حدیث نمبر: 6717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً ، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً ، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ ، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ ، فَهُوَ لَهُمْ ، وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی کو عمداً قتل کر دے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا اگر وہ چاہیں تو اسے بدلے میں قتل کر دیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہو گی، یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر فریقین کے درمیان صلح ہو جائے وہ ورثاء مقتول کو ملے گی اور یہ سخت دیت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ ، وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ " ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : " فَيَكُونُ رِمِّيًّا فِي عِمِّيًّا ، فِي غَيْرِ فِتْنَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قتل شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح مغلظ ہو گی (جس کی تفصیل گزشتہ حدیث میں گزری) البتہ اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکے گا اور اس کی صورت یہ ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان کود پڑے اور بغیر کسی امتحان کے یا اسلحہ اٹھانے کے اندھا دھند تیر اندازی شروع ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” کہ جو شخص خطاء مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ ، فَأَخَذَهَا ، فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، وَفَزِعَ لِذَلِكَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِي فَأَكَلْتُهَا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھالیا پھر رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہونے لگے، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ گھبرا گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ” کہ مجھے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور ملی تھی جسے میں نے کھالیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی کھجور نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَفْقَةَ خِيَارٍ ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) جب تک جدا نہ ہو جائیں ان کا اختیار فسخ باقی رہتا ہے الاّ یہ کہ معاملہ اختیار کا ہو اور کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس ڈر سے جلدی جدا ہو جائے کہ کہیں یہ اقالہ ہی نہ کر لے (بیع ختم ہی نہ کر دے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: «ولا يحل له أن يفارقه خشية أن يستقيله» ، و هذا إسناده حسن
حدیث نمبر: 6722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ لَهُ أَنْ لَا تَمْنَعْ فَضْلَ مَائِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین میں کام کر نے والے کی طرف ایک مرتبہ خط لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو مت روکنا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص زائد پانی یا زائد گھاس کسی کو دینے سے روکتا ہے اللہ قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سليمان بن موسي الأشدق لم يدرك عبد الله بن عمرو
حدیث نمبر: 6723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الثقة الذى رواه عنه مالك
حدیث نمبر: 6724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو ہم پر اسلحہ اٹھاتا ہے یا راستہ میں گھات لگاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً ، فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا ؟ فَقَالَ : " إِنْ كَانَتْ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَتْ عَلَيْكَ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ ؟ قَالَ : " ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ " ، قَالَ : وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ؟ قَالَ : " وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنِي فِي قَوْسِي ؟ قَالَ : " كُلْ مَا أَمْسَكَتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ " ، قَالَ : ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ ؟ قَالَ : " ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ " ، قَالَ : وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي ؟ قَالَ : " وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ ، مَا لَمْ يَصِلَّ " يَعْنِي يَتَغَيَّرْ " أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ سَهْمِكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا ؟ قَالَ : " إِذَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ ، وَاطْبُخُوا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ! میرے پاس کچھ سدھائے ہوئے کتے ہیں ان کے ذریعے شکار کے بارے مجھے فتویٰ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہارے کتے سدھائے ہوئے ہوں تو وہ تمہارے لئے شکار کر یں تم اسے کھا سکتے ہو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! خواہ اسے ذبح کروں یا نہ کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں انہوں نے پوچھا اگرچہ کتا بھی اس میں سے کچھ کھالے ؟ فرمایا : ” ہاں ! انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ! کمان کے بارے بتایئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کمان کے ذریعے (مراد تیر ہے) تم جو شکار کرو وہ کھا بھی سکتے ہو انہوں نے پوچھا کہ خواہ ذبح کروں یا نہ کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں، انہوں نے پوچھا اگرچہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! بشرطیکہ (جب تم شکار کے پاس پہنچو تو) وہ بگڑ نہ چکا ہو یا اس میں تمہارے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کانشان نہ ہو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ! مجوسیوں کے برتن کے بارے بتائیے جب کہ انہیں استعمال کرنا ہماری مجبوری ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم انہیں استعمال کر نے پر مجبور ہو تو انہیں پانی سے دھو کر پھر اس میں پکا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَةَ أَوَاقٍ ، فَهُوَ عَبْدٌ ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ ، فَهُوَ عَبْدٌ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : كَذَا قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : عَبَّاسٌ الْجَزَرِيُّ ، كَانَ فِي النُّسْخَةِ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ، فَأَصْلَحَهُ أَبِي كَمَا قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : الْجَزَرِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام نے سو اوقیہ بدل کتابت اداء کر نے پر آزادی کا وعدہ کر لیاہو اور وہ نوے اوقیہ ادا کر دے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا (تا آنکہ مکمل ادائیگی کر دے) اس طرح وہ غلام جو سو دینار پر کتابت کرے اور دس دینار کو چھوڑ کر باقی سب ادا کر دے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ : " لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی عورت کے لئے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ قبول کر نے کی اجازت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6728
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ ، فَمُنَّ عَلَيْنَا ، مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَإِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ " ، قَالُوا : خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا ، نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا ، فَقَالَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَهُوَ لَكُمْ ، فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ ، فَقُولُوا : إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، وَبِالْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا " ، قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَهُوَ لَكُمْ " ، وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : وَمَا كَانَ لَنَا ، فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ : أَمَّا مَا كَانَ لِي ولِبَنِي فَزَارَةَ ، فَلَا ، وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا ، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا ، فَقَالَتْ الْحَيَّانِ : كَذَبْتَ ، بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ ، فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنَ الْفَيْءِ ، فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا " ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ ، يَقُولُونَ : اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا ، حَتَّى أَلْجَئُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تُلْفُونِي بَخِيلًا ، وَلَا جَبَانًا ، وَلَا كَذُوبًا " ، ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرِهِ ، فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ، فَجَعَلَهَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، ثُمَّ رَفَعَهَا ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ ، إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ، فَرُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ ، فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا " ، فَقَامَ رَجُلٌ مَعَهُ كُبَّةٌ مِنْ شَعَرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ أُصْلِحُ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبِرَ ، قَالَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَهُوَ لَكَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي بِهَا ، وَنَبَذَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر جب بنو ہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں بھی وہاں موجود تھا وفد کے لوگ کہنے لگے اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اصل میں نسل اور خاندانی لوگ ہیں آپ ہم پر مہربانی کیجئے اللہ آپ پر مہربانی کرے گا اور ہم پر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی عورتوں اور بچوں اور مال میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو وہ کہنے لگے کہ آپ نے ہمیں ہمارے حسب اور مال کے بارے میں اختیار دیا ہے ہم اپنی اولاد کو مال پر ترجیح دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرے لئے اور بنو عبدالمطلب کے لئے ہو گا وہی تمہارے لئے ہو گا جب میں ظہر کی نماز پڑھ چکوں تو اس وقت اٹھ کر تم لوگ یوں کہنا کہ ہم اپنی عورتوں اور بچوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے سامنے اور مسلمانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سفارش کی درخواست کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرے لئے اور بنو عبدالمطلب کے لئے ہے وہی تمہارے لئے ہے، مہاجرین کہنے لگے کہ جو ہمارے لئے ہے وہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے انصار نے بھی یہی کہا عیینہ بن بدر کہنے لگا کہ جو میرے لئے اور بنو فزارہ کے لئے ہے وہ نہیں، اقرع بن حابس نے کہا کہ میں اور بنو تمیم بھی اس میں شامل نہیں عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنو سلیم بھی اس میں شامل نہیں ان دونوں قبیلوں کے لوگ بولے تم غلط کہتے ہو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! انہیں ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دو جو شخص مال غنیمت کی کوئی چیز اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو ہمارے پاس سے پہلا جو مال غنیمت آئے گا اس میں سے اس کے چھ حصے ہمارے ذمے ہیں۔ یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو گئے اور کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے درمیان مال غنیمت تقسیم کر دیجئے یہاں تک کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ببول کے ایک درخت کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رداء مبارک بھی کسی نے چھین لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری چادر مجھے واپس دے دو ، واللہ اگر تہامہ کے درختوں کی تعداد کے برابر جانور ہوتے تب بھی میں انہیں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا پھر بھی تم مجھے بخیل بزدل یا جھوٹا نہ پاتے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے قریب گئے اور اس کے کوہان سے ایک بال لیا اور اسے اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے پکڑا اور اسے بلند کر کے فرمایا : ” لوگو ! خمس کے علاوہ اس مال غنیمت میں میرا کوئی حصہ نہیں یہ بال بھی نہیں اور خمس بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے اس لئے اگر کسی نے سوئی دھاگہ بھی لیاہو تو وہ واپس کر دے کیونکہ مال غنیمت میں خیانت قیامت کے دن اس خائن کے لئے باعث شرمندگی اور جہنم میں جانے کا ذریعہ اور بدترین عیب ہو گی۔ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا اور کہنے لگا کہ میں نے یہ اس لئے لئے ہیں تاکہ اپنے اونٹ کا پالان صحیح کر لوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرے لئے اور بنو عبدالمطلب کے لئے ہے وہی تمہارے لئے بھی ہے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! جب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے تو اب مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں اور اس نے اسے پھینک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں سے ان کے چشموں کی پیداوار کی زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً حَيَاتَهَا ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک باغ دیا تھا اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور میرے علاوہ ان کا کوئی وارث بھی نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں صدقہ کا ثواب بھی مل گیا اور تمہارا باغ بھی تمہارے پاس واپس آگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منت انہیں چیزوں میں ہوتی ہے جن سے اللہ کی رضاحاصل ہو سکے اور قطع رحمی کے معاملے میں کسی قسم کا اعتبار نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْمَغْرَمِ ، وَالْمَأْثَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، قرض اور گناہ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں مسیح دجال کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، عذاب قبر اور عذاب جہنم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ الْقَوْمُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میری نگاہوں میں محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہو گا ؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو لوگ کہنے لگے جی یا رسول اللہ ! ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَتَرْكُهَا كَفَّارَتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس کے علاوہ کسی دوسری چیز میں خیر دیکھے تو اسے ترک کر دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن غير أن قوله: «فتركها كفارتها» فيه كلام، كما سيرد
حدیث نمبر: 6737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنِي الْأَسْلَمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی طرف سے دو بکر یاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکر ی بطور عقیقہ کے قربان فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الأسلمي
حدیث نمبر: 6738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ قَيْصَرَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ شَابٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " لَا " ، فَجَاءَ شَيْخٌ ، فَقَالَ : أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ، إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں تھوڑی دیر بعد ایک بڑی عمر کا آدمی آیا اور اس نے بھی وہی سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اس پر ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے معلوم ہے کہ تم ایک دوسرے کو کیوں دیکھ رہے ہو ؟ دراصل عمر رسیدہ آدمی اپنے اوپر قابو رکھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على خلاف فى صحابيه، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 6740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مِائَتَيْ مَرَّةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، لَمْ يَسْبِقْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَا يُدْرِكُهُ أَحَدٌ بَعْدَهُ ، إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا شریک نہیں حکومت بھی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے " اس پر کوئی پہلا سبقت نہیں لے جاسکے گا اور بعد والا اسے کوئی پا نہیں سکے گا الاّ یہ کہ اس سے افضل عمل سر انجام دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَدَارَءُونَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا ، ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ، وَإِنَّمَا نَزَلَ كِتَابُ اللَّهِ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ، فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْهُ فَقُولُوا ، وَمَا جَهِلْتُمْ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک دوسرے سے تکرار کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اپنی کتابوں کے ایک حصے کو دوسرے حصے پر مارا قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تکذیب کرتا ہو بلکہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اس لئے تمہیں جتنی بات کا علم ہو اس پر عمل کر لو اور جو معلوم نہ ہو تو اسے اس کے عالم سے معلوم کر لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ ، وَمَنْ قُتِلَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، فَهُوَ شِبْهُ الْعَمْدِ ، وَعَقْلُهُ مُغَلَّظٌ ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ ، وَهُوَ كَالشَّهْرِ الْحَرَامِ ، لِلْحُرْمَةِ وَالْجِوَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو ہم پر اسلحہ اٹھاتا ہے یا راستہ میں گھات لگاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص اس کے علاوہ صورت میں مارآ جائے تو اسے " شبہ عمد " کہا جاتا ہے اور اس کی دیت مغلظہ ہو گی، البتہ اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا اور وہ حرمت اور پڑوس کے لئے حرمت والے مہینے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حُسَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، ثَلَاثُونَ بَنَاتُ مَخَاضٍ ، وَثَلَاثُونَ بَنَاتُ لَبُونٍ ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةٌ ، وَعَشْرٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ جو شخص خطاء مارآ جائے اس کی دیت سو اونٹ ہو گی جن میں تیس بنت مخاض تیس بنت لبون، تیس حقے اور دس ابن لبون مذکر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكر بن سوادة ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلْ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ ، إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ ایک مرتبہ سیدنا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے ہوئے تھے ان کے زوج محترم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے چونکہ وہ ان کی بیوی تھیں اس لئے انہیں اس پر ناگواری ہوئی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے خیر ہی دیکھی (کوئی برا منظر نہیں دیکھا لیکن پھر بھی اچھا نہیں لگا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے انہیں بچا لیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : ” آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2173
حدیث نمبر: 6745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي أَبَا إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3166
حدیث نمبر: 6746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ وَلَهَا ؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا " ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : فَمَنْ أَخَذَهَا مِنْ مَرْتَعِهَا ؟ قَالَ : " عُوقِبَ وَغُرِّمَ مِثْلَ ثَمَنِهَا ، وَمَنْ اسْتَطْلَقَهَا مِنْ عِقَالٍ ، أَوْ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ حِفْشٍ وَهِيَ الْمَظَالُّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالثَّمَرُ يُصَابُ فِي أَكْمَامِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى آكِلٍ سَبِيلٌ ، فَمَنْ اتَّخَذَ خُبْنَةً غُرِّمَ مِثْلَ ثَمَنِهَا وَعُوقِبَ ، وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنْهَا بَعْدَ أَنْ أَوَى إِلَى مِرْبَدٍ أَوْ كَسَرَ عَنْهَا بَابًا ، فَبَلَغَ مَا يَأْخُذُ ثَمَنَ الْمِجَنِّ ، فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالْكَنْزُ نَجِدُهُ فِي الْخَرِبِ وَفِي الْآرَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیاہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ اس کا " سم " اور اس کا " مشکیزہ " ہوتا ہے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکر ی کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا تم اسے لے جاؤ گے یا تمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا۔ اس نے پوچھا وہ محفوظ بکر ی جو اپنی چراگاہ میں ہو اسے چوری کر نے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص خوشوں سے توڑ کر پھل چوری کر لے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جو پھل کھا لئے چھپا کر ان پر تو کوئی چیز واجب نہیں ہو گی لیکن جو پھل وہ اٹھا کر لے جائے تو اس کی دوگنی قیمت اور پٹائی اور سزا واجب ہو گی اور اگر وہ پھلوں کو خشک کر نے کی جگہ سے چوری کئے گئے اور ان کی مقدار کم از کم ایک ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! اس خزانے کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی ویران یا آباد علاقے میں ملے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3166
حدیث نمبر: 6747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَيْسَ لِي مَالٌ ، وَلِي يَتِيمٌ ؟ فَقَالَ : " كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ " ، أَوْ قَالَ : " وَلَا تَفْدِي مَالَكَ بِمَالِهِ " شَكَّ حُسَيْنٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے پاس تو مال نہیں ہے البتہ ایک یتیم بھتیجا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے یتیم بھتیجے کے مال میں سے تم کھا سکتے ہو کہ جو اسراف کے زمرے میں آئے یا یہ فرمایا : ” کہ اپنے مال کو اس کے مال کے بدلے فدیہ نہ بناؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سوار ایک شیطان ہوتا ہے اور دو سوار دو شیطان ہوتے ہیں اور تین سوار ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے قرض اور گناہ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں مسیح دجال کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں عذاب قبر اور عذاب جہنم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6750
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ نَوْفًا وعبد الله بن عمرو يعنى بن العاص اجتمعا ، فقال نوف : لو أن السماوات ولأرض وما فيهما وضع في كفة الميزان ووضعت " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى ، لَرَجَحَتْ بِهِنَّ ، وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِنَّ كُنَّ طَبَقًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، لَخَرَقَتْهُنَّ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ ، وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ ، فَجَاءَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَادَ يَحْسِرُ ثِيَابَهُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ ، يَقُولُ : هَؤُلَاءِ عِبَادِي قَضَوْا فَرِيضَةً ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور نوف کسی مقام پر جمع ہوئے نوف کہنے لگے کہ اگر آسمان و زمین اور ان کے درمیان موجود تمام چیزوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور لاالہ الا اللہ " کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو یہ دوسرا پلڑا جھک جائے گا اگر آسمان و زمین اور ان میں موجود تمام چیزیں لوہے کی سطح بن جائیں اور ایک آدمی لاالہ اللہ اللہ کہہ دے تو یہ کلمہ لوہے کی ان تمام چادروں کو پھاڑتے ہوئے اللہ کے پاس پہنچ جائے۔ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم لوگوں نے ایک دن مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی، جانے والے چلے گئے اور بعد میں آنے والے بعد میں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے گھٹنوں سے ہٹنے کے قریب تھے اور فرمایا : ” اے گروہ مسلمین تمہیں خوشخبری ہو تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا ہے اور وہ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے ان بندوں نے ایک فرض ادا کر دیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6751
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ نَوْفًا ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو اجْتَمَعَا ، فَقَالَ نَوْفٌ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ العاص : وَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ ، وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَثُوبَ النَّاسُ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، فَجَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، رَافِعًا إِصْبَعَهُ هَكَذَا ، وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَذَا رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ ، يَقُولُ : مَلَائِكَتِي ، انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي ، أَدَّوْا فَرِيضَةً ، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور نوف کسی مقام پر جمع ہوئے نوف کہنے لگے۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم لوگوں نے ایک دن مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی، جانے والے چلے گئے اور بعد میں آنے والے بعد میں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اٹھا کر انتیس کا عدد بنایا اور آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ” اے گروہ مسلمین تمہیں خوشخبری ہو تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا ہے اور وہ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے ان بندوں نے ایک فرض ادا کر دیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 6752
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَزْدِيِّ ، َعَنْ نَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِيهِ وَإِنْ كَادَ يَحْسِرُ ثَوْبَهُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں سانس پھولنے کا بھی ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْخَيْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کون سا اسلام افضل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 40 ، وهذا إسناد ضعيف ، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 6754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنِ ابْنِ مُرَيْحٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ دورد بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ وعبد الرحمن بن مريح مجهول
حدیث نمبر: 6755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أُكْسُومٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ يسأل القاسم بْنَ الْبَرْحِيِّ كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص يُخْبِرُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ العاص ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا ، فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ ، فَلَهُ عَشَرَةُ أُجُورٍ ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ ، كَانَ لَهُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
قاسم بن برحی رحمہ اللہ سے ابن حجیرہ نے پوچھا کہ آپ نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ دو فریق سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس ایک جھگڑالے کر آئے انہوں نے دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ ناراض ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس نے سارا واقعہ ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قاضی کوئی فیصلہ خوب احتیاط سے کرے اور صحیح کرے تو اسے دس گنا اجر ملے گا اور اگر احتیاط کے باوجود فیصلے میں غلطی ہو جائے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة سلمة بن أكسوم
حدیث نمبر: 6756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ ، وَإِذَا أَنْكَحَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ ، فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَوْرَتِهِ ، فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ عَوْرَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچوں کی عمر جب سات سال ہو جائے تو انہیں نماز کا حکم دو دس سال کی عمر ہوجانے پر ترک صلوٰۃ کی صورت میں انہیں سزا دو اور سونے کے بستر الگ کر دو اور جب تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام یا نوکر کا نکاح کر دے تو اس کی شرمگاہ کی طرف ہرگز نہ دیکھے کیونکہ ناف کے نیچے سے گھٹنوں کا حصہ ستر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن