حدیث نمبر: 6637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْمَعَافِرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هُدَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَغَنِمُوا ، وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ ، فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاهُمْ ، وَكَثْرَةِ غَنِيمَتِهِمْ ، وَسُرْعَةِ رَجْعَتِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَقْرَبَ مِنْهُ مَغْزًى ، وَأَكْثَرَ غَنِيمَةً ، وَأَوْشَكَ رَجْعَةً ؟ مَنْ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِسُبْحَةِ الضُّحَى ، فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى ، وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً ، وَأَوْشَكُ رَجْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ فرمایا : ” وہ مال غنیمت حاصل کر کے بہت جلدی واپس آگئے لوگ ان کے مقام جہاد کے قرب، کثرت غنیمت اور جلد واپسی کے متعلق باتیں کر نے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے زیادہ قریب کی جگہ کثرت غنیمت اور جلد واپسی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ جو شخص وضو کر کے چاشت کی نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہو وہ اس سے بھی زیادہ قریب کی جگہ، کثرت غنیمت اور جلد واپسی والی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره
حدیث نمبر: 6639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَمْزَةُ ، نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا ؟ " قَالَ : بَلْ نَفْسٌ أُحْيِيهَا ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ! مجھے کسی کام پر مقر کر دیجئے، تاکہ میں اس کے ذریعے اپنی زندگی بسر کر سکوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمزہ ! کیا نفس کو زندہ رکھنا تمہیں زیادہ محبوب ہے یا مارنا ؟ انہوں نے عرض کیا زندہ رکھنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اپنے نفس کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وحيي ابن عبد الله المعافري
حدیث نمبر: 6640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا اللَّبَنَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ بَيْنَ الرَّغْوَةِ وَالصَّرِيحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اپنی امت پر صرف " دودھ " کا اندیشہ ہے کیونکہ شیطان " جھاگ " اور " خالص " کے درمیان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وحيي بن عبد الله المعافري
حدیث نمبر: 6641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " الصِّدْقُ ، وَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ ، وَإِذَا بَرَّ آمَنَ ، وَإِذَا آمَنَ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَمَلُ النَّارِ ؟ قَالَ : " الْكَذِبُ إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ فَجَرَ ، وَإِذَا فَجَرَ كَفَرَ ، وَإِذَا كَفَرَ دَخَلَ " يَعْنِي النَّارَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ! جنتی عمل کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سچ بولناجب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتا ہے تو ایمان لاتا ہے اور جب ایمان لے آیا تو جنت میں داخل ہو جائے گا پھر اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! جہنمی عمل کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جھوٹ بولنا جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو کفر کرتا ہے اور جب کفر کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وحيي بن عبد الله
حدیث نمبر: 6642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ ، إِلَّا لِاثْنَيْنِ : مُشَاحِنٍ ، وَقَاتِلِ نَفْسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ شب برأت کے موقع پر اپنی مخلوق کو جھانک کر دیکھتا ہے اور اپنے سارے بندوں کو معاف کر دیتا ہے، سوائے دو آدمیوں کے، ایک تو آپس میں بغض و عداوت رکھنے والوں کو اور دوسرا قاتل کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وحيي بن عبد الله
حدیث نمبر: 6643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : " أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةُ الْمَائِدَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَحْمِلَهُ ، فَنَزَلَ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت مائدہ اس حال میں نازل ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، وہ سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے اترنا پڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وحيي بن عبد الله
حدیث نمبر: 6644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ ، يُقَالُ لَهُ : الْوَهْطُ ، وَهُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ ، يُزَنُّ بِشُرْبِ الْخَمْرِ ، فَقُلْتُ : بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّه مَنْ شَرِبَ شَرْبَةَ خَمْرٍ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ تَوْبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، وَأَنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ ، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذِكْرَ الْخَمْرِ ، اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ " قَالَ : فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ " فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ ، اهْتَدَى ، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ، ضَلَّ " ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ : جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، أَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَهُ الثَّالِثَةُ : فَسَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ، وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن دیلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اس وقت وہ طائف میں " وہط " نامی اپنے باغ میں تھے اور قریش کے ایک نوجوان کی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر اسے جھکا رہے تھے، اس نوجوان کو شراب پینے کی وجہ سے سزا ہو رہی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث معلوم ہوئی ہے کہ جو شخص شراب کا ایک گھونٹ پی لے اللہ چالیس دن تک اس کی توبہ کو قبول نہیں کرتا ؟ اور یہ کہ اصل بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ سے ہی بدبخت آیا ہو اور یہ کہ جو شخص بیت المقدس حاضر ہو وہاں حاضری کا مقصد صرف وہاں نماز پڑھنا ہو تو وہ گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو جائے گا جیسے ماں کے پیٹ سے جنم لے کر آیا ہو۔ وہ نوجوان شراب کا ذکر سنتے ہی اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں کسی شخص کے لئے اس بات کو حلال نہیں کرتا کہ وہ میری طرف ایسی بات کو منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص شراب کا ایک گھونٹ پی لے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے اگر دوبارہ شراب پیئے تو پھر چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی پھر اگر توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا : ” کہ اگر دوبارہ پیئے تو اللہ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اسے جہنمیوں کی پیپ پلائے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر اسی دن ان پر نور ڈالا، جس پر وہ نور پڑگیا وہ ہدایت پا گیا اور جسے وہ نور نہ مل سکا وہ گمراہ ہو گیا اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم کے مطابق لکھ کر قلم خشک ہوچکے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ سے تین دعائیں کیں جن میں سے اللہ نے دو کو قبول کر لیا اور ہمیں امید ہے کہ تیسری بھی ان کے حق میں ہو گی انہوں نے اللہ سے صحیح فیصلہ کر نے کی صلاحیت مانگی، اللہ نے انہیں وہ عطاء کر دی انہوں نے اللہ سے ایسی حکومت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ مل سکے، اللہ نے انہیں وہ بھی عطاء کر دی انہوں نے اللہ سے دعاء کی کہ جو شخص اپنے گھر سے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے ارادے سے نکلے تو وہ نماز کے بعد وہاں سے ایسے نکلے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو، ہمیں امید ہے کہ اللہ نے انہیں یہ بھی عطاء فرما دیا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح
حدیث نمبر: 6645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، وَسُئِلَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ ؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصُنْدُوقٍ لَهُ حَلَقٌ ، قَالَ : فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ ، إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا " يَعْنِي قُسْطَنْطِينِيَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھاقسطنطینہ اور رومیہ میں سے پہلے کون سا شہر فتح ہو گا ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک صندوق منگوایا جس کے اردگردحلقے لگے ہوئے تھے اس میں سے ایک کتاب نکالی اور کہنے لگے کہ ہم ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر لکھ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ سوال ہوا کہ قسطنطنیہ اور رومیہ میں سے پہلے کون سا شہر فتح ہو گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہرقل کا شہر یعنی قسطنطنیہ پہلے فتح ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يحيي بن أيوب الغافقي مختلف فيه
حدیث نمبر: 6646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہو جائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچا لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد الحمصي
حدیث نمبر: 6647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ أَنْ يَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِطَلَاقِ أُخْرَى ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ حَتَّى يَذَرَهُ ، وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَيْهِمْ أَحَدَهُمْ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی عورت سے دوسری کو طلاق ہونے کی وجہ سے نکاح کرنا حلال نہیں کسی شخص کے لئے اپنے ساتھی کے بیع پر بیع کرنا حلال نہیں جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے اور ایسے تین آدمیوں کے لئے جو کسی اجنبی علاقے (جنگل) میں ہوں ضروری ہے کہ اپنے اوپر کسی ایک کو امیر مقرر کر لیں اور ایسے تین آدمیوں کے لئے جو کسی جنگل میں ہوں حلال نہیں ہے کہ ان میں سے دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی کر نے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، إلا حديث الإمارة فحسن، و هذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سييء الحفظ
حدیث نمبر: 6648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ ، بِحُسْنِ خُلُقِهِ ، وَكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک سیدھا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور اپنی شرافت و مہربانی کی وجہ سے ان لوگوں کے درجے تک جاپہنچتا ہے جو روزہ دار اور شب زندہ دار ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6649
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ " ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ عَوْفٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ : " طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " ، فَقِيلَ : مَنْ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أُنَاسٌ صَالِحُونَ ، فِي أُنَاسِ سُوءٍ كَثِيرٍ ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَكُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ ، حِينَ طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَأْتِي أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نُورُهُمْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ " ، قُلْنَا : مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالَّذِينَ تُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ ، يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ خوشخبری ہے غرباء کے لئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برے لوگ کے تم جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔ اور ہم ایک دوسرے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا : ” فقراء مہاجرین جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا ہے وہ لوگ اپنی ضروریات اپنے سینے میں ہی لے کر مرجاتے تھے انہیں زمین کے کونے کونے سے جمع کر لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره
حدیث نمبر: 6651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ ؟ قَالَ : " غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ! مجالس ذکر کی غنیمت کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذکر کی غنیمت جنت ہے جنت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، و راشد بن يحيي المعافري مجهول
حدیث نمبر: 6652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا : حِفْظُ أَمَانَةٍ ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ ، وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ ، وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر چار چیزیں اور خصلتیں تمہارے اندر ہوں تو اگر ساری دنیا بھی چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں، امانت کی حفاظت، بات میں سچائی، اخلاق کی عمدگی اور کھانے میں پاکیزگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه بين الحارث ابن زيد الحضرمي و بين عبد الله بن عمرو، وابن لهيعة سييء الحفظ، و روي الحديث موقوفا، وهو أصح
حدیث نمبر: 6653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رِبَاطُ يَوْمٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن کی پہرہ داری ایک مہینے کے صیام و قیام سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سييء الحفظ
حدیث نمبر: 6654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَمَتَ نَجَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقُلُوبُ أَوْعِيَةٌ ، وَبَعْضُهَا أَوْعَى مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، فَاسْأَلُوهُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ لِعَبْدٍ دَعَاهُ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دل برتنوں کے طرح ہوتے ہیں، بعض بعض سے گہرے ہوتے ہیں اس لئے اے لوگوں جب تم اللہ سے سوال کرو تو قبولیت کے یقین کے ساتھ مانگا کرو کیونکہ اللہ کسی ایسے بندے کی دعاء کو قبول نہیں کرتا جو غافل دل سے اسے پکارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سييء الحفظ
حدیث نمبر: 6656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّيَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ ، فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور فرمایا : ” کاش کہ یہ اپنے وطن میں نہ مرتا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! یہ کیوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے وطن کے علاوہ کہیں اور مرے تو اس کے لئے اس کے وطن سے لے کر اس کے نشان قدم کی انتہاء تک جنت میں جگہ عطاء فرمائی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة. وإن كان سييء الحفظ. توبع، وتنحصر علته فى حيي بن عبد الله المعافري ، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 6657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا ، قَالَ قَوْمُهَا : فَنَحْنُ نَفْدِيهَا يَعْنِي أَهْلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْطَعُوا يَدَهَا " ، فَقَالُوا : نَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِ مِائَةِ دِينَارٍ ، قَالَ : " اقْطَعُوا يَدَهَا " ، قَالَ : فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ : هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكِ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ سورة المائدة آية 39 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک عورت نے چوری کی جن لوگوں کے یہاں چوری ہوئی تھی وہ اس عورت کو پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ! اس عورت نے ہمارے یہاں چوری کی ہے اس عورت کی قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم انہیں اس کا فدیہ دینے کے لئے تیار ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا ہاتھ کاٹ دو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم اس کا فدیہ پچاس دینار دینے کو تیار ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ” کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو چنانچہ اس کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ بعد میں وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ ! کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج تک اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو کہ گویا تمہاری ماں نے تمہیں آج ہی جنم دیا ہو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورت مائدہ کی یہ آیت نازل فرمائی جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، و حيي بن عبد الله المعافري.
حدیث نمبر: 6658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ ، وَلَا يُصَلِّي فِي مَرَابِدِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکر یوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے لیکن اونٹوں اور گائے کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، و حيي بن عبد الله المعافري.
حدیث نمبر: 6659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا ، وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " ، قِيلَ : وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دے تو اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے اس کے پاس دنیا اور اس کی ساری نعمتیں تھیں جو اس سے چھین لی گئیں اور جو شخص نشے کی وجہ چار نمازیں چھوڑ دے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے طینۃ الخبال میں سے کچھ پلائے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! طینۃ الخبال کس چیز کا نام ہے ؟ فرمایا : ” اہل جہنم کی پیپ کا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا ، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا ، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَاعِدًا وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں جانب سے واپس چلے جاتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي
حدیث نمبر: 6661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُرَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وعظ صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کی اجازت دی گئی ہو یا ریاکار۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ القاسم ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً ، وَعَشَرَةٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ جو شخص خطاء ًمارآ جائے اس کی دیت سو اونٹ ہی ہو گی جن میں سے تیس بنت مخاض، تیس بنت لبون، تیس حقے اور دس ابن لبون مذکر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دومختلف دین رکھنے والے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره
حدیث نمبر: 6665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص کنواری عورت سے شادی کر لے تو باری مقرر کر نے سے پہلے تین دن اس کے پاس گزارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ، حجاج بن أرطاة كثير الخطأ و التدليس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 6666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ ، فَهُوَ رَقِيقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام سے سو اوقیہ بدل کتابت اداء کر نے پر آزادی کا وعدہ کر لیا جائے اور وہ نوے اوقیہ ادا کر دے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا (تا آنکہ مکمل ادائیگی کر دے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَانِ ، فِي أَيْدِيهِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ ؟ " قَالَتَا : لَا ، قَالَ : " فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا الَّذِي فِي أَيْدِيكُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ دو عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم دونوں اس بات کو پسند کر تی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ وہ کہنے لگیں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الْقَدَرِ ، قَالَ : وَكَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : " مَا لَكُمْ تَضْرِبُونَ كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ؟ ! بِهَذَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ : فَمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَشْهَدْهُ ، بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ ، أَنِّي لَمْ أَشْهَدْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف تو لوگ تقدیر کے متعلق گفتگو کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غصے کے مارے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کسی نے انار نچوڑ دیا ہو اور فرمایا : ” کیا بات ہے کہ تم کتاب اللہ کے ایک حصے کو دوسرے حصے پر مارتے ہو ؟ تم سے پہلی قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں مجھے کسی مجلس کے متعلق اتناخیال کبھی پیدا نہیں ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوں کہ میں اس میں حاضر نہ ہوتا تو اچھا ہوتا سوائے اس مجلس کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح ، و هذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَطْوَلَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَرَمَاهَا ، وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ اولیٰ کی نسبت زیادہ دیر ٹھہرے رہے پھر جمرہ عقبہ پر تشریف لا کر رمی کی اور وہاں نہیں ٹھہرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 6670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا الْتَقَتْ الْخِتَانَانِ ، وَتَوَارَتْ الْحَشَفَةُ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب شرمگاہیں مل جائیں اور مرد کی شرمگاہ چھپ جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 6671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کر نے اور ادھار سے اس چیز کی بیع سے ضمانت میں بھی داخل نہ ہوئی ہو اور اس چیز کی بیع سے " جو آپ کے پاس موجود نہ ہو " منع فرمایا : ” ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ ، فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ ، وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةً ، أَوْ حُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفید بالوں کو مت نوچا کرو کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے جس مسلمان کے بال حالت میں اسلام میں سفید ہوتے ہیں اس کے ہر بال پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے یا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَائِهِ ، أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ ، مَنْعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص زائد پانی یا زائدگھاس کسی کو دینے سے روکتا ہے اللہ قیامت کے اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 6674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ ، فَإِنَّهُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَشِيبُ فِي الْإِسْلَامِ شَيْبَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفید بالوں کو مت نوچا کرو کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے جس مسلمان کے بال حالت میں اسلام میں سفید ہوتے ہیں اس کے ہر بال پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے یا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الضَّالَّةُ ، وَعَنِ الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت اشعار کہنے گمشدہ چیزوں کا اعلان کر نے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے لگانے سے منع فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن