حدیث نمبر: 6991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خریدو فروخت سے منع فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ " ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَحْيَى ، وَيَزِيدَ ، وَقَالَ فِيهِ : " وَأَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنو خزاعہ کے علاوہ سب لوگوں سے اپنے اسلحے کو روک لو پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ زمانہ جاہلیت کے معاہدوں کو پورا کرو کیونکہ اسلام نے ان کی شدت ہی میں اضافہ کیا ہے البتہ اسلام میں کوئی ایسا نیا معاہدہ نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، ولبعضه شواهد يصح بها.
حدیث نمبر: 6993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ نُورُ الشَّفَقِ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک عصر کا وقت نہ ہو جائے عصر کا وقت سورج کے پیلا ہونے سے پہلے تک ہے مغرب کا وقت غروب شفق سے پہلے تک ہے عشاء کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے فجر کا وقت طلوع فجر سے لے کر اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 612.
حدیث نمبر: 6994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا ، كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا ؟ أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ قَالَ : لَا ، يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : أَلَكَ عُذْرٌ ، أَوْ حَسَنَةٌ ؟ فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ ، فَيَقُولُ : لَا ، يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : بَلَى ، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً ، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ ، فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ ، فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَقُولُ : أَحْضِرُوهُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ ؟ ! فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ ، قَالَ : فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ ، قَالَ : فَطَاشَتْ السِّجِلَّاتُ ، وَثَقُلَتْ الْبِطَاقَةُ ، وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ ساری مخلوق کے سامنے میرے ایک امتی کو باہر نکالے گا اور اس کے سامنے ننانوے رجسڑ کھولے گا جن میں سے ہر رجسڑ تاحد نگاہ ہو گا اور اس سے فرمائے گا کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے ؟ کیا میرے محافظ کاتبین نے تجھ پر ظلم کیا ہے۔ ؟ وہ کہے گا نہیں اے پروردگار اللہ فرمائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر یا کوئی نیکی ہے ؟ وہ آدمی مبہوت ہو کر کہے گا نہیں اے پروردگار اللہ فرمائے گا کیوں نہیں ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا چنانچہ کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں یہ لکھا ہو گا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ فرمائے گا اسے میزان عمل کے پاس حاضر کرو وہ عرض کرے گا کہ پروردگار کاغذ کے اس پرزے کا اتنے بڑے رجسڑوں کے ساتھ کیا مقابلہ ؟ اس سے کہا جائے گا کہ آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا چنانچہ ان رجسڑوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا ان کا پلڑا اوپر ہو جائے گا اور کاغذ کے اس پرزے والا پلڑا جھک جائے گا کیونکہ اللہ کے نام سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں جو رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 6995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ عَلَى مُغِيبَةٍ ، إِلَّا وَمَعَهُ غَيْرُهُ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : فَمَا دَخَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمَقَامِ عَلَى مُغِيبَةٍ ، إِلَّا وَمَعِي وَاحِدٌ أَوْ اثْنَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج کے بعد کوئی شخص کسی ایک عورت کے پاس تنہا نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ ایک اور یا دو آدمی ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کبھی کسی عورت کے پاس تنہا نہیں گیا الاّ یہ کہ میرے ساتھ ایک دو آدمی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2173.
حدیث نمبر: 6996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَنَادَى ثَلَاثًا ، فَأَتَى رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ مِنْ غَنِيمَةٍ كُنْتُ أَصَبْتُهَا ، قَالَ : " أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ ؟ " فَاعْتَلَّ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ ، حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِينِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مال غنیمت تقسیم کر نے کا ارادہ فرماتے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے وہ تین مرتبہ منادی کر دیتے ایک مرتبہ مال غنیمت کی تقسیم کے بعد ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بالوں کی ایک لگام لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ مال غنیمت ہے جو مجھے ملا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے بلال کی تین مرتبہ منادی کو نہیں سنا تھا ؟ اس نے کہا جی ہاں سنا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وقت تمہیں ہمارے پاس آنے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ اس نے کوئی عذر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں کر سکتا اب قیامت کے دن یہ تم میرے پاس لے کر آؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَهُوَ بِمَكَّةَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةَ وَالْخِنْزِيرَ " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟ فَقَالَ : " لَا ، هِيَ حَرَامٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ الشُّحُومَ ، جَمَلُوهَا ، ثُمَّ بَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب مردار اور خنزیر کی بیع کو حرام قرار دیا ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتایئے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ اسے کشتیوں اور جسم کی کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں یہ حرام ہے پھر فرمایا : ” یہودیوں پر اللہ کی مار ہو جب اللہ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے خوب مزین کر کے بیچ دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ فِي الْبَيْعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت ان سے مصافحہ نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6998
حدیث نمبر: 6999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر بیٹھ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا رَجَاءٌ أَبُو يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : فَأَنْشُدُ بِاللَّهِ ثَلَاثًا ، وَوَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي أُذُنَيْهِ ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الرُّكْنَ ، وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ ، طَمَسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نُورَهُمَا ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ طَمَسَ نُورَهُمَا ، لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم کھائی اور اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں پر رکھ کر فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں اللہ نے ان کی روشنی بجھادی ہے اگر اللہ ان کی روشنی نہ بجھاتا تو یہ دونوں مشرق و مغرب کے درمیان ساری جگہ کو روشن کر دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، والأصح وقفه.
حدیث نمبر: 7001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي مَالًا وَوَالِدًا ، وَإِنَّ وَالِدِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي ؟ قَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدُ اللهَ بن احمد : بَلَغَنِي أَنَّ حَبِيبًا الْمُعَلِّمَ يُقَالُ لَهُ : حَبِيبُ بْنُ أَبِي بَقِيَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میرے پاس مال بھی ہے اور اولاد بھی میرا باپ میرے مال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے تمہاری اولاد تمہاری سب سے پاکیزہ کمائی ہے لہٰذا اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ : فَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو ، فَذَاكَ حَظُّهُ مِنْهَا ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ ، فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ، فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں ایک آدمی تو وہ ہے جو نماز اور دعاء میں شریک ہوتا ہے اس آدمی نے اپنے رب کو پکار لیا اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے عطاء کرے یا نہ کرے، دوسرا آدمی وہ ہے جو خاموشی کے ساتھ آ کر اس میں شریک ہو جائے کسی مسلمان کی گردن نہ پھلانگے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچائے تو اگلے جمعہ تک اور مزید تین دن تک وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا " اور تیسرا آدمی وہ ہے جو بیکار کاموں میں لگا رہتا ہے یہ اس کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ، وَمَنْ شَرِبَ الثَّانِيَةَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ الثَّالِثَةَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی مرتبہ فرمایا : ” کہ اسے قتل کر دو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب.
حدیث نمبر: 7004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " ، قَالَ : قِيلَ : وَمَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ : " يَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ ، فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 90.
حدیث نمبر: 7005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مئتي مَرَّةٍ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَمْ يَسْبِقْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ أَحَدٌ كَانَ بَعْدَهُ ، إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِهِ " ، يَعْنِي : إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا شریک نہیں حکومت بھی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے " اس پر کوئی پہلا سبقت نہیں لے جاسکے گا اور بعد والا اسے کوئی پا نہیں سکے گا الاّ یہ کہ اس سے افضل عمل سر انجام دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ : أَقْبَلَ أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ مَكْحُولٌ ، وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، وَأَبُو بَحْرِيَّةَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3461.
حدیث نمبر: 7007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سوار ایک شیطان ہوتا ہے اور دو سوار دو شیطان ہوتے ہیں اور تین سوار ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7008
رقم الحديث: 6832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْحَجَرَ ، وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ ، طَمَسَ اللَّهُ نُورَهُمَا ، لَوْلَا ذَلِكَ لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَوْ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " ، كَذَا قَالَ يُونُسُ : رَجَاءُ بْنُ يَحْيَى ، وقَالَ عَفَّانُ : رَجَاءُ أَبُو يَحْيَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم کھائی اور اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں پر رکھ کر فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں اللہ نے ان کی روشنی بجھا دی ہے اگر اللہ ان کی روشنی نہ بجھاتا تو یہ دونوں مشرق ومغرب کے درمیان ساری جگہ کو روشن کر دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على خطأ فى اسم أحد رواته، وهو مكرر 7000، والأصح فى هذا الحديث وقفه.
حدیث نمبر: 7008M
قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وحَدَّثَنَاه هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ أَبُو يَحْيَى الْحَرَشِيُّ ، وَالصَّوَابُ أَبُو يَحْيَى ، كَمَا قَالَ : عَفَّانُ ، وهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7008M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله .
حدیث نمبر: 7009
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ أَبُو يَحْيَى ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهو مكرر ما قبله .
حدیث نمبر: 7010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاص ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جہنم کا تذکر ہ کرتے ہوئے فرمایا : ” کہ ہر بداخلاق تندخو، متکبر جمع کر کے رکھنے والا اور نیکی سے رکنے والاجہنم میں ہو گا اور اہل جنت کمزور اور مغلوب لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَرَنَ خَشْيَةَ أَنْ يُصَدَّ عَنِ الْبَيْتِ ، وَقَالَ : " إِنْ لَمْ تَكُنْ حَجَّةٌ فَعُمْرَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اس لئے جمع کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ کہیں بیت اللہ جانے سے روک نہ دیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” تھا کہ اگر حج نہ ہوا تو عمرہ ہی کر لیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث الثقفي.
حدیث نمبر: 7012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ بَعْدَ أَنْ أَثْنَى عَلَى اللَّهِ ، أَنْ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، يَدُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَدِيَةُ الْكَافِرِ كَنِصْفِ دِيَةِ الْمُسْلِمِ ، أَلَا وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا جَنَبَ وَلَا جَلَبَ ، وَتُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ فِي دِيَارِهِمْ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ وَيَرُدُّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَقْصَاهُمْ " ، ثُمَّ نَزَلَ ، وَقَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کی سیڑھی پر لوگوں میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور حمدوثناء کے بعد دیگرباتوں میں یہ بھی فرمایا : ” لوگو ! زمانہ جاہلیت میں جتنے بھی معاہدے ہوئے اسلام ان کی شدت میں مزید اضافہ کرتا ہے لیکن اب اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا مسلمان اپنے علاوہ سب پر ایک ہاتھ ہیں سب کا خون برابر ہے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے جو سب سے آخری مسلمان تک لوٹائی جائے گی، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے زکوٰۃ کے جانوروں کو اپنے پاس منگوانے کی اور زکوٰۃ سے بچنے کی کوئی حیثیت نہیں مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے علاقے ہی میں جا کروصول کی جائے گی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ ، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ ، كُلُّهُنَّ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں سر کے زخم میں پانچ پانچ اونٹ ہیں اور سب انگلیاں برابر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره.
حدیث نمبر: 7014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَقْتُولُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 2480 ، م: 141، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ومؤمل سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 7015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ أَبُو عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ الْعُقَيْلِيُّ ، مِنْ أَهْلِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عوف ، قَالَ : قَالَ : الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْمَرْوَةِ ، فَتَحَدَّثَا ، ثُمَّ مَضَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَبَقِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَبْكِي ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : هَذَا يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروہ پر سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تھوڑی دیر گفتگو کے بعدجب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو وہ رو رہے تھے کسی نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا : ” اس حدیث کی وجہ سے جو انہوں نے مجھ سے بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا اللہ اسے چہرے کے بل جہنم میں اوندھا کر کے ڈال دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ أَبُو الْجَهْمِ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا فَهِيَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ خِدَاجٌ ، ثُمَّ خِدَاجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر وہ نماز جس میں ذراسی بھی قرأت نہ کی جائے وہ ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَدْرُونَ مَنْ الْمُسْلِمُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " ، قَالَ : " تَدْرُونَ مَنْ الْمُؤْمِنُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ ، يَعْنِي وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ فَاجْتَنَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جانتے ہو کہ مسلم کون ہوتا ہے ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ؟ فرمایا : ” جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں پھر پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ مومن کون ہوتا ہے ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا : ” جس کی طرف سے دوسرے مؤمنین کی جان ومال محفوظ ہو اور اصل مہاجر وہ ہے جو گناہوں کو چھوڑ دے اور ان سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 7018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا دُوَيْدٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ قَاعِدٌ مَعَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَحَادِيثَ لَا نَحْفَظُهَا أَفَلَا نَكْتُبُهَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، فَاكْتُبُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ سے بہت سی حدیثیں سنتے ہیں جو ہمیں یاد نہیں رہتیں کیا ہم انہیں لکھ نہ لیا کر یں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں لکھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على بن عاصم صدوق لكنه كان كثير الغلط، محمد بن يزيد الكلاعي ودويد الخراساني مجهول، لكنه متابع بابن إسحاق.
حدیث نمبر: 7019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُفْرٌ بِاللَّهِ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ ، أَوْ ادِّعَاءٌ إِلَى نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے نسب سے بیزاری ظاہر کرنا خواہ بہت معمولی درجے میں ہو یا ایسے نسب کا دعوی کرنا جس کی طرف اس کی نسبت غیر معروف ہو کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، على بن عاصم الواسطي كثير الغلط، والمثنى بن الصباح ضعبف.
حدیث نمبر: 7020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ ، أَفَأَكْتُبُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنِّي لَا أَقُولُ فِيهِمَا إِلَّا حَقًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں انہیں لکھ لیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! میں نے پوچھا رضامندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں کیونکہ میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 7021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ : يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، يَعْنِي حُسَيْنًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا ، وَرَأَيْتُهُ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ ، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَاعِدًا وَقَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں بائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَيْسَ لِي مَالٌ ، وَلِي يَتِيمٌ ؟ فَقَالَ : " كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ ، غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا ، وَمِنْ غَيْرِ أَنْ تَقِيَ مَالَكَ " ، أَوْ قَالَ : " تَفْدِيَ مَالَكَ بِمَالِهِ " . شَكَّ حُسَيْنٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے پاس تو مال نہیں ہے البتہ ایک یتیم بھتیجا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے یتیم بھتیجے کے مال میں سے تم کھا سکتے ہو کہ جو اسراف کے زمرے میں آئے یا یہ فرمایا : ” کہ اپنے مال کو اس کے مال کے بدلے فدیہ نہ بناؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : فِي يَوْمِي وَلَيْلَتِي ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " ارْقُدْ وَصَلِّ ، وَارْقُدْ ، وَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ وَيُنَاقِصُنِي ، إِلَى أَنْ قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ " ، قَالَ أَبِي : وَلَمْ أَفْهَمْ ، وَسَقَطَتْ عَلَيَّ كَلِمَةٌ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ ؟ قَالَ : فَقَالَ لِي : " صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " ، فَمَا زِلْتُ أُنَاقِصُهُ وَيُنَاقِصُنِي ، حَتَّى قَالَ : " صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، صِيَامَ دَاوُدَ ، صُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ ، حَسِبْتُهُ شَكَّ عَبِيدَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو تم کتنے عرصے میں قرآن پڑھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا ایک دن رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” سویا بھی کرو نماز بھی پڑھا کرو اور ہر مہینے میں ایک قرآن پڑھا کرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کمی کرواتا رہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمی کرتے رہے حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر سات راتوں میں ایک قرآن پڑھا کرو (میرے والد کہتے ہیں کہ یہاں ایک کلمہ مجھ سے چھوٹ گیا ہے جسے میں سمجھ نہیں سکا) پھر میں نے عرض کیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں کبھی ناغہ نہیں کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” روزہ بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل کمی کرواتا رہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمی کرتے رہے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس طریقے سے روزہ رکھ لیا کرو جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اور سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ ہے یعنی ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو بعد میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لیناسرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدة بن حميد سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط، قد تابعه حماد بن زيد عند أبى داود، وهو ممن سمع منه قديما.
حدیث نمبر: 7024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زکوٰۃ کے جانوروں کو اپنے پاس منگوانے کی اور زکوٰۃ سے بچنے کی کوئی حیثیت نہیں مسلمان سے زکوٰۃ ان کے علاقے ہی میں جا کروصول کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد صحيح.
حدیث نمبر: 7025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ الْحَرَشِيُّ ، وَكَانَ ثِقَةً فِيمَا ذَكَرَ أَهْلُ بِلَادِهِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، وَكَانَ مُسْلِمٌ رَجُلًا يُؤْخَذُ عَنْهُ ، وَقَدْ أَدْرَكَ ، وَسَمِعَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْشٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قُلْتُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، إِنَّا بِأَرْضٍ لَسْنَا نَجِدُ بِهَا الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ ، وَإِنَّمَا أَمْوَالُنَا الْمَوَاشِي ، فَنَحْنُ نَتَبَايَعُهَا بَيْنَنَا ، فَنَبْتَاعُ الْبَقَرَةَ بِالشَّاةِ نَظِرَةً إِلَى أَجَلٍ ، وَالْبَعِيرَ بِالْبَقَرَاتِ ، وَالْفَرَسَ بِالْأَبَاعِرِ ، كُلُّ ذَلِكَ إِلَى أَجَلٍ ، فَهَلْ عَلَيْنَا فِي ذَلِكَ مِنْ بَأْسٍ ؟ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ : سَقَطْتَ ، أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبْعَثَ جَيْشًا عَلَى إِبِلٍ كَانَتْ عِنْدِي ، قَالَ : فَحَمَلْتُ النَّاسَ عَلَيْهَا ، حَتَّى نَفِدَتْ الْإِبِل ، وَبَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْإِبِلُ قَدْ نَفِدَتْ ، وَقَدْ بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنَ النَّاسِ لَا ظَهْرَ لَهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَعْ عَلَيْنَا إِبِلًا بِقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِلَى مَحِلِّهَا ، حَتَّى نُنَفِّذَ هَذَا الْبَعْثَ " ، قَالَ : فَكُنْتُ أَبْتَاعُ الْبَعِيرَ بِالْقَلُوصَيْنِ وَالثَّلَاثِ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ إِلَى مَحِلِّهَا ، حَتَّى نَفَّذْتُ ذَلِكَ الْبَعْثَ ، قَالَ : فَلَمَّا حَلَّتْ الصَّدَقَةُ أَدَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن حریش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم لوگ ایسے علاقے میں ہوتے ہیں جہاں دینار یا درہم نہیں چلتے ہم ایک وقت مقررہ تک کے لئے اونٹ اور بکر ی کے بدلے خریدو فروخت کر لیتے ہیں آپ کی اس بارے کیا رائے ہے ؟ کیا اس میں کوئی حرج ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” تم نے ایک باخبر آدمی سے دریافت کیا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کیا اس امید پر کہ صدقہ کے اونٹ آجائیں گے اونٹ ختم ہو گئے اور کچھ لوگ باقی بچ گئے (جنہیں سواری نہ مل سکی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ہمارے لئے اس شرط پر اونٹ خرید کر لاؤ کہ صدقہ کے اونٹ پہنچنے پر وہ دے دیئے جائیں گے چنانچہ میں نے دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ خریدا بعض اوقات تین کے بدلے بھی خریدا یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 7026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقْلِ الْجَنِينِ إِذَا كَانَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فَقَضَى بِذَلِكَ فِي امْرَأَةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو ( اور کوئی شخص اسے ماردے) کی دیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا : ” ہے یہ فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ کی بیوی کے متعلق فرمایا : ” تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن إسحاق مدلس، ولم يصرح هنا بالتحديث.
حدیث نمبر: 7026M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں نکاح شغار (وٹے سٹے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7026M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 7027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” کہ اسلام میں نکاح شغار (وٹے سٹے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، أَنَّهُ يَرِثُ أُمَّهُ ، وَتَرِثُهُ أُمُّهُ ، وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ ، وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کر نے والوں کے بچے کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ وہ اپنی ماں کا وارث ہو گا اور اس کی ماں اسی کی وارث ہو گی اور جو شخص اس کی ماں پر تہمت لگائے گا اسے اسی کوڑوں کی سزا ہو گی اور جو شخص اس کی ماں پر تہمت لگائے کأ اسے اسی کوڑوں کی سزاہو گی اور جو شخص اسے والد الزنا کہہ کر پکارے گا اسے بھی اسی کوڑے مارے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن.