حدیث نمبر: 6677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ ، فِي صُوَرِ النَّاسِ ، يَعْلُوهُمْ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الصَّغَارِ ، حَتَّى يَدْخُلُوا سِجْنًا فِي جَهَنَّمَ ، يُقَالُ لَهُ : بُولَسُ ، فَتَعْلُوَهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ ، يُسْقَوْنَ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ ، عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن متکبروں کو چیونٹیوں کی طرح پیش کیا جائے گا گویا کہ ان کی شکلیں انسان جیسی ہوں گی ہر حقیر چیز ان سے بلند ہو گی یہاں تک کہ وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے میں داخل ہو جائیں گے جس کا نام " بولس " ہو گا اور ان لوگوں پر آگوں کی آگ چھآ جائے گی انہیں طینۃ الخبال کا پانی جہاں اہل جہنم کی پیپ جمع ہو گی پلایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي ؟ قَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ ، فَكُلُوهُ هَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میرا باپ میرے مال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے سب سے پاکیزہ چیز جو تم کھاتے ہو وہ تمہاری کمائی کا کھانا ہے اور تمہاری اولاد کا مال تمہاری کمائی ہے لہٰذا اسے خوب رغبت کے ساتھ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 6679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا ، وَيَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ ، وَيَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَيَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پاؤں اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے اور دائیں بائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَلْقَاهُ ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، قَالَ : فَقَالَ : " هَذَا أَشَرُّ هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَأَلْقَاهُ ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، فَسَكَتَ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے انگوٹھی دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اس نے وہ پھینک کر لوہے کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اس سے بھی بری ہے یہ تو اہل جہنم کا زیور ہے اس نے وہ بھی پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوا لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا : ” ۔
حدیث نمبر: 6681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ " ، فَلَقِيَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ مِنْ غَدٍ ، بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَقَتَلَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : وَرَأَيْتُهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالَ : " إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا ابْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا دَعْوَةَ فِي 59 الْإِسْلَامِ ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ " ، قَالُوا : وَمَا الْأَثْلَبُ ؟ قَالَ : " الْحَجَرُ " ، قَالَ : " وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ ، وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنو خزاعہ کے علاوہ سب لوگ اپنے اسلحے کو روک لو اور بنوخزاعہ کو بنوبکر پر نماز عصر تک کے لئے اجازت دے دی، پھر ان سے بھی فرمایا : ” کہ اسلحہ روک لو اس کے بعد بنو خزاعہ کا ایک آدمی مزدلفہ سے اگلے دن بنو بکر کے ایک آدمی سے ملا اور اسے قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر خانہ کعبہ کے ساتھ لگا رکھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں لوگوں میں سے اللہ کے معاملے میں سب سے آگے بڑھنے والا وہ شخص ہے جو کسی حرم شریف میں قتل کرے یا کسی ایسے شخص کو قتل کرے جو قاتل نہ ہو یا دور جاہلیت کی دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کرے۔ اسی اثناء میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگے کہ فلاں بچہ میرا بیٹا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں اس دعویٰ کا کوئی اعتبار نہیں جاہلیت کا معاملہ ختم ہوچکا، بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں پھر دیت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : ” انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں سر کے زخم میں پانچ پانچ اونٹ ہیں پھر نماز فجر کے بعدطلوع آفتاب تک کوئی نفل نماز نہیں ہے اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک بھی کوئی نفل نماز نہیں ہے اور فرمایا : ” کہ کوئی شخص کسی عورت سے اس کی پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کرے اور کسی عورت کے لئے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ قبول کر نے کی اجازت نہیں۔
حدیث نمبر: 6682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ، يَوْمَ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر دو نمازیں جمع فرمائیں۔
حدیث نمبر: 6683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَأْكُلُ الشَّجَرَ ، وَتَرِدُ الْمَاءَ ، فَدَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا " ، قَالَ : الضَّالَّةُ مِنَ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، تَجْمَعُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا " ، قَالَ : الْحَرِيسَةُ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا ؟ قَالَ : " فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ ، وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالثِّمَارُ ، وَمَا أُخِذَ مِنْهَا فِي أَكْمَامِهَا ؟ قَالَ : " مَنْ أَخَذَ بِفَمِهِ ، وَلَمْ يَتَّخِذْ خُبْنَةً ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، وَمَنْ احْتَمَلَ ، فَعَلَيْهِ ثَمَنُهُ مَرَّتَيْنِ وَضَرْبًا وَنَكَالًا ، وَمَا أَخَذَ مِنْ أَجْرَانِهِ ، فَفِيهِ الْقَطْعُ ، إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللُّقَطَةُ نَجِدُهَا فِي سَبِيلِ الْعَامِرَةِ ؟ قَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَإِنْ وُجِدَ بَاغِيهَا ، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ " ، قَالَ : مَا يُوجَدُ فِي الْخَرِبِ الْعَادِيِّ ؟ قَالَ : " فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ اس کا " سم " اور اس کا " مشکیزہ " ہوتا ہے وہ خود ہی درختوں کے پتے کھاتا اور وادیوں کا پانی پیتا اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے گا اس لئے تم اسے چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی منزل پر خود ہی پہنچ جائے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکر ی کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا تم اسے لے جاؤ گے یا تمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا تم اسے اپنی بکر یوں میں شامل کرو تاکہ وہ اپنے مقصد پر پہنچ جائے۔ اس نے پوچھا وہ محفوظ بکر ی جو اپنی، چراگاہ میں ہو اسے چوری کر نے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص خوشوں سے توڑ کر پھل چوری کر لے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جو پھل کھالیے اور انہیں چھپا کر نہیں ان پر تو کوئی چیز واجب نہیں ہو گی لیکن جو پھل وہ اٹھا کر لے جائے تو اس کی دوگنی قیمت اور پٹائی اور سزا واجب ہو گی اور اگر وہ پھلوں کو خشک کر نے کی جگہ سے چوری کئے گئے اور ان کی مقدارکم ازکم ایک ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! اس گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی آبادعلاقے کے راستے میں ملے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورے ایک سال تک اس کی تشہیر کر اؤ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کر دو ورنہ وہ تمہاری ہے اس نے کہا کہ اگر یہی چیز کسی ویرانے میں ملے تو ؟ فرمایا : ” اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔
حدیث نمبر: 6684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، قَالَ : " هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا ، فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دیہاتی نے وضو کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین مرتبہ اعضاء دھو کر دکھائے اور فرمایا : ” یہ ہے وضو جو شخص اس میں اضافہ کرے وہ برا کرتا ہے اور حد سے تجاوز کر کے ظلم کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 6685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ ، كُلُّ ذَلِكَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ يُلَبِّي حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کئے اور تینوں ذیقعدہ میں کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے استلام تک تلبیہ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ ، كُلُّ ذَلِكَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، يُلَبِّي حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کئے اور تینوں ذیقعدہ میں کئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے استلام تک تلبیہ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنَّ قِيمَةَ الْمِجَنِّ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔
حدیث نمبر: 6688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي عِيدٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً ، سَبْعًا فِي الْأُولَى ، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ ، وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا " ، قال : عبد الله أحمد بن أحمد ، قَالَ أَبِي : وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَى هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں بارہ تکبیرات کہیں سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری میں اور اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی امام احمد رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
حدیث نمبر: 6689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاود بْنُ سَوَّار ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلَاةِ إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ " ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وَقَالَ الطُّفَاوِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فِي هَذَا الْحَدِيثِ سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ ، وَأَخْطَأَ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچوں کی عمر جب سات سال کی ہو جائے تو انہیں نماز کا حکم دو دس سال کی عمر ہوجانے پر ترک صلوۃ کی صورت میں انہیں سزا دو اور سونے کے بستر الگ کر دو۔
حدیث نمبر: 6690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ : " لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے ساتھ اپنی پشت کی ٹیک لگائے ہوئے دوران خطبہ ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے اور کسی معاہد کو مدت معاہدہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فِي بَيْتِهِ تَحْتَ جَنْبِهِ ، فَأَكَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے اپنے گھر میں ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھالیا۔
حدیث نمبر: 6692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ ، قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ ، تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدِهِمْ ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو لوگوں میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” لوگو ! زمانہ جاہلیت میں جتنے بھی معاہدے ہوئے اسلام ان کی شدت میں مزید اضافہ کرتا ہے لیکن اب اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے مسلمان اپنے علاوہ سب پر ایک ہاتھ ہیں سب کا خون برابر ہے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے جو سب سے آخری مسلمان تک لوٹائی جائے گی، ان کے لشکروں کو بیٹھے ہوئے مجاہدین پر لوٹایا جائے گا کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے زکوٰۃ کے جانوروں کو اپنے پاس منگوانے کی اور زکوٰۃ سے بچنے کی کوئی حیثیت نہیں مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے علاقے ہی میں جا کروصول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 6693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً ، وَهِيَ الْوَتْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا : ” ہے اور وہ وتر ہے۔
حدیث نمبر: 6694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو نمازوں کو جمع فرمایا : ” ہے۔
حدیث نمبر: 6695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا ، وَاشْرَبُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَالْبَسُوا ، غَيْرَ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ " ، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : " فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ پیو صدقہ کرو اور پہنو لیکن تکبر نہ کرو اور اسراف بھی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 6696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَقُولُهُنَّ عِنْدَ النَّوْمِ مِنَ الْفَزَعِ : " بِسْمِ اللَّهِ ، أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّة ، مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ ، وَشَرِّ عِبَادِهِ ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ، وَأَنْ يَحْضُرُونِ " ، قَالَ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ أَنْ يَقُولَهَا عِنْدَ نَوْمِهِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ أَنْ يَحْفَظَهَا ، كَتَبَهَا لَهُ ، فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات سوتے وقت ڈر جانے کی صورت میں پڑھنے کے لئے سکھاتے تھے میں اللہ کی تمام صفات کے ذریعے اس کے غضب سزا اور اس کے بندوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں نیز شیاطین کی پھونکوں سے اور ان کے میرے قریب آنے سے بھی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خود بھی اپنے بچوں کو " جو بلوغ کی عمر کو پہنچ جاتے یہ دعا سوتے وقت پڑھنے کے لئے سکھایا کرتے تھے اور وہ چھوٹے بچے جو اسے یاد نہیں کر سکتے تھے ان کے گلے میں لکھ کر لٹکا دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 6697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ . وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ وَأَهْلِ تِهَامَةَ يَلَمْلَمَ ، وَلِأَهْلِ الطَّائِفِ ، وَهِيَ نَجْدٌ قَرَن ، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اہل یمن وتہامہ کے لئے یلملم اہل طائف (نجد) کے لئے قرن اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 6698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ " ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ وَالتَّابِعِ ، لِأَهْلِ الْبَيْتِ ، وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی خائن مرد و عورت کی گواہی مقبول نہیں نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوکر کی گواہی اس کے مالکان کے حق میں قبول نہیں فرمائی البتہ دوسرے لوگوں کے حق میں قبول فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 6699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ، ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ قَضَى إِنْ كَانَ مِنْ حُرَّةٍ تَزَوَّجَهَا ، أَوْ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا ، فَقَدْ لَحِقَ بِمَا اسْتَلْحَقَهُ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ حُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ عَاهَرَ بِهَا ، لَمْ يَلْحَقْ بِمَا اسْتَلْحَقَهُ ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ ، وَهُوَ ابْنُ زِنْيَةٍ ، لِأَهْلِ أُمِّهِ ، مَنْ كَانُوا ، حُرَّةً أَوْ أَمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو بچہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے نسب میں شامل کیا جائے جس کا دعویٰ مرحوم کے ورثاء نے کیا ہو اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” کہ اگر وہ آزاد عورت سے ہو جس سے مرنے والے نے نکاح کیا ہو۔ یا اس کی مملوکہ باندی سے ہو تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت ہو جائے گا اور اگر وہ کسی آزاد عورت یا باندی سے گناہ کا نتیجہ ہے تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت نہ ہو گا اگرچہ خود اس کا باپ ہی اس کا دعویٰ کرے وہ زنا کی پیداوار اور اپنی ماں کا بیٹا ہے اور اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ کوئی بھی لوگ ہوں آزاد ہوں یا غلام۔
حدیث نمبر: 6700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ ، أَصِلُ وَيَقْطَعُونِي ، وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَ ، وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَ ، أَفَأُكَافِئُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا ، وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے رشتہ داری جوڑتا ہوں وہ توڑتے ہیں میں ان سے درگزر کرتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برا کرتے ہیں کیا میں بھی ان کا بدلہ دے سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ورنہ تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا تم فضیلت والا پہلو اختیار کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو اور جب تک تم ایسا کرتے رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ مستقل ایک معاون لگا رہے گا۔
حدیث نمبر: 6701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ يُوسُفَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ وَصَلَاةٍ ، فَذَلِكَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّهُ ، إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِسُكُوتٍ وَإِنْصَاتٍ ، فَذَلِكَ هُوَ حَقُّهَا ، وَرَجُلٌ يَحْضُرُهَا يَلْغُو ، فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں ایک آدمی تو وہ ہے جو نماز اور دعاء میں شریک ہوتا ہے اس آدمی نے اپنے رب کو پکار لیا اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے عطاء کرے یا نہ کرے، دوسرا آدمی وہ ہے جو خاموشی کے ساتھ آکر اس میں شریک ہو جائے یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی وہ ہے جو بیکار کاموں میں لگا رہتا ہے یہ اس کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 6702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ ، أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي ، وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ ، فَجَلَسْنَا حَجْرَةً ، إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، فَتَمَارَوْا فِيهَا ، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا ، قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، يَرْمِيهِمْ بِالتُّرَابِ ، وَيَقُولُ : " مَهْلًا يَا قَوْمِ ، بِهَذَا أُهْلِكَتْ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ ، بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، وَضَرْبِهِمْ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ ، إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ ، فَاعْمَلُوا بِهِ ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ ، فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور میرا بھائی ایسی مجلس میں بیٹھے ہیں کہ اس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ بھی ملنا پسند نہیں ہے ایک دفعہ میں اپنے بھائی کے ساتھ آیا تو کچھ بزرگ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے کسی دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان کے درمیان گھس کر تفریق کر نے کو اچھا نہیں سمجھا اس لئے ایک کونے میں بیٹھ گئے اس دوران صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے قرآن کی ایک آیت کا تذکر ہ چھیڑا اور اس کی تفسیر میں ان کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو کر باہر نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی پھینک رہے تھے اور فرما رہے تھے لوگو ! رک جاؤ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے سامنے اختلاف کیا اور اپنی کتابوں کے ایک حصے کو دوسرے حصے پر مارا قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تکذیب کرتا ہو بلکہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اس لئے تمہیں جتنی بات کا علم ہو اس پر عمل کر لو اور جو معلوم نہ ہو تو اسے اس کے عالم سے معلوم کر لو۔
حدیث نمبر: 6703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ ، يَعْنِي التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔
حدیث نمبر: 6704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ العاص نَحَرَ حِصَّتَهُ ، خَمْسِينَ بَدَنَةً ، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا أَبُوكَ ، فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ ، فَصُمْتَ ، وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ ، نَفَعَهُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ قربان کر نے کی منت مانی تھی، اس کے ایک بیٹے ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ قربان کر دئیے دوسرے بیٹے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کر لیا ہوتا تو تم اس کی طرف سے جو بھی روزہ اور صدقہ کرتے اسے ان کا نفع ہوتا (لیکن چونکہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اس لئے اسے کیا فائدہ ہو گا)
حدیث نمبر: 6705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص اپنا ہدیہ واپس نہ مانگے سوائے باپ اپنے بیٹے سے اور ہدیہ دے کرواپس لینے والا ایسے ہے جیسے قے کر کے اسے چاٹ لینے والا۔
حدیث نمبر: 6706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هِيَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى " ، يَعْنِي الرَّجُلَ يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری " کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 6707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً ، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً ، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً ، وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي ؟ قَالَ : " أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کا برتن تھا میری گود اس کا گہوارہ تھی اور میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا ذریعہ تھی لیکن اب اس کا باپ کہہ رہا ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین لے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک تم کہیں اور شادی نہیں کر تیں اس پر تمہارا حق زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 6708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا ، وَاشْرَبُوا ، وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا ، فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ ، وَلَا سَرَفٍ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُرَى نِعْمَتُهُ عَلَى عَبْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ پیو صدقہ کرو اور پہنو لیکن تکبر نہ کرو اور اسراف بھی نہ کرو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمتوں کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔
حدیث نمبر: 6709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ ، فَهُوَ لَهَا ، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ ، فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ ، وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت مہر، تحفہ یا ہدیہ کے بدلے نکاح کرے تو نکاح سے قبل ہونے کی صورت میں وہ اسی کی ملکیت ہو گا اور نکاح کا بندھن بندھ جانے کے بعد وہ اس کی ملکیت میں ہو گا جسے دیا گیا ہو اور کسی آدمی کا اکر ام اس وجہ سے کرنا زیادہ حق بنتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کا اکر ام کیا جائے۔
حدیث نمبر: 6710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَهُ مَعَ جَارِيَةٍ لَهُ ، فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ ؟ " قَالَ : زِنْبَاعٌ ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ " فَقَالَ : كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبْدِ : " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا ؟ قَالَ : " مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " ، فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، نُجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عِيَالِكَ ، فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ ، حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ ، فَقَالَ : وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : مِصْرَ ، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوروح " جس کا اصل نام زنباع تھا " نے اپنے غلام کو ایک باندی کے ساتھ " پایا اس نے اس غلام کی ناک کاٹ دی اور اسے خصی کر دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ یہ سلوک کسی نے کیا ؟ اس نے زنباع کا نام لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے ساراواقعہ ذکر کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام سے فرمایا : ” جا تو آزاد ہے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! میرا آزاد کر نے والا کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کر دہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بھی اس کی وصیت کر دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا : ” ہاں ! مجھے یاد ہے ہم تیرا اور تیرے اہل و عیال کا نفقہ جاری کر دیتے ہیں چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کا نفقہ جاری کر دیا پھر جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ پھر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا : ” ہاں ! یاد ہے تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟ اس نے مصر کا نام لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر مصر کے نام اس مضمون کا خط لکھ دیا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جس سے یہ کھا پی سکے۔
حدیث نمبر: 6711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ ، وَفِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ ، وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَسَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ ، وَلَا يَذْكُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أبِي : قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَوْرَعَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر انگلی میں دس اونٹ واجب ہیں ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور سب انگلیاں بھی برابر ہیں اور تمام دانت بھی برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 6712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَدَ إِلَى بَيْتٍ ، فَوَعَظَ النَّاسَ ، وَذَكَّرَهُمْ ، قَالَ : " لَا يُصَلِّي أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ ، وَلَا تَتَقَدَّمَنَّ امْرَأَةٌ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ سے ٹیک لگا کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ” کوئی شخص عصر کی نماز کے بعد رات تک نوافل نہ پڑھے اور نہ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک، نیز کوئی عورت تین دن کی مسافت کا محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور کسی عورت سے اس کی پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 6713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ " ، وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا نَسْأَلُكَ عَنْ أَحَدِنَا يُولَدُ لَهُ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ ، عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ ؟ قَالَ : " وَالْفَرَعُ حَقٌّ ، وَأَنْ تَتْرُكَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا ، أَوْ شُغْزُوبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوْ ابْنَ لَبُونٍ ، فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ ، وَتُكْفِئُ إِنَاءَكَ ، وَتُولِهُ نَاقَتَكَ " ، وَقَالَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ ؟ فَقَالَ " الْعَتِيرَةُ حَقٌّ " ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ : مَا الْعَتِيرَةُ ؟ قَالَ : كَانُوا يَذْبَحُونَ فِي رَجَبٍ شَاةً ، فَيَطْبُخُونَ وَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے " عقیقہ " کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ عقوق ( نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی مناسبت کو اچھا نہیں سمجھا صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! ہم آپ سے اپنی اولاد کے حوالے سے سوال کر رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو شخص اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے وہ لڑکے کی طرف دو برابر کی بکر یاں ذبح کر دے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکر ی ذبح کر لے۔ پھر کسی نے اونٹ کے پہلے بچے کی قربانی کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ برحق ہے لیکن اگر تم اسے جوان ہونے تک چھوڑ دو کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے پھر تم اسے کسی کو فی سبیل اللہ سواری کے لئے دے دو یا بیواؤں کو دے دو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ذبح کر کے اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ لگاؤ اپنا برتن الٹ دو اور اپنی اونٹنی کو پاگل کر دو پھر کسی نے " عتیرہ " کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عتیرہ برحق ہے۔ کسی نے عمرو بن شعیب سے عتیرہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ لوگ ماہ رجب میں بکر ی ذبح کر کے اسے پکا کر خود بھی کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔
حدیث نمبر: 6714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا مُقْتَرِنَانِ ، يَمْشِيَانِ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ الْقِرَانِ ؟ " قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ مُقْتَرِنَيْنِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ هَذَا نَذْرًا " ، فَقَطَعَ قِرَانَهُمَا ، قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ کر بیت اللہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس طرح چمٹ کر چلنے کا کیا مطلب ؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ! ہم نے یہ منت مانی تھی کہ اسی طرح بیت اللہ تک چل کر جائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ منت نہیں ہے اور ان دونوں کی اس کیفیت کو ختم کروا دیا سریج اپنی حدیث میں یہ بھی کہتے ہیں کہ نذر اس چیز کی ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔
حدیث نمبر: 6715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُرَاءٍ " ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا كَانَ يَبْلُغُنَا ، أَوْ مُتَكَلِّفٌ ، قَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وعظ صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کی اجازت دی گئی ہو یا ریاکار۔
حدیث نمبر: 6716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ ان کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہو گی۔
…