حدیث نمبر: 6757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ قَتَلَ فِي حَرَمِ اللَّهِ ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سے اللہ کے معاملے میں سب سے آگے بڑھنے والا وہ شخص ہے جو کسی حرم شریف میں قتل کرے یا کسی ایسے شخص کو قتل کرے جو قاتل نہ ہو یا دور جاہلیت کی دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کرے۔
حدیث نمبر: 6758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ نَافِعٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وَلَمْ يَشُكَّ يُونُسُ ، قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ ، الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ ، كَمَا تَتَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کو وہ شخص انتہائی ناپسند ہے جو اپنی زبان کو اس طرح ہلاتا رہتا ہے جیسے گائے جگالی کر تی ہے۔
حدیث نمبر: 6759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَعِ ؟ فَقَالَ : " الْفَرَعُ حَقٌّ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوْ ابْنَ لَبُونٍ ، فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَبُكَّهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ ، وَتَكْفَأَ إِنَاءَكَ ، وَتُولِيَ نَاقَتَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے اونٹ کے پہلے بچے کی قربانی کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ برحق ہے لیکن اگر تم اسے جوان ہونے تک چھوڑ دو کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے پھر تم اسے کسی کو فی سبیل اللہ سواری کے لئے دے دو یا بیواؤں کو دے دو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ذبح کر کے اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ لگاؤ اپنا برتن الٹ دو اور اپنی اونٹنی کو پاگل کر دو۔
حدیث نمبر: 6760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ ؟ أَوْ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ : لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ ؟ " قَالَ : أَحْسِبُهُ قَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَقُمْ وَنَمْ ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَلَكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ ، وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ہی ہو جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا ؟ عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! ! میں نے ہی کہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو تمہیں ساری زندگی روزے رکھنے کا ثواب ہو گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! مجھ میں اس سے زیادہ کر نے کی طاقت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ایک دن روزہ اور دو ناغہ کیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اس سے زیادہ افضل کی طاقت رکھتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کیا کرو، یہ روزہ کا معتدل ترین طریقہ ہے اور یہی سیدنا داؤد علیہ السلام کا طرییقہ صیام ہے میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے بھی افضل کی طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ : لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا بَقِيتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ، أَوْ قُلْتَ : لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا بَقِيتُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، قَالَ : " فَقُمْ وَنَمْ ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ عَشْرُ أَمْثَالِهَا " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا کہ میں کہتا ہوں میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا اور رات کو قیام کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ہی ہو جو کہتے ہو روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا ؟ عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! میں نے ہی کہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں صرف تین روزے رکھا کرو کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 6762
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : فِي السُّجُودِ نَحْوَ ذَلِكَ ، وَجَعَلَ يَبْكِي فِي سُجُودِهِ وَيَنْفُخُ ، وَيَقُولُ : " رَبِّ لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا أَسْتَغْفِرُكَ ، رَبِّ ، لَمْ تَعِدْنِي هَذَا وَأَنَا فِيهِمْ " ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ ، حَتَّى لَوْ مَدَدْتُ يَدِي لَتَنَاوَلْتُ مِنْ قُطُوفِهَا ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْيَةَ أَنْ يَغْشَاكُمْ حَرُّهَا ، وَرَأَيْتُ فِيهَا سَارِقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ ، سَارِقَ الْحَجِيجِ ، فَإِذَا فُطِنَ لَهُ قَالَ : هَذَا عَمَلُ الْمِحْجَنِ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً طَوِيلَةً سَوْدَاءَ حِمْيَرِيَّةً ، تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، حَتَّى مَاتَتْ ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا انْكَسَفَ أَحَدُهُمَا ، أَوْ قَالَ فُعِلَ بِأَحَدِهِمَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ، فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ " . قَاَل عبد الله : قَالَ أَبِي : قَالَ ابْنُ فُضَيْلٍ : لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ ؟ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتناطویل قیام کیا پھر طویل رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے۔ پھر سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر پھونکتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ پروردگار تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ میری موجودگی میں انہیں عذاب نہیں دے گا ؟ پروردگار ہماری طلب بخشش کے باوجود تو ہمیں عذاب دے گا ؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل فرمائی اور فرمایا : ” میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور اسے میرے اتنا قریب کر دیا گیا کہ اگر میں اس کی کسی ٹہنی کو پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا اسی طرح جہنم کو بھی میرے سامنے پیش کیا گیا اور اسے میرے اتنا قریب کر دیا گیا کہ میں اسے بجھانے لگا اس خوف سے کہ کہیں وہ تم پر نہ آپڑے اور میں نے جہنم میں اس آدمی کو بھی دیکھا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو اونٹنیاں چرائی تھیں نیز قبیلہ حمیر کی ایک عورت کو دیکھاجو سیاہ رنگت اور لمبے قد کی تھی اسے اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا نہ خودا سے کھلایاپلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی وہ عورت جب بھی آگے بڑھتی تو جہنم میں وہی بلی اسے ڈستی اور اگر پیچھے ہٹتی تو اسے پیچھے سے ڈستی نیز میں نے وہاں بنو دعدع کے ایک آدمی کو بھی دیکھا اور میں نے لاٹھی والے کو بھی دیکھا جو جہنم میں اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا اور جب حاجیوں کو پتہ چلتا تو کہہ دیتا کہ میں نے اسے چرایا تھوڑی ہے یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ چپک کر آگئی تھی۔ اور شمس و قمر کو کسی کی موت وحیات سے گہن نہیں لگتا یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو گہن لگ جائے تو مسجدوں کی طرف دوڑا کرو۔
حدیث نمبر: 6763M
قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أبِي : وَوَافَقَ شُعْبَةُ زَائِدَةَ ، وَقَالَ " مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " ، حَدَّثَنَاه مُعَاوِيَةُ .
حدیث نمبر: 6764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، فَكَانَ لَا يَأْتِيهَا ، كَانَ يَشْغَلُهُ الصَّوْمُ وَالصَّلَاةُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَمَا زَالَ بِهِ حَتَّى قَالَ لَهُ : " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " وَقَالَ لَهُ : " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ خَمْسَ عَشْرَةَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ " ، حَتَّى قَالَ : " اقْرَأْ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ " ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ ، فَمَنْ كَانَتْ شِرَّتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدْ أَفْلَحَ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، فَقَدْ هَلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے قریش کی ایک خاتون سے شادی کر لی لیکن نماز روزے کی طاقت اور شوق کی وجہ سے انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا : ” پھر ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو اور فرمایا : ” مہینے میں ایک قرآن پڑھا کرو انہوں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ دن پھر میرے کہنے پر سات حتٰی کہ تین دن کا فرما دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر عمل میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا ایک انقطاع ہوتا ہے یا سنت کی طرف یا بدعت کی طرف جس کا انقطاع سنت کی طرف ہو تو وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کا انقطاع کسی اور چیز کی طرف ہو تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بوچھا کیا تمہارے والدین حیات ہیں اس نے کہا جی ہاں فرمایا : ” جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔
حدیث نمبر: 6766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وحَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ ، وَكَانَ صَدُوقًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ ، فَإِذَا صُمْتَ الدَّهْرَ ، وَقُمْتَ اللَّيْلَ ، هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ ، صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، صَوْمَ الدَّهْرِ كُلِّهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ ، قَالَ : " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " ، وَقَالَ رَوْحٌ : " نَهِثَتْ لَهُ النَّفْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو جب تم ہمیشہ روزہ رکھو گے اور رات کو قیام کرو گے تو آنکھیں غالب آجائیں گی اور نفس کمزور ہو جائے گا ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا ہر مہینے صرف تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح روزہ رکھ لیا کرو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 6767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار آدمیوں سے قرآن سیکھو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پھر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام سالم رضی اللہ عنہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عنہ۔
حدیث نمبر: 6767M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ : قَالَ : وَقَالَ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا " .
مولانا ظفر اقبال
نیز فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےتکلف یا بتکلف بےحیائی کرنے والے نہ تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔
حدیث نمبر: 6768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قال عبد الله بن أحمد : قال أبى : وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا ، أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ الْأَرْبَعِ ، كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک شعبہ موجود ہے جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے جب عہد کرے تو بد عہدی کرے جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔
حدیث نمبر: 6769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا عَتَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان جس خاتون کا (نکاح یا خرید کے ذریعہ) مالک نہ ہو اسے طلاق دینے کا بھی حق نہیں رکھتا اپنے غیر مملوک کو آزاد کر نے کا بھی انسان کو کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی غیر مملوک چیز کی بیع کا اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 6770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا افْتَتَحَ مَكَّةَ ، قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص کسی عورت سے اس کی پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کرے۔
حدیث نمبر: 6771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَهِيَ صَائِمَةٌ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، فَقَالَ لَهَا : " أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ " فَقَالَتْ : لَا ، قَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ " فَقَالَتْ : لَا ، قَالَ : " فَأَفْطِرِي إِذًا " ، قَالَ سَعِيدٌ : وَوَافَقَنِي عَلَيْهِ مَطَرٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ام المؤمنین سیدنا جویریہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت روزے سے تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا آپ نے کل روزہ رکھا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا کل کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر روزہ ختم کر دو۔
حدیث نمبر: 6772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ ، وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں اور سر کے زخم میں پانچ پانچ اونٹ ہیں۔
حدیث نمبر: 6773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَسَكِرَ ، لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَالثَّالِثَةَ وَالرَّابِعَةَ فَإِنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبْ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْقِيَهُ مِنْ عَيْنِ خَبَالٍ " ، قِيلَ : وَمَا عَيْنُ خَبَالٍ ؟ قَالَ : " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شراب پی کر مد ہوش ہو جائے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اگر دوبارہ شراب پیئے تو پھر چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا : ” کہ اگر دوبارہ پیئے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہو گی اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ اس کی توبہ کو قبول نہیں کرے گا اور اللہ پر حق ہے کہ اسے چشمہ خبال کا پانی پلائے کسی نے پوچھا چشمہ خبال سے کیا مراد ہے تو فرمایا : ” اہل جہنم کی پیپ۔
حدیث نمبر: 6774
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوضَعُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَهَا حُجْنَةٌ كَحُجْنَةِ الْمِغْزَلِ ، تَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ ، فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا ، وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا " ، وَقَالَ عَفَّانُ : الْمِغْزَلُ ، وَقَالَ : بِأَلْسِنَةٍ لَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن رحم کو چرخے کی طرح ٹیڑھی شکل میں پیش کیا جائے گا اور وہ انتہائی فصیح وبلیغ زبان میں گفتگو کر رہا ہو گا جس نے اسے جوڑا ہو گا وہ اسے جوڑ دے گا اور جس نے اسے توڑا ہو گا وہ اسے توڑ دے گا۔
حدیث نمبر: 6775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ يَحْيَى قَالَ : " فِي سَبْعٍ ، لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ " ، وَقَالَ : كَيْفَ أَصُومُ ؟ قَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَيُكْتَبُ لَكَ أَجْرُ تِسْعَةِ أَيَّامٍ " ، قَالَ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ يَوْمَيْنِ ، وَيُكْتَبُ لَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ " ، حَتَّى بَلَغَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میں کتنے دن میں ایک قرآن پڑھا کروں ؟ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور کہا کہ سات دن میں اور تین دن سے کم میں پڑھنے والا اسے نہیں سمجھتا میں نے پوچھا کہ روزے کس طرح رکھوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے تین روزے رکھا کرو ایک روزہ دس دن کی طرف سے ہو جائے گا اور تمہارے لئے نو ایام کا اجر مزید لکھا جائے گا میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس دن میں دو روزے رکھ لیا کرو اور تمہارے لئے آٹھ ایام کا اجر لکھا جائے گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ دن تک پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 6776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، فَضَرَبَ عَلَى الْحَسَنِ ، وَقَالَ : عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ ، وَإِنَمَا هُوَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْطَأَ الأزرق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي لَا يَقُولُونَ لِلظَّالِمِ مِنْهُمْ أَنْتَ ظَالِمٌ ، فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہو گئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت)
حدیث نمبر: 6777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ يَحْيَى ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : قَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ رَاشِدٌ أَبُو يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ ؟ قَالَ : " غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ! مجالس ذکر کی غنیمت کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجالس ذکر کی غنیمت جنت ہے۔
حدیث نمبر: 6778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ " ، قَالَ يَزِيدُ : " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 6779
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 6780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا عِتْقَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان جس خاتون کا (نکاح یا خرید کے ذریعے) مالک نہ ہو اسے طلاق دینے کا بھی حق نہیں رکھتا اپنے غیر مملوک کو آزاد کر نے کا بھی انسان کو کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی غیر مملوک چیز کی منت ماننے کا اختیار ہے اور نہ ہی غیر مملوک چیز میں اس کی قسم کا کوئی اعتبار ہے۔
حدیث نمبر: 6781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجُوزُ طَلَاقٌ وَلَا بَيْعٌ وَلَا عِتْقٌ وَلَا وَفَاءُ نَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان جس چیز کا (نکاح یاخرید کے ذریعے) مالک نہ ہو اسے طلاق دینے، بیچنے، آزاد کر نے یا منت پوری کر نے کا اختیار نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 6782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَكْثَرَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهَا وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ کے پاس جمرہ اولیٰ کی نسبت زیادہ دیر ٹھہرے رہے پھر جمرہ عقبہ پر تشریف لا کر رمی کی اور وہاں نہیں ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 6783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَنَا " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ ، وَيَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَيُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا ، وَيَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ دائیں بائیں جانب سے واپس چلے جاتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور سفر میں روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ أَنْتَ ظَالِمٌ ، فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہو گئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت)
حدیث نمبر: 6785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ مَنْ إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بدلہ دینے والا صلہ رحمی کر نے والے کے زمرے میں نہیں آتا اصل صلہ رحمی کر نے والا تو وہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس سے رشتہ توڑے تو وہ اس سے رشتہ جوڑے۔
حدیث نمبر: 6786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ " ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
مسرورق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکر ہ کر نے لگے اور فرمایا : ” کہ وہ ایسا آدمی ہے جس سے میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو اور ان میں سب سے پہلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا پھر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا پھر سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کا۔
حدیث نمبر: 6787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْزِعُهُ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا ، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے درمیان سے کھینچ لے گا بلکہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھا لے گا حتیٰ کہ جب ایک عالم بھی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوابنا لیں گے اور انہیں سے مسائل معلوم کیا کر یں گے وہ علم کے بغیر انہیں فتویٰ دیں گے نتیجہ یہ ہو گا کہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر یں گے۔
حدیث نمبر: 6788
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِيِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے نیز فرمایا : ” کہ ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 6790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " فَبَدَأَ بِهِ " وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار آدمیوں سے قرآن سیکھو اور ان میں سب سے پہلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا پھر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا پھر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کا۔
حدیث نمبر: 6791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، وَقُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ " ، قَالَ وَكِيعٌ : فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ائْتُونِي بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ ، فَلَكُمْ عَلَيَّ أَنْ أَقْتُلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شراب پیئے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو دوبارہ کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پینے پر اسے قتل کر دو اس بناء پر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میرے پاس ایسے شخص کو لے کر آؤ جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی ہو میرے ذمے اسے قتل کرنا واجب ہے۔
حدیث نمبر: 6792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ . وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، أَمَرَهُمْ بِالظُّلْمِ فَظَلَمُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ " ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " ، قَالَ : فَقَامَ هُوَ أَوْ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عَقَرَ جَوَادَهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي حَدِيثِهِ : ثُمَّ نَادَاهُ هَذَا أَوْ غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ ، وَهُمَا هِجْرَتَانِ هِجْرَةٌ لِلْبَادِي ، وَهِجْرَةٌ لِلْحَاضِرِ ، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي ، فَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ ، وَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ ، فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً ، وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظلم سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا بےحیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ بےتکلف یا بتکلف کسی نوعیت کی بےحیائی پسند نہیں کرتا بخل سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا اسی بخل نے انہیں قطع رحمی کا راستہ دکھایا سو انہوں نے رشتے ناطے توڑ دیئے اسی بخل نے انہیں اپنی دولت اور چیزیں اپنے پاس سمیٹ کر رکھنے کا حکم دیاسو انہوں نے ایساہی کیا اسی بخل نے انہیں گناہوں کا راستہ دکھایا سو وہ گناہ کر نے لگے۔ اسی دوران ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! ! کون سا مسلمان افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا جہاد افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی گئی ہوں اور اس کا خون بہا دیا گیا ہو یزید کی سند سے روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ پھر ایک اور آدمی نے پکار کر پوچھا یا رسول اللہ ! ! کون سی ہجرت افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گزریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ ، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً ، قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَيَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ ، أَلَا وَإِنَّ عَافِيَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَوَّلِهَا ، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَفِتَنٌ ، يُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، تَجِيءُ الْفِتْنَةُ ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ مُهْلِكَتِي ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ : هَذِهِ هَذِهِ ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ : هَذِهِ هَذِهِ ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ، وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا ، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ ، فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ " ، وَقَالَ مَرَّةً : مَا اسْتَطَاعَ ، فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَدْخَلْتُ رَأْسِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، وَقُلْتُ : فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ مُعَاوِيَةَ يَأْمُرُنَا ؟ فَوَضَعَ جُمْعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، ثُمَّ نَكَسَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، قُلْتُ : لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پہنچ کر پڑاؤ ڈالا ہم میں سے بعض لوگوں نے خیمے لگا لئے بعض چراگاہ میں چلے گئے اور بعض تیر اندازی کر نے لگے اچانک ایک منادی نداء کر نے لگا کہ نماز تیار ہے ہم لوگ اسی وقت جمع ہو گئے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو وہ خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرما رہے تھے اے لوگو ! مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کر ام (علیہم السلام) گزرے ہیں وہ اپنی امت کے لئے جس چیز کو خیر سمجھتے تھے انہوں نے وہ سب چیزیں اپنی امت کو بتادیں اور جس چیز کو شر سمجھتے تھے اس سے انہیں خبردار کر دیا اور اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھی گئی ہے اور اس امت کے آخری لوگوں کو سخت مصائب اور عجیب و غریب امور کا سامنا ہو گا ایسے فتنے رونما ہوں گے جو ایک دوسرے کے لئے نرم کر دیں گے مسلمان پر آزمائش آئے گی تو وہ کہے گا کہ یہ میری موت کا سبب بن کر ر ہے گی اور کچھ عرصے بعد وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ تم میں سے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخلہ نصیب ہو جائے تو اسے اس حال میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کو وہ دے جو خود لینا پسند کرتا ہو اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اسے اپنے ہاتھ کا معاملہ اور دل کا ثمرہ دے دے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر لوگوں میں گھسا کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا یہ بات آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” میرے دونوں کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6794
وَوَعَاهُ قَلْبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ الصَّائِدِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ ، فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
…