حدیث نمبر: 4728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو دُهْقَانَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَيْفٌ ، فَقَالَ لِبِلَالٍ : " ائْتِنَا بِطَعَامٍ ، فَذَهَبَ بِلَالٌ ، فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ جَيِّدٍ ، وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا ، فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ ؟ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعًا بِصَاعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابودہقانہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مہمان آ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کھانا لانے کا حکم دیا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے پاس موجود کھجوروں کے دو صاع ”جو ذرا کم درجے کی تھیں“ دے کر اس کے بدلے میں ایک صاع عمدہ کھجوریں لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمدہ کھجوریں دیکھ کر تعجب ہوا اور فرمایا کہ یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے دو صاع دے کر ایک صاع کھجوریں لی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہماری کھجوریں تھیں وہی واپس لے کر آؤ ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، أبو دهقانة لم يرو عنه غير فضيل ابن غزوان
حدیث نمبر: 4729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں شراب پئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5575، م: 2003
حدیث نمبر: 4730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو اسے اس کی دعوت قبول کر لینا چاہئے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5173، م: 1429
حدیث نمبر: 4731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ ، " فَأَذِنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کے حوالے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت میں سر انجام دینے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منٰی کے ایام میں مکہ مکرمہ میں ہی رہنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1745، م: 1315
حدیث نمبر: 4732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِئَةَ وَسْقٍ : َثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ ، وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَيْبَرَ ، فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْأَرْضِ ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ كُلَّ عَامٍ ، فَاخَتَلفْنَ ، فَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ أَنْ يُقْطِعَ لَهَا الْأَرْضَ ، وَمِنْهُنَّ مَنْ اخْتَارَ الْوُسُوقَ ، وَكَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ مِمَّنْ اخْتَارَ الْوُسُوقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ طے فرمایا کہ پھل یا کھیتی کی جو پیداوار ہو گی اس کا نصف تم ہمیں دو گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو ہر سال سو وسق دیا کرتے تھے، جن میں سے اسی وسق کھجوریں بیس وسق جو ہوتے تھے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر سرفراز ہوئے تو انہوں نے خیبر کو تقسیم کر دیا اور ازواج مطہرات کو اختیار دے دیا کہ چاہے تو زمین کا کوئی ٹکڑا لے لیں اور چاہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں ہر سال حسب سابق سو وسق دے دیا کر یں۔ بعض ازواج مطہرات نے زمین کا ٹکڑا لینا پسند کیا اور بعض نے حسب سابق سو وسق لینے کو ترجیح دی، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وسق کو ترجیح دینے والوں میں تھیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2328، م: 1551
حدیث نمبر: 4733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ ، مِنَّا الْمُلَبِّي ، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب منٰی سے میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض تلبیہ پڑھ رہے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1284
حدیث نمبر: 4734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، فَكَانَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہی رہی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں علی الترتیب رہی اس پر ”محمد رسول اللہ“ نقش تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5873، م: 2091
حدیث نمبر: 4735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے البتہ تم پھیل کر کشادگی پیدا کیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6270، م: 2177
حدیث نمبر: 4736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص غلہ خریدے اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2167، م: 1526
حدیث نمبر: 4737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ وَبَرَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْفَأْرَةِ ، وَالْغُرَابِ ، وَالذِّئْبِ " ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ ؟ قَالَ : قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوہے ، کوے اور بھیڑئیے کو مار دینے کا حکم دیا ہے کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سانپ اور بچھو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان کے متعلق بھی کہا جاتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، والحجاج بن أرطاة . وإن كان مدلسا، وروي بالعنعنة. قد صرح بالتحديث عند الدارقطني فى إحدي روايته
حدیث نمبر: 4738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَدْخُلَ الْأَسْوَاقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے اور دھوکہ کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2165، م: 1517
حدیث نمبر: 4739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً ، فَنَهَى عَنْ " قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3015، م: 1744
حدیث نمبر: 4740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى النِّسَاءَ فِي الْإِحْرَامِ عَنِ الْقُفَّازِ وَالنِّقَابِ ، وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں خواتین کو دستانے اور نقاب پہننے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے اور ان کپڑوں میں جن میں ورس یا زعفران لگی ہوئی ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، و هذا إسناد حسن، محمد بن إسحاق. وإن عنعن. صرح بالتحديث عند أبى داود و الحاكم، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَلْيَتَحَوَّلْ إِلَى غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آ جائے تو اسے اپنی جگہ بدل لینی چاہئے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف مرفوعا، والصحيح وقفه كما يأتي، محمد بن إسحاق. وإن صرح بالتحديث فى الروايته (6178). فقد تفرد برفعه، وخالفه من هو أوثق منه و أحفظ، فرواه موقوفا، وقال ابن المديني: لم أجد لابن إسحاق إلا حديثين منكرين. وعد هذا منهما
حدیث نمبر: 4742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کے لئے جہنم میں ایک گھر تعمیر کیا جائے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ ، أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، وَلَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ ، جَعْدَ الرَّأْسِ ، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى ، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الْمَسِيحْ الدَّجَّالُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا ، اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ میں کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا، میں نے پوچھا : یہ کون ہے تو پتہ چلا یہ مسیح دجال ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 169، م: 3439
حدیث نمبر: 4744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، حَتَّى قَتَلْنَا كَلْبَ امْرَأَةٍ جَاءَتْ مِنَ الْبَادِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کتوں کو مارنے کا حکم دیا ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی ہم نے اس کا کتا بھی مار دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1570
حدیث نمبر: 4745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَيُّمَا رَجُلٍ كَفَّرَ رَجُلًا ، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ ، وَإِلَّا فَقَدْ بَاءَ بِالْكُفْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی آدمی کو کافر کہتا ہے اگر وہ واقعی کافر ہو تو ٹھیک ورنہ وہ خود کافر ہو کر لوٹتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ امْرَأَةً مَقْتُولَةً ، فَأَنْكَرَ ذَاكَ ، وَنَهَى عَنْ " قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں مقتول عورت کو دیکھا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کر نے سے روک دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3015، م: 1744
حدیث نمبر: 4747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى طَلْحَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مِرَارٍ ، وَلَكِنْ قَدْ سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ يَطَأَهَا ، فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ أَرْعِدَتْ وَبَكَتْ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ أَكْرَهْتُكِ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ هَذَا عَمَلٌ لَمْ أَعْمَلْهُ قَطُّ ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَيْهِ الْحَاجَةُ ، قَالَ : فَتَفْعَلِينَ هَذَا وَلَمْ تَفْعَلِيهِ قَطُّ ؟ قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالَ : اذْهَبِي ، فَالدَّنَانِيرُ لَكِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَا يَعْصِي اللَّهَ الْكِفْلُ أَبَدًا ، فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْكِفْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میں نے ایک دو نہیں سات یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں اس کو بیان نہ کرتا کہ بنی اسرائیل میں ”کفل“ نامی ایک آدمی تھا ، جو کسی گناہ سے نہ بچتا تھا ، ایک مرتبہ اس کے پاس ایک عورت آئی اس نے اسے اس شرط پر ساٹھ دینار دئیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دے، جب وہ اس کیفیت پر بیٹھا جس کیفیت پر مرد کسی عورت کے ساتھ بیٹھتا ہے، تو وہ کانپنے اور رونے لگی ، اس نے پوچھا کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہیں اس کام پر مجبور کیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں لیکن میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا، مجبوری نے مجھے یہ کام کر نے کرے لئے بےبس کر دیا ، یہ سن کر کفل کہنے لگا کہ تم یہ کام کر رہی ہو ؟ حالانکہ تم نے اس سے پہلے یہ کام نہیں کیا ؟ یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گیا اور اس سے کہا جاؤ، وہ دینار بھی تمہارے ہوئے اور کہنے لگا کہ اب کفل کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اسی رات وہ مر گیا صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے کفل کو معاف کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سعد مولي طلحة لم يرو عنه غير عبد الله بن عبد الله. وهو أبو جعفر الرازي. وقال أبو حاتم: لا يعرف هذا الرجل إلا بحديث واحد، يعني به حديث الكفل هذا
حدیث نمبر: 4748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ ، مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَهُ بِلَيْلٍ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2998
حدیث نمبر: 4749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ ، وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ ، فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور اس کی پریشانی دور ہوں اسے چاہئے کہ تنگدست کے لئے کشادگی پیدا کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم هو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة
حدیث نمبر: 4750
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ " قَبَّلَ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو بوسہ دینے کا موقع ملا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد. وهو ابن أبى زياد مولي الهاشميين
حدیث نمبر: 4751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2905، وهذا إسناد حسن، عكرمة بن عمار. وإن احتج به مسلم. حسن الحديث، وقد توبع
حدیث نمبر: 4752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تَفْعَلُهُ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے، لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلایاپلایا جاتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1922، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، لكنه متابع
حدیث نمبر: 4753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ " ، قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي بِالْقُلَّةِ الْجَرَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب پانی دو یا تین مٹکوں کے برابر ہو تو اس میں گندگی سرایت نہیں کر تی ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إ سناد جيد دون قوله: «أو ثلاث»
حدیث نمبر: 4754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِيءُ الْفِتْنَةُ مِنْ هَاهُنَا ، مِنَ الْمَشْرِقِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” فتنہ یہاں سے ہو گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5296، م: 2905
حدیث نمبر: 4755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذِهِ السَّارِيَةِ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ جِذْعُ نَخْلَةٍ ، يَعْنِي يَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے اس وقت یہ کھجور کا تنا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف أبى جناب، و أبوه أبو حية فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 4756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْخٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طلوع صبح صادق کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے سوائے فجر کی دو سنتوں کے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه و شواهده، وإسناده هنا ضعيف، فهو معضل وفيه راو مبهم، أما الإعضال، فقد سقط منه راويان هما أبو علقمة مولي ابن عباس و يسار مولي ابن عمر وأما الراوي المبهم، فهو أيوب بن حصين، وقيل: محمد بن حصين، وهو مجهول الحال
حدیث نمبر: 4757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَالْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1180
حدیث نمبر: 4758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ العنبري عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : " أَتُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : لَا ، قُلْتُ صَلَّاهَا عُمَرُ ؟ قَالَ : لَا ، قُلْتُ : صَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ ؟ قَالَ : لَا ، قُلْتُ : أَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا إِخَالُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
مورق عجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے پوچھا : سیدنا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے ؟ فرمایا : نہیں، میں نے پوچھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے ؟ فرمایا : نہیں، میں نے پوچھا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ؟ فرمایا : میرا خیال نہیں (ہے کہ وہ پڑھتے ہوں گے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1175
حدیث نمبر: 4759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ تَرَكَهَا ذَهَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلا چھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 789، العمري . وإن كان فيه ضعف . متابع
حدیث نمبر: 4760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَر عَنِ الصَّلَاةِ بِمِنًى ؟ فَقَالَ : هَلْ سَمِعْتَ بِمُحَمَّد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، وَآمَنْتُ ، فاهتديت به ، قَالَ : فَإِنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
داؤد بن ابی عاصم ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منٰی میں نماز کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا ہے ؟ میں نے کہا، جی ہاں ! میں ان پر ایمان لا کر راہ راست پر بھی آیا ہوں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : پھر وہ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 4761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَصَلَّيْنَا الْفَرِيضَةَ ، فَرَأَى بَعْضَ وَلَدِهِ يَتَطَوَّعُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِي السَّفَرِ ، فَلَمْ يُصَلُّوا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَلَوْ تَطَوَّعْتُ ، لَأَتْمَمْت .
مولانا ظفر اقبال
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر پر نکلے، ہم نے فرض نماز پڑھی، اتنی دیر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نظر اپنے کسی بیٹے پر پڑی جو نوافل ادا کر رہا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ سفر میں نماز پڑھی ہے لیکن یہ سب فرائض سے پہلے کوئی نماز پڑھتے تھے اور نہ بعد میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا کہ اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی فرض نماز مکمل نہ کر لیتا (قصرکیوں کرتا ؟ ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1101، م: 689
حدیث نمبر: 4762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بغلی بنائی گئی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسنادان ضعيفان لضعف العمري
حدیث نمبر: 4763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً ، أَوْ بِضْعَ عَشْرَةَ مَرَّةً قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی سنتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو سنتوں میں بیسیوں یا دسیوں مرتبہ سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھی ہو گی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، " كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا : ” اے عبداللہ ! دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ گزر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، دون قوله: «واعداد نفسك فى الموتي» فهو حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، قوله: «كن فى الدنيا ........» أخرجه البخاري مطولا: 6416
حدیث نمبر: 4765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ أَبِي الْبَزَرَى السَّدُوسِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا " نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں ؟ )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو البزري مجهول
حدیث نمبر: 4766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ ، إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا ، بیشک اللہ بڑا جاننے والا نہایت باخبر ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1039
حدیث نمبر: 4767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5841، م: 2068، وهذا إسناد ضعيف لضعف على ابن زيد بن جدعان، لكنه متابع