حدیث نمبر: 7029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ أَبَوَيْهِ ؟ قَالَ : " يَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ الرَّجُلُ أُمَّهُ ، فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے۔
حدیث نمبر: 7030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُطَّلِبِ الْمَخْزُومِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بن عمر بن عبد العزيز ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7031
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَطَفِقَ يَسْأَلُونَهُ ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، وَطَفِقَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ؟ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْحَرْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْإِنْسَانُ أَوْ يَجْهَلُ ، مِنْ تَقْدِيمِ الْأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ ، وَأَشْبَاهِهَا ، إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْهُ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروا لیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب میں یہی فرمایا : ” اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 7033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ يُدْفَعُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً ، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً ، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً ، فَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ ، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ شَدِيدُ الْعَقْلِ " . وَعَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ ، وَذَلِكَ أَنْ يَنْزِغَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَتَكُونَ دِمَاءٌ فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ " . فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَعْنِي : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ ، فَمَنْ قُتِلَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ شِبْهُ الْعَمْدِ ، وَعَقْلُهُ مُغَلَّظَةٌ ، وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ ، وَهُوَ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَلِلْحُرْمَةِ وَلِلْجَارِ " . وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، ثَلَاثُونَ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، وَثَلَاثُونَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةٌ ، وَعَشْرُ بَكَارَةٍ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ " . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ ، أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ ، وَكَانَ يُقِيمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا ، وَإِذَا هَانَتْ ، نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا ، عَلَى عَهْدِ الزَّمَانِ مَا كَانَ ، فَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ وَعِدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ " . وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ ، فِي الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ ، وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ ، فَأَلْفَيْ شَاةٍ ، وَقَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ ، بِالْعَقْلِ كَامِلًا ، وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ ، فَنِصْفُ الْعَقْلِ " . وَقَضَى فِي الْعَيْنِ نِصْفَ الْعَقْلِ ، خَمْسِينَ مِنَ الْإِبِلِ ، أَوْ عِدْلَهَا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا ، أَوْ مِائَةَ بَقَرَةٍ ، أَوْ أَلْفَ شَاةٍ " . وَالرِّجْلُ نِصْفُ الْعَقْلِ ، وَالْيَدُ نِصْفُ الْعَقْلِ " . وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ الْعَقْلِ ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ، أَوْ الْوَرِقِ ، أَوْ الْبَقَرِ ، أَوْ الشَّاءِ ، وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ الْعَقْلِ ، وَالْمُنَقِّلَةُ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْمُوضِحَةُ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْأَسْنَانُ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کر دے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا وہ چاہیں تو اسے قصاصاً قتل کر دیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو کہ ٣٠ حقے، ٣٠ جذعے اور ٤٠ حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہو گی یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر ان سے صلح ہو جائے وہ اس کے حقدار ہوں گے اور یہ سخت دیت ہے۔ قتل شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح ملغظ ہی ہے لیکن اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا اس کی صورت یوں ہوتی ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتا ہے اور بغیر کسی کہنے کے یا اسلحہ کے خونریزی ہوجاتی ہے۔ اس کی علاوہ جس صورت میں بھی قتل ہو گا وہ شبہ عمد ہو گا اس کی دیت مغلظ ہو گی اور قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا یہ اشہر حرم میں حرمت کی وجہ سے اور پڑوس کی وجہ سے ہو گا۔ خطاء قتل ہونے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں ٣٠ بنت مخاض ٣٠ بنت لبون ٣٠ حقے اور دس ابن لبون مذکر اونٹ شامل ہوں گے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر والوں پر اس کی قیمت چار سو دینار یا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور قیمت کا تعین اونٹوں کی قیمت کے اعتبار سے کرتے تھے جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو دیت کی مقدار مذکور میں اضافہ فرما دیتے اور جب کم ہوجاتی تو اس میں بھی کمی فرمادیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینارتک بھی پہنچی ہے اور اس کے برابر چاندی کی قیمت آٹھ ہزار درہم تک پہنچی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا : ” کہ جس کی دیت گائے والوں پر واجب ہوتی ہو تو وہ دو سو گائے دے دیں اور جس کی بکر ی والوں پر واجب ہوتی ہو وہ دوہزار بکر یاں دے دیں ناک کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا : ” کہ اگر اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو پوری دیت واجب ہو گی اور اگر صرف نرم حصہ کاٹا ہو تو نصف دیت واجب ہو گی ایک آنکھ کی دیت نصف قرار دی ہے یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا چاندی یا سو گائے یا ہزار بکر یاں، نیز ایک پاؤں کی دیت بھی نصف اور ایک ہاتھ کی دیت بھی نصف قرار دی ہے۔ دماغی زخم کی دیت تہائی مقرر فرمائی ہے یعنی ٣٣ اونٹ یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، یا گائے بکر ی گہرے زخم کی دیت بھی تہائی مقرر فرمائی ہے ہڈی اپنی جگہ سے ہلا دینے کی دیت ١٥ اونٹ مقرر فرمائی ہے اور کھال چیر کر گوشت نظر آنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی ہے اور ہر دانٹ کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی ہے۔ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کی ٹانگ پر سینگ دے مارا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے قصاص دلوایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا : ” کہ جلدی بازی سے کام نہ لو پہلے اپنازخم ٹھیک ہونے دو وہ فوری طور پر قصاص لینے کے لئے اصرار کر نے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلوا دیا بعد میں قصاص لینے والا لنگڑا اور جس سے قصاص لیا گیا وہ ٹھیک ہو گیا۔ چنانچہ وہ قصاص لینے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں لنگڑا ہو گیا اور وہ صحیح ہو گیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس بات کا حکم نہ دیا تھا کہ جب تک تمہارا زخم ٹھیک نہ ہو جائے تم قصاص نہ لو لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اس لئے اللہ نے تمہیں دور کر دیا اور تمہارا زخم خراب کر دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمادیا کہ جسے کوئی زخم لگے وہ اپنازخم ٹھیک ہونے سے پہلے قصاص کا مطالبہ نہ کرے ہاں جب تک زخم ٹھیک ہو جائے پھر قصاص کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 7034
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَذَكَرَ قَالَ : وَذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِدْنِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَعْجَلْ ، حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ " ، قَالَ : فَأَبَى الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْتَقِيدَ ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ، قَالَ : فَعَرِجَ الْمُسْتَقِيدُ ، وَبَرَأَ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ ، فَأَتَى الْمُسْتَقِيدُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَرِجْتُ ، وَبَرَأَ صَاحِبِي ؟ ! فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ آمُرْكَ أَلَّا تَسْتَقِيدَ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ ؟ فَعَصَيْتَنِي ! فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ ، وَبَطَلَ جُرْحُكَ " ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرَّجُلِ الَّذِي عَرِجَ " مَنْ كَانَ بِهِ جُرْحٌ ، أَنْ لَا يَسْتَقِيدَ حَتَّى تَبْرَأَ جِرَاحَتُهُ ، فَإِذَا بَرِئَتْ جِرَاحَتُهُ اسْتَقَادَ " .
حدیث نمبر: 7035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ يَعْنِي أَبَاهُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَجْلِسٍ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا ، قَالَ : قُلْنَا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں تین مرتبہ فرمایا : ” کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ میری نگاہوں میں محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا ہو گا ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں
حدیث نمبر: 7036
(حديث مرفوع) قَالَ يَعْقُوبُ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا أَكْثَرَ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ ؟ قَالَ : حَضَرْتُهُمْ وَقَدْ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ ، سَفَّهَ أَحْلَامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا ، وَعَابَ دِينَنَا ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَسَبَّ آلِهَتَنَا ، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ ، أَوْ كَمَا قَالُوا ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي ، حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ ، قَالَ : فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ الثَّانِيَةَ ، غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ الثَّالِثَةَ ، فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، فَقَالَ : " تَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ " ، فَأَخَذَتْ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا كَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ ، حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنِ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ : انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، انْصَرِفْ رَاشِدًا ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا ، قَالَ : فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ ، اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ ، حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ ! فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَأَحَاطُوا بِهِ ، يَقُولُونَ لَهُ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ؟ لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ ، قَالَ : فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ ، قَالَ : وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي : أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ سورة غافر آية 28 ؟ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیررحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے کسی ایسے سخت واقعے کے متعلق بتایئے جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روا رکھا ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن اشراف قریش حطیم میں جمع تھے میں بھی وہاں موجود تھا وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکر ہ کر نے لگے اور کہنے لگے کہ ہم نے جیساصبر اس آدمی پر کیا ہے کسی اور پر کبھی نہیں کیا اس نے ہمارے عقلمندوں کو بیوقوف کہا، ہمارے آباؤ اجداد کو برا بھلا کہا ہمارے دین میں عیوب نکالے ہماری جماعت کو منتشر کیا اور ہمارے معبودوں کو برابھلا کہا ہم ان کے معاملے میں بہت صبر کر لیا اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آگے بڑھے اور حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے اس دوران وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں میں عیب نکالتے ہوئے ایک دوسرے کو اشارے کر نے لگے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک پر اس کے اثرات محسوس ہوئے تین چکروں میں اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے گروہ قریش تم سنتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں تمہارے پاس قربانی لے کر آیا ہوں لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جملے پر بڑی شرم آئی اور ان میں سے ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جس کے سر پر پرندے نہ بیٹھے ہوئے محسوس نہ ہوئے ہوں حتیٰ کہ اس سے پہلے جو آدمی انتہائی سخت تھا وہ اب اچھی بات کہنے لگا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم آپ خیر و عافیت کے ساتھ تشریف لے جایئے واللہ آپ نا و قف نہیں ہیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے۔ اگلے دن وہ لوگ پھر حطیم میں جمع ہوئے میں بھی ان کے ساتھ تھا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ پہلے تو تم نے ان سے پہنچنے والی صبر آزما باتوں کا تذکر ہ کیا اور جب وہ تمہارے سامنے ظاہر ہوئے جو تمہیں پسند نہ تھا تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے وہ سب اکٹھے کودے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے کر کہنے لگے کیا تم ہی اس اس طرح کہتے ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! میں ہی اس طرح کہتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو گردن سے پکڑ لیا (اور گھونٹنا شروع کر دیا) یہ دیکھ کر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لئے کھڑے ہوئے وہ روتے ہوئے کہتے جا رہے تھے کیا تم ایک آدمی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اس پر وہ لوگ واپس چلے گئے یہ سب سے سخت دن تھا جس میں قریش کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی سخت اذیت پہنچی تھی۔
حدیث نمبر: 7037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ وَفْدَ هَوَازِنَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ ، وَقَدْ أَسْلَمُوا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ ، فَامْنُنْ عَلَيْنَا ، مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَبْنَاؤُكُمْ وَنِسَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ ، أَمْ أَمْوَالُكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا ، بَلْ تُرَدُّ عَلَيْنَا نِسَاؤُنَا وَأَبْنَاؤُنَا ، فَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا ، فَقَالَ لَهُمْ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ، فَإِذَا صَلَّيْتُ لِلنَّاسِ الظُّهْرَ ، فَقُومُوا ، فَقُولُوا : إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا ، فَسَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ " ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا ، فَتَكَلَّمُوا بِالَّذِي أَمَرَهُمْ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي ولِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " ، قَالَ الْمُهَاجِرُونَ : وَمَا كَانَ لَنَا ، فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا ! وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ ، فَلَا ! قَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا ! قَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ : لَا ، مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ عَبَّاسٌ : يَا بَنِي سُلَيْمٍ ، وَهَّنْتُمُونِي ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مَنْ تَمَسَّكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ مِنْ هَذَا السَّبْيِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتُّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ نُصِيبُهُ ، فَرَدُّوا عَلَى النَّاسِ أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر جب بنوہوازن کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں بھی وہاں موجود تھا وفد کے لوگ کہنے لگے اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اصل میں نسل اور خاندانی لوگ ہیں آپ ہم پر مہربانی کیجئے اللہ آپ پر مہربانی کرے گا اور ہم پر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی عورتوں اور بچوں اور مال میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو وہ کہنے لگے کہ آپ نے ہمیں ہمارے حسب اور مال کے بارے میں اختیار دیا ہے ہم اپنی اولاد کو مال پر ترجیح دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرے لئے اور بنو عبدالمطلب کے لئے ہو گا وہی تمہارے لئے ہو گا جب میں ظہر کی نماز پڑھ چکوں تو اس وقت اٹھ کر تم لوگ یوں کہنا کہ ہم اپنی عورتوں اور بچوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے سامنے اور مسلمانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سفارش کی درخواست کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میرے لئے اور بنوعبدالمطلب کے لئے ہے وہی تمہارے لئے ہے، مہاجرین کہنے لگے کہ جو ہمارے لئے ہے وہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے انصارنے بھی یہی کہا عیینہ بن بدر کہنے لگا کہ جو میرے لئے اور بنوفزارہ کے لئے ہے وہ نہیں، اقرع بن حابس نے کہا کہ میں اور بنوتمیم بھی اس میں شامل نہیں عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنوسلیم بھی اس میں شامل نہیں ان دونوں قبیلوں کے لوگ بولے تم غلط کہتے ہو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! انہیں ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دو جو شخص مال غنیمت کی کوئی چیز اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو ہمارے پاس سے پہلا جو مال غنیمت آئے گا اس میں سے اس کے چھ حصے ہمارے ذمے ہیں۔
حدیث نمبر: 7038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ ، حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَلِّمُهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الْخُوَيْصِرَةِ ، فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ رَأَيْتَ مَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْيَوْمِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ ، فَكَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " ، قَالَ : لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ ! قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ الْعَدْلُ عِنْدِي فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، دَعُوهُ ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهُ شِيعَةٌ يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ ، حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ ، كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يُنْظَرُ فِي النَّصْلِ ، فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ فِي الْقِدْحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ، ثُمَّ فِي الْفُوقِ ، فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ، سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدُ اللهَ بن احمد : أَبُو عُبَيْدَةَ هَذَا اسْمُهُ مُحَمَّدٌ ، ثِقَةٌ وَأَخُوهُ سَلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَهُ ، وَمِقْسَمٌ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى ، وَطُرُقٌ أُخَرُ فِي هَذَا الْمَعْنَى صِحَاحٌ ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
مقسم کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ تلید بن کلاب لیثی کے ساتھ نکلاہم لوگ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہ اس وقت ہاتھوں میں جوتے لٹکائے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ہم نے ان سے پوچھا کہ غزوہ حنین کے موقع پر جس وقت بنوتمیم کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تھی کیا آپ وہاں موجود تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ” ہاں بنوتمیم کا ایک آدمی جسے ذوالخولصیرہ کہا جاتا ہے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے وہ کہنے لگا کہ اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم آج میں نے آپ کو مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا تمہیں کیسا لگا ؟ اس نے کہا کہ میں نے آپ کو عدل سے کام لیتے ہوئے نہیں دیکھا یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا : ” تجھ پر افسوس ! اگر میرے پاس ہی عدل نہ ہو گا تو اور کس کے پاس ہو گا ؟ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اسے چھوڑ دو عنقریب اس کے گروہ کے کچھ لوگ ہوں گے جو تعمق فی الدین کی راہ اختیار کر یں گے، وہ لوگ دین سے سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے تیر کے پھل کو دیکھا جائے تو اس پر کچھ نظر نہ آئے دستے پر دیکھآ جائے تو وہاں کچھ نظر نہ آئے اور سوار پر دیکھا جائے تو وہاں کچھ نظر نہ آئے بلکہ وہ تیر لید اور خون پر سبقت لے جائے۔
حدیث نمبر: 7039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنْ رُكُوبِهَا ، وَأَكْلِ لُحُومِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت اور گند کھانے والے جانور سے منع فرمایا : ” ہے اس پر سوار ہونے سے بھی اور اس کا گوشت کھانے سے بھی۔
حدیث نمبر: 7040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ ، فَإِنْ يُقْطَعْ السِّلْكُ يَتْبَعْ بَعْضُهَا بَعْضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” علامات قیامت لڑی کے دانوں کی طرح جڑی ہوئی ہیں جوں ہی لڑی ٹوٹے گی تو ایک کے بعد دوسری علامت قیامت آ جائے گی۔
حدیث نمبر: 7041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ ، يَقُولُ : " ارْحَمُوا تُرْحَمُوا ، وَاغْفِرُوا يَغْفِرْ اللَّهُ لَكُمْ ، وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بر سر منبریہ بات ارشاد فرمائی تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا معاف کرو اللہ تمہیں معاف کر دے گا ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو صرف باتوں کا ہتھیار رکھتے ہیں ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے گناہوں پر جانتے بوجھتے اصرار کرتے اور ڈٹے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى ، أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ يُسْتَلْحَقُ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ، ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، " فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ ، وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَلَهُ نَصِيبُهُ ، وَلَا يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا ، أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ ، بِهَا فَإِنَّهُ لَا يُلْحَقُ وَلَا يَرِثُ ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ ، وَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ ، مَنْ كَانُوا ، حُرَّةً أَوْ أَمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو بچہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے نسب میں شامل کیا جائے جس کا دعویٰ مرحوم کے ورثاء نے کیا ہو اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” کہ اگر وہ آزاد عورت سے ہو جس سے مرنے والے نے نکاح کیا ہو یا اس کی مملوکہ باندی سے ہو تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت ہو جائے گا اور اگر وہ کسی آزاد عورت یا باندی سے گناہ کا نتیجہ ہم تو اس کا نسب مرنے والے سے ثابت نہ ہو گا اگرچہ خود اس کا باپ ہی اس کا دعویٰ کرے وہ زنا کی پیداوار اور اپنی ماں کا بیٹا ہے اور اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ کوئی بھی لوگ ہوں آزاد ہوں یا غلام۔
حدیث نمبر: 7043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْحِجْرِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُحِلُّهَا وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا " ، قَالَ : فَانْظُرْ أَنْ لَا تَكُونَ هُوَ يَا ابْنَ عَمْرٍو ، فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكُتُبَ ، وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ هَذَا وَجْهِي إِلَى الشَّأْمِ مُجَاهِدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت وہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ اے ابن زبیر حرم میں الحاد کا سبب بننے سے اپنے آپ کو بچانا میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قریش کا ایک آدمی حرم مکہ کو حل بنا لے گا اگر اس کے گناہوں کا جن وانس کے گناہوں سے وزن کیا جائے تو اس کے گناہوں کا پلڑا جھک جائے گا سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! دیکھو تم وہ آدمی نہ بننا کیونکہ تم نے سابقہ آسمانی کتابیں بھی پڑھ رکھی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف بھی حاصل ہے انہوں نے فرمایا : ” میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں جہاد کے لئے شام جا رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 7044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64 قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ، يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ ، هِيَ جُزْءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا ، وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَسْكُتْ ، وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لہم البشری فی الحیاۃ الدنیا کا مطلب یہ ہے کہ مومن جو نیک خواب دیکھتا ہے وہ اس کے لئے خوشخبری ہوتا ہے اور اچھے خواب اجزاء نبوت میں سے انچاسواں جزو ہوتے ہیں جو شخص اچھا خواب دیکھے اسے بیان کر دے اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اسے غمگین کر دے۔ اس لئے اسے اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دینا چاہئے اور اس پر سکوت اختیار کرنا چاہئے کہ کسی سے وہ خواب بیان نہ کرے۔
حدیث نمبر: 7045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ ، فَقَدْ أَشْرَكَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا وہ سمجھ لے کہ اس نے شرک کیا صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یوں کہہ لیا کرے اے اللہ ہر خیر آپ ہی کی ہے ہر شگون آپ ہی کا ہے اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حدیث نمبر: 7046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ أَنْ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، " فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ : مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ ، وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا تو نماز تیار ہے کا اعلان کر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج روشن ہو گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس دن سے طویل رکوع سجدہ کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 7047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ " فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ : مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور با سعادت میں سورج گرہن ہوا تو نماز تیار ہے کا اعلان کر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج روشن ہو گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس دن سے طویل رکوع سجدہ کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 7048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَلْتَقِيَانِ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَمَا رَأَى وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومنین کی روحیں ایک دن کی مسافت پر ملاقات کر لیتی ہیں ابھی ان میں سے کسی نے دوسرے کو دیکھا نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 7049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُغَرْبَلُونَ فِيهِ غَرْبَلَةً ، يَبْقَى مِنْهُمْ حُثَالَةٌ ، قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ ، وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا ، " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ ، وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں ان کی چھانٹی ہو جائے گی اور صرف جھاگ رہ جائے گی ایسا اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہو گیا ؟ فرمایا : ” نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔
حدیث نمبر: 7050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ ، سَمِعْتُ أَبَا قَبِيلٍ الْمِصْرِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہو جائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچا لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 7051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرض کے علاوہ شہید کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 7052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، لِكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ ، وَحُسْنِ خُلُقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک سیدھا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور اپنی شرافت و مہربانی کی وجہ سے ان لوگوں کے درجے تک جا پہنچتا ہے جو روزہ دار اور شب زندہ دار ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ، وَيَسْلُبُهَا حِلْيَتَهَا ، وَيُجَرِّدُهَا مِنْ كِسْوَتِهَا ، وَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أُصَيْلِعَ أُفَيْدِعَ ، يَضْرِبُ عَلَيْهَا بِمِسْحَاتِهِ وَمِعْوَلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی خانہ کعبہ کو ویران کر دے گا اس کا زیور چھین لے گا اور اس کا غلاف اتار لے گا اس حبشی کو گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ اس کے سر کے اگلے بال گرے ہوئے ہیں اور وہ ٹیڑھے جوڑوں والا ہے اور چھینی اور کدال سے خانہ کعبہ پر ضربیں لگا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 7054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ قَيْصَرَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ شَابٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : " لَا " ، فَجَاءَ شَيْخٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ نَظَرَ بَعْضِكُمْ إِلَى بَعْضٍ ، إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں تھوڑی دیر بعد ایک بڑی عمر کا آدمی آیا اور اس نے بھی وہی سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اس پر ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے معلوم ہے کہ تم ایک دوسرے کو کیوں دیکھ رہے ہو ؟ دراصل عمر رسیدہ آدمی اپنے اوپر قابو رکھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 7055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا ظلماً مارآ جائے وہ شہید ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ أَوْسَعُ مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد تعمیر کرتا ہے اس کے لئے جنت میں اس سے کشادہ گھر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَائِهِ أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ ، مَنْعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَضْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص زائد پانی یا زائد گھاس کسی کو دینے سے روکتا ہے اللہ قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
حدیث نمبر: 7058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَيْسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَحْسِبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے عورت کی بات اس کے مال میں نافذ ہو گی جب کہ اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک بن چکا۔
حدیث نمبر: 7059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ حَجَبْتَهَا عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی دعاء کر نے لگا کہ اے اللہ صرف مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس دعاء کو بہت سے لوگوں سے پردے میں چھپالیا۔
حدیث نمبر: 7060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الصَّلَاةَ فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسَبَّحَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَائِلُهَا ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تَلَقَّى بِهَا بَعْضُهَا بَعْضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کے دوران ایک آدمی نے کہا الحمدللہ ملء السماء پھر تسبیح کہی اور دعاء کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد پوچھا یہ کلمات کہنے والا کون ہے ؟ اس آدمی نے عرض کیا کہ میں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے ان کلمات کا ثواب لکھنے کے لئے آئے۔
حدیث نمبر: 7061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ الْيَهُودَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : السَّامُ عَلَيْكَ ، وَقَالُوا فِي أَنْفُسِهِمْ : لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ سورة المجادلة آية 8 فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 ، فَقَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ فَبِئْسَ الْمَصِيرُ سورة المجادلة آية 8 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہودی آ کر " سام علیک " کہتے تھے پھر اپنے دل میں کہتے تھے کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ ہمیں اس پر عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں تو اس انداز میں آپ کو سلام کرتے ہیں جس انداز میں اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 7062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ وَكَانَ شَاعِرًا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین حیات ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں فرمایا : ” جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔
حدیث نمبر: 7063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يُغَرْبَلَ النَّاسُ غَرْبَلَةً ، وَتَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ ، قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ ، وَكَانُوا هَكَذَا " ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، قَالُوا : فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ ، وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى خَاصَّتِكُمْ ، وَتَدَعُونَ عَامَّتَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں ان کی چھانٹی ہو جائے گی اور صرف جھاگ رہ جائے گی ایسا اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہو گیا ؟ فرمایا : ” نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔
حدیث نمبر: 7063M
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَتَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ ، وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْبَرْحِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَةً فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا ، فَلْيَرُدَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص صدقہ نکالنا چاہے اور اسے بربری غلام کے علاوہ کوئی اور نہ ملے تو اسے چاہئے کہ اسے لوٹا دے۔
حدیث نمبر: 7065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ ؟ قَالَ : أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا سعد کے پاس سے ہوا وہ اس وقت وضو کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سعد ! یہ اسراف کیسا ؟ وہ کہنے لگے کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اگرچہ تم جاری نہر پر ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُوضَعُ الْمَوَازِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ ، فَيُوضَعُ فِي كِفَّةٍ ، فَيُوضَعُ مَا أُحْصِيَ عَلَيْهِ ، فَتَمَايَلَ بِهِ الْمِيزَانُ ، قَالَ : فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، قَالَ : فَإِذَا أُدْبِرَ بِهِ ، إِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : لَا تَعْجَلُوا ، لَا تَعْجَلُوا ، فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ ، حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن میزان عمل قائم کئے جائیں گے ایک آدمی کو لا کر ایک پلڑے میں رکھآ جائے گا اس پر اس کے گناہ لاد دئیے جائیں گے اور وہ پلڑا جھک جائے گا اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا جب وہ پیٹھ پھیرے گا تو رحمان کی جانب سے ایک منادی پکارے گا جلدی نہ کرو جلدی نہ کرو اس کی ایک چیز رہ گئی ہے چنانچہ کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں یہ لکھا ہو گا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں پھر اسے اس آدمی کے ساتھ ایک پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ جھک جائے گا۔
حدیث نمبر: 7067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ وَاهِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ لَكَأَنَّ فِي إِحْدَى إِصْبَعَيَّ سَمْنًا ، وَفِي الْأُخْرَى عَسَلًا ، فَأَنَا أَلْعَقُهُمَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " تَقْرَأُ الْكِتَابَيْنِ التَّوْرَاةَ وَالْفُرْقَانَ " ، فَكَانَ يَقْرَؤُهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میری ایک انگلی میں گھی اور دوسری میں شہد لگا ہوا ہے اور میں ان دونوں کو چاٹ رہا ہوں جب صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواب ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیریہ دی کہ تم تورات اور قرآن دونوں کتابیں پڑھ سکو گے چنانچہ ایساہی ہوا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں کتابیں پڑھ لیتے تھے۔
…