حدیث نمبر: 6477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمَغِيرَةَ الضَّبَّيَّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مَنْ قُرَيْشٍ ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لا أَنْحَاشِ لهَا ، ممَّا بِي مِنَ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنَ الصَّوْمِ وِالصَّلاة ، فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا : كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلكِ ؟ قَالَتْ : خَيْرَ الرَّجَالِ ، أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ ، مِنْ رَجُلِ لَمْ يُفَتَّشْ لَنَا كَنَفاً ، وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشاً ! فَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَعَذَمَنِي وَعَضَّيِ بِلِسَانِهِ ، فَقَالَ : أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ ، فَعَضَلْتَهَا ، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ ! ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَانِي ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فّأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " أَتَصُومُ النَّهَارَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " وتَقُومُ اللَّيْل ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَكَّنِي أَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأُصَلَّي وَأَنَامُ ، وَأَمَسُّ النَّسَاء ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنَّي " ، قَالَ : " اقرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلَ ّشَهْرٍ " ، قُلْتُ : إِنَّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَاقْرَأْهُ فِي كُلَّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ " ، قُلْتُ : إِنَّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : إِمَّا حُصَيْنٌ وَإِمَّا مُغِيرَةُ ، قَالَ : " فَاقْرَأْهُ فِي كُلَّ ثَلاَثٍ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " صُمْ فِي كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " ، قُلْتُ : إِنَّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ : " صُمْ يَوْمًا وَافْطرْ يَومًا ، فَإِنَّهْ أَفْضَلُ الصيَّامٍ ، وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُد صَلَّى اللهُ عَلَيَهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ : ثُمَّ قال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإنَّ لكُلَّ عَابِدٍ شِرَّةً ، وَلِكُلَّ شِرَّةً فَتْرةً ، فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ ، وَإَمَّا إِلَى بدْعَةٍ ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ ، فَقَدْ اهْتَدَى ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، فَقَدْ هَلَكَ " ، قَالَ مُجَاهِدٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللهِ عَمْرٍو حَيْثُ ضَعُفَ وَكَبِر ، يَصُومُ الأيَّامَ كَذَلِكَ ، يَصِلُ بَعْضَهَا إِلى بَعْضٍ ، لِيَتَقَوَّى بَذَلِكَ ، ثُمَّ يُفْطِرُ بِعَدَّ تِلْكَ الأيَّامِ ، قَالَ : وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلَّ حِزْبِهِ كَذَلِكَ ، يزِيدُ أَحْيَانًا ويَنْقُصُ أَحْيَاناً ، غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ ، إِمَّا فِي سَبْعٍ ، وإِمَّا فِي ثَلاثَ ، قَالَ : ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ : لان أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَوْ عَدَلَ ، لَكِنَّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے والد نے قریش کی ایک خاتون سے میری شادی کر دی میں جب اس کے پاس گیا تو عبادات میں مثلاً نماز، روزے کی طاقت اور شوق کی وجہ سے میں نے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی، اگلے دن میرے والد سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ اس نے جواب دیا بہترین شوہر جس نے میرے سائے کی بھی جستجو نہ کی اور میرا بستر بھی نہ پہنچانا یہ سن کروہ میرے پاس آئے اور مجھے خوب ملامت کی اور زبان سے کاٹ کھانے کی باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے تیرا نکاح قریش کی ایک اچھے حسب نسب والی خاتون سے کیا اور تو نے اس لاپروائی کی اور یہ کیا اور یہ کیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا میں حاضر خدمت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کیا تم دن میں روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم رات میں قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں کے پاس بھی جاتا ہوں جو شخص میری سنت سے اعراض کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندراس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تین راتوں میں مکمل کر لیا کرو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا میں اپنے اندراس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا : ” پھر ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ یہ بہترین روزہ ہے اور یہ میرے بھائی سیدنا داؤدعلیہ السلام کا طریقہ رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر عابد میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا ایک انقطاع ہوتا ہے یا سنت کی طرف یا بدعت کی طرف جس کا انقطاع سنت کی طرف تو وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کا انقطاع کسی اور چیز کی طرف ہو تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تب بھی اسی طرح یہ روزے رکھتے رہے اور بعض اوقات کئی کئی روزے اکٹھے کر لیتے تاکہ ایک سے دوسرے کو تقویت رہے پھر اتنے دنوں کے شمار کے مطابق ناغہ کر لیتے اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت میں بھی بعض اوقات کمی بیشی کر لیتے البتہ سات یا تین کا عددضرور پورا کرتے تھے اور بعد میں کہا کرتے تھے کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت کو قبول کر لیتا تو اس سے اعراض کر نے سے زیادہ مجھے پسند ہوتا لیکن اب مجھے یہ گوار انہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس حال میں جدائی ہوئی ہو اس کی خلاف ورزی کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5052، م: 1159
حدیث نمبر: 6478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرنَيِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، عِنْ يَزِييدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عنْ عمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عبد اللهِ بْنِ عمْرٍو ، قَالَ : سَمَعْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ الَّنار " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ونَهَى عَنِ الْخَمْرِ ، وَالْمَيَسِرِ ، وَالْكُوبَةِ ، والْغُبَيْرَاءِ ، قَالَ : " وَكُلّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئےنیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب جوئے شطرنج اور چینا کی شراب کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا : ” ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن الوليد مجهول
حدیث نمبر: 6479
(حديث مرفوع) حَدّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ حَاتُمِ بَنُ أَبِي صَغِيرَةَ : عَنْ أبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وِسَلَّمَ : " مَا عَلَى الأرضِ رَجُلٌ يَقُولُ : لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، إِلَّا كُفَّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ ، وَلَوْ كَانَتْ أَكْثرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روئے زمین پر جو آدمی بھی یہ کہہ لے لاالہ الا اللہ اللہ اکبر، سبحان اللہ الحمدللہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ، یہ جملے اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، إلا أنه اختلف فى رفعه و وقفه، والموقوف أصح
حدیث نمبر: 6480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُليْمَانَ ، قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا الْحَضْرمِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّد ، عنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا منْ المُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلّّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلَّمَ فِي امْرَأة يُقًالُ لَهَا : أُمُّ مَهْزُولٍ ، وَكَانَتْ تُسَافِحُ ، وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيِْ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرهَا ؟ قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيْهِ نَبِي اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ سورة النور آية 3 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ " ام مہزول " نامی ایک عورت تھی جو بدکاری کر تی تھی اور بدکاری کر نے والے سے اپنے نفقہ کی شرط کروا لیتی تھی ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے قریب ہونے کی اجازت لینے کے لئے آیا یا یہ کہ اس نے اس کا تذکر ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ زانیہ عورت سے وہی نکاح کرتا ہے جو خود زانی ہو یا مشرک ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحضرمي شيخ سليمان بن طرخان والد معتمر
حدیث نمبر: 6481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ صَمَتَ نَجَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6482
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُف الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيِانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْقَسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُخَيْمرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وِسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَحَدٌ مِنَ النًَّاس يُصَابُ بِبِلَاء فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ ، فَقَالَ : اكْتُبُوا لعَبْدي كُلَّ يَوْم وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ ، مَا كَانَ فَي وِثَاقَي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی جسمانی طور پر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا ہے وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ وہ میری حفاظت میں رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عََهْدِ رَسُولِ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَأَطَالَ الْقيَام ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَيْسَ بِرَاكِعٍ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَلَمْ يكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَلَمْ يَكَدْ يَرَفَعُ رأْسَهًُ ، ثُمَّ جَلَسَ ، فَلَمْ يَكَدْ يَسَجُدُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَلَمْ يَكَدْ يَرَفْعُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ فَعَلَ في الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى ، وَجَعَلَ يَنْفُخُ في الْأَرْضِ ، وَيَبْكِي ، وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانَيَةِ ، وَجَعَلَ يَقُولُ : " رَبَّ لِمَ تُعَذَّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ ؟ رَبَّ لِمَ تُعَذَّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ ؟ " فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ ، وَقَضَى صَلَاتَهُ ، فَحَمِدَ اللهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مَنْ آيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا كَسَفَ أَحَدُهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، فَوَالَّذي نَفْسَي بِيَدِهِ لَقَدْ عرضت عَلَيَّ الْجَنَّةُ ، حَتَّى لَوْ أَشَاءُ لَتَعَاطَيْتُ بَعْضَ أَغْصَانِهَا ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، حَتَّى إِنَّي لَأُطْفئُهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حَمْيَر ، سَوْدَاءَ طُوَالَةً ، تُعَذَّبُ بِهِرَّةً لَهَا تَرْبِطُهَا ، فَلمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقْهَا ، وَلَا تَدَعُهَا تَأْكُلُ مَنْ خَشَاشِ الْأرْضِ ، كُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَهَشَتْهَا ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ ، وَرَأَيْتُ صَاحبَ الْمحْجَنِ مُتَّكئاً فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بَمَحْجَنِهِ ، فَإِذ عَلِمُوا بِهِ قَالَ : لَسْتُ أَسْرِقُكُمْ ، إِنَّما تَعَلَّقّ بِمِحًجَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع نہیں کر یں گے پھر رکوع کیا تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جاتے ہوئے نہ لگے سجدے میں چلے گئے تو ایسا لگا کہ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے پھر بیٹھے تو یوں محسوس ہوا کہ اب سجدہ نہیں کر یں گے پھر دوسرا سجدہ کیا تو اس سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر پھونکتے جاتے تھے اور دوسری رکعت کے سجدے میں یہ کہتے جاتے تھے کہ پروردگار تو میری موجودگی میں انہیں عذاب دے گا ؟ پروردگار ہماری طلب بخشش کے باوجود تو ہمیں عذاب دے گا ؟ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل فرمائی اور اللہ کی حمد وثناء کر نے کے بعد فرمایا : ” ۔ لوگو ! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو گہن لگ جائے تو مسجدوں کی طرف ڈورو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور اسے میرے اتناقریب کر دیا گیا کہ اگر میں اس کی کسی ٹہنی کو پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا اسی طرح جہنم کو بھی میرے سامنے پیش کیا گیا اور اسے میرے اتنا قریب کر دیا گیا کہ میں اسے بجھانے لگا اس خوف سے کہ کہیں وہ تم پر نہ آپڑے اور میں نے جہنم میں قبیلہ حمیر کی ایک عورت کو دیکھاجو سیاہ رنگت اور لمبے قد کی تھی اسے اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا نہ خودا سے کھلایا پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی وہ عورت جب بھی آگے بڑھتی تو جہنم میں وہی بلی اسے ڈستی اور اگر پیچھے ہٹتی تو اسے پیچھے سے ڈستی نیز میں نے وہاں بنو دعدع کے ایک آدمی کو بھی دیکھا اور میں نے لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا اور جب حاجیوں کو پتہ چلتا تو کہہ دیتا کہ میں نے اسے چرایا تھوڑی ہے یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ چپک کر آگئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ : " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " ، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ ، فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ فَقَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ ، إِلَّا قَالَ : " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کر نے سے پہلے حلق کروالیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاکر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب میں یہی فرمایا : ” اب کر لو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
حدیث نمبر: 6485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْ الرَّحْمَنِ ، بِمَا أَقْسَطُوا فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں عدل و انصاف کر نے والے قیامت کے دن اپنے اس عدل و انصاف کی برکت سے رحمان کے سامنے موتیوں کے منبر پر جلوہ افروز ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1827
حدیث نمبر: 6486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي يَقُولُ : " بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری طرف سے آگے پہنچادیا کرو خواہ ایک آیت ہی ہو بنی اسرائیل کی باتیں بھی ذکر کر سکتے ہو کوئی حرج نہیں اور جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3461
حدیث نمبر: 6487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ ، فَقَطَعُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ ، فَبَخِلُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ ، فَفَجَرُوا " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ " ، فَقَامَ ذَاكَ أَوْ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَال : " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ : هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِي ، فَهِجْرَةُ الْبَادِي أَنْ يُجِيبَ إِذَا دُعِيَ ، وَيُطِيعَ إِذَا أُمِرَ ، وَالْحَاضِرِ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً ، وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ظلم اندھیوں کی صورت میں ہو گا۔ بےحیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کو بےتکلف یا بتکلف کسی نوعیت کی بےحیائی پسند نہیں بخل سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا اسی بخل نے انہیں قطع رحمی کا راستہ دکھایا سو انہوں نے رشتے ناطے توڑ دئیے اسی بخل نے انہیں اپنی دولت اور چیزیں اپنے پاس سمیٹ کر رکھنے کا حکم دیا سوا نہوں نے ایساہی کیا اسی بخل نے انہیں گناہوں کا راستہ دکھایا سو وہ گناہ کر نے لگے۔ اسی دوران ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ دوسرے مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! کون سی ہجرت افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گزریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6484
حدیث نمبر: 6488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَرْبَعُونَ حَسَنَةً ، أَعْلَاهَا مِنْحَةُ الْعَنْزِ ، لَا يَعْمَلُ عَبْدٌ ، أَوْ قَالَ : رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا ، رَجَاءَ ثَوَابِهَا وتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چالیس نیکیاں جن میں سے سب سے اعلیٰ نیکی بکر ی کا تحفہ ہے ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے کسی ایک نیکی پر اس کے ثواب کی امید اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے عمل کر لے اللہ اسے جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2631
حدیث نمبر: 6489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، وَقَالَ : مَرَّةً قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ فَقَالَ : " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثناء میں) ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! میں نے رمی کر نے سے پہلے حلق کرو الیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 124، م: 1306
حدیث نمبر: 6490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ ، قَالَ : جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ ، قَالَ : " فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا ، فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہجرت پر آپ سے بیعت کر نے کے لئے آیاہوں اور (میں نے بڑی قربانی دی ہے کہ) اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واپس جاؤ اور جیسے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 6491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ عَمْرًا ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤدعلیہ السلام کا ہے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹاحصہ پھر آرام کرتے تھے اسی طرح ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1131، م: 1159
حدیث نمبر: 6492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں عدل و انصاف کر نے والے قیامت کے دن اپنے اس عدل و انصاف کی برکت سے رحمان کے دائیں ہاتھ موتیوں کے منبر پر جلوہ افروز ہوں گے اور رحمان کے دونوں ہاتھ ہی سیدھے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1827
حدیث نمبر: 6493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَكَانَ عَلَى رَحْلِ وَقَالَ مَرَّةً : عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : كِرْكِرَةُ ، فَمَاتَ ، فَقَالَ : " هُوَ فِي النَّارِ " ، فَنَظَرُوا فَإِذَا عَلَيْهِ عَبَاءَةٌ قَدْ غَلَّهَا ، وَقَالَ مَرَّةً : أَوْ كِسَاءٌ قَدْ غَلَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سازو سامان کی حفاظت پر " کر کر ہ " نامی ایک آدمی مامور تھا اس کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جہنم میں ہے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا تو اس کے پاس سے ایک عباء نکلی جو اس نے مال غنیمت سے چرائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3074
حدیث نمبر: 6494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي قَابُوسَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمْ الرَّحْمَنُ ، ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ ، وَالرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ ، مَنْ وَصَلَهَا ، وَصَلَتْهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا ، بَتَّتْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رحم کر نے والوں پر رحمان بھی رحم کرتا ہے تم اہل زمین پر رحم کرو تم پر اہل سماء رحم کر یں گے رحم رحمان کی ایک شاخ ہے جو اسے جوڑتا ہے یہ اسے جوڑتا ہے اور جو اسے توڑتا ہے یہ اسے پاش پاش کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے گناہگار ہونے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی کا وہ ذمہ دارہو۔ (مثلاً ضعیف والدین اور بیوی بچے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ شَابُورَ ، وَبَشِيرٍ أبي إسماعيل ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی کے متعلق سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) مجھے مسلسل وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، " لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ " ، قَالُوا : لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً ؟ " فَأَرْخَصَ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شراب کے برتنوں سے منع فرمایا : ” تو لوگوں نے عرض کیا کہ ہر آدمی کے پاس تو مشکیزہ نہیں ہے ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " مزفت " کو چھوڑ کر مٹکے کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5593، م: 2000
حدیث نمبر: 6498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَّتَانِ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِمَا ، أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ " ، قَالُوا : وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَحْمَدَ اللَّهَ وَتُكَبِّرَهُ وَتُسَبِّحَهُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرًا عَشْرًا ، وَإِذَا أَتَيْتَ إِلَى مَضْجَعِكَ تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةَ مَرَّةٍ ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَتَانِ بِاللِّسَانِ ، وَأَلْفَانِ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ ؟ " قَالُوا : كَيْفَ مَنْ يَعْمَلُ بِهَا قَلِيل ؟ قَالَ : " يَجِيءُ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ ، فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَلَا يَقُولُهَا ، وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ ، فَيُنَوِّمُهُ ، فَلَا يَقُولُهَا " ، قَالَ : وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِه .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو خصلتیں جنت میں پہنچا دیتی ہیں بہت آسان ہیں اور عمل میں بہت تھوڑی ہیں صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک تو یہ کہ ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ الحمدللہ اللہ اکبر سبحان اللہ کہہ لیا کرو اور دوسرا یہ کہ جب اپنے بستر پر پہنچو تو سو مرتبہ سبحان للہ اللہ اکبر اور الحمدللہ کہہ لیا کرو، پانچوں نمازوں اور رات کے اس عدد کو ملا کر زبان سے تو یہ کلمات ڈھائی سو مرتبہ ادا ہوں گے لیکن میزان عمل میں یہ ڈھائی ہزار کے برابر ہوں گے اب تم میں سے کون شخص ایسا ہے جو دن رات میں دھائی ہزار گناہ کرتا ہو گا ؟ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ کلمات عمل کر نے والے کے لئے تھوڑے کیسے ہوئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس شیطان دوران نماز آ کر اسے مختلف کام کرواتا ہے اور وہ ان میں الجھ کر یہ کلمات نہیں کہہ پاتا اسی طرح سوتے وقت اس کے پاس آتا ہے اور اسے یوں سلا دیتا ہے اور وہ ان اس وقت بھی یہ کلمات نہیں کہہ پاتا، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کلمات کو اپنی انگلیوں پر گن کر پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره
حدیث نمبر: 6499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَسِيرُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي مُنْصَرَفِهِ مِنْ صِفِّينَ ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : يَا أَبَتِ ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ : " وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ؟ " قَالَ : فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ هَذَا ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَا تَزَالُ تَأْتِينَا بِهَنَةٍ ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ؟ ! إِنَّمَا قَتَلَهُ الَّذِينَ جَاءُوا بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا بن حارث کہتے ہیں کہ جب سیدہ امیر معاویہ و رضی اللہ عنہ جنگ صفین سے فارغ ہو کر آ رہے تھے تو میں ان کے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے درمیان چل رہا تھا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے والد سے کہنے لگے اباجان کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کہتے ہوئے سنا کہ افسوس ! اے سمیہ کے بیٹے تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ اس کی بات سن رہے ہیں ؟ سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم ہمیشہ ایسی ہی پریشان کن خبریں لے آنا کیا ہم نے انہیں شہید کیا ہے ؟ انہوں تو ان لوگوں نے ہی شہید کیا ہے جو انہیں لے کر آئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6500
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مِثْلَهُ ، أَوْ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَايَعَ إِمَامًا ، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ ، فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی امام کی بیعت کرے اور اسے اپنے ہاتھ کا معاملہ اور دل کا ثمرہ دے دے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا آدمی اس سے جھگڑے کے لئے آئے تو دوسرے کی گردن اڑادو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1844
حدیث نمبر: 6502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قُلْنَا خُصًّا لَنَا وَهَى ، فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَمَا إِنَّ الْأَمْرَ أَعْجَلُ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ہم اس وقت اپنی جھونپڑی صحیح کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہو رہا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہماری جھونپڑی کچھ کمزور ہو گئی ہے اب اسے ٹھیک کر رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” معاملہ اس سے زیادہ جلدی کا ہے (موت کا کسی کو علم نہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ ، إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، قَالَ : فَاجْتَمَعْنَا ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَطَبَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ ، وَيُحَذِّرُهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا ، وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ شَدِيدٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا ، تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ ، تَجِيءُ الْفِتْنَةُ ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ مُهْلِكَتِي ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : هَذِهِ ، ثُمَّ تَنْكَشِفُ ، فَمَنْ سَرَّهُ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ، وَأَنْ يُدْخَلَ الْجَنَّةَ ، فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا ، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ ، فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ " ، قَالَ : فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، فَقَالَ : سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ ، يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ ، وَأَنْ نَقْتُلَ ، أَنْفُسَنَا ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ سورة النساء آية 29 ، قَالَ : فَجَمَعَ يَدَيْهِ ، فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ، ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچاوہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پہنچ کر پڑاؤ ڈالا ہم میں سے بعض لوگوں نے خیمے لگا لئے بعض چراگاہ میں چلے گئے اور بعض تیراندازی کر نے لگے اچانک ایک منادی نداء کر نے لگا کہ نماز تیار ہے ہم لوگ اسی وقت جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوران خطبہ ارشاد فرمایا : ” کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کر ام (علیہم السلام) گزرے ہیں وہ اپنی امت کے لئے جس چیز کو خیر سمجھتے تھے انہوں نے وہ سب چیزیں اپنی امت کو بتادیں اور جس چیز کو شر سمجھتے تھے اس سے انہیں خبردار کر دیا اور اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھی گئی ہے اور اس امت کے آخری لوگوں کو سخت مصائب اور عجیب و غریب امور کا سامنا ہو گا ایسے فتنے رو نما ہوں گے جو ایک دوسرے کے لئے نرم کر دیں گے مسلمان پر آزمائش آئے گی تو وہ کہے گا کہ یہ میری موت کا سبب بن کر رہے گی اور کچھ عرصے بعد وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ تم میں سے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے بچالیا جائے اور جنت میں داخلہ نصیب ہو جائے تو اسے اس حال میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کو وہ دے جو خود لینا پسند کرتا ہو اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اسے اپنے ہاتھ کا معاملہ اور دل کا ثمرہ دے دے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا آدمی اس سے جھگڑے کے لئے آئے تو دوسرے کی گردن اڑادو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر لوگوں میں گھسا کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتاہوں کیا یہ بات آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” میرے دونوں کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے میں نے عرض کیا کہ یہ آپ کے چچازادبھائی (وہ سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے گمان کے مطابق مرادلے رہا تھا جب کہ حقیقت اس کے برخلاف تھی) ہمیں غلط طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور اپنے آپ کو قتل کر نے کا حکم دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے نہ کھاؤ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کر کے پیشانی پر رکھ لئے اور تھوڑی دیر کو سر جھکالیا پھر سر اٹھا کر فرمایا : ” کہ اللہ کی اطاعت کے کاموں میں ان کی بھی اطاعت کرو اور اللہ کی معصیت کے کاموں میں ان کی بھی نافرمانی کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1844
حدیث نمبر: 6504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَكُ فَاحِشًا ، وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَكَانَ يَقُولُ : " مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےتکلف یا بتکلف بےحیائی کر نے والے نہ تھے اور وہ فرمایا : ” کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6029، م: 2321
حدیث نمبر: 6505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَنَحْنُ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ " ، قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى تُهَرَاقَ مُهْجَةُ دَمِهِ " ، قَالَ : فَلَقِيتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : وَقَالَ عَبْدَةُ : هِيَ الْأَيَّامُ الْعَشْرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران طواف یہ روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہاد فی سبیل اللہ ہی نہیں فرمایا : ” ہاں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " سے مرادعشرہ ذی الحجہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبد الله مولي عبد الله بن عمرو مجهول
حدیث نمبر: 6506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلَّمَ : " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " ، ثُمَّ نَاقَصَنِي ، وَنَاقَصْتُهُ ، حَتَّى صَارَ إِلَى سَبْعٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہینے میں ایک قرآن پڑھا کرو پھر مسلسل کمی کرتے ہوئے سات دن تک آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح
حدیث نمبر: 6507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصُّورُ ؟ قَالَ : " قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر سوال پوچھا یا رسول اللہ ! ! صور کیا چیز ہے ؟ فرمایا : ” ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِذَا مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ ، وَكَانُوا هَكَذَا " ، وَشَبَّكَ يُونُسُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، يَصِفُ ذَاكَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَصْنَعُ عِنْدَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّتِكَ ، وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تمہارا اس وقت کیا بنے گا جب تم بیکار اور کم تر لوگوں میں رہ جاؤ گے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا : ” اللہ سے ڈرنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 478
حدیث نمبر: 6509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَمِعْتُ رَجُلًا فِي بَيْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ ، وَصَغَّرَهُ وَحَقَّرَهُ " ، قَالَ : فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے عمل کے ذریعے لوگوں میں شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کر دیتا ہے یہ کہہ کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُرِيدُ حِفْظَهُ ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ ، يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو چیزیں سن لیتا اسے لکھ لیتا تاکہ یاد کر سکوں مجھے قریش کے لوگوں نے اس سے منع کیا اور کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتے ہو سب لکھ لیتے ہو حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک انسان بعض اوقات غصہ میں بات کرتے ہیں اور بعض اوقات خوشی میں ان لوگوں کے کہنے کے بعد میں نے لکھناچھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لکھ لیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا ، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا ، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا ، وَأَضَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے درمیان سے کھینچ لے گا بلکہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھالے گا حتٰی کہ جب ایک عالم بھی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے اور انہیں سے مسائل معلوم کیا کر یں گے وہ علم کے بغیر انہیں فتویٰ دیں گے نتیجہ یہ ہو گا کہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 100، م: 2673
حدیث نمبر: 6512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا ، قُلْتُ لَهُ : حُدِّثْتُ أَنَّكَ تَقُولُ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ ؟ " قَالَ : " إِنِّي لَيْسَ كَمِثْلِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا میں نے عرض کیا مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 735
حدیث نمبر: 6513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ ، قَالَ : " هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ لَا تَلْبَسْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصفر سے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر دیکھے تو فرمایا : ” یہ کافروں کا لباس ہے اسے مت پہنا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2077
حدیث نمبر: 6514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ ، قَالَ : كَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَسْأَلُ عَنِ الْحَوْضِ ، حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ ، بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَرَجُلًا آخَرَ ، وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ ، فَقَالَ أَبُو سَبْرَةَ : أَنَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ فِيهِ شِفَاءُ هَذَا ، إِنَّ أَبَاكَ بَعَثَ مَعِي بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مِمَّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمْلَى عَلَيَّ ، فَكَتَبْتُ بِيَدِي ، فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا ، وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا حَدَّثَنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ ، أَوْ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ " . قَالَ : " وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَاحُشُ ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ ، وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ ، وَحَتَّى يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ " . وَقَالَ : " أَلَا إِنَّ مَوْعِدَكُمْ حَوْضِي ، عَرْضُهُ وَطُولُهُ وَاحِدٌ ، وَهُوَ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ ، وَمَكَّةَ ، وَهُوَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ ، فِيهِ مِثْلُ النُّجُومِ أَبَارِيقُ ، شَرَابُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الْفِضَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا ، لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا " . فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : مَا سَمِعْتُ فِي الْحَوْضِ حَدِيثًا أَثْبَتَ مِنْ هَذَا ، فَصَدَّقَ بِهِ ، وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ ، فَحَبَسَهَا عِنْدَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسبرہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کے متعلق مختلف حضرات سے سوال کرتا تھا اور باوجودیکہ وہ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ سوال پوچھ چکا تھا لیکن پھر بھی حوض کوثر کی تکذیب کرتا تھا ایک دن میں نے اس سے کہا کہ میں تمہارے سامنے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جس میں اس مسئلے کی مکمل شفاء موجود ہے تمہارے والد نے ایک مرتبہ کچھ مال دے کر مجھے سیدہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی انہوں نے وہ حدیث مجھے املاء کروائی اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے کسی ایک حرف کی بھی کمی بیشی کے بغیر لکھا۔ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بےتکلف یا بتکلف کسی قسم کی بےحیائی کو پسند نہیں کرتا ۔ اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر طرف بےحیائی عام نہ ہو جائے قطع رحمی غلط اور برا پڑوس عام نہ ہو جائے اور جب تک خائن کو امین اور امین کو خائن نہ سمجھاجانے لگے۔ اور فرمایا : ” یاد رکھو تمہارے وعدے کی جگہ میرا حوض ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے یعنی ایلہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک جو تقریباً ایک ماہ مسافت بنتی ہے اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہو گا جو اس کا گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ عبیداللہ بن زیاد یہ حدیث سن کر کہنے لگا کہ حوض کوثر کے متعلق میں نے اس سے زیادہ مضبوط حدیث اب تک نہیں سنی چنانچہ وہ اس کی تصدیق کر نے لگا اور وہ صحیفہ لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى سبرة، فإنه مجهول
حدیث نمبر: 6515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6484
حدیث نمبر: 6516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : جَمَعْتُ الْقُرْآنَ ، فَقَرَأْتُ بِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ زَمَانٌ أَنْ تَمَلَّ ، اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، قَالَ : " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي ، فَأَبَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قرآن کریم یاد کیا اور ایک میں سارا قرآن پڑھ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا : ” مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد تم تنگ ہو گئے ہر مہینے میں ایک مرتبہ قرآن کریم پورا کر لیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اپنی طاقت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے اسی طرح تکرار ہوتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیس، دس اور سات دن کہہ کر رک گئے میں نے سات دن سے کم کی اجازت بھی مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 5052، م: 1159