حدیث نمبر: 4688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " لَا يَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ، فَإِنَّهَا الْعِشَاءُ ، إِنَّمَا يَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ ، لِإِعْتَامِهِمْ بِالْإِبِلِ لِحِلَابِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آ جائیں، یاد رکھو ، اس کا نام نماز عشاء ہے، اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو ”عتمہ“ کہہ دیتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ بِالْبَلَاطِ ، وَالْقَوْمُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ ، قُلْتُ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ ، أَوْ الْقَوْمِ ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان مولیٰ میمونہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اس وقت وہ درختوں کی جھاڑیوں میں تھے اور لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن میں ایک ہی نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو ۔
حدیث نمبر: 4690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ مِنْهَا ، حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ لَمْ يُسْقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں شراب پئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی ۔ “
حدیث نمبر: 4691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَال : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الْعَبَّاسَ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنًي مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ ، فَرَخَّصَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ سے غالباً سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت میں سر انجام دینے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منٰی کے ایام میں مکہ مکرمہ میں ہی رہنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
حدیث نمبر: 4692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " ، قَالَ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : مَا الشِّغَارُ ؟ قَالَ : يُزَوِّجُ الرَّجُلَ ابْنَتَهُ وَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهُ ، وَيُزَوِّجُ الرَّجُلَ أُخْتَهُ وَيَتَزَوَّجُ أُخْتَهُ ، بِغَيْرِ صَدَاقٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار (وٹے سٹے کی صورت) سے منع فرمایا ہے۔ راوی نے نافع سے شغار کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کسی سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دے اور وہ اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دے یا اپنی بہن کا کسی سے نکاح کر کے خود اس کی بہن سے نکاح کر لے اور مہر مقرر نہ کرے ۔
حدیث نمبر: 4693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ ، فَقُمْتُ مِنْ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! ! إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَرَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، فَإِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ؟ فَسَكَتَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ أَتَاهُ ، فَقَالَ : الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 ، حَتَّى بَلَغَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9 " فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ ، فَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُكَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ ، فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ ، قَالَ : فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ : إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ ، وَالْخَامِسَةَ : أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ : إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ ، وَالْخَامِسَةَ : أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر کے دور خلافت میں مجھ سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ جن مرد و عورت کے درمیان لعان ہوا ہو کیا ان دونوں کے درمیان تفریق کی جائے گی (یا خود بخود ہو جائے گی ؟ ) مجھے کوئی جواب نہ سوجھا تو میں اپنی جگہ سے اٹھا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر پہنچا اور ان سے عرض کیا ، اے ابوعبدالرحمن ! لعان کر نے والوں کے درمیان تفریق کی جائے گی ؟ انہوں نے میرا سوال سن کر سبحان اللہ کہا اور فرمایا : ” لعان کے متعلق سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے سوال کیا تھا، اس نے عرض کیا تھا، یا رسول اللہ ! ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو بدکاری کرتا ہوا دیکھتا ہے وہ بولتا ہے تو بہت بڑی بات کہتا ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو اتنی بڑی بات پر خاموش رہتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سوال کا جواب دینے کے بجائے سکوت فرمایا ۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ شخص دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے آپ سے جو سوال پوچھا تھا میں اس میں مبتلا ہو گیا ہوں، اس پر اللہ نے سورت نور کی یہ آیات «والذين يرمون ازواجهم . . . . . . ان كان من الصدقين» نازل فرمائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کے مطابق مرد سے لعان کا آغاز کرتے ہوئے اسے وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے وہ کہنے لگا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں آپ سے جھوٹ نہیں بول رہا ، دوسرے نمبر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو رکھا اسے بھی وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، وہ کہنے لگی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جھوٹا ہے ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے اس کا آغاز کیا اور اس نے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، پھر عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر ادی ۔
حدیث نمبر: 4694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سورج کا کنارہ نکلنا شروع ہو تو جب تک وہ نمایاں نہ ہو جائے اس وقت تک نماز نہ پڑھو اسی طرح جب سورج کا کنارہ غروب ہونا شروع ہو تو اس کے مکمل غروب ہونے تک نماز نہ پڑھو ۔ “
حدیث نمبر: 4695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ سورج شیطان کے دوسینگوں درمیان طلوع ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے ۔ “
حدیث نمبر: 4697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ : " يَقُومُ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے، کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پیسنے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 4698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا ، فَإِنَّمَا تَقُولُ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقُلْ : عَلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو وہ «السام عليك» کہتا ہے اس لئے اس کے جواب میں تم صرف علیک کہہ دیا کرو ۔“
حدیث نمبر: 4699
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ نَاسًا دَخَلُوا عَلَى ابْنِ عَامَرٍ فِي مَرَضِهِ ، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ ، سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ " .
مولانا ظفر اقبال
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ابن عامر کے پاس بیمار پرسی کے لئے آئے اور ان کی تعریف کر نے لگے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تمہیں ان سے بڑھ کر دھوکہ نہیں دوں گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 4701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَالَ : " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ ، وَايْمُ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کر رہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہو حالانکہ اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور ”عصیہ“ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔“
حدیث نمبر: 4703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ كَانَ حَالِفًا ، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ ، لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش کے لوگ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھایا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے، اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھاؤ ۔
حدیث نمبر: 4704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَانِ " ، قُلْنَا : إِنَّا آمِنُونَ ؟ قَالَ : سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں، ہم نے کہا کہ اب تو ہر طرف امن و امان ہے ؟ فرمایا : یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
حدیث نمبر: 4705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قال عَبْدُ الله بْن أحْمَدَ : ، قَالَ أَبِي : ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَرَّةً : ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ ؟ فَقَالَ : " وَفِّ بِنَذْرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بحوالہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا، یا رسول اللہ ! ! میں نے مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی منت مانی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منت کو پورا کر نے کا حکم دیا ۔
حدیث نمبر: 4706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کا بھی ہمدرد ہو اسے دہرا اجر ملے گا ۔ “
حدیث نمبر: 4707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ ، وَيُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا انہیں زندگی بھی دو ۔ “
حدیث نمبر: 4708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ التَّلَقِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں سے بالا بالا مل لینے کی ممانعت فرمائی ہے ۔
حدیث نمبر: 4709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو وہ فارغ ہونے سے پہلے نماز کے لئے کھڑا نہ ہو ۔ “
حدیث نمبر: 4710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بناؤ ۔“
حدیث نمبر: 4711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ كَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا ، فَقَالَ : طَلِّقْهَا ، فَأَبَيْتُ ، فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَطِعْ أَبَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری جو بیوی تھی وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ناپسند تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو میں نے اسے طلاق دینے میں لیت و لعل کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے والد کی اطاعت کرو ۔
حدیث نمبر: 4712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيَأْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو اسے اس میں شرکت کرنا چاہئے ۔“
حدیث نمبر: 4713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ ، أَوْ حَرِيرٍ تُبَاعُ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ تَلْبَسُهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لِلْوُفُودِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، قَالَ : فَأُهْدِيَ إليَّ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ مِنْهَا بِحُلَّةٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْكَ تَقُولُ مَا قُلْتَ وَبَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا ؟ قَالَ : " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَكْسُوَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے، تو جمعہ کے دن پہن لیا کرتے یا وفود کے سامنے پہن لیا کرتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ “ چند دن بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی جوڑے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بھجوا دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا کسی کو پہنا دو ۔ “
حدیث نمبر: 4714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُقْبِلًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ ، وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آتے ہوئے اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھتے رہتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ تم جہاں بھی چہرہ پھیرو گے وییں اللہ کی ذات موجود ہے ۔
حدیث نمبر: 4715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس درخت سے کچھ کھا کر آئے (کچا لہسن) تو وہ مسجد میں نہ آئے ۔ “
حدیث نمبر: 4716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِأَعْلَى السُّوقِ ، " فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگ اندازے سے غلے کی خرید و فروخت کر لیتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس طرح بیع کر نے سے روک دیا جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں ۔
حدیث نمبر: 4717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوشِ أَوْ السَّرَايَا أَوْ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَوْ إِذَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ أَوْ فَدْفَدٍ ، كَبَّرَ ثَلَاثًا ، وَيَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ سَاجِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج، جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے : ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں، سجدہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی ۔“
حدیث نمبر: 4718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 4720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا ۔
حدیث نمبر: 4721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَال : وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، فَوَاصَلَ النَّاسُ ، فَقَالُوا : نَهَيْتَنَا عَنِ الْوِصَالِ وَأَنْتَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کر نے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے ۔“
حدیث نمبر: 4723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے آگے ایک ایساحوض ہے جو جرباء اور اذرح کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 4724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
حدیث نمبر: 4725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ ، وَخَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو ”ثنیہ علیا“ سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو ”ثنیہ سفلی“ سے باہر جاتے ۔
حدیث نمبر: 4726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ " مِئَةَ مَرَّةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم ایک مجلس میں یہ شمار کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جملہ «رب اغفرلي وتب على انك انت التواب الغفور» سو مرتبہ فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ ، فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا ، وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا ، قَالَ : فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَرَآهَا مُهْتَمَّةً ، فَقَالَ : مَالَكِ ؟ فَقَالَتْ : جَاءَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا ، فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا ! فَقَالَ : " وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا ، وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ " ، قَالَ : فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ ؟ فَقَالَ : " قُلْ لَهَا تُرْسِلُ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے ان کے گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا تو وہیں سے واپس ہو گئے، بہت کم ایسا ہوا ہوتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جاتے اور ان سے ابتداء نہ کرتے، الغرض ! تھوڑی دیر بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا غمگین دکھائی دیں، انہوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ وہ بولیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے، لیکن گھر کے اندر نہیں آئے ( اور باہر سے ہی واپس ہو گئے)۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! فاطمہ نے اس چیز کو اپنے اوپر بہت زیادہ محسوس کیا ہے کہ آپ ان کے پاس آئے بھی اور گھر میں داخل نہ ہوئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے دنیا سے کیا غرض ، مجھے ان منقش پردوں سے کیا غرض ؟“ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا، انہوں نے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فاطمہ سے کہو کہ اسے بنو فلاں کے پاس بھیج دے ۔ “
…