حدیث نمبر: 6912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْمُهَاجِرَ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6484.
حدیث نمبر: 6913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَرْضًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، يُقَالُ لَهَا : الْوَهْطُ ، فَأَمَرَ مَوَالِيَهُ ، فَلَبِسُوا آلَتَهُمْ ، وَأَرَادُوا الْقِتَالَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَاذَا ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُظْلَمُ بِمَظْلَمَةٍ فَيُقَاتِلَ فَيُقْتَلَ ، إِلَّا قُتِلَ شَهِيدًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک غیر معروف راوی سے منقول ہے کہ سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی " وہط " نامی زمین پر قبضہ کر نے کا ارادہ کیا سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے غلاموں کو اس کے لئے تیار کیا چنانچہ انہوں نے قتال کی نیت سے اسلحہ پہن لیا میں ان کے پاس آیا اور ان سے کہ یہ کیا ؟ انہوں نے کہ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان پر کوئی ظلم توڑا جائے اور وہ اس کی مدافعت میں قتال کرے اور اس دوران لڑتا ہوا مارآ جائے تو وہ شہید ہو کر مقتول ہوا۔ فائدہ۔ سند کے اعتبار سے یہ روایت مضبوط نہیں ہے اور اسے صرف طیالسی نے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الرجل من بني مخزوم وعمه، وللحديث أصل صحيح سلف لفظه برقم: 6522
حدیث نمبر: 6914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ طَلْحَةَ أَوْ طَلْحَةَ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، صُمْ الدَّهْرَ ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160 قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! ہمیشہ روزے سے رہو اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مہینہ تین روزے رکھ لیا کرو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جو ایک نیکی لے کر آئے کا اسے اس جیسی دس نیکیاں ملیں گی میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح روزہ رکھ لیا کرو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، طلحة بن هلال مجهول.
حدیث نمبر: 6915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " حَتَّى عَدَّ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ أَوْ خَمْسَةً ، شُعْبَةُ يَشُكُّ ، قَالَ : " صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ ، صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ایک دن کا روزہ رکھو تمہیں بقیہ ایام کا اجر ملے گا حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار اور پانچ ایام کا تذکر ہ کیا اور سیدنا داؤد (علیہ السلام) کی طرح روزہ رکھ لیا کرو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159.
حدیث نمبر: 6916
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي حَصِينٍ نَعُودُهُ ، وَمَعَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : قَالَ أَبُو حَصِينٍ لِعَاصِمٍ : تَذْكُرُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ ؟ قَالَ : قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ حَدَّثَنَا يَوْمًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَكَى الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ ، قِيلَ لِلْكَاتِبِ الَّذِي يَكْتُبُ عَمَلَهُ : اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذْ كَانَ طَلِيقًا ، حَتَّى أَقْبِضَهُ أَوْ أُطْلِقَهُ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بِهِ عَاصِمٌ ، وَأَبُو حَصِينٍ جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو آدمی نیک اعمال سر انجام دیتا ہو اور وہ بیمار ہو جائے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا تھا وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ میں اسے چھوڑوں یا اپنے پاس بلا لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، يَقُول : " كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جتنے بھی معاہدے ہوئے اسلام ان کی شدت میں مزید اضافہ کرتا ہے لیکن اب اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کر نے سے بیع اور ادھار سے اس چیز کی بیع سے جو ضمانت میں ابھی داخل نہ ہوئی ہو اور اس چیز کی بیع سے جو آپ کے پاس موجود نہ ہو منع فرمایا : ” ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً ، فَحَافِظُوا عَلَيْهَا ، وَهِيَ الْوَتْرُ " ، فَكَانَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ رَأَى أَنْ يُعَادَ الْوَتْرُ ، وَلَوْ بَعْدَ شَهْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا : ” ہے اور وہ وتر ہے لہٰذا اس کی پابندی کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف المثنى بن الصباح.
حدیث نمبر: 6920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ : أَيُّوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ عَامًا تِيبَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تِيبَ عَلَيْهِ " ، حَتَّى قَالَ : " يَوْمًا " حَتَّى قَالَ : " سَاعَةً " ، حَتَّى قَالَ : " فُوَاقًا " ، قَالَ : قَالَ الرَّجُلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُشْرِكًا أَسْلَمَ ؟ قَالَ : إِنَّمَا أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ قبول ہو جائے گی جو ایک مہینہ پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ بھی قبول ہو جائے گی حتیٰ کے ایک دن پہلے یا ایک گھنٹہ پہلے یا موت کی ہچکی سے پہلے بھی توبہ کر لے تو وہ بھی قبول ہو جائے گی کسی آدمی نے پوچھا یہ بتائیے اگر کوئی مشرک اس وقت اسلام قبول کر لے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے تو تم سے اسی طرح حدیث بیان کر دی ہے جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لإبهام الرجل من بني الحارث وجهالة شيخه أيوب .
حدیث نمبر: 6921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ ، كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے وہ نصف زمانے تک روزے سے رہتے تھے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹا حصہ پر آرام کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159.
حدیث نمبر: 6922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ وَتَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ العاص إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَوَعَظَهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : " مَنْ قُتِلَ عَلَى مَالِهِ ، فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور عنبسہ بن ابی سفیان کے درمیان کچھ رنجش تھی نوبت لڑائی تک جا پہنچی سیدنا خالد بن عاص رضی اللہ عنہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی وہ کہنے لگے کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارآ جائے وہ شہید ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 141.
حدیث نمبر: 6923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ ، ثُمَّ عَجَزَ ، فَهُوَ رَقِيقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام سے سو اوقیہ بدل کتابت اداء کر نے پر آزادی کا وعدہ کر لیا جائے اور وہ نوے اوقیہ ادا کر دے پھر عاجز آجاتے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا (تا آنکہ مکمل ادائیگی کر دے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدبالوں کو نوچنے سے منع فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره.
حدیث نمبر: 6925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَدْرُونَ مَنْ الْمُسْلِمُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " ، قَالَ : تَدْرُونَ مَنْ الْمُؤْمِنُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ فَاجْتَنَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جانتے ہو کہ مسلم کون ہوتا ہے ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ؟ فرمایا : ” جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں پھر پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ مومن کون ہوتا ہے ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا : ” جس کی طرف سے دوسرے مؤمنین کی جان ومال محفوظ ہو اور اصل مہاجر وہ ہے جو گناہوں کو چھوڑ دے اور ان سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : إِنِّي لَأُسَايِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَمُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لِعَمْرٍو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " ، يَعْنِي عَمَّارًا ، فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ : اسْمَعْ مَا يَقُولُ هَذَا ، فَحَدَّثَهُ فَقَالَ : أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءَ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ جب سیدہ امیر معاویہ و رضی اللہ عنہ جنگ صفین سے فارغ ہو کر آ رہے تھے تو میں ان کے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے درمیان چل رہا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے والد سے کہنے لگے اباجان کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ افسوس ! اے سمیہ کے بیٹے تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ اس کی بات سن رہے ہیں ؟ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم ہمیشہ ایسی ہی پریشان کن خبریں لے آنا کیا ہم نے انہیں شہید کیا ہے ؟ انہوں کو ان لوگوں نے ہی شہید کیا ہے جو انہیں لے کر آئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6927
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي الضَّرِيرَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح.
حدیث نمبر: 6928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ . وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ ، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا ، وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر روزہ رکھتے ہوئے اور ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں بائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بَنْ عَمرو : لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : كَذَا قَالَ أَبِي : يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا تُغْنِي عَنَّا مَجْنُونَكَ يَا عَمْرُو ؟ ! فَمَا بَالُكَ مَعَنَا ؟ قَالَ : إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ " فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ .
مولانا ظفر اقبال
خنظلہ بن خویلد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیا ہے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تمہیں چاہئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو اے عمرو ! اپنے اس دیوانے سے ہمیں مستغنی کیوں نہیں کر دیتے ؟ انہوں نے فرمایا : ” کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لئے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيِدَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَقُولَ فِي ذَلِكَ إِلَّا حَقًّا " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ فِي حَدِيثِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَأَكْتُبُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں انہیں لکھ لیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں میں نے پوچھا رضامندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں کیونکہ میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 6931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِث ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ ، قَالَ : عَبْدُ الصَّمَدِ : ابْنُ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ ، فَلَا تَلْبَسْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصفر رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر دیکھے تو فرمایا : ” یہ کافروں کا لباس ہے اسے مت پہنا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2077.
حدیث نمبر: 6932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا تَمْلِكُونَ ، وَلَا عَتَاقَ فِيمَا لَا تَمْلِكُونَ ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا لَا تَمْلِكُونَ ، وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان جس خاتون کا (نکاح یاخرید کرے ذریعہ) مالک نہ ہو اسے طلاق دینے کا بھی حق نہیں رکھتا اپنے غیر مملوک کو آزاد کر نے کا بھی انسان کو کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی غیر مملوک چیز کی منت ماننے کا اختیار ہے اور اللہ کی معصیت میں منت نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةُ ، قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ ، إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، حَتَّى صَلَّوْا الْعَصْرَ ، ثُمَّ قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ " ، فَلَقِيَ مِنَ الْغَدِ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَقَتَلَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ عَدَا فِي الْحَرَمِ ، وَمَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، وَمَنْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي فُلَانًا عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ : " لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْأَثْلَبُ ؟ قَالَ : " الْحَجَرُ ، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ ، وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، َأَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً ، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنوخزاعہ کے علاوہ سب لوگ اپنے اسلحے کو روک لو اور بنوخزاعہ کو بنو بکر پر نماز عصرتک کے لئے اجازت دے دی، پھر ان سے بھی فرمایا : ” کہ اسلحہ روک لو اس کے بعد بنوخزاعہ کا ایک آدمی مزدلفہ سے اگلے دن بنو بکر کے ایک آدمی سے ملا اور اسے قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمرخانہ کعبہ کے ساتھ لگا رکھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں لوگوں میں سے اللہ کے معاملے میں سب سے آگے بڑھنے والا وہ شخص ہے جو کسی حرم شریف میں قتل کرے یا کسی ایسے شخص کو قتل کرے جو قاتل نہ ہو یا دور جاہلیت کی دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کرے۔ اسی اثناء میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگے کہ فلاں بچہ میرا بیٹا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں اس دعویٰ کا کوئی اعتبار نہیں جاہلیت کا معاملہ ختم ہوچکا، بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں پھر دیت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : ” انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں سر کے زخم میں پانچ پانچ اونٹ ہیں پھر نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نفل نماز نہیں ہے اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک بھی کوئی نفل نماز نہیں ہے اور فرمایا : ” کہ کوئی شخص کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کرے اور کسی عورت کے لئے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ قبول کر نے کی اجازت نہیں اور زمانہ جاہلیت کے معاہدے پورے کیا کرو کیونکہ اسلام نے اس کی شدت میں اضافہ ہی کیا ہے البتہ اسلام میں ایسا کوئی نیا معاہدہ نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، ولبعضه شواهد يصح بها.
حدیث نمبر: 6934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّمْسَ حِينَ غَرَبَتْ ، فَقَالَ : " فِي نَارِ اللَّهِ الْحَامِيَةِ ، لَوْلَا مَا يَزَعُهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ لَأَهْلَكَتْ مَا عَلَى الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے اگر اللہ اپنے حکم سے اس سے نہ بچاتا تو یہ زمین پر موجود ساری چیزیں تباہ کر دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مولى عبد الله بن عمرو.
حدیث نمبر: 6935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا حق نہ پہچانے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وعنعن.
حدیث نمبر: 6936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ وَهُوَ يَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ ، قَالَ : وَ سَأَلَهُ عَنِ الثِّمَارِ وَمَا كَانَ فِي أَكْمَامِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ بِفَمِهِ ، وَلَمْ يَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، وَمَنْ وُجِدَ قَدْ احْتَمَلَ فَفِيهِ ثَمَنُهُ مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ ، فَمَا أَخَذَ مِنْ جِرَانِهِ ، فَفِيهِ الْقَطْعُ ، إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَجِدُ فِي السَّبِيلِ الْعَامِرِ مِنَ اللُّقَطَةِ ، قَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَجِدُ فِي الْخَرِبِ الْعَادِيِّ ؟ قَالَ : " فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا : ” کہ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص خوشوں سے توڑ کر پھل چوری کر لے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے جو پھل کھا لئے اور انہیں چھپا کر نہیں ان پر تو کوئی چیز واجب نہیں ہو گی لیکن جو پھل وہ اٹھا کر لے جائے تو اس کی دوگنی قیمت اور پٹائی اور سزا واجب ہو گی اور اگر وہ پھلوں کو خشک کر نے کی جگہ سے چوری کئے گئے اور ان کی مقدار کم از کم ایک ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! اس گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی آباد علاقے کے راستے میں ملے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورے ایک سال تک اس کی تشہیر کر اؤ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کر دو ورنہ وہ تمہاری ہے اس نے کہا کہ اگر یہی چیز کسی ویرانے میں ملے تو ؟ فرمایا : ” اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ ، وَقَالَ : " هُوَ نُورُ الْمُؤْمِنِ " ، وَقَالَ : " مَا شَابَ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ شَيْبَةً ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةٌ ، وَكُتِبَتْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بالوں کو نوچنے سے منع فرمایا ہے کہ یہ مسلمانوں کا نور ہے جس مسلمان کے بال حالت میں اسلام میں سفید ہوتے ہیں اس کے ہر بال پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے یا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره.
حدیث نمبر: 6938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ إِلَى أَبِي الْعَاصِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ ، قًَالَ عَبِدُ اللهَ بْنُ أَحَمْد : قَالَ أَبِي : فِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ رَدَّ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ ، أَوْ قَالَ : وَاهٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ الْحَجَّاجُ مِنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ ، وَالْعَرْزَمِيُّ لَا يُسَاوِي حَدِيثُهُ شَيْئًا ، وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ الَّذِي رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّهُمَا عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدنا زینب رضی اللہ عنہ کو اپنے داماد ابوالعاص کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے بعد واپس بھیجا تھا۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ حجاج کا سماع عمرو بن شعیب سے ثابت نہیں صحیح حدیث یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا پہلا نکاح ہی برقرار شمار کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة كثير الخطأ والتدليس.
حدیث نمبر: 6939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِمَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِأَسْوِرَةٍ مِنْ نَارٍ ؟ " قَالَتَا : لَا ، قَالَ : " فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ دو یمنی عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم دونوں اس بات کو پسند کر تی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ وہ کہنے لگیں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، وَمُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ ، وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی خائن مرد و عورت کی گواہی مقبول نہیں نیز جس شخص کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو یا وہ آدمی جو ناتجربہ کار ہو اس کی گواہی بھی اس کے بھائی کے حق میں مقبول نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوَتْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا : ” ہے اور وہ وتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ ، أَصِلُ وَيَقْطَعُونَ ، وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَ ، وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَ ، أَفَأُكَافِئُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا ، إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا ، وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے رشتہ داری جو ڑتاہوں وہ توڑتے ہیں میں ان سے درگزر کرتا ہوں وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں میں ان کے ساتھ اچھاسلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برا کرتے ہیں کیا میں بھی ان کا بدلہ دے سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ورنہ تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا تم فضیلت والا پہلواختیار کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو اور جب تک تم ایسا کرتے رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ مستقل ایک معاون لگا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّاجِعُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے ہدیئے کو واپس مانگنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کتا قے کر کے اس کو چاٹ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَنْتِفُ شَعَرَهُ ، وَيَدْعُو وَيْلَهُ ! فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَالَكَ " ، قَالَ : وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : لَا أَجِدُهَا ، قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، قَالَ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، قَالَ : " خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا ، قَالَ : " كُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اپنے بال نوچتا اور واویلا کرتا ہوا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک غلام آزاد کر دو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں ؟ نبی کریم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکر ا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکر ا کر فرمایا : ” جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھالیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 6945
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَزَادَ بَدَنَةً ، قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ : وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا مَكَانَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 6946
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ نَوْفًا ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو اجْتَمَعَا ، فَقَالَ نَوْفٌ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ العاص : وَأَنَا أُحَدِّثُكَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاتَ لَيْلَةٍ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ ، وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَثُورَ النَّاسُ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ، فَجَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، رَافِعًا إِصْبَعَهُ هَكَذَا ، وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَذَا رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ ، يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ ، يَقُولُ : يَا مَلَائِكَتِي ، انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ أَدَّوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور نوف کسی مقام پر جمع ہوئے نوف کہنے لگے۔۔۔۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی اور کہا کہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم لوگوں نے ایک دن مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی جانے والے چلے گئے اور بعد میں آنے والے بعد میں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اٹھا کر انتیس کا عدد بنایا اور آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ” اے گروہ مسلمین تمہیں خوشخبری ہو تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھولا ہے اور وہ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے ان بندوں نے ایک فرض ادا کر دیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد.
حدیث نمبر: 6947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، وَهَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ ، قَالَ هَوْذَةُ : الهِزَّانِيُّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي ، فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ ، لَمْ يَلْبَسْ مِنْ ذَهَبِ الْجَنَّةِ " ، وَقَالَ هَوْذَةُ : حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي ، فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد ضَرَبَ أَبِي عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ضَرَبَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ ، وَإِنَّمَا هُوَ مَيْمُونُ بْنُ أَسْتَاذَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنِ الصَّدَفِيِّ ، وَيُقَالُ : إِنَّ مَيْمُونَ هَذَا هُوَ الصَّدَفِيُّ لِأَنَّ سَمَاعَ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ مِنَ الْجُرَيْرِيِّ آخِرَ عُمُرِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے وہ جنت کا سونا نہیں پہن سکے گا یا یہ کہ اللہ اس پر جن کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں جو شخص ریشم پہنتا ہے اور اسی حال میں میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا ریشم حرام قرار دے دیتا ہے عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والدامام احمدرحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو کاٹ دیا تھا کیونکہ اس میں سند کی غلطی پائی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ ، عَنِ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُرْبَهَا فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَتَحَلَّى الذَّهَبَ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سے جو شخص شراب پیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کی شراب حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد بن هارون سمع من الجريري بعد ما اختلط.
حدیث نمبر: 6949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ ، أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام سے سو اوقیہ بدل کتابت اداء کر نے پر آزادی کا وعدہ کر لیا جائے اور وہ نوے اوقیہ ادا کر دے تب بھی وہ غلام ہی رہے گا (تا آنکہ مکمل ادائیگی کر دے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن.
حدیث نمبر: 6950
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي ثُمَامَةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُوضَعُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَهَا حُجْنَةٌ كَحُجْنَةِ الْمِغْزَلِ ، تَتَكَلَّمُ بِأَلْسِنَةٍ طُلْقٍ ذُلْقٍ ، فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا ، وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن رحم کو چرخے کی طرح ٹیڑھی شکل میں پیش کیا جائے گا اور وہ انتہائی فصیح وبلیغ زبان میں گفتگو کر رہا ہو گا جس نے اسے جوڑا ہو گا وہ اسے جوڑ دے گا اور جس نے اسے توڑا ہو گا وہ اسے توڑ دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى ثمامة الثقفي.
حدیث نمبر: 6951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ عَشَرَةُ أَيَّامٍ " ، قَالَ : زِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ تِسْعَةُ أَيَّامٍ " ، قَالَ : زِدْنِي فَإِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ ثَمَانِيَةُ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو دس کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں نو کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں آٹھ روزوں کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.