حدیث نمبر: 6517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر دو رکعتیں پڑھائی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَأَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : " هَذَا شَرٌّ ، هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ " ، فَأَلْقَاهُ ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، فَسَكَتَ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اس نے وہ پھینک کر لوہے کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اس سے بھی بری ہے یہ تو اہل جہنم کا زیور ہے اس نے وہ پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا : ” ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ ، وَلَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ ، مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے روئے زمین پر اور آسمان کے سائے تلے ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن عمير
حدیث نمبر: 6520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي ، فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ : " لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ " ، فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا ، أَتَشَوَّفُ دَاخِلًا وَخَارِجًا ، حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ ، يَعْنِي الْحَكَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میرے والد سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے چلے گئے تھے تاکہ بعد میں مجھ سے مل جائیں اسی اثنا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تمہارے پاس ایک ملعون آدمی آئے گا واللہ مجھے تو مستقل دھڑکالگارہا اور میں اندرباہر برابر جھانک کر دیکھتا رہا (کہ کہیں میرے والد نہ ہوں) یہاں تک کہ حکم مسجد میں داخل ہوا (وہ مراد تھا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمْ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ إِنَّكَ أَنْتَ ظَالِمٌ ، فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہو گئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں بھی زمین میں دھنسائے جانے شکلیں مسخ کر دئیے جانے اور پتھروں کی بارش کا عذاب ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو الزبير لم يسمع من عبد الله بن عمرو، وقال رسول الله: «يكون فى امتي خسف و مسخ وقذف» ، حسن لغيره، و إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 2480، م: 141، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 6523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ : عَنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " ، فَبَدَأَ بِهِ ، " وَعَنْ مُعَاذٍ ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ " ، قَالَ يَعْلَى : وَنَسِيتُ الرَّابِعَ .
مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکر ہ کر نے لگے اور فرمایا : ” کہ کہ ایسا آدمی ہے جس میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو اور ان میں سب سے پہلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا پھر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کاراوی کہتے ہیں کہ چوتھا نام میں بھول گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3760، م: 2464
حدیث نمبر: 6524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رحم عرش کے ساتھ معلق ہے بدلہ دینے والا صلہ رحمی کر نے والے کے زمرے میں نہیں آتا اصل صلہ رحمی کر نے والا تو وہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس سے رشتہ توڑے تو وہ اس سے رشتہ جوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَهُ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ رَأَيْتُهُ تَيَمَّمَ ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا اسْتَبَانَتْ ، جَلَسَ تَحْتَهَا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ ، فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ ، أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَ : " هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِلَاهُمَا ، قَالَ : " فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَيْكَ " ، قَالَ : فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام " ناعم " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا جب ہم لوگ مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں تھے تو وہ قصداً وارادۃً کسی چیز پر غور سے نظریں جمائے رہے جب وہ چیز واضح ہو گئی جو کہ ایک درخت تھا " تو وہ اس کے نیچے آ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس جانب سے ایک آدمی آیا اور سلام کر کے کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں آپ کے ساتھ جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں اور میرا مقصد صرف اللہ کی رضاء حاصل کرنا اور آخرت کا ٹھکانہ حاصل کرنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں دونوں زندہ ہیں فرمایا : ” جاؤ اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو چنانچہ وہ جہاں سے آیا تھا وہیں چلا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 2549
حدیث نمبر: 6526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَن ؟ قَالَ : الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحیان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تھوڑی دیر بعد جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو وہ رو رہے تھے لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا : ” اس حدیث کی وجہ سے جو انہوں نے مجھ سے بیان کی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:1979، م: 1159
حدیث نمبر: 6528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 241
حدیث نمبر: 6529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْف ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، رَفَعَهُ سُفْيَانُ ، وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ ، قَالَ : " مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : " يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ ، فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 90
حدیث نمبر: 6530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی مالدار آدمی کے لئے یا کسی مضبوط اور طاقتور (ہٹے کٹے) آدمی کے لئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَتَخْرُجُ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى ، فَأَيُّهُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ ، وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " ، يقول " هِيَ الَّتِي أَوَّلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے قریب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اور دابۃ الارض کا خروج چاشت کے وقت ہو گا ان دونوں میں سے جو نشانی پہلے پوری ہو گئی دوسری بھی عنقریب پوری ہو جائے گی البتہ میرا خیال یہ ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی علامت قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2941
حدیث نمبر: 6532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ ، قَتِيلَ السَّوْطِ أَوْ الْعَصَا ، فِيهِ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خطاء کسی کوڑے یا لاٹھی سے مارے جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے نزدیک ایک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا ہے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹاحصہ پھر آرام کرتے تھے اسی طرح ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لَمْ يَفْقَهْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ مُعَصْفَرَةٌ ، فَقَالَ : " أَلْقِهَا فَإِنَّهَا ثِيَابُ الْكُفَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے میرے جسم پر دیکھے تو فرمایا : ” یہ کافروں کا لباس ہے اسے اتاردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2077
حدیث نمبر: 6537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی احسان جتانے والا اور کوئی عادی شرابی جنت میں داخل نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، علته جابان، فهو مجهول
حدیث نمبر: 6538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا بَالُكَ مَعَنَا ؟ ! قَالَ : إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ " ، فَأَنَا مَعَكُمْ ، وَلَسْتُ أُقَاتِلُ .
مولانا ظفر اقبال
حنظلہ بن خولید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعوی یہ تھا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : ” کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا ، فَقَالَ " تِلْكَ ضَرَاوَةُ السلام وَشِرَّتُهُ ، وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ وَسُنَّةٍ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي ، فَذَلِكَ الْهَالِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چند کا تذکر ہ کیا گیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہو گیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْصَبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ ، وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ ، فَذَلِكَ الْهَالِكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کا تذکر ہ کیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہو گیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ الشَّرْعَبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " ارْحَمُوا تُرْحَمُوا ، وَاغْفِرُوا يَغْفِرْ اللَّهُ لَكُمْ ، وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برسرمنبریہ بات ارشاد فرمائی تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا معاف کرو تمہیں معاف کر دیا جائے ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو صرف باتوں کا ہتھیار رکھتے ہیں ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے گناہوں پر جانتے بوجھتے اصرار کرتے اور ڈٹے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6542
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَعْلَمُ نَافِعٌ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ ، الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ ، كَمَا تَخَلَّلَ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کو وہ شخص انتہائی ناپسند ہے جو اپنی زبان کو اس طرح ہلاتارہتا ہے جیسے گائے جگالی کر تی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین حیات ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں فرمایا : ” جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2549
حدیث نمبر: 6545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ عَشَرَةٌ " ، قُلْتُ : زِدْنِي ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ تِسْعَةٌ " ، قُلْتُ : زِدْنِي ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةً وَلَكَ ثَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو دس کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں نو کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ " ، قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ " ، قَال : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي عَشْرَةَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کتنے دن میں ایک قرآن پڑھا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مہینے میں میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پچیس دن میں پڑھالیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیس دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پندرہ دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْمِزْرَ ، وَالْكُوبَةَ ، وَالْقِنِّينَ ، وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوَتْرِ " . قَالَ يَزِيدُ : الْقِنِّينُ : الْبَرَابِطُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ نے میری امت پر شراب جوا جو کی شراب شطرنج اور باجے حرام قرار دیئے ہیں اور مجھ میں پر نماز وتر کا اضافہ فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف فرج بن فضالة
حدیث نمبر: 6548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اجازت طلب کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اجازت طلب کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو میں نے عرض کیا کہ میں کہاں گیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے والد صاحب کے ساتھ ہو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3674، م: 2403 عن أبى موسي الأشعري
حدیث نمبر: 6549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ " ، قَالَ عَفَّانُ : عَقِبَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا أَوْ قَتَلَهُ فِي غَيْرِ شَيْءٍ " ، قَالَ عَمْرٌو : أَحْسِبُهُ قَالَ : " إِلَّا بِحَقِّهِ ، سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیام کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة صهيب مولي ابن عامر
حدیث نمبر: 6551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : " يَذْبَحُهُ ذَبْحًا ، وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! حق کیا ہے ؟ فرمایا : ” اسے ذبح کرے گردن سے نہ پکڑے کہ اسے توڑ ہی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة صهيب الحذاء
حدیث نمبر: 6552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ ، قَتِيلَ السَّوْطِ أَوْ الْعَصَا ، فِيهِ مِائَةٌ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خطاء کی کوڑے یا لاٹھی سے مارے جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَمْرُ إِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا ، فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا ، فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا ، فَاقْتُلُوهُمْ ، عِنْدَ الرَّابِعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی مرتبہ فرمایا : ” کہ اسے قتل کر دو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 6554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " أَمَرَ فَاطِمَةَ ، وَعَلِيًّا ، إِذَا أَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا ، فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّكْبِيرِ ، لَا يَدْرِي عَطَاءٌ أَيُّهَا أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَمَامُ الْمِائَةِ ، قَالَ : فَقَالَ عَلَي : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ بَعْدُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ قَالَ عَلِيٌّ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا تھا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹ جائیں تو سبحان للہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر سو مرتبہ کہہ لیا کرو (راوی یہ بھول گئے کہ ان میں سے کون ساکلمہ ٣٤ مرتبہ کہنا ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت سے یہ معمول اب تک کبھی ترک نہیں کیا ابن کوّاء نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں فرمایا : ” ہاں ! جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ شَيْئًا ، إِنَّمَا قُلْتُ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا ، كَانَ تَحْرِيقَ الْبَيْتِ ، قَالَ شُعْبَةُ : هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ، ثُمّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، فَيَلْبَث ُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ " لَا أَدْرِي ، أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ؟ " فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ، فَيَظْهَرُ ، فَيطلُبَه ، فَيُهْلِكُهُ ، ثُمَّ يَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سِنِينَ سَبْعًا ، لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ ، فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ ، وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا " ، قَالَ : " فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ ، فَيَقُولُ : أَلَا تَسْتَجِيبُونَ ؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لَهُ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ ، حَوْضَهُ فَيَصْعَقُ ، ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا صَعِقَ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ يُنْزِلُ اللَّهُ ، مطْرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ ، أَوْ الظِّلُّ ، نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ ، وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ : أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ ، قَالَ : فَيُقَالُ : كَمْ ؟ فَيُقَالُ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا ، وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ شُعْبَةُ مَرَّاتٍ ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
یعقوب بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت اس طرح قائم ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا : ” میرا دل چاہتا ہے کہ تم کچھ بیان نہ کیا کرو میں نے یہ کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد تم ایک بہت بڑا واقعہ بیت اللہ میں آگ لگنا دیکھو گے پھر فرمایا : ” کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں دجال کا خروج ہو گا جوان میں چالیس رہے گا (راوی کو دن، سال یا مہینے کا لفظ یاد نہیں رہا) پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجے گا جو سیدنا عمروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کے مشابہہ ہوں گے وہ اسے تلاش کر کے قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ کسی دو کے درمیان دشمنی نہ رہے گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی جانب سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا اور وہ ہوا ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا حتی کہ اگر ان میں سے کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں جا کر چھپ جائے تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد زمین پر بدترین لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں اور چوپاؤں سے بھی زیادہ ہوں گے جو نیکی کو نیکی اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھیں گے ان کے پاس شیطان انسانی صورت میں آئے گا اور انہیں کہے گا کہ میری دعوت کو کیوں قبول نہیں کرتے ؟ اور انہیں بتوں کی پوجا کر نے کا حکم دے گا چنانچہ وہ ان کی عبادت کر نے لگیں گے اس دوران ان کا رزق خوب بڑھ جائے گا اور ان کی زندگی بہترین گزر رہی ہو گی کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اس کی آواز جس کے کان میں بھی پہنچے گی وہ ایک طرف کو جھک جائے گا سب سے پہلے اس کی آوازوہ شخص سنے گا جو اپنے حوض کے کنارے صحیح کر رہا ہو گا اور بیہوش ہو کر گرپڑے گا پھر ہر شخص بیہوش ہو جائے گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلادھاربارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ آئیں گے پھر دوبارہ صور پھونک دیا جائے گا اور لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ اے لوگو ! اپنے رب کی طرف چلو اور وہاں پہنچ کر رک جاؤ تم سے باز پرس ہو گی پھر حکم ہو گا کہ جہنمی لشکر ان میں سے نکال لیا جائے پوچھا جائے گا کتنے لوگ ؟ حکم ہو گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے یہ وہ دن ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور جب پنڈلی کو کھولآ جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2940
حدیث نمبر: 6556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ الْهِزَّانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي ، فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي ، فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں سے جو شخص ریشم پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا ریشم حرام قرار دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح