حدیث نمبر: 7068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي ، فَاجْتَمَعَ وَرَاءَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُونَهُ ، حَتَّى إِذَا صَلَّى وَانْصَرَفَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا ، مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ ، وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ ، وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ آكُلُهَا ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا ، كَانُوا يُحْرِقُونَهَا ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا ، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ ، وَالْخَامِسَةُ ، هِيَ مَا هِيَ ، قِيلَ لِي سَلْ ، فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ ، فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَهِيَ لَكُمْ وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کے لئے بیدار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بہت سے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ حفاظت کے خیال سے جمع ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ” آج رات مجھے پانچ خوبیاں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں چنانچہ مجھے ساری انسانیت کی طرف عمومی طور پر پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے ایک مخصوص قوم کی طرف پیغمبر آیا کرتے تھے۔ دشمن پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر میرے اور دشمن کے درمیان ایک مہینے کی مسافت بھی ہو تو وہ رعب سے بھرپور ہوجاتا ہے میرے لئے مال غنیمت کو کلی طور پر حلال قرار دے دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے انبیاء کر ام (علیہم السلام) اسے کھانا بڑا گناہ سمجھتے تھے اس لئے وہ اسے جلادیتے تھے۔ پھر میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور باعث پاکیزگی بنادیا گیا ہے جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے میں زمین ہی پر تیمم کر کے نماز پڑھ لوں گا مجھ سے پہلے انبیاء کر ام (علیہم السلام) اسے بہت بڑی بات سمجھتے تھے اس لئے وہ صرف اپنے گرجوں اور معبدوں میں ہی نماز پڑھتے تھے اور پانچویں خوبی سب سے بڑی ہے اور وہ یہ کہ مجھ سے کہا گیا آپ مانگیں کیونکہ ہر نبی نے مانگا ہے لیکن میں نے اپنا سوال قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے جس کا فائدہ تمہیں اور لاالہ الا اللہ کی گواہی دینے والے ہر شخص کو ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَدَخَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس دروازے سے جو شخص سب سے پہلے داخل ہو گا وہ جنتی ہو گا چنانچہ وہاں سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد.
حدیث نمبر: 7070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ ، وَلَا حَسَدَ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیماری متعدی ہونے، بدشگونی، مردے کی کھوپڑی کے کیڑے اور حسد کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ نظر لگ جانا برحق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله : «ولاحسد» ، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد.
حدیث نمبر: 7071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْيِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، أَسْمَعُ صَلَاصِلَ ، ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَفِيضُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! ! کیا آپ کو وحی کا احساس ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! مجھے گھنٹیوں کی آواز محسوس ہوتی ہے اس وقت میں خاموش ہوجاتا ہوں اور جتنی مرتبہ بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ہر مرتبہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب میری روح نکل جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وعمرو بن الوليد مجهول. قوله : «أسمع صلاصل» له أصل فى الصحيح، خ:2 ، م:2333.
حدیث نمبر: 7072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " يَأْتِي اللَّهَ قَوْمٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نُورُهُمْ كَنُورِ الشَّمْسِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ وَلَكِنَّهُمْ الْفُقَرَاءُ وَالْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " ، فَقِيلَ : مَنْ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَاسٌ صَالِحُونَ فِي نَاسِ سَوْءٍ كَثِيرٍ ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! کیا وہ ہم لوگ ہوں گے ؟ فرمایا : ” نہیں تمہارے لئے خیر کثیر ہے لیکن یہ وہ فقراء مہاجرین ہوں گے جنہیں زمین کے کونے کونے سے جمع کر لیا جائے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : ” کہ خوشخبری ہے غرباء کے لئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برے لوگوں کے جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ، جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو بقسميه مكرر: 6650.
حدیث نمبر: 7073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور بڑوں کا حق نہ پہچانے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : عَبْد اللَّهِ هو عبد الله بن احمد ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ إِذْ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا ، أَوْ يَتَجَرْجَرُ فِيهَا ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی اپنے حلہ میں متکبرانہ چال چلتا جا رہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا اس نے اسے پکڑ لیا اور اب وہ قیامت تک اس میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن فضيل سمع من عطاء بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 7075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَنْزِعُ فِي حَوْضِي ، حَتَّى إِذَا مَلَأْتُهُ لِأَهْلِي ، وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِيرُ لِغَيْرِي فَسَقَيْتُهُ ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں اپنے حوض میں پانی لا کر بھرتا ہوں جب اپنے گھروالوں کے لئے بھر لیتا ہوں تو کسی دوسرے آدمی کا اونٹ میرے پاس آتا ہے میں اسے پانی پلا دیتا ہوں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر حرارت والے جگہ میں اجر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے اسے نیا وضو کر لینا چاہئے اور جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ بھی نیا وضو کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفّ?انُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ، وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ ، مَا لَمْ تَحْضُرْ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَأَمْسِكْ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوْ مَعَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر کا وقت زوال شمس کے وقت ہوتا ہے جب کہ ہر آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہو اور یہ اس وقت تک رہتا ہے جس تک عصر کا وقت نہ ہو جائے عصر کا وقت سورج کے پیلا ہونے سے پہلے تک ہے مغرب کا وقت غروب شفق سے پہلے تک ہے عشاء کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے فجر کا وقت طلوع فجر سے لے کر اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 612.
حدیث نمبر: 7078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ الدَّيْلِيِّ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ ، مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے روئے زمین پر اور آسمان کے سائے تلے ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره.
حدیث نمبر: 7079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهِنَّ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْعَشْرِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا الْجِهَادُ ؟ قَالَ : فَأَكْبَرَهُ ، قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ ، إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ رَجُلٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَكُونَ مُهْجَةُ نَفْسِهِ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اعمال کا تذکر ہ ہونے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دس ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ پسند نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں فرمایا : ” ہاں ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا (راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " سے مرادعشرہ ذی الحجہ ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 7080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَسَفَتْ الشَّمْسُ ، " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ قِيَامِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ رُكُوعِهِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَذَلِكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سورج کو گہن لگ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور طویل قیام کیا پھر قیام کے برابر رکوع کیا تو پھر رکوع کے برابر سجدہ کیا اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 7081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ أَوْ مَا رَكِبْتُ إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا ، أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً ، أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں نے زہر کو دور کر نے کا تریاق پی رکھا ہو یا گلے میں تعویذ لٹکا رکھا ہو یا ازخود کوئی شعر کہا ہو تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن رافع التنوخي، قال البخاري: فى حديثه مناكير.
حدیث نمبر: 7082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ ، فَقَالَ لَهَا : " يا فاطمة ، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ ؟ " قَالَتْ : أَقْبَلْتُ مِنْ وَرَاءِ جَنَازَةِ هَذَا الرَّجُلِ ، قَالَ : " فَهَلْ بَلَغْتِ مَعَهُمْ الْكُدَى ؟ " قَالَتْ : لَا ، وَكَيْفَ أَبْلُغُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمْ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ ، حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک خاتون پر پڑی ہم نہیں سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا جب ہم راستے کی طرف متوجہ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ٹھہر گئے جب وہ خاتون وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا فاطمہ ! تم اپنے گھر سے کسی کام سے نکلی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس گھر میں رہنے والوں کے پاس آئی تھی یہاں ایک فوتگی ہو گئی تھی تو میں نے سوچا کہ ان سے تعزیت اور مرنے والے کی دعاء رحمت کر آؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ پھر تم ان کے ساتھ قبر ستان بھی گئی ہو گی ؟ انہوں نے عرض کیا معاذاللہ کہ میں ان کے ساتھ قبرستان جاؤں جبکہ میں نے اس کے متعلق آپ سے جو سن رکھا ہے وہ مجھے یاد بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان کے ساتھ چلی جاتیں تو تم جنت کو دیکھ بھی نہ پاتیں یہاں تک کہ تمہارے باپ کا دادا اسے دیکھ لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ربيعة بن سبف المعافري.
حدیث نمبر: 7083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ هِلَالٍ الصَّدَفِيَّ ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولَانِ : سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى السُّرُوجِ ، كَأَشْبَاهِ الرّحالِ يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ ، عَلَى رُءُوسِهِمْ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ ، الْعَنُوهُنَّ ، فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ ، لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمْنَ نِسَاؤُكُمْ نِسَاءَهُمْ ، كَمَا يَخْدِمْنَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے آخر میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو مردوں سے مشابہ زینوں پر سوار ہو کر آیاکر یں گے اور مسجدوں کے دروازوں پر اترا کر یں گے ان کی عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی طرح جھولیں ہوں گی تم ان پر لعنت بھیجنا کیونکہ ایسی عورتیں ملعون ہیں اگر تمہارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمہاری عورتیں ان کی عورتوں کی اسی طرح خدمت کر تیں جیسے تم سے پہلے عورتیں تمہاری خدمت کر رہی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبد الله بن عياش بن عباس القتباني ضعيف.
حدیث نمبر: 7084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَلَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا ظلماً مارآ جائے اس کے لئے جنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2480.
حدیث نمبر: 7085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ ، وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے عمل کے ذریعے لوگوں میں شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:6484.
حدیث نمبر: 7087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْمَ ، فَقَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَلَكَ أَجْرُ التِّسْعَةِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَصُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَلَكَ أَجْرُ الثَّمَانِيَةِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى قَالَ : " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا : ” روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا ہے اس لئے ایک دن ورزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الإسناد فيه جهالة ابن أبى ربيعة، لكنه يستقيم دونه، وهو صحيح بغير هذه السياقة.
حدیث نمبر: 7088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ ، مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ ، وَمَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قتل شبہ عمد کی دیت مغلظ ہے جیسے قتل عمد کی دیت ہوتی ہے البتہ شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا اور جو ہم پر اسلحہ اٹھاتا ہے یا راستہ میں گھات لگاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7089
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِأَهْلِ عَرَفَةَ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي ، أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ عرفہ کی شام اہل عرفہ کے ذریعے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پرا گندہ حال اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده لابأس به.
حدیث نمبر: 7090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ خَطَأً ، فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، ثَلَاثُونَ ابْنَةَ مَخَاضٍ ، وَثَلَاثُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً ، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكْرَانٍ " ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ ، فَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا ، وَإِذَا غَلَتْ ، رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا ، عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَتْ ، فَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ ، أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ ، ثَمَانِيَةَ آلَافٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خطاء قتل ہونے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں ٣٠ بنت مخاض ٣٠ بنت لبون ٣٠ حقے اور دس ابن لبون مذکر اونٹ شامل ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہروالوں پر اس کی قیمت چار سو دیناریا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور قیمت کا تعین اونٹوں کی قیمت کے اعتبار سے کرتے تھے جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو دیت کی مقدار مذکور میں اضافہ فرما دیتے اور جب کم ہوجاتی تو اس میں بھی کمی فرما دیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینارتک بھی پہنچی ہے اور اس کے برابر چاندی کی قیمت آٹھ ہزار درہم تک پہنچی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَضَى أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ ، عَلَى فَرَائِضِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ دیت کا مال مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ الدِّيَةَ كَامِلَةً ، وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ نِصْفَ الدِّيَةِ ، وَفِي الْعَيْنِ نِصْفَ الدِّيَةِ ، وَفِي الْيَدِ نِصْفَ الدِّيَةِ ، وَفِي الرِّجْلِ نِصْفَ الدِّيَةِ ، وَقَضَى أَنْ يَعْقِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا ، وَلَا يَرِثُوا مِنْهَا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا ، وَإِنْ قُتِلَتْ ، فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا ، وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا ، وَقَضَى أَنَّ عَقْلَ أهل الكتاب نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا : ” کہ اگر اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو پوری دیت واجب ہو گی اور اگر صرف نرم حصہ کاٹا ہو تو نصف دیت واجب ہو گی ایک آنکھ کی دیت نصف قرار دی ہے یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا چاندی یا سو گائے یا ہزاربکر یاں، نیز ایک پاؤں کی دیت بھی نصف اور ایک ہاتھ کی دیت بھی نصف قرار دی ہے۔ اور یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ عورت کی جانب سے اس کے عصبہ دیت ادا کر یں گے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور وہ چیز کے وراث ہوں گے جو اس کی وراثت میں سے باقی بچے گی اور اگر کسی نے عورت کو قتل کر دیا ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم کی جائے گی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کر سکیں گے نیز یہ فیصلہ بھی فرمایا : ” کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ ، إِلَّا رَأَوْهُ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کر یں قیامت کے دن وہ اس پر حسرت و افسوس کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن على خطأ فى تسمية صحابيه.
حدیث نمبر: 7094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجُلِ يَدْخُلُ الْحَائِطَ ؟ قَالَ : " يَأْكُلُ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص کسی باغ میں داخل ہو کر خوشوں سے توڑ کر پھل چوری کر لے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جو پھل کھا لئے اور انہیں چھپا کر نہیں رکھا ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حَنَانُ بْنُ خَارِجَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَوِيٌّ جَرِيءٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْهِجْرَةِ ، إِلَيْكَ أَيْنَمَا كُنْتَ ، أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً ، أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ ، أَمْ إِذَا مُتَّ انْقَطَعَتْ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُ يَسِيرًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " قَالَ : هَا هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، ثُمَّ أَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضَرِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْتِدَاءً مِنْ نَفْسِهِ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، خَلْقًا تُخْلَقُ ، أَمْ نَسْجًا تُنْسَجُ ؟ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا ؟ ! " ، ثُمَّ أَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " قَالَ : هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا ، بَلْ تَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں ایک سخت طبیعت کا جری دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! آپ کی ہجرت کہاں کی جائے ؟ آیا جہاں کہیں بھی آپ ہوں یا کسی معین علاقے کی طرف ؟ یا یہ حکم ایک خاص قوم کے لئے ہے یا یہ کہ آپ کے وصال کے بعد ہجرت منقطع ہو جائے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیرتک سکوت فرمایا : ” پھر پوچھا کہ ہجرت کے متعلق سوال کر نے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ! میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو تو تم مہاجر ہو خواہ تمہاری موت حضرمہ جو یمامہ کا ایک علاقہ ہے ہی میں آئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے خود ابتداء کرتے ہوئے فرمایا : ” کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! یہ بتائیے کہ جنتیوں کے کپڑے بنے جائیں گے یا جنت کا پھل چیر کر نکالے جائیں گے ؟ لوگوں کو اس دیہاتی کے سوال پر تعجب ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے ایک ناواقف آدمی ایک عالم سے سوال کر رہا ہے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا : ” اہل جت کے کپڑوں کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : ” کہ اہل جنت کے کپڑے جنت کے پھل سے چیر کر نکالے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، حنان بن خارجة مجهول الحال.
حدیث نمبر: 7096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ ، فَهُوَ حُرٌّ ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " ، قَالَ : فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ خُصِيَ ، يُقَالُ لَهُ : سَنْدَرٌ ، فَأَعْتَقَهُ ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ ، فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا ، ثُمَّ إِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى مِصْرَ ، فَكَتَبَ لَهُ عُمَرُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنْ اصْنَعْ بِهِ خَيْرًا ، أَوْ احْفَظْ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کا مثلہ کیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے وہ آزاد ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کر دہ ہے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سندر نامی ایک آدمی کو لایا گیا جسے خصی کر دیا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا انہوں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ پھر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا ذکر کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا فرمایا : ” ہاں ! تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟ اس نے مصر جانا چاہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گورنر سیدنا عمرو بن عاص کے نام اس مضمون کا خط لکھ دیا کہ اس کے ساتھ اچھاسلوک کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت یاد رکھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج.
حدیث نمبر: 7097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ ، قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ایک آدمی غائب رہتا ہے وہ پانی استعمال کر نے پر بھی قدرت نہیں رکھتا کیا وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحجاج.
حدیث نمبر: 7098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا : ” روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے اس لئے ایک دن رزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159.
حدیث نمبر: 7099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : أُمُّ مَهْزُولٍ ، كَانَتْ تُسَافِحُ ، وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ ، وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا ، فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3 قَالَ أُنْزِلَتْ وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3 ، قَالَ أبو عَبْدُ الرَّحَمنِ هو عُبْدُ اللهَ بن احمد : قَالَ أَبِي : قَالَ عَارِمٌ : سَأَلْتُ مُعْتَمِرًا عَنِ الْحَضْرَمِيِّ ؟ فَقَالَ : كَانَ قَاصًّا ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ " ام مہزول " نامی ا کی عورت تھی جو بدکاری کر تی تھی اور بدکاری کر نے والے سے اپنے نفقہ کی شرط کروا لیتی تھی ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے قریب ہونے کی اجازت لینے کے لئے آیا یا یہ کہ اس نے اس کا تذکر ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ زانیہ عورت سے وہی نکاح کرتا ہے جو خودز انی ہو یا مشرک ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحضرمي.
حدیث نمبر: 7100
حَدَّثَنَا قال أبو عبد الرحمان هو عَبْد اللَّهِ بن أحمد ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ الصَّقْعَبَ بْنَ زُهَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ ، مَكْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ ، أَوْ مَزْرُورَةٌ بِدِيبَاجٍ ، فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ ، وَيَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ! فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا ، فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ ، فَاجْتَذَبَهُ ، وَقَالَ : " لَا أَرَى عَلَيْكَ ثِيَابَ مَنْ لَا يَعْقِلُ " ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ ، فَقَالَ : " إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، دَعَا ابْنَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ ، آمُرُكُمَا بِاثْنَتَيْنِ ، وَأَنْهَاكُمَا عَنِ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا : عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ ، وَآمُرُكُمَا : بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ ، وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى ، كَانَتْ أَرْجَحَ ، وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً ، فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهَا لَفَصَمَتْهَا أَوْ لَقَصَمَتْهَا ، وَآمُرُكُمَا بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ ، وَبِهَا يُرْزَقُ كُلُّ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آدمی آیا جس نے بڑا قیمتی جبہ جس پر دیباج و ریشم کے بٹن لگے ہوئے تھے پہنا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اس ساتھی نے تو مکمل طور پر فارس ابن فارس (نسلی فارسی آدمی) کی وضع اختیار کر رکھی ہے ایسالگتا ہے کہ جسے اس کے یہاں فارسی نسل کے ہی بچے پیدا ہوں گے اور چرواہوں کی نسل ختم ہو جائے گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبے کو مختلف حصوں سے پکڑ کر جمع کیا اور فرمایا : ” کہ میں تمہارے جسم پر بیوقوفوں کالباس نہیں دیکھ رہا ؟ پھر فرمایا : ” اللہ کے نبی سیدنا نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا : ” کہ میں تمہیں ایک وصیت کر رہاہوں جس میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں حکم تو اس بات کا دیتاہوں کہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرتے رہنا کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھآ جائے اور لاالہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں تو لاالہ الا اللہ والا پلڑا جھک جائے گا اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایک مبہم حلقہ ہوتیں تو لاالہ الا اللہ انہیں خاموش کر ا دیتا اور دوسرا یہ کہ و سبحان اللہ وبحمدہ کا ورد کرتے رہنا کہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اس کے ذریعے مخلوق کو رزق ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ وَالْخَائِنَةِ ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ ، وَأَجَازَهَا عَلَى غَيْرِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی خائن مرد و عورت کی گواہی اور کسی ناتجربہ کار آدمی کی اپنے بھائی کے متعلق گواہی مقبول نہیں نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوکر کی گواہی اس کے مالکان کے حق میں قبول نہیں فرمائی البتہ دوسرے لوگوں کے حق میں قبول فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَخَلَّفَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا ، قَالَ : وَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلَاةُ ، صَلَاةُ الْعَصْرِ ، وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں پیچھے رہ گئے اور ہمارے قریب اس وقت پہنچے جبکہ نماز عصر کا وقت بالکل قریب آگیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے ہم اپنے اپنے پاؤں پر مسح کر نے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند دو تین مرتبہ فرمایا : ” ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 60، م: 241.
حدیث نمبر: 7103M
مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7103M