حدیث نمبر: 6557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیر نافع علم، غیر مقبول دعاء خشوع و خضوع سے خالی دل اور نہ بھرنے والے نفس سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 6558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
حدیث نمبر: 6559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهِنَّ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْعَشْرِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَأَكْبَرَهُ ، فَقَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ رَجُلٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَكُونَ مُهْجَةُ نَفْسِهِ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اعمال کا تذکر ہ ہونے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دس ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ پسند نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں فرمایا : ” ہاں ! جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا (راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " مرادعشرہ ذی الحجہ ہے)
حدیث نمبر: 6560
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدًا بِالشَّامِ ، فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسْتُ ، فَجَاءَ شَيْخٌ يُصَلِّي إِلَى السَّارِيَةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، فَأَتَى رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَمْنَعَنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ ، وَإِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں شام کی ایک مسجد میں داخل ہوا میں وہاں دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی آیا اور ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں اتنے میں ان کے پاس یزید کا قاصد آگیا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہ یہ مجھے تم سے احادیث بیان کر نے سے منع کرنا چاہتا ہے اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہے اے اللہ میں نہ بھرنے والے نفس سے خشوع و خضوع سے خالی دل سے غیر نافع علم سے اور غیر مقبول دعاء سے تیری پناہ میں آتا ہوں اے اللہ میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ مانگتاہوں۔
حدیث نمبر: 6562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا رُؤِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔
حدیث نمبر: 6563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : لَا ، إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى : " هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا " ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ : " هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ ، بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا " ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلِأَيِّ شَيْءٍ إِذَنْ نَعْمَلُ ، إِنْ كَانَ هَذَا أَمْرًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ، وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ " ، ثُمَّ قَالَ : بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ " ، ثُمَّ قَالَ : بِالْيُمْنَى ، فَنَبَذَ بِهَا ، فَقَالَ : " فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ " ، وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى ، فَقَالَ : " فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں کتابیں کیسی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ہاں اگر آپ یا رسول اللہ ! ہمیں بتادیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ” یہ اللہ رب العلمین کی کتاب ہے جس میں اہل جنت ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے نام لکھے ہوئے ہیں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں آخری آدمی تک سب کے نام آگئے ہیں۔ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! جب اس کام سے فراغت ہوچکی تو پھر ہم عمل کس مقصد کے لئے کر یں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” درستگی پر رہو اور قرب اختیارکو کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہی ہو گا گو کہ وہ کوئی سے اعمال کرتا رہے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہو گا گو کہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی مٹھی بنائی اور فرمایا : ” تمہارا رب بندوں کی تقدیر لکھ کر فارغ ہوچکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے پھونک ماری اور فرمایا : ” ایک فریق جنت میں ہو گا اس کے بعد بائیں ہاتھ پر پھونک کر فرمایا : ” اور ایک فریق جہنم میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْمِزْرَ ، وَالْقِنِّينَ ، وَالْكُوبَةَ ، وَزَادَ لِي صَلَاةَ الْوَتْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ نے میری امت پر شراب جوا جو کی شراب شطرنج اور باجے حرام قرار دیئے ہیں اور مجھ میں پر نماز وتر کا اضافہ فرمایا : ” ہے۔
حدیث نمبر: 6565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ التَّنُوخِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ " ، أَوْ " مَا أُبَالِي مَا رَكِبْتُ ، إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا " ، أَوْ قَالَ : " عَلَّقْتُ تَمِيمَةً ، أَوْ قُلْتُ : شِعْرًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِي " ، الْمَعَافِرِيُّ يَشُكُّ ، " مَا أُبَالِي مَا رَكِبْتُ " ، أَوْ " مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں نے زہر کو دور کر نے کا تریاق پی رکھا ہو یا گلے میں تعویذ لٹکا رکھا ہو یا ازخود کوئی شعر کہا ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
حدیث نمبر: 6566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی نگاہوں میں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے حق میں بہتر ہو اور بہترین پڑ٫ سی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہو۔
حدیث نمبر: 6567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ساری دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔
حدیث نمبر: 6568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا لِي الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا ، هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ ، حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم مؤذن کی اذان سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہہ رہاہو پھر مجھ پر دوردبھیجو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لئے وسیلہ کی دعاء کرو جو جنت میں ایک مقام ہے اور اللہ کے سارے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لئے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ہو گا جو شخص میرے لئے وسیلے کی دعاء کرے گا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 6569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ ، يُصَرِّفُ كَيْفَ يَشَاءُ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ، اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمام بنی آدم کے دل اللہ کی دوانگلیوں کے درمیان قلب واحد کی طرح ہیں وہ انہیں جیسے چاہے پھیر دیتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کی کہ اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
حدیث نمبر: 6570
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ الْفُقَرَاءُ وَالْمُهَاجِرُونَ ، الَّذِينَ تُسَدُّ بِهِمْ الثُّغُورُ ، وَيُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ ، لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ : ائْتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : نَحْنُ سُكَّانُ سَمَائِكَ ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي ، لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ، وَتُسَدُّ بِهِمْ الثُّغُورُ ، وَيُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ ، لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، قَالَ : فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ سورة الرعد آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ مخلوق اللہ میں سے سب سے پہلے جنت میں کون لوگ داخل ہوں گے ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں سب سے پہلے مخلوق اللہ میں سے وہ فقراء اور مہاجرین داخل ہوں گے جن کے آنے پر دروازے بند کر دئیے جاتے تھے ان کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا اور اپنی حاجات اپنے سینوں میں لئے ہوئے ہی مرجاتے تھے لیکن انہیں پورا نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے جسے چاہیں گے حکم دیں گے کہ ان کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کرو فرشتے عرض کر یں گے کہ ہم آسمانوں کے رہنے والے اور آپ کی مخلوق میں منتخب لوگ اور آپ ہمیں ان کو سلام کر نے کا حکم دے رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ایسے لوگ تھے جو صرف میری ہی عبادت کرتے تھے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے ان پر دروازے بند کر دئیے جاتے تھے ان کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا اور یہ اپنی ضروریات اپنے سینوں میں لئے لئے مرجاتے تھے لیکن انہیں پورانہ کر پاتے تھے چنانچہ فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے سے یہ آوازلگائیں گے تم پر سلام ہو کہ تم نے صبر کیا آخرت کا گھر کتنا بہترین ہے۔
حدیث نمبر: 6571
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ ، الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ ، وَإِذَا أُمِرُوا ، سَمِعُوا وَأَطَاعُوا ، وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ لَهُ ، حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ ، فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا ، فَيَقُولُ : أَيْ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي وَقُتِلُوا ، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي ، وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ " . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلا گر وہ جو جنت میں داخل ہو گا وہ ان فقراء مہاجرین کا ہو گا جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا جب انہیں حکم دیا جاتا تو وہ سنتے اور اطاعت کرتے تھے اور جب ان میں سے کسی کو بادشاہ سے کوئی کام پیش آجاتا تو وہ پور انہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے اپنے سینے میں لئے لئے مرجاتا تھا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کو بلائیں گے وہ اپنی زیبائش و آرائش کے ساتھ آئے گی پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے میرے بندو جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا اور مارے گئے میرے راستے میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے میری راہ میں خوب محنت کی جنت میں داخل ہوجاؤ چنانچہ وہ بلاحساب و عذاب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 6572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ ، وَرُزِقَ كَفَافًا ، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ آدمی کامیاب ہو گیا جس نے اسلام قبول کیا ضرورت اور کفایت کے مطابق اسے روزی نصیب ہو گئی اور اللہ نے اسے اپنی نعمتوں پر قناعت کی دولت عطاء فرمادی۔
حدیث نمبر: 6573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ ، أَفَنَقُومُ لَهَا ؟ َقَالَ : " نَعَمْ قُومُوا لَهَا ، فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا ، إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! ! اگر ہمارے پاس سے کسی کافر کا جنازہ گزرے تو کیا ہم کھڑے ہو جائیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اس وقت بھی کھڑے ہوجایا کرو تم کافر کے لئے کھڑے نہیں ہو رہے تم اس ذات کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو رہے ہو جو روح قبض کر تی ہے۔
حدیث نمبر: 6574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا نَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا ، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا الطَّرِيقَ ، وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ ؟ " قَالَتْ : أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ ، فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ ، فَقَالَ : " لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمْ الْكُدَى ؟ " قَالَتْ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا مَعَهُمْ ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ ، فقَالَ : " لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جارہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک خاتون پر پڑی ہم نہیں سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا جب ہم راستے کی طرف متوجہ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ٹھہر گئے جب وہ خاتون وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھافاطمہ ! تم اپنے گھر سے کسی کام سے نکلی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس گھر میں رہنے والوں کے پاس آئی تھی یہاں ایک فوتگی ہو گئی تھی تو میں نے سوچا کہ ان سے تعزیت اور مرنے والے کی دعاء رحمت کر آؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ پھر تم ان کے ساتھ قبرستان بھی گئی ہو گی ؟ انہوں نے عرض کیا معاذاللہ کہ میں ان کے ساتھ قبرستان جاؤں جبکہ میں نے اس کے متعلق آپ سے جو سن رکھا ہے وہ مجھے یاد بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان کے ساتھ چلی جاتیں تو تم جنت کو دیکھ بھی نہ پاتیں یہاں تک کہ تمہارے باپ کا دادا اسے دیکھ لیتا۔
حدیث نمبر: 6575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَات الر " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : كَبِرَتْ سِنِّي ، وَاشْتَدَّ قَلْبِي ، وَغَلُظَ لِسَانِي ، قَالَ : " فَاقْرَأْ مِنْ ذَاتِ حم " ، فَقَالَ : مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى ، فَقَالَ : " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ " ، فَقَالَ : مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً ، فَأَقْرَأَهُ إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا ، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ ، أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ " ، ثُمَّ قَالَ : عَلَيَّ بِهِ ، فَجَاءَهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى ، جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي ، أَفَأُضَحِّي بِهَا ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے قرآن پڑھادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم وہ تین سورتیں پڑھ لو جن کا آغاز الر سے ہوتا ہے وہ آدمی کہنے لگا کہ میری عمر زیادہ ہوچکی ہے دل سخت ہو گیا ہے اور زبان موٹی ہوچکی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم حم سے شروع ہونے والی تین سورتیں پڑھ لو اس نے اپنی وہی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سبح سے شروع ہونے والی تین سورتوں کا مشورہ دیا لیکن اس نے پھر وہی بات دہرائی اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! مجھے کوئی جامع سورت سکھا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورت زلزال پڑھادی جب وہ اسے پڑھ کر فارغ ہوا تو کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں اس پر کبھی اضافہ نہ کروں گا اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دو مرتبہ فرمایا : ” کہ وہ یہ آدمی کامیاب ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے میرے پاس لے کر آؤ جب وہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے عیدالاضحی کے دن قربانی کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ نے اس دن کو اس امت کے لئے عید کا دن قرار دیا ہے وہ آدمی کہنے لگایہ بتائیے اگر مجھے کوئی جانور نہ ملے سوائے اپنے بیٹے کے جانور کے تو کیا میں اسی کی قربانی دے دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں بلکہ تم اپنے ناخن تراشو بال کاٹو مونچھیں برابر کرو اور زیرناف بال صاف کرو اللہ کے یہاں کے یہی کام تمہاری طرف سے مکمل قربانی تصور ہوں گے۔
حدیث نمبر: 6576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ ، وَفِرْعَوْنَ ، وَهَامَانَ ، وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ” جو شخص اس کی پابندی کرے گا تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن روشنی، دلیل اور نجات کا سبب بن جائے گی اور جو شخص نماز کی پابندی نہیں کرے گا تو وہ اس کے لئے روشنی دلیل اور نجات کا سبب نہیں بنے گی اور وہ شخص قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔
حدیث نمبر: 6577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَيَبْقَى لَهُمْ الثُّلُثُ ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً ، تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجاہدین کا جو دستہ بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اسے مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اسے اس کا دوتہائی اجر تو فوری طور پردے دیا جاتا ہے اور ایک تہائی ان کے لئے رکھ لیا جاتا ہے اور اگر انہیں مال غنیمت حاصل نہ ہو تو سارا اجر وثواب رکھ لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ مِمَّا عِنْدَنَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ ، قَالُوا : فَإِنَّا نَصْبِرُ ، فَلَا نَسْأَلُ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن فقراء مہاجرین مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے سیدنا عبداللہ فرماتے تھے اگر تم چاہتے ہو تو ہم اپنے پاس سے تمہیں کچھ دے دیتے ہیں اور اگر تم چاہتے ہو تو بادشاہ سے تمہارا معاملہ ذکر کر دیتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم صبر کر یں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے۔
حدیث نمبر: 6579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے مخلوقات کی تقدیر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے رکھ دی تھی۔
حدیث نمبر: 6580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ النَّارِ : " كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جہنم کا تذکر ہ ہوئے فرمایا : ” کہ ہر بد اخلاق تندخو، متکبر جمع کر کے رکھنے والا اور نیکی سے روکنے والاجہنم میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " أَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور ان لوگوں کو بھی سلام کرو جن سے جان پہچان ہو اور انہیں بھی جن سے جان پہچان نہ ہو۔
حدیث نمبر: 6582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہو جائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچالیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ حَمَّادٌ : أَظُنُّهُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ سِيجَانٍ ، مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ! قَالَ : يُرِيدُ أَنْ يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ ، وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ ! قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ ، وَقَالَ : " أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ! " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ : إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ ، آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ ، وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ ، لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ ، وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ ، رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ ، وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ ، كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً ، قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ ، وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ " ، قَالَ : قُلْتُ ، أَوْ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الْكِبْرُ ؟ قَالَ : أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ ؟ قَالَ : " لَا " ، قَالَ : هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا ؟ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : الْكِبْرُ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا ؟ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : أَفَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " لَا " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الْكِبْرُ ؟ قَالَ : " سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آدمی آیا جس نے بڑا قیمتی جبہ جس پر دیباج و ریشم کے بٹن لگے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اس ساتھی نے تو مکمل طور پر فارس ابن فارس (نسلی فارسی آدمی) کی وضع اختیار کر رکھی ہے ایسالگتا ہے کہ جسے اس کے یہاں فارسی نسل کے ہی بچے پیدا ہوں گے اور چرواہوں کی نسل ختم ہو جائے گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبے کو مختلف حصوں سے پکڑ کر جمع کیا اور فرمایا : ” کہ میں تمہارے جسم پر بیوقوفوں کالباس نہیں دیکھ رہا ؟ پھر فرمایا : ” اللہ کے نبی سیدنا نوح (علیہ السلام) کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا : ” کہ میں تمہیں ایک وصیت کر رہا ہوں جس میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں حکم تو اس بات کا دیتا ہوں کہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرتے رہنا کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لاالہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں تو لاالہ الا اللہ والا پلڑا جھک جائے گا اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایک مبہم حلقہ ہوتیں تو لاالہ الا اللہ انہیں خاموش کر ا دیتا اور دوسرا یہ کہ و سبحان اللہ وبحمدہ کا ورد کرتے رہنا کہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اس کے ذریعے مخلوق کو رزق ملتا ہے۔ اور روکتا شرک اور تکبر سے ہوں میں نے یا کسی اور نے پوچھا یا رسول اللہ ! شرک تو ہم سمجھ گئے تکبر سے کیا مراد ہے ؟ کیا تکبریہ ہے کہ کسی کے پاس دو عمدہ تسموں والے دو عمدہ جوتے ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں پھر پوچھا کیا تکبریہ ہے کہ کسی کا لباس اچھا ہو ؟ فرمایا : ” نہیں سائل نے پھر پوچھا کیا تکبر یہ ہے کہ کسی کے پاس سواری ہو جس پر وہ سوارہو سکے ؟ فرمایا : ” نہیں سائل نے پوچھا کیا تکبریہ ہے کہ کسی کے ساتھی ہوں جن کے پاس جا کروہ بیٹھا کرے ؟ فرمایا : ” نہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حق بات کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
حدیث نمبر: 6584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا تَكُونَنَّ مِثْلَ فُلَانٍ ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ ، فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عبداللہ اس شخص کی طرح نہ ہوجانا جو قیام اللیل کے لئے اٹھتا تھا پھر اس نے اسے ترک کر دیا۔
حدیث نمبر: 6585
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ ، قَالَ : نَزَلَ رَجُلٌ عَلَى مَسْرُوقٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَلَمْ تَضُرَّ مَعَهُ خَطِيئَةٌ ، كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ بِهِ دَخَلَ النَّارَ ، وَلَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ " ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ : جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ ، لَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد : وَالصَّوَابُ مَا قَالَهُ أَبُو نُعَيْمٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اسے کوئی گناہ نقصان نہ پہنچاسکے گا جیسے اگر کوئی شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ مشرک ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا اور اسے کوئی نیکی نفع نہ پہنچا سکے گی۔
حدیث نمبر: 6587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، تَدْخُلُونَ الْجِنَانَ " ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : " تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رحمان کی عبادت کرو سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ اور جنت میں داخل ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 6588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَفِي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحٌّ ، فَقَالَتْ الْكَلْبَةُ : وَاللَّهِ لَا أَنْبَحُ ضَيْفَ أَهْلِي ، قَالَ : فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا ، قَالَ : قِيلَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هَذَا مَثَلُ أُمَّةٍ تَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ ، يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا أَحْلماءَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کے کسی شخص کے یہاں ایک مہمان آیا میزبان کے گھر میں ایک بہت بھونکنے والی کتیا تھی وہ کتیا کہنے لگی کہ میں اپنے مالک کے مہمان کے سامنے نہیں بھونکوں گی اتنی دیر میں اس کے پیٹ میں موجود پلے نے بھونکنا شروع کسی نے کہا یہ کیا ؟ اس نے اللہ نے اس زمانے کے نبی پر وحی بھیجی کہ یہ تمہارے بعد آنے والی اس امت کی مثال ہے جس کے بیوقوف لوگ عقلمندوں پر غالب آجائیں گے۔
حدیث نمبر: 6589
(حديث موقوف) حَدَّثَنًَا حَدَّثَنًَا عبْد ُالصَّمَد ، ِحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَن ْعَطَاء ِبْن السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَامٌ عَلَيْكَ ! ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ سورة المجادلة آية 8 فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہودی آکر " سام علیک " کہتے تھے پھر اپنے دل میں کہتے تھے کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ ہمیں اس پر عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں تو اس انداز میں آپ کو سلام کرتے ہیں جس انداز میں اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 6590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ ، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَائِلُهَا ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ حَجَبْتَهُنَّ عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ رسالت میں آیا اور دعاء کر نے لگا کہ اے اللہ مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے اور اپنی رحمت میں ہمارے ساتھ کسی کو شریک نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ دعاء کون کر رہا ہے ؟ اس آدمی نے عرض کیا کہ میں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس دعاء کو بہت سے لوگوں سے پردے میں چھپالیا۔
حدیث نمبر: 6591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ النَّبِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْكُوبَةَ ، وَالْغُبَيْرَاءَ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا، باجا اور چینا، کی شراب کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حدیث نمبر: 6592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : أَرَادَ فُلَانٌ أَنْ يُدْعَى جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا ، أَوْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہدر حمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ایک نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ آئندہ اسے " جنادہ بن ابی امیہ کہہ کر پکارآ جائے (حالانکہ ابوامیہ اس کے باپ کا نام نہ تھا) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا : ” کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت سے آتی ہے۔ اور فرمایا : ” جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 6593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقُلْتُ : إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، وَإِنَّمَا نُبَايِعُ بِالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ إِلَى أَجَلٍ ، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، حَتَّى نَفِدَتْ ، وَبَقِيَ نَاسٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِ لَنَا إِبِلًا مِنْ بقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ ، حَتَّى نُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ " ، فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثِ قَلَائِصَ ، حَتَّى فَرَغْتُ ، فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن حریش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگ ایسے علاقے میں ہوتے ہیں جہاں دینار یا درہم نہیں چلتے ہم ایک وقت مقررہ تک کے لئے اونٹ اور بکر ی کے بدلے خریدو فروخت کر لیتے ہیں آپ کی اس بارے کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” تم نے ایک باخبر آدمی سے دریافت کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا اس امید پر کہ صدقہ کے اونٹ آجائیں گے اونٹ ختم ہو گئے اور کچھ لوگ باقی بچ گئے (جنہیں سواری نہ مل سکی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ہمارے لئے اس شرط پر اونٹ خرید کر لاؤ کہ صدقہ کے اونٹ پہنچنے پر وہ دے دیئے جائیں گے چنانچہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ خریدا بعض اوقات تین کے بدلے بھی خریدا یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی فرما دی۔
حدیث نمبر: 6594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ : مَوْتِ الْفَجْأَةِ ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ ، وَمِنْ السَّبُعِ ، وَمِنْ الْحَرَقِ ، وَمِنْ الْغَرَقِ ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ ، أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، وَمِنْ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات قسم کی موت سے پناہ مانگی ہے ناگہانی موت سے سانپ کے ڈسنے سے درندے کے کھاجانے سے جل کر مرنے سے ڈوب کر مرنے سے کسی چیز پر گر کر مرنے سے یا کسی چیز کے اس پر گرنے سے اور میدان جنگ سے بھاگتے وقت قتل ہونے سے۔
حدیث نمبر: 6595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ ایک مرتبہ سیدنا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے ہوئے تھے ان کے زوج محترم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے چونکہ وہ ان کی بیوی تھیں اس لئے انہیں اس پر ناگواری ہوئی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے خیر ہی دیکھی (کوئی برا منظر نہیں دیکھا لیکن پھر بھی اچھا نہیں لگا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے انہیں بچا لیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : ” آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور یا دو آدمی ہوں۔
حدیث نمبر: 6596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ، ثُمَّ يَذْبَحُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا میرے والد صاحب نے نماز عید سے قبل ہی اپنے جانور کی قربانی کر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے والد صاحب سے کہو کہ پہلے نماز پڑھیں پھر قربانی کر یں۔
…