حدیث نمبر: 6872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو سَبْرَةَ رَجُلٌ مِنْ صَحَابَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ : فَإِنَّ أَبَاكَ حِينَ انْطَلَقَ وَافِدًا إِلَى مُعَاوِيَةَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَحَدَّثَنِي مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ ، حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمْلَاهُ عَلَيَّ ، وَكَتَبْتُهُ ، قَالَ فَإِنِّي أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْرَقْتَ هَذَا الْبِرْذَوْنَ حَتَّى تَأْتِيَنِي بِالْكِتَابِ ، قَالَ : فَرَكِبْتُ الْبِرْذَوْنَ ، فَرَكَضْتُهُ حَتَّى عَرِقَ ، فَأَتَيْتُهُ بِالْكِتَابِ ، فَإِذَا فِيهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخَوَّنَ الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ ، وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ ، وَسُوءُ الْجِوَارِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ ، نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ ، وَلَمْ تَنْقُصْ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ ، أَكَلَتْ طَيِّبًا ، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا ، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ وَلَمْ تَفْسُدْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ : " أَلَا إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ ، أَوْ قَالَ صَنْعَاءَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ ، هُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا " ، قَالَ أَبُو سَبْرَةَ : فَأَخَذَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِتَابَ ، فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ ، فَلَقِيَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَنَا أَحْفَظُ لَهُ مِنِّي لِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا كَانَ فِي الْكِتَابِ ، سَوَاءً .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے وجود میں شک تھا اس کے ہم نشینوں میں سے ابو سبرہ نے اس سے کہا کہ تمہارے والد نے ایک مرتبہ کچھ مال دے کر مجھے سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میری ملاقات سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی انہوں نے وہ حدیث مجھے املاء کروائی اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے کسی ایک حرف کی بھی کمی پیشی کے بغیر لکھا اس نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اس گھوڑے کو پسینے میں غرق کر کے میرے پاس وہ تحریر لے آؤ چنانچہ میں اس گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے ایڑ لگا دی میں وہ تحریر لایا تو پسینے میں ڈوبا ہوا تھا اس میں یہ لکھا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بےتکلف یا بتکلف کسی قسم کی بےحیائی کو پسند نہیں کرتا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر طرف بےحیائی عام نہ ہو جائے قطع رحمی غلط اور برا پڑوس عام نہ ہو جائے اور جب تک خائن کو امین اور امین کو خائن نہ سمجھاجانے لگے اور فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مسلمان کی مثال سونے کے ٹکڑے جیسی ہے کہ اگر اس کا مالک اس پر پھونکیں مارے تو اس میں کوئی تبدیلی یا نقص واقع نہیں ہوتا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مسلمان کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے جو اچھا کھاتی ہے اور اچھا بناتی ہے اسے گرنے پر توڑا جاتا ہے اور نہ ہی وہ خراب کر تی ہے اور فرمایا : ” یاد رکھو ! میرا ایک حوض ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے یعنی ایلہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک جو تقریبا ایک ماہ مسافت بنتی ہے اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہو گا جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ عبیداللہ بن زیاد نے وہ صحیفہ لے کر اپنے پاس رکھ لیا جس پر مجھے گھبراہٹ ہوئی پھر یحییٰ بن یعمر سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس کا شکوہ کیا انہوں نے کہا کہ واللہ وہ مجھے قرآن کی کسی سورت سے زیادہ یاد ہے چنانچہ انہوں نے مجھے وہ حدیث اسی طرح سنا دی جیسے اس تحریر میں لکھی تھی۔
حدیث نمبر: 6873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : جَمَعْتُ الْقُرْآنَ ، فَقَرَأْتُهُ فِي لَيْلَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ ، وَأَنْ تَمَلَّ ، اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قُلْتُ : أَيْ رَسُول اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْ بِهِ فِي عِشْرِينَ " ، قُلْتُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْ بِهِ فِي عَشْرٍ " ، قُلْتُ : أي رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ سَبْعٍ " ، قُلْتُ : أي رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي ، فَأَبَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قرآن کریم یاد کیا اور ایک رات میں سارا قرآن پڑھ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا : ” مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد تم تنگ ہو گے ہر مہینے میں ایک مرتبہ قرآن کریم پورا کیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اپنی طاقت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے اسی طرح تکرار ہوتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیس دس اور سات دن کہہ کر رک گئے میں نے سات دن سے کم کی اجازت بھی مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 6874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ ، قَالَ : فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ ؟ فَلَا تَفْعَلْ ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا ، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا ، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " ، قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ " ، قَالَ : فَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " ، قَالَ : مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ عَطَاءٌ : فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ : " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ " مَرَّتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا یا یوں ہی ملاقات ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم وہی ہو جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا ؟ ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے تمہارے نفس اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے اس لئے قیام بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو روزہ بھی رکھو اور ناغہ بھی کیا کرو اور ہر دس دن میں صرف ایک روزہ رکھا کرو تمہیں مزید نو روزے رکھنے کا ثواب ہو گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ میں اس سے زیادہ کر نے کی طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! سیدنا داؤدعلیہ السلام کس طرح روزہ رکھتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے میں نے عرض کیا کہ میں اے اللہ کے نبی ! یہ کیسے کر سکتا ہوں ؟ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ بھی فرمایا : ” کہ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے وہ کوئی روزہ نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 6875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَجُلٌ صَالِحٌ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ ، وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا ، وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرَّجُلِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ : الْهُذَلِيُّ فَقُلْتُ : هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
بنوہذیل کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کا گھر حرم سے باہر اور مسجد حرم کے اندر تھی میں ان کے پاس ہی تھا کہ ان کی نظر ابوجہل کی بیٹی ام سعیدہ پر پڑی جس نے گلے میں کمان لٹکا رکھی تھی اور وہ مردانہ چال چل رہی تھی سیدنا عبداللہ کہنے لگے یہ کون عورت ہے ؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ ابوجہل کی بیٹی ام سعیدہ ہے اس پر انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مردوں کی مشابہت اختیار کر نے والی عورتیں اور عورتوں کی مشابہت اختیار کر نے والے مرد ہم میں سے نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 6876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَسَأَلَنِي وَهُوَ يَظُنُّ أَنِّي لِأُمِّ كُلْثُومٍ ابْنَةِ عُقْبَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّمَا أَنَا لِلْكَلْبِيَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ، فَقَالَ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ؟ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَاقْرَأْهُ فِي نِصْفِ كُلِّ شَهْرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ ، لَا تَزِيدَنَّ ، وَبَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي لَأَصُومُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ يَوْمَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ ، صُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ ، وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سمجھے کہ میں ام کلثوم بنت عقبہ کا بیٹا ہوں چنانچہ انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق پوچھا میں نے انہیں بتایا کہ میں کلبیہ کا بیٹا ہوں پھر انہوں نے فرمایا : ” کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایک دن رات میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہو ؟ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر پندرہ دن میں مکمل کر لیا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے بھی زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر سات راتوں میں مکمل کر لیا کرو اور اس پر اضافہ نہ کرنا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا : ” پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو یہ بہترین روزہ ہے اور عدہ خلافی نہیں کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 6877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِصِيَامٍ ، قَالَ : " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، فَزِدْنِي ، قَالَ : " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، فَزِدْنِي ، قَالَ : " فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ " ، قَالَ : فَمَا زَالَ يَحُطُّ لِي ، حَتَّى قَالَ : " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ ، أَوْ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ " شَكَّ الْجُرَيْرِيُّ " صُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا " ، فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ لَمَّا ضَعُفَ لَيْتَنِي كُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے روزے کے حوالے سے کوئی حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک دن روزہ رکھو تو نو کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” دو دن روزہ رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا : ” تین روزے رکھو تمہیں سات روزوں کا ثواب ملے گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کے آخر میں فرمایا : ” روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا ہے اس لئے ایک دن ورزہ رکھا کرو اور ایک دن ناغہ کیا کرو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب بوڑھے ہو گئے تو کہنے لگے اے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر قناعت کر لی ہوتی۔
حدیث نمبر: 6878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ بَيْتَهُ ، فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَكَلَّفُ قِيَامَ اللَّيْلِ وَصِيَامَ النَّهَارِ ؟ " ، قَالَ : إِنِّي لَأَفْعَلُ ، فَقَالَ : " إِنَّ حَسْبَكَ ، وَلَا أَقُولُ افْعَلْ ، أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ، فَكَأَنَّكَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " ، قَالَ : فَغَلَّظْتُ فَغُلِّظَ عَلَيَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي لَأَجِدُ قُوَّةً مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ حَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " ، قَالَ : فَغَلَّظْتُ فَغُلِّظَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : إِنِّي لَأَجِدُ بِي قُوَّةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ ، نِصْفُ الدَّهْرِ " ، ثُمَّ قَالَ : " لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ ، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ " ، قَالَ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ ذَلِكَ الصِّيَامَ ، حَتَّى إذا أَدْرَكَهُ السِّنُّ وَالضَّعْفُ ، كَانَ يَقُولُ : لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ہی ہو جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں روزانہ رات کو قیام اور دن کو صیام کروں گا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! ! میں نے ہی کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ ہر مہینے صرف تین دن روزہ رکھا کرو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا میں نے خود ہی اپنے اوپر سختی کی لہٰذا مجھ پر سختی ہو گئی میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ہر ہفتے میں تین روزے رکھ لیا کرو میں نے سختی کی لہٰذا مجھ پر سختی ہو گئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ میں اس سے زیادہ افضل کی طاقت رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو یہ روزہ کا معتدل ترین طریقہ ہے اور یہی سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ صیام ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر تمہارے نفس اور تمہارے نفس اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اس طریقے کے مطابق روزے رکھتے رہے حتیٰ کہ وہ بوڑھے اور کمزور ہو گئے اس وقت وہ کہا کرتے تھے کہ اب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرنا اپنے اہل خانہ اور مال و دولت سے بھی زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 6879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُهُ ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ إِذَا كُنَّ فِي الرَّجُلِ فَهُوَ الْمُنَافِقُ الْخَالِصُ : إِنْ حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِنْ وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِنْ اؤْتُمِنَ خَانَ ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ ، لَمْ يَزَلْ يَعْنِي ، فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ ، حَتَّى يَدَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزیں جس شخص میں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان تینوں میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک شعبہ موجود ہے جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔
حدیث نمبر: 6880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إسحاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ دَارَهُ ، فَسَأَلَنِي ، وَهُوَ يَظُنُّ أَنِّي مِنْ بَنِي أُمِّ كُلْثُومٍ ابْنَةِ عُقْبَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا أَنَا لِلْكَلْبِيَّةِ ابْنَةِ الْأَصْبَغِ ، وَقَدْ جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْكَ أَوْ قَالَ لَكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَلَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي ، فَجَاءَنِي ، فَدَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي ، فَقَالَ : " أَلَمْ يَبْلُغْنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ أَنَّكَ تَقُولُ : لَأَصُومَنَّ الدَّهْرَ ، وَلَأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى قُلْتُ ذَاكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلْ ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَصُمْ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " فَصُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ ، وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَكَانَ لَا يُخْلِفُ إِذَا وَعَدَ ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى ، وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي لَأَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ نِصْفِ شَهْرٍ مَرَّةً " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ ، لَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ " ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سمجھے کہ میں ام کلثوم بنت عقبہ کا بیٹا ہوں چنانچہ انہوں نے مجھ سے ان کے متعلق پوچھا میں نے انہیں بتایا کہ میں کلبیہ کا بیٹا ہوں اور آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کیا نصیحت فرمائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : ” میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کہا کرتا تھا کہ میں ایک دن رات میں پورا قرآن مکمل کر لیا کروں گا اور ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایک دن میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہو ؟ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر سات راتوں میں مکمل کر لیا کرو اور اس پر اضافہ نہ کرنا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیر اور جمعرات کا روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں اپنے اندر اس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر سیدنا داؤدعلیہ السلام کی طرح ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو یہ بہترین روزہ ہے اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے اور دشمن سے سامنا ہونے پر بھاگتے نہیں تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔
حدیث نمبر: 6881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ : جَلَسَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ ، أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ ، قَالَ : فَانْصَرَفَ النَّفَرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا ، قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ ضُحًى ، فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى إِثَرِهَا " ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ : وَأَظُنُّ أُولَاهَا خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَذَلِكَ أَنَّهَا كُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ ، فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ ، حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ ، فَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ ، فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ ، فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ ، وَعَرَفَتْ أَنَّهُ إِنْ أُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكْ الْمَشْرِقَ ، قَالَتْ : رَبِّ ، مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ ، مَنْ لِي بِالنَّاسِ ؟ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طَوْقٌ ، اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ ، فَيُقَالُ لَهَا : مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلُعِي ، فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 .
مولانا ظفر اقبال
ابوزرعہ بن عمرورحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسے علامات قیامت کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلی علامت دجال کا خروج ہے وہ لوگ واپسی پر سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مروان سے سنی ہوئی حدیث بیان کر دی انہوں نے فرمایا : ” اس نے کوئی مضبوط بات نہیں کہی میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی حدیث سنی ہے جو میں اب تک نہیں بھولا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے پھر چاشت کے وقت دابۃ الارض کا خروج ہونا ہے ان دونوں میں سے جو بھی علامت پہلے ظاہر ہو جائے گی دوسری اس کے فورا بعد رونما ہو جائے گی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو کہ گزشتہ آسمانی کتابیں بھی پڑھے ہوئے تھے کہتے تھے کہ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ روزانہ سورج جب غروب ہوجاتا ہے تو عرش الہٰی کے نیچے آ کر سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت مل جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا کہ وہ مغرب سے طلوع ہو تو وہ حسب معمول عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو کر جب واپسی کی اجازت مانگے گا تو اسے کوئی جواب نہ دیا جائے گا تین مرتبہ اسی طرح ہو گا جب رات کا اتناحصہ بیت جائے گا جو اللہ کو منظور ہو گا اور سورج کو اندازہ ہو جائے گا کہ اب اگر اسے اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا کہ پروردگار ! مشرق کتنا دور ہے ؟ مجھے لوگوں تک کون پہنچائے گا ؟ جب افق ایک طوق کی طرح ہو جائے گا تو اسے واپس جانے کی اجازت مل جائے گی اور اس سے کہا جائے گا کہ اسی جگہ سے طلوع کرو چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس دن آپ کے رب کی کچھ نشانیاں ظاہر ہو گئیں تو اس شخص کو " جو اب تک ایمان نہیں لایا اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے سکے گا "
حدیث نمبر: 6882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، قَالَ غُنْدَرٌ : نُبَيْطِ بْنِ سُمَيْطٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ : نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ ، وَلَا عَاقٌّ وَالِدَيْهِ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی احسان جتانے والا اور کوئی والدین کا نافرمان اور کوئی عادی شرابی جنت میں داخل نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 6883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا ؟ فَقَالَ : " عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ لَمْ يُتِمُّوا الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : " أَسْبِغُوا " يَعْنِي الْوُضُوءَ " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " ، أَوْ " الْأَعْقَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نوافل پڑھنے کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے ؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔“ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اچھی طرح وضو نہیں کر رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو۔“
حدیث نمبر: 6884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کبیرہ گناہ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا (کسی کو قتل کرنا) اور جھوٹی قسم کھانا۔
حدیث نمبر: 6885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ ، حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ ، وَالْحَيُّ بَعْدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْشَدْتُهُ : يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ " : فَجَعَلَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اعشی مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ اشعار پیش کئے جن کا ترجمہ یہ ہے اے لوگوں کے بادشاہ اور عرب کو دینے والے میں ایک بدزبان عورت سے ملا، میں رجب کے مہینے میں اس کے لئے کھانے کی تلاش میں نکلا پیچھے سے اس نے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا، اس نے وعدہ خلافی کی اور دم سے مارا یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے۔ فائدہ۔ اس کی مکمل وضاحت اگلی روایت میں آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 6886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : الْأَعْشَى ، وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ ، كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا : مُعَاذَةُ ، خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ ، فَهَرَبَتْ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ ، نَاشِزًا عَلَيْهِ ، فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قَمَيْشَعِ بْنِ دُلَفَ بْنِ أَهْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بَنْ بُهْصُل ، فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ ، وَأُخْبِرَ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ ، وَأَنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَمِّ ، أَعِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ ؟ فَادْفَعْهَا إِلَيَّ ، قَالَ : لَيْسَتْ عِنْدِي ، وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ ، قَالَ : وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَ بِهِ ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ : يَا سَيِّدَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِلَيْكَ أَشْكُو ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ كَالذِّئْبَةِ الْغَبْشَاءِ فِي ظِلِّ السَّرَبْ خَرَجْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَقَذَفَتْنِي بَيْنَ عِيصٍ مُؤْتَشَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ " ، فَشَكَا إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَمَا صَنَعَتْ بِهِ ، وَأَنَّهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلٍ ، فَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَى مُطَرِّفٍ ، انْظُرْ امْرَأَةَ هَذَا مُعَاذَةَ ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " ، فَأَتَاهُ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُرِئَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا : يَا مُعَاذَةُ ، هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكِ ، فَأَنَا دَافِعُكِ إِلَيْهِ ، قَالَتْ : خُذْ لِي عَلَيْهِ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ لَا يُعَاقِبُنِي فِيمَا صَنَعْتُ ، فَأَخَذَ لَهَا ذَاكَ عَلَيْهِ ، وَدَفَعَهَا مُطَرِّفٌ إِلَيْهِ ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ : لَعَمْرُكَ مَا حُبِّي مُعَاذَةَ بِالَّذِي يُغَيِّرُهُ الْوَاشِي وَلَا قِدَمُ الْعَهْدِ وَلَا سُوءُ مَا جَاءَتْ بِهِ إِذْ أَزَالَهَا غُوَاةُ الرِّجَالِ إِذْ يُنَاجُونَهَا بَعْدِي .
مولانا ظفر اقبال
نظلہ بن طریف کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کا ایک آدمی تھا جسے اعشی کہا جاتا تھا اس کا اصل نام عبداللہ بن اعور تھا اس کے نکاح میں جو عورت تھی اس کا نام معاذہ تھا ایک مرتبہ اعشی رجب کے مہینے میں ہجر نامی علاقے سے اپنے اہل خانہ کے لئے غلہ لانے کے لئے روانہ ہوا پیچھے سے اس کی بیوی اس سے ناراض ہو کر گھر سے بھاگ گئی اور اپنے قبیلے کے ایک آدمی کے یہاں پناہ لی جس کا نام مطرف بن بہصل۔۔۔۔۔۔ تھا اس نے اسے اپنی پناہ فراہم کر دی۔ جب اعشی واپس آیا تو گھر میں بیوی نہ ملی پتہ چلا کہ وہ ناراض ہو کر گھربھاگ گئی ہے اور اب مطرف بن بہصل کی پناہ میں ہے اعشی یہ سن کر مطرف کے پاس آیا اور کہنے لگا اے میرے چچازادبھائی ! کیا میری بیوی معاذہ آپ کے پاس ہے ؟ اسے میرے حوالے کر دیں اس نے نے کہا کہ وہ میرے پاس نہیں ہے اگر ہوتی بھی تو میں اسے تیرے حوالے نہ کرتا مطرف دراصل اس کی نسبت زیادہ طاقتور تھا چنانچہ اعشی وہاں سے نکل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار کہتے ہوئے ان کی پناہ چاہی اے لوگوں کے سردار اور عرب کو دینے والے ! میں آپ کے پاس ایک بدزبان عورت کی شکایت لے کر آیا ہوں وہ اس مادہ بھیڑیے کی طرح ہے جو سراب کے سائے میں دھوکہ دے دیتی ہے ماہ رجب میں اس کے لئے غلہ کی تلاش میں نکلا تھا اس نے پیچھے سے مجھے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دم ماری اور اس نے مجھے سخت مشکل میں مبتلا کر دیا اور یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ غالب رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہ آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے اس کے بعد اعشی نے اپنی بیوی کی شکایت کی اور اس کا سارا کارنامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور یہ بھی کہ اب وہ انہی کے قبیلے کے ایک آدمی کے پاس ہے جس کا نام مطرف بن بہصل ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطرف کو یہ خط لکھا کہ دیکھو اس شخص کی بیوی معاذہ کو اس کے حوالے کر دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جب اس کے پاس پہنچا اور اسے پڑھ کر سنایا گیا تو اس نے اس عورت سے کہا کہ معاذہ یہ تمہارے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ہے اس لئے میں تمہیں اس کے حوالے کر رہا ہوں اس نے کہا کہ اس سے میرے لئے عہد و پیمان لے لئے اور اسے اس کے حوالے کر دیا اس پر اعشی نے یہ اشعار کہے تیری عمر کی قسم معاذہ تجھ سے میری محبت ایسی نہیں ہے جسے کوئی رنگ بدل سکے یا زمانہ کا بعد اسے متغیر کر سکے اور نہ ہی اس حرکت کی برائی جو اس سے صادر ہوئی جبکہ اسے بہکے ہوئے لوگوں نے پھسلا لیا اور میرے پیچھے اس سے سرگوشیاں کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 6887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى ، قَالَ : فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، فَقَالَ : " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ ، فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " فَارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ ، إِلَّا قَالَ : " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَجَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " رْمِ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروا لیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہی فرمایا : ” اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 6888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 6889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَمَّا سَمِعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَسْأَلُكَ عَنِ التَّوْرَاةِ ! فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے وہ حدیث پوچھتا ہوں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے وہ نہیں پوچھتاجو تورات میں ہے انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
حدیث نمبر: 6890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ الْقَاضِي أَبُو سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حَنَانٍ الْقَاصِّ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ، لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ؟ خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ ، فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا ، أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ الْهِجْرَةُ ، إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ ، أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ ، أَوْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً ، أَمْ إِذَا مُتَّ انْقَطَعَتْ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ ؟ " ، قَالَ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ ، وَإِنْ مُتَّ بِالْحَضْرَمَةِ " ، قَالَ : يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ ثِيَابَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَتُنْسَجُ نَسْجًا ، أَمْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فَكَأَنَّ الْقَوْمَ تَعَجَّبُوا مِنْ مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ ! فَقَالَ : " مَا تَعْجَبُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا ؟ " ، قَالَ : فَسَكَتَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالَ : أَنَا ، قَالَ : " لَا ، بَلْ تُشَقَّقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
فرزدق بن حنان نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں سے کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جسے میرے کانوں نے سنا میرے دل نے اسے محفوظ کیا اور میں اسے اب تک نہیں بھولا ؟ میں ایک مرتبہ عبیداللہ بن حیدہ کے ساتھ شام کے راستے میں نکلا ہمارا گزر سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اس کے بعد انہوں نے حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تم دونوں کی قوم سے ایک سخت طبیعت کا جری دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! آپ کی ہجرت کہاں کی جائے ؟ آیا جہاں کہیں بھی آپ ہوں یا کسی معین علاقے کی طرف ؟ یا یہ حکم ایک خاص قوم کے لئے ہے یا یہ کہ آپ کے وصال کے بعد ہجرت منقطع ہو جائے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیرتک سکوت فرمایا : ” پھر پوچھا کہ ہجرت کے متعلق سوال کر نے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ! میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو تو تم مہاجرہو خواہ تمہاری موت حضرمہ جو یمامہ کا ایک علاقہ ہے ہی میں ہو۔ پھر وہ آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! یہ بتائیے کہ جنتیوں کے کپڑے بنے جائیں گے یا ان سے جنت کا پھل چیر کر نکالا جائے گا ؟ لوگوں کو اس دیہاتی کے سوال پر تعجب ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کس بات پر تعجب ہو رہا ہے ایک ناواقف آدمی ایک عالم سے سوال کر رہا ہے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا : ” اہل جت کے کپڑوں کے متعلق پوچھنے والاکہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں یہاں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ اہل جنت کے کپڑے جنت کے پھل سے چیر کر نکالے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 6891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ ؟ فَقَالَ : " مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَأْكُلُ الشَّجَرَ ، وَتَرِدُ الْمَاءَ ، فَذَرْهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا " ، قَالَ : وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، اجْمَعْهَا إِلَيْكَ حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا " ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : " فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ " ، قَالَ : " فَمَا أُخِذَ مِنْ أَعْطَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ " ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا فِي السَّبِيلِ الْعَامِرِ ؟ قَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُوجَدُ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ ؟ قَالَ : " فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ اس کا "" سم "" اور اس کا "" مشکیزہ "" ہوتا ہے وہ خود ہی درختوں کے پتے کھاتا اور وادیوں کا پانی پیتا اپنے مالک کے پاس پہنچ جائے گا اس لئے تم اسے چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی منزل پر خود ہی پہنچ جائے اس نے پوچھا کہ گمشدہ بکر ی کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا تم اسے لے جاؤ گے یا تمہارا کوئی بھائی لے جائے گا یا کوئی بھیڑیا لے جائے گا تم اسے اپنی بکر یوں میں شامل کرو تاکہ وہ اپنے مقصود پر پہنچ جائے اس نے پوچھا وہ محفوظ بکر ی جو اپنی، چراگاہ میں ہو اسے چوری کر نے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی دوگنی قیمت اور سزا اور جسے باڑے سے چرایا گیا ہو تو اس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا جبکہ وہ ایک ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! اس گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے جو ہمیں کسی آبادعلاقے کے راستے میں ملے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورے ایک سال تک اس کی تشہیر کر اؤ اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کے حوالے کر دو ورنہ وہ تمہاری ہے اس نے کہا کہ اگر یہی چیز کسی ویرانے میں ملے تو ؟ فرمایا : ” اس میں اور رکاز میں خمس واجب ہے۔
حدیث نمبر: 6892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا مَنَّانٌ ، وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” والدین کا کوئی نافرمان، کوئی احسان جتانے والا اور کوئی عادی شرابی اور کوئی ولد زنا جنت میں داخل نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 6893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى أَنَّ الْمَرْأَةَ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا مَا لَمْ تَزَوَّجْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ عورت اپنے بچے کی زیادہ حقدار ہے جب تک وہ کسی اور سے شادی نہیں کر لیتی۔
حدیث نمبر: 6894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي قَاعِدًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ : " أَنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " ، وَأَنْتَ تُصَلِّي جَالِسًا ؟ قَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا میں نے عرض کیا مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 6895
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ، ثُمَّ مَرِضَ ، قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهِ : اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِيقًا ، حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ " .
حدیث نمبر: 6896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ إِيَّاهُ ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ ، كُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ ، فَيَتَّخِذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا ، فَيُسْتَفْتَوْا ، فَيُفْتُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَيَضِلُّوا ، وَيُضِلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے درمیان سے کھینچ لے گا بلکہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھالے گا حتٰی کہ جب ایک عالم بھی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے اور انہیں سے مسائل معلوم کیا کر یں گے وہ علم کے بغیر انہیں فتویٰ دیں گے نتیجہ یہ ہو گا کہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر یں گے۔
حدیث نمبر: 6897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُقْسِطُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْنَ يَدَيْ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، بِمَا أَقْسَطُوا فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں عدل و انصاف کر نے والے قیامت کے دن اپنے اس عدل و انصاف کی برکت سے رحمان کے سامنے موتیوں کے منبر پر جلوہ افروز ہوں گے۔
حدیث نمبر: 6898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَعَلَى الْوَادِي ، نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ ، قَدْ قَامَ وَقُمْنَا ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا حِمَارٌ مِنْ شِعْبِ أَبِي دُبٍّ ، شِعْبِ أَبِي مُوسَى ، فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُكَبِّرْ ، وَأَجْرَى إِلَيْهِ يَعْقُوبَ بْنَ زَمْعَةَ ، حَتَّى رَدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی وادی کے بالائی حصے میں تھے نماز پڑھنے کا ارادہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے اچانک شعب ابی دب کی جانب سے ایک گدھا ہمارے سامنے نکل آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور اس وقت تک تکبیر نہیں کہی جب تک یعقوب بن زمعہ نے دوڑ کر اسے بھگا نہ دیا۔
حدیث نمبر: 6899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ ، وَلَا ذِي غَمْرٍ عَلَى أَخِيهِ ، وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ ، وَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ لِغَيْرِهِمْ " ، وَالْقَانِعُ الَّذِي يُنْفِقُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْبَيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی خائن مرد و عورت کی گواہی اور کسی ناتجربہ کار آدمی کی اپنے بھائی کے متعلق گواہی مقبول نہیں نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوکر کی گواہی اس کے مالکان کے حق میں قبول نہیں فرمائی البتہ دوسرے لوگوں کے حق میں قبول فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 6900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا قَطْعَ فِيمَا دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دس درہم سے کم مالیت والی چیز چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹآ جائے گا۔
حدیث نمبر: 6901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبَّانِ أَنْ سَوَّرَكُمَا اللَّهُ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟ " قَالَتَا : لَا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَأَدِّيَا حَقَّ اللَّهِ عَلَيْكُمَا فِي هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ دو یمنی عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم دونوں اس بات کو پسند کر تی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ وہ کہنے لگیں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔
حدیث نمبر: 6902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَدْ احْتَاجَ إِلَى مَالِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میرا باپ میرے مال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
حدیث نمبر: 6903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا فَهِيَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر وہ نماز جس میں ذرا سی بھی قرأت نہ کی جائے وہ ناقص، ناقص، ناقص ہے۔
حدیث نمبر: 6904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ عَلَى أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ ، وَيَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان یہ تحریر لکھ دی کہ وہ دیت ادا کر یں اپنے قیدیوں کا بھلے طریقے سے فدیہ ادا کر یں اور مسلمانوں کے درمیان اصلاح کر یں۔
حدیث نمبر: 6905
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنَ النِّيَاحَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ میت کے گھر والوں کے پاس اکٹھا ہونا اور اس کے دفن ہونے کے بعد کھانا تیار کرنا نوحہ کا حصہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ يَوْمَ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق کے موقع پر دو نمازیں جمع فرمائیں۔
حدیث نمبر: 6907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس کے علاوہ کسی اور دوسری چیز میں خیر دیکھے تو خیر والا کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
حدیث نمبر: 6908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوَى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ ، فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ ، وَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ سورة غافر آية 28 .
مولانا ظفر اقبال
عروہ بن زبیررحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے کسی ایسے سخت واقعے کے متعلق بتایئے جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روا رکھا ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحن کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران عقبہ بن ابی معیط آگیا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کندھا پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک گردن میں کپڑا لپیٹ کر اسے زور زور سے گھونٹنا شروع کر دیا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ فورا آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر دور کیا اور فرمایا : ” کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو جس کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے جب کہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے واضح دلائل بھی لے کر آیا ہے۔
حدیث نمبر: 6909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، وَغَلَّظَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا جِئْتُكَ حَتَّى أَبْكَيْتُهُمَا يَعْنِي وَالِدَيْهِ ، قَالَ : " ارْجِعْ فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہجرت پر آپ سے بیعت کر نے کے لئے آیا ہوں اور (میں نے بڑی قربانی دی ہے کہ) اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واپس جاؤ اور جیسے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔
حدیث نمبر: 6910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، هُمَا يَسِيرٌ ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ : تُسَبِّحُ اللَّهَ عَشْرًا ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرُ اللَّهَ عَشْرًا ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ وَخَمْسُونَ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ ، وَتُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ عَطَاءٌ لَا يَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ ؟ قَالَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُومُ وَلَا يَقُولُهَا ، فَإِذَا اضْطَجَعَ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا " ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهُنَّ فِي يَدِهِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بَنْ أحمد سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيَّ ، سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ : : قَدِمَ عَلَيْنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الْبَصْرَةَ ، فَقَالَ لَنَا أَيُّوبُ : ائْتُوهُ فَاسْأَلُوهُ عَنْ حَدِيثِ التَّسْبِيحِ ؟ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو خصلتیں جنت میں پہنچا دیتی ہیں بہت آسان ہیں اور عمل میں بہت تھوڑی ہیں صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک تو یہ کہ ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ الحمدللہ اللہ اکبر سبحان اللہ کہہ لیا کرو اور دوسرا یہ کہ جب اپنے بستر پر پہنچو تو سو مرتبہ سبحان للہ اللہ اکبر اور الحمدللہ کہہ لیا کرو، پانچوں نمازوں اور رات کے اس عدد کو ملا کر زبان سے تو یہ کلمات ڈھائی سو مرتبہ اداہوں گے لیکن میزان عمل میں یہ ڈھائی ہزار کے برابر ہوں گے اب تم میں سے کون شخص ایسا ہے جو دن رات میں دھائی ہزار گناہ کرتا ہو گا ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ کلمات عمل کر نے والے کے لئے تھوڑے کیسے ہوئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس شیطان دوران نماز آ کر اسے مختلف کام کرواتا ہے اور وہ ان میں الجھ کر یہ کلمات نہیں کہہ پاتا اسی طرح سوتے وقت اس کے پاس آتا ہے اور اسے یوں سلا دیتا ہے اور وہ اس وقت بھی یہ کلمات نہیں کہہ پاتا، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کلمات کو اپنی انگلیوں پر گن کر پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا تَوَضَّئُوا لَمْ يُتِمُّوا الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اچھی طرح وضو نہیں کر رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے
…