حدیث نمبر: 4768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ ، يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا ، فَقَالُوا : هَذَا الْحَقُّ ، بِهَذَا قَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خبیر بھیجا تاکہ وہاں کے رہنے والوں پر ایک اندازہ مقرر کر دیں، پھر انہیں اختیار دے دیا کہ وہ اسے قبول کر لیں یا رد کر دیں لیکن وہ لوگ کہنے لگے کہ یہی صحیح ہے اور اسی وعدے پر زمین آسمان قائم ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف العمري
حدیث نمبر: 4769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْخَيْلِ وَالْبَهَائِمِ " ، وقَالَ ابْنُ عُمَر : فِيهَا نَمَاءُ الْخَلْقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں اور دیگر چوپایوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسی میں ان کی جسمانی نشوونما ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن نافع مولي ابن عمر، وقد روي مرفوعا و موقوفا، وموقوفه هو الصحيح
حدیث نمبر: 4770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2998
حدیث نمبر: 4771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وعُثْمَانَ ، فَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ ، يَعْنِي الشَّمْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یاد رکھو ! طلوع آفتاب تک نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 4772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 828
حدیث نمبر: 4773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُرْخِينَ شِبْرًا ، فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَنْ تَنْكَشِفَ أَقْدَامُنَا ؟ فَقَالَ : " ذِرَاعًا ، وَلَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کریں انہوں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري
حدیث نمبر: 4774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ " مِنْ أَحْسَنِ أَسْمَائِكُمْ عَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے بہترین نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2132، وهذا إسناد ضعيف لضعف العمري، لكنه متابع
حدیث نمبر: 4775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا هَامَةَ " ، قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ ، فَتَجْرَبُ الْإِبِلُ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ الْقَدَرُ ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں ۔ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے“، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے ( اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی ؟ ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی تو تقدیر ہے، یہ بتاؤ اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا ؟ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
حدیث نمبر: 4776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، فَيَتَزَوَّجُهَا آخَرُ ، فَيُغْلَقُ الْبَابُ ، وَيُرْخَى السِّتْرُ ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، هَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ؟ قَالَ : " لَا ، حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے دوسرا شخص اس عورت سے نکاح کر لے دروازے بند ہو جائیں اور پردے لٹکا دئیے جائیں لیکن دخول سے قبل ہی وہ اسے طلاق دے دے تو کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی ؟ فرمایا : نہیں، جب تک کہ وہ دوسرا شوہر اس کا شہد نہ چکھ لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رزين بن سليمان الأحمري
حدیث نمبر: 4777
وحَدَّثَنَاه أَبُو أَحْمَدُ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ رَزِينٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، علته سليمان بن رزين، فهو مجهول
حدیث نمبر: 4778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا ، حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمیں یہاں موت نہ دیجئے گا یہاں تک کہ آپ ہمیں یہاں سے نکال کر لے جائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وإسناده صحيح إن ثبت سماع سعيد بن أبى هند من ابن عمر، فلم نجد فى كتب الرجال سماعه منه، وهو قد أدرك عبد الله بن عباس، وسمع منه، فهو معاصر لعبد الله بن عمر، ولم يوصف بالتدليس
حدیث نمبر: 4779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تُضْرَبَ الصُّوَرَة ، يَعْنِي الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَعْجَلْ أَحَدُكُمْ عَنْ طَعَامِهِ لِلصَّلَاةِ " ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ الْإِقَامَةَ وَهُوَ يَتَعَشَّى ، فَلَا يَعْجَلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو فارغ ہونے سے پہلے نماز کے لئے کھڑا نہ ہو، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کرتے تھے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن نافع، لكن لم يتفرد به، فقد تابعه عليه أيوب فيما يأتي برقم: 5806، وابن جريح فيما يأتي برقم: 6359
حدیث نمبر: 4781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ : أُوَدِّعُكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : قریب آ جاؤ تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رخصت کرتے تھے پھر فرمایا کہ میں تمہارے دین و امانت اور تمہارے عمل کا انجام اللہ کے حوالے کرتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن بين عبد العزيز و قزعة راويا آخر اختلف فيه على عبد العزيز
حدیث نمبر: 4782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ وَادِيَ نَمِرَةَ ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ : أَيَّةَ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ فَقَالَ : إِذَا كَانَ ذَاكَ رُحْنَا ، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرُوحُ ؟ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ ، قَالَ : أَزَاغَتْ الشَّمْسُ ؟ قَالُوا : لَمْ تَزِغْ الشَّمْسُ ، قَالَ : أَزَاغَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالُوا : لَمْ تَزِغْ ، فَلَمَّا قَالُوا : قَدْ زَاغَتْ ، ارْتَحَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات کی وادی نمرہ میں پڑاؤ کیا تھا جب حجاج یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس قاصد کو یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن (نو ذی الحجہ کو) کس وقت کوچ فرماتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب ہم یہاں سے کوچ کریں گے وہ وہی گھڑی ہو گی حجاج نے یہ سن کر ایک آدمی کو بھیجا، جو یہ دیکھتا رہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کس وقت روانہ ہوتے ہیں ؟ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روانگی کا ارادہ کیا تو پوچھا کہ کیا سورج غروب ہو گیا ؟ لوگوں نے جواب دیا ، نہیں، تھوڑی دیر بعد انہوں نے پھر یہی پوچھا اور لوگوں نے جواب دیا ابھی نہیں جب لوگوں نے کہا کہ سورج غروب ہو گیا تو وہ وہاں سے روانہ ہو گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سعيد بن حسان الحجازي لم يرو عنه إلا إبراهيم بن نافع و نافع ابن عمر الجمحي، وذكره ابن حبان فى «الثقات» ولم يؤثر توثيقه عن أحد غيره
حدیث نمبر: 4783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَدَّهِنُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِالزَّيْتِ غَيْرَ الْمُقَتَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 4784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ دَعَا غُلَامًا لَهُ ، فَأَعْتَقَهُ ، فَقَالَ : مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ مِثْلُ هَذَا ، لِشَيْءٍ رَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو بلا کر اسے آزاد کر دیا اور زمین سے کوئی تنکا وغیرہ اٹھا کر فرمایا کہ مجھے اس تنکے کے برابر بھی اسے آزاد کر نے پر ثواب نہیں ملے گا ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے اس کا کفارہ یہی ہے کہ اسے آزاد کر دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1657
حدیث نمبر: 4785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ ، حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي ، وَآمِنْ رَوْعَاتِي ، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ فَوْقِي ، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي " ، قَالَ : يَعْنِي الْخَسْفَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح وںشام ان دعاؤں میں سے کسی دعاء کو ترک نہ فرماتے تھے اے اللہ ! میں دنیا و آخرت میں آپ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! میں آپ سے اپنی دنیا اور دین اپنے اہل خانہ اور مال کے متعلق درگزر اور عافیت کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ میرے عیوب پر پردہ ڈال دیجئے اور خوف سے مجھے امن عطاء کیجئے، اے اللہ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر کی جانب سے میری حفاظت فرما اور میں آپ کی عظمت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے نیچے سے اچک لیا جائے یعنی زمین میں دھنسنے سے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَكْرَانٍ ، فَضَرَبَهُ الْحَدَّ ، فَقَالَ : " مَا شَرَابُكَ ؟ " قَالَ : الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ ، قَالَ : " يَكْفِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نشئی کو لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کی اور اس سے پوچھا کہ تم نے کس قسم کی شراب پی ہے ؟ اس نے کہا کشمش اور کھجور کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی کفایت کر جاتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الخبراني الذى روي عنه أبو إسحاق السبيعي
حدیث نمبر: 4787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشْرَةِ وُجُوهٍ لُعِنَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا ، وَشَارِبُهَا ، وَسَاقِيهَا ، وَبَائِعُهَا ، وَمُبْتَاعُهَا ، وَعَاصِرُهَا ، وَمُعْتَصِرُهَا ، وَحَامِلُهَا ، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ ، وَآكِلُ ثَمَنِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شراب پر دس طرح سے لعنت کی گئی ہے۔ نفس شراب پر، اس کے پینے والے پر ، پلانے والے پر، فروخت کر نے والے پر ، خریدار پر، نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑی گئی اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھائی گئی اور اس کی قیمت کھانے والے پر بھی لعنت کی گئی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه و شواهده، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى ، قَالَ وَكِيعٌ : نُرَى أَنَّهُ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَت يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ عَلَيْهَا : " لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن الفاظ سے قسم کھایا کرتے تھے وہ یہ تھے : «لا و مقلب القلوب» ”نہیں، مقلب القلوب کی قسم ! ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6628
حدیث نمبر: 4789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے پھر طہر کے بعد اسے طلاق دے دے یا امید کی صورت میں ہو تب بھی طلاق دے سکتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1471
حدیث نمبر: 4790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ ، وَقَالَ إِسْرَائِيلُ : ابْن عِصْمَة ، قَالَ وَكِيعٌ : هُوَ ابْنُ عُصْمٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي ثَقِيفَ مُبِيرًا وَكَذَّابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 4791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعتیں ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح إلا أن لفظة «والنهار» فيها كلام
حدیث نمبر: 4792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ ، يُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن سب سے زیادہ شدید عذاب مصوروں کو ہو گا ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله بن عاصم بن عمر، وقد تابعه ليث بن أبى سليم فيما يأتي برقم: 6326 وهو ضعيف أيضا، لكن للحديث طريق آخر يصح بها، فقد سلف برقم: 4475 من طريق نافع عن ابن عمر، وسيأتي برقم: 6241
حدیث نمبر: 4793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى إِلَى بَعِيرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر کے نماز پڑھ لی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 4794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَا النَّاسُ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " نَزَلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ ، وَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَانْحَرَفُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کر نے کا حکم دیا گیا ہے، یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنارخ کر لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4488، م: 526
حدیث نمبر: 4795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا ، فَضَحَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ ، قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اپنے بچے کو دنیا میں رسوا کرنے کے لئے اپنے سے اس کے نسب کی نفی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام گواہوں کی موجودگی میں رسوا کرے گا ، یہ ادلے کا بدلہ ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، والد وكيع مختلف فيه
حدیث نمبر: 4796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفّٰت (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، الحارث صدوق
حدیث نمبر: 4797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَسِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سعادت میں یہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں میں سب سے بہتر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تین فضیلتیں ملی ہیں اور ان میں سے ہر ایک فضیلت ایسی ہے جو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کیا اور ان سے ان کے یہاں اولاد ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کروا دئیے سوائے ان کے دروازے کے اور غزوہ خیبر کے دن انہیں جھنڈا عطاء فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، هشام بن سعد ضعفوه، يكتب حديثه للمتابعات ولا يحتج به، والقسم الأول منه صحيح، كما سلف في: 4626
حدیث نمبر: 4798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِشْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : الْجِهَادُ حَسَنٌ ، هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ “ ایک آدمی نے پوچھا : جہاد فی سبیل اللہ ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جہاد ایک اچھی چیز ہے لیکن اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہی چیزیں بیان فرمائی تھیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه علتان: أولهما: انقطاعه، لأن سالما لم يسمعه من زيد، بينهما عطية بن قيس الكلابي مولي لبني عامر، وثانيهما: جهالة حال يزيد بن بشر
حدیث نمبر: 4799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ ، وَرَجُلٌ يُؤَذِّنُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن تین طرح کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے، ایک وہ آدمی جو لوگوں کا امام ہو اور لوگ اس سے خوش ہوں ، ایک وہ آدمی جو روزانہ پانچ مرتبہ اذان دیتا ہو اور ایک وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے آقا کا حق ادا کرتا ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو اليقظان ضعفه غير واحد من الأئمة، لكن يكتب حديثه فى المتابعات و الشواهد
حدیث نمبر: 4800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الطَّوِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى القَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ ، حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِ مِئَةِ عَامٍ ، وَإِنَّ غِلَظَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم میں اہل جہنم کے جسم موٹے ہو جائیں گے حتٰی کہ ان کے کان کی لو سے لے کر کندھے تک سات سال کی مسافت ہو گی، کھال کی موٹائی ستر گز ہو گئی اور ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى يحيي الطويل
حدیث نمبر: 4801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقْبَى ، وَقَالَ : " مَنْ أُرْقِبَ فَهُوَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبٰی (کسی کی موت تک کوئی مکان یا زمین دینے) سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے جس کے لئے رقبیٰ کیا گیا وہ اسی کا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، حبيب بن أبى ثابت مدلس، وقد عنعن، وقد صرح عند عبد الرزاق 16920 أنه لم يسمع من ابن عمر فى الرقبي شيئا
حدیث نمبر: 4802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْكُفْرَ مِنْ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م:2905، وهذا إسناد حسن من أجل عكرمة بن عمار
حدیث نمبر: 4803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ ، وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے ؟ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو اس میں گندگی سرایت نہیں کر تی ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند الدارقطني، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَصَفَهُ لِأُمَّتِهِ ، وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا مَنْ كَانَ قَبْلِي ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھ سے پہلے جو نبی بھی آئے انہوں نے اپنی امت کے سامنے دجال کا حلیہ ضرور بیان کیا ہے اور میں تمہیں اس کی ایک ایسی علامت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی اور وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا، اللہ کانا نہیں ہو سکتا اس کی (دجال کی) دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3439، م: 169، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد ابن إسحاق
حدیث نمبر: 4805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”جو شخص نماز عصر عمداً چھوڑ دے حتی کہ سورج غروب ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 626، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 4806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ الْقَاصُّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الصَّنْعَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ ، فَلْيَقْرَأْ : إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ، وَ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ ، وَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ قَالَ : سُورَةَ هُودٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے وہ سورت تکویر ، سورت انفطار اور سورت انشقاق پڑھ لے۔ “ غالباً سورت ہود کا بھی ذکر فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ ، وَكَانَتْ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ ، لَقِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عُثْمَانَ ، فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ ، وَسَأَنْظُرُ ، فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ ، فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَإِذَا " رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَهَا " ، فَلَقِيَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ ، فَرَدَّنِي ، وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ ، فَسَكَتَّ عَنِّي ، فَلَأَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشَدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ وَقَدْ رَدَّنِي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهَا ، وَكَانَ سِرًّا ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدہ حفصہ کے شوہر سیدنا خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان کے سامنے اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش رکھی انہوں نے کہا کہ مجھے عورتوں کی طرف کوئی رغبت نہیں ہے البتہ میں سوچوں گا، اس کے بعد وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے بھی یہی کہا: لیکن انہوں نے مجھے جواب نہ دیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت بہت غصہ آیا ۔ چند دن گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے پیغام نکاح بھیج دیا ، چنانچہ انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا ۔ اتفاقاً ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے ، میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی کے نکاح کی پیشکش کی تو انہوں نے صاف جواب دے دیا لیکن جب میں نے آپ کے سامنے یہ پیشکش کی تو آپ خاموش رہے جس کی بناء پر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ آپ پر غصہ آیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا تھا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا ، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ضرور ان سے نکاح کر لیتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5122، سفيان ابن حسين الواسطي. وإن كان ضعيفا فى روايته عن الزهري. قد توبع