حدیث نمبر: 6952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرٍ ، قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى نَوْفٍ يعني الْبِكَالِيِّ وَهُوَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ : حَدِّثْ ، فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا ، عَنِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : مَا كُنْتُ لِأُحَدِّثُ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ الْأَرْضِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ لَخِيَارُ الْأَرْضِ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا ، تَلْفِظُهُمْ الْأَرْضُ ، وَتَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَتَحْشُرُهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ : حَدِّثْ فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأُحَدِّثُ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ، ثُمَّ قَالَ : حَدِّثْ فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأُحَدِّثُ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهو يَقُولُ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ ، حَتَّى يَخْرُجَ فِي بَقِيَّتِهِمْ الدَّجَّالُ " .
مولانا ظفر اقبال
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب ہمیں یزید بن معاویہ کی بیعت کی اطلاع ملی تو میں شام آیا مجھے ایک ایسی جگہ کا پتہ معلوم ہوا جہاں نوف کھڑے ہو کر بیان کرتے تھے میں ان کے پاس پہنچا اسی اثناء میں ایک آدمی کے آنے پر لوگوں میں ہلچل مچ گئی جس نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی دیکھا تو وہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ تھے نوف نے انہیں دیکھ کر ان کے احترام میں حدیث بیان کرنا چھوڑ دی اور سیدنا عبداللہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب اس ہجرت کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی جس میں لوگ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت گاہ میں جمع ہو جائیں گے زمین میں صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے ان کی زمین انہیں پھینک دے گی اور اللہ کی ذات انہیں پسند نہیں کرے گی آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کر لے گی۔ پھر فرمایا : ” تم حدیث بیان کرو کیونکہ ہمیں تو اس سے روک دیا گیا ہے نوف نے کہا کہ صحابی رسول اللہ اور وہ بھی قریشی کی موجودگی میں حدیث بیان نہیں کر سکتا چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم نکلے گی یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب بھی ان کی ایک نسل ختم ہو گی دوسری پیدا ہو جائے گی یہاں تک کہ ان کے آخر میں دجال نکل آئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولبعضه شواهد يصح بها.
حدیث نمبر: 6953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَقُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَلَا تُحَدِّثْنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے وہ حدیث پوچھتا ہوں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے وہ نہیں پوچھتاجو تورات میں ہے انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی باتوں سے رک جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين.
حدیث نمبر: 6954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ ، وَدَنَا فَاقْتَرَبَ ، وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ قِيَامِ سَنَةٍ وَصِيَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص خوب اچھی طرح غسل کرے اور صبح سویرے ہی جمعہ کے لئے روانہ ہو جائے امام کے قریب بیٹھے توجہ سے اس کی بات سنے اور خاموشی اختیار کرے اسے ہر قدم کے بدلے جو وہ اٹھائے ایک سال کے قیام وصیام کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عثمان الشامي.
حدیث نمبر: 6955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ هِلَالٍ الْهَجَرِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هو عَبْدُا اللهَ بن أحمد هَذَا خَطَأٌ ، إِنَّمَا هُوَ الْحَكَمُ ، عَنْ سَيْفٍ ، عَنْ رُشَيْدٍ الْهَجَرِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
ہلال کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے وہ حدیث پوچھتا ہوں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے وہ نہیں پوچھتاجو تورات میں ہے انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور حقیقی مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی باتوں سے رک جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده غاية فى الضعف كما تقدم حال رجاله برقم:6835، ومتن الحديث صحيح سلف تخريجه برقم: 6487.
حدیث نمبر: 6956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقَتِيلُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 2480، م: 141، وهذا إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب.
حدیث نمبر: 6957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ فَقَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، وَأَتَاهُ آخَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، وَأَتَاهُ آخَرُ ، فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ : " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروا لیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب میں یہی فرمایا : ” اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1306.
حدیث نمبر: 6958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي ، فَقَدْ أَفْلَحَ ، وَمَنْ كَانَتْ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر عمل میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا ایک انقطاع ہوتا ہے یا سنت کی طرف یا بدعت کی طرف جس کا انقطاع سنت کی طرف ہو تو وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کا انقطاع کسی اور چیز کی طرف ہو تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، م: 2173.
حدیث نمبر: 6959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، كُفِّرَتْ ذُنُوبُهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روئے زمین پر جو آدمی بھی یہ کہہ لے لاالہ الا اللہ واللہ اکبر، والحمدللہ و سبحان اللہ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ، یہ جملے اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، لكن اختلف فى رفعه ووقفه، والموقوف أصح.
حدیث نمبر: 6960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ صُهَيْبًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فِي غَيْرِ شَيْءٍ إِلَّا بِحَقِّهِ ، سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة صهيب مولى ابن عامر.
حدیث نمبر: 6961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء پڑھتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اور تعریف اسی کی ہے ہر طرح کی خیر اسی کے دست قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن أبى حميد.
حدیث نمبر: 6962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ ، فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ ، مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفیدبالوں کو مت نوچا کرو کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے جس مسلمان کے بال حالت اسلام میں سفید ہوتے ہیں اس کے ہر بال پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے یا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ بِسَمَاحَتِهِ قَاضِيًا وَمُتَقَاضِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص ادا کرتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرم خوئی کا مظاہرہ کر نے کی وجہ سے جنت میں چلا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَيَبْقَى فِيهَا عَجَاجَةٌ ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک اللہ اہل زمین میں اپناحصہ وصول نہ کر لے اس کے بعد زمین میں گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جو نیکی کو نیکی اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات رجال الشيخين إلا أن فيه الحسن البصري وقد روى مرفوعا وموقوفا، والأشبه وقفه.
حدیث نمبر: 6965
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَقَالَ : " حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَرِيطَتَهُ مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هو مكرر ماقبله، لكن ذاك مرفوع ، وهذا موقوف.
حدیث نمبر: 6966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ ، مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغْرُبْ الشَّفَقُ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ ، فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر کا وقت زوال شمس کے وقت ہوتا ہے جب کہ ہر آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہو اور یہ اس وقت تک رہتا ہے جس تک عصر کا وقت نہ ہو جائے عصر کا وقت سورج کے پیلا ہونے سے پہلے تک ہے مغرب کا وقت غروب شفق سے پہلے تک ہے عشاء کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے فجر کا وقت طلوع فجر سے لے کر اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 612.
حدیث نمبر: 6967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا : " هِيَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وقد اختلف فى رفعه ووقفه، والموقوف أصح.
حدیث نمبر: 6968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ؟ فَقَالَ قَتَادَةُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هِيَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وهو مكرر سابقه.
حدیث نمبر: 6968M
قَالَ قَتَادَةُ : وَحَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ وَسَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : وَهَلْ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِلَّا كَافِرٌ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6968M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: قال قتاده. موصول بالإسناد الذى قبله، وهو إسناد صحيح.
حدیث نمبر: 6969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَهِيَ كَفَّارَتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس کے علاوہ کسی دوسری چیز میں خیر دیکھے تو اسے ترک کر دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهو مكرر : 6736.
حدیث نمبر: 6970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَالْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر خانہ کعبہ کے ساتھ لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ” نماز فجر کے بعدطلوع آفتاب تک کوئی نفل نماز نہیں ہے اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک بھی کوئی نفل نماز نہیں ہے اور تمام مسلمانوں کا خون برابر ہے اور ان میں سے ادنیٰ کی ذمہ داری بھی پوری کی جائے گی اور وہ اپنے علاوہ سب پر ایک ہاتھ ہیں خبردار کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے یا کسی ذمی کو اس کی مدت میں قتل نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : فُلَانٌ ابْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا دِعَاوَةَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں بچہ میرا بیٹا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں اس دعویٰ کا کوئی اعتبار نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ ، فَقَالَ : " هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ ، فَلَا تَلْبَسْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصفر سے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر دیکھے تو فرمایا : ” یہ کافروں کا لباس ہے اسے مت پہنا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، م: 2077.
حدیث نمبر: 6973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي السَّهْمِيَّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، إِلَّا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ ذُنُوبِهِ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روئے زمین پر جو آدمی بھی یہ کہہ لے لاالہ الا اللہ واللہ اکبر، والحمد للہ و سبحان اللہ ولاحول ولا قوۃ الاباللہ، یہ جملے اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن إلا أن الأصح وقفه.
حدیث نمبر: 6974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ زَعَمُوا ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو شَهِدَ بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " ، قَالَ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، يَقُولُ : ائْتُونِي بِرَجُلٍ قَدْ جُلِدَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّ لَكُمْ عَلَيَّ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شراب پیئے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو دوبارہ کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پینے پر اسے قتل کر دو اس بناء پر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میرے پاس ایسے شخص کو لے کر آؤ جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی ہو میرے ذمے اسے قتل کرنا واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري صرح أنه لم يسمعه من عبد الله بن عمرو.
حدیث نمبر: 6975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أَعْرَابِيٍّ قَائِمًا فِي الشَّمْسِ ، وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ " ، قَالَ : نَذَرْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ لَا أَزَالَ فِي الشَّمْسِ حَتَّى تَفْرُغَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ هَذَا نَذْرًا ، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو دھوپ میں کھڑے ہوئے دیکھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے یہ منت مانی ہے کہ آپ کے خطبہ کے اختتام تک اسی طرح دھوپ میں کھڑا رہوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ منت نہیں ہے منت تو وہ ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضامندی حاصل کی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا صَلَاةُ الْعَصْرِ ، وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا ، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں پیچھے رہ گئے اور ہمارے قریب اس وقت پہنچے جبکہ نماز عصر کا وقت بالکل قریب آگیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے ہم اپنے اپنے پاؤں پر مسح کر نے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند دو تین مرتبہ فرمایا : ” ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 60، م: 241.
حدیث نمبر: 6977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، أَنَّهُ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّهُ كَرِهَهُ ، فَطَرَحَهُ ، ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : " هَذَا أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ " ، فَطَرَحَهُ ، ثُمَّ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، فَسَكَتَ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اس نے وہ پھینک کر لوہے کی انگوٹھی بنوا لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اس سے بھی بری ہے یہ تو اہل جہنم کا زیور ہے اس نے وہ پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوا لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا : ” ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 6978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ ، لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن حجر اسود جب آئے گا تو وہ جبل ابو قبیس سے بڑا ہو گا اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل.
حدیث نمبر: 6979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْتَنِبُوا مِنَ الْأَوْعِيَةِ الدُّبَّاءَ ، وَالْمُزَفَّتَ ، وَالْحَنْتَمَ " ، قَالَ شَرِيكٌ : وَذَكَرَ أَشْيَاءَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ : لَا ظُرُوفَ لَنَا ؟ فَقَالَ : " اشْرَبُوا مَا حَلَّ ، وَلَا تَسْكَرُوا " ، أَعَدْتُهُ عَلَى شَرِيكٍ ، فَقَالَ : " اشْرَبُوا ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، أوَلَا تَسْكَرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دباء، مزفت اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کر نے سے بچو ایک دیہاتی کہنے لگا کہ ہمارے پاس تو ان کے علاوہ کوئی برتن نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اس میں صرف حلال مشروبات پیو، نشہ آور چیزیں مت پیو کہ تم پر نشہ طاری ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 6980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ زِيَادٍ سِيمِاكُوشَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ ، قَتْلَاهَا فِي النَّارِ ، اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا جس کی طرف اہل عرب مائل ہو جائیں گے اس فتنے میں مرنے والے جہنم میں ہوں گے اور اس میں زبان کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے زیادہ سخت ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة حال زياد بن سيماكوش.
حدیث نمبر: 6981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ العاص ، يَقُولُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ ، فَقَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، أَنا مُحَّمدٌ النَّبيُّ الأُمَّيُّ ، ثَلَاثًا ، وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ ، وَجَوَامِعَهُ ، وَخَوَاتِمَهُ وَعَلِمْتُ كَمْ خَزَنَةُ النَّارِ ، وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ ، وَتُجُوِّزَ بِي ، وَعُوفِيتُ ، وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي ، فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہمارے پاس تشریف لائے جیسے کوئی رخصت کر نے والا ہوتا ہے اور تین مرتبہ فرمایا : ” میں محمد ہوں نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مجھے ابتدائی کلمات، اختتامی کلمات اور جامع کلمات بھی دئیے گئے ہیں میں جانتا ہوں کہ جہنم کے نگران فرشتے اور عرش الہٰی کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد کتنی ہے ؟ مجھ سے تجاوز کیا جا چکا مجھے اور میری امت کو عافیت عطاء فرما دی گئی اس لئے جب تک میں تمہارے درمیان رہوں میری بات سنتے اور مانتے رہو اور جب مجھے لے جایا جائے تو کتاب اللہ کو اپنے اوپر لازم پکڑ لو اس کے حلال کو حلال سمجھو اور اس کے حرام کو حرام سمجھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 6982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 10.
حدیث نمبر: 6983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6484.
حدیث نمبر: 6984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 6985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ أَبِي عُبَيْدَةَ ، فَذَكَرُوا الرِّيَاءَ ، فَقَالَ رَجُلٌ يُكْنَى : بِأَبِي يَزِيدَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے عمل کے ذریعے لوگوں میں شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ ذَكَرُوا الْفِتْنَةَ ، أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ ، وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ ، وَكَانُوا هَكَذَا " ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ؟ قَالَ : " الْزَمْ بَيْتَكَ ، وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگردبیٹھے ہوئے تھے کہ فتنوں کا تذکر ہ ہونے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا : ” اپنے گھر کو لازم پکڑنا اپنی زبان کو قابو میں رکھنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1979 ،م: 1159.
حدیث نمبر: 6989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ نُورُ الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بالوں کو نوچنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا : ” ہے کہ یہ اسلام کا نور ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، فَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَدَعْهَا ، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان چیزوں میں منت یا قسم نہیں ہوتی جن کا انسان مالک نہ ہو یا وہ اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں یا قطع رحمی ہو جو شخص کسی بات پر قسم کھالے پھر کسی اور چیز میں خیر نظر آئے تو پہلے والے کام کو چھوڑ کر خیر کو اختیار کر لے کیونکہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.