا، ناخن کانٹا، بغل کے بال نوچنا، زیرناف بال صاف کرنا ، ختنہ کرنا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5891، م: 257
حدیث نمبر: 7140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ ، أَوْ قَالَ : صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، فَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، فَسَجَدَ فِيهَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ! فَقَالَ : سَجَدْتُ فِيهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ۔ اس میں انہوں نے سورۃ انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا، نماز کے بعد میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ ؟ (آپ نے یہ کیا کیا ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 7141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً ، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اور وہ بیماری والے پر کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتی ہے (پہلے اسے برتن میں ڈالتی ہے) اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي و الحديث صحيح، خ: 5782
حدیث نمبر: 7142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ ، فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ ، فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَ الْأَوَّلُ بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہیے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہیے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 7143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا ، فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1510
حدیث نمبر: 7144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِذَا صَلَّى جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امام اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 7145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو لوگوں کے درمیان جج بنا دیا جائے۔ گویا اسے بغیر چھری کے ذبج کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن سعيد لم يسمعه من سعيد المقبري .
حدیث نمبر: 7146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَهُ ؟ يَعْنِي ، قَالَ " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ بَهَتَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا : کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2589
حدیث نمبر: 7147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
حدیث نمبر: 7148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا ، قَدْ حُرِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد فيه أبو قلابة، وروايته عن أبى هريرة مرسلة .
حدیث نمبر: 7149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْن ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پکار کر پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 365، م: 2521
حدیث نمبر: 7150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَسْلَمُ ، وَغِفَارٌ ، وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَجُهَيْنَةَ ، أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، وَمُزَيْنَةَ ، خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ ، قَالَ : أَحْسِبُهُ قَالَ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مِنْ أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، وَهَوَازِنَ ، وَتَمِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن قبیلہ اسلم۔ غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنواسد بنوعظفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3523، م: 2521
حدیث نمبر: 7151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ " . وقَالَ بِيَدِهِ ، قُلْنَا : يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آ جائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرماتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس ساعت کا مختصر ہونا بیان فرمایا : ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 7152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : إِمَّا تَفَاخَرُوا ، وَإِمَّا تَذَاكَرُوا ، الرِّجَالُ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ ثِنْتَانِ ، يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں فخر یا مذاکرہ کیا کہ مردوں کی تعدادزیادہ ہے یا عورتوں کی ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں ارشاد فرمایا : کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہو گا اس کے بعد داخل ہونے والا گر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہو گا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آ جائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 7153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ " ، قَالَ أَيُّوبُ : " فَأُنْبِئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی نے مشکیزے کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی پیا تو اس میں سے سانپ نکل آیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5628
حدیث نمبر: 7154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ جَارَهُ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَتَهُ ، أَوْ قَالَ : خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی (یا شہتیر) رکھنے سے منع نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5627
حدیث نمبر: 7155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 7156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ مَعَهَا فِيهِ إِدَامٌ ، أَوْ طَعَامٌ ، أَوْ شَرَابٌ ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ ، وَلَا نَصَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ خدیجہ آپ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہیں اس میں سالن یا کھانے پینے کی چیز ہے جب یہ آپ کے پاس پہنچیں تو آپ انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری جانب سے سلام کہہ دیں اور انہیں جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دے دیں جس پر لکڑی کا کام ہوا ہو گا اس میں کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تھکاوٹ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3820، م: 2432
حدیث نمبر: 7157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ ، لَا يَخْرُجُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي ، وَإِيمَانًا بِي ، وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي ، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ ، أَوْ غَنِيمَةٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِمَ ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ ، وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا ، وَلَكِنِّي لَا أَجِدُ سَعَةً ، فَيَتْبَعُونِي ، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ ، فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأُقْتَلَ ، ثُمَّ أَغْزُوَ ، فَأُقْتَلَ ، ثُمَّ أَغْزُوَ ، فَأُقْتَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اسے اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کر چکا ہو۔ _x000D_ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہو گا جیسے زخم لگنے کے دن تھا۔ اس کا رنگ تو خون کی طرح ہو گا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہو گی۔ _x000D_ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ وہ میری پیروی کر سکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کر لوں۔ پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہو جاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہو جاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 7158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! حلق کرانے والوں کی بخشش فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قصر کرانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا : کہ اے اللہ ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر کرانے والوں کو بھی اپنی دعا میں شامل فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1728 ، م: 1302