حدیث نمبر: 4648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْغَادِرُ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6177، م: 1735
حدیث نمبر: 4649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6874، م: 98
حدیث نمبر: 4650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَإِنَّ لَهُ قِيرَاطًا " ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ ؟ فَقَالَ : " مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابرثواب ملے گا۔ “ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَطَبَا ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَيَانِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " أَوْ " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے انہوں نے جو گفتگو کی لوگوں کو اس کی روانی اور عمدگی پر تعجب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5767
حدیث نمبر: 4652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًي رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَمَعَ عُمَرَ ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ، ثُمَّ أَتَمَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، نیز سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی، بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل پڑھنا شروع کر دیا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1082، م: 694
حدیث نمبر: 4653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 432، م: 777
حدیث نمبر: 4654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَأَعْفُوا اللِّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مونچھیں خوب اچھی طرح کتروا دیا کرو اور ڈاڑھی خوب بڑھایا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5892، م: 259
حدیث نمبر: 4655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی باندیوں کو مساجد میں آنے سے مت روکو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 900، م: 443
حدیث نمبر: 4656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی طوی پر پہنچتے تو وہاں رات گزارتے صبح ہونے کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1574، م: 1259
حدیث نمبر: 4657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے۔ “ لوگوں نے عرض کیا، قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعا فرمائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرما دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 1301، ذكره البخاري تعليقا مجزوما به، بإثر الحديث 1727 من طريق عبيد الله به
حدیث نمبر: 4658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، يُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، نے ارشاد فرمایا : ” ہر شخص کے سامنے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہی ٹھکانہ ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2868، م: 3240
حدیث نمبر: 4659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ فَيَجْلِسَ فِيهِ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے البتہ تم پھیل کر کشادگی پیدا کیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6270، م: 2177
حدیث نمبر: 4660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ ، وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، قَالَ : وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں ، نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں، البتہ جمعہ اور مغرب کے بعد اپنے گھر میں نماز پڑھتے تھے اور میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے لیکن وہ ایسا وقت ہوتا ہے تھا جس میں ، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نہیں جاتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1172، م: 729
حدیث نمبر: 4661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ ، ثُمَّ عَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ ، فَأَجَازَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہیں غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی ، پھر غزوہ خندق کے دن دوبارہ پیش ہوئے تو وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4097، م: 1868
حدیث نمبر: 4662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَال : نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، وضو کر لے اور سو جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 287، م: 306
حدیث نمبر: 4663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ طے فرمایا کہ پھلوں یا کھیتی کی جو پیداوار ہو گی اس کا نصف تم ہمیں دو گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2329، م: 1551
حدیث نمبر: 4664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَن ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَسَارَّ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
حدیث نمبر: 4665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ مَثَلُ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَقَلَهَا صَاحِبُهَا ، حَبَسَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ، ذَهَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلا چھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 789
حدیث نمبر: 4666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ يَهُودِيَّيْنِ زَنَيَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَ بِرَجْمِهِمَا ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَقِيهَا بِنَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی مرد و عورت نے بدکاری کی لوگ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان دونوں کو رجم کر دیا گیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ عورت کو پتھروں سے بچانے کے لئے اس پر جھکا پڑتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7543، م: 1699
حدیث نمبر: 4667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ وَهُوَ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، لِيَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہئے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1646
حدیث نمبر: 4668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انسان پر اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے خواہ اسے اچھا لگے یا برا بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا جائے ، اس لئے کہ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو اس وقت کسی کی بات سننے اور اس کی اطاعت کر نے کی اجازت نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2955، م: 1839
حدیث نمبر: 4669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ ، فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ ، فَيَسْجُدُ ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کسی سورت کی تلاوت فرماتے اس میں موجود آیت سجدہ کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے ہم بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1075، م: 575
حدیث نمبر: 4670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیں درجے زیادہ ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 650
حدیث نمبر: 4671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَاكُمْ قَدْ تَتَابَعْتُمْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے خواب میں شب قدر کو آخری سات راتوں میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر آ کر ایک دوسرے کے موافق ہو جاتے ہیں، اس لئے آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2015، م: 1165
حدیث نمبر: 4672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ جُرَيْجٍ أَوْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَرْبَعُ خِلَالٍ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُنَّ ، لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُنَّ ؟ قَالَ : مَا هِيَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ لَا تَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا ، وَرَأَيْتُكَ لَا تُهِلُّ حَتَّى تَضَعَ رِجْلَكَ فِي الْغَرْزِ ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا لُبْسِي هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا ، ويَتَوَضَّأُ فِيهَا ، وَيَسْتَحِبُّهَا ، وَأَمَّا اسْتِلَامُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا لَا يَسْتَلِمُ غَيْرَهُمَا ، وَأَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ ، وَأَمَّا إِهْلَالِي إِذَا اسْتَوَتْ بِي رَاحِلَتِي : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
جریج یا ابن جریج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ، جو میں آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے کام ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کو رنگی ہوئی کھالوں کی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھتا ہوں کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے ہیں کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے، میں دیکھتاہوں کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک آپ اپنا پاؤں رکاب میں نہ رکھ دیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ داڑھی کو رنگین کرتے ہیں ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہننے کی جو بات ہے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی جوتی پہنی ہے، اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو بھی فرما لیتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے، رکن یمانی اور حجر اسود ہی کو بوسہ دینے کی جو بات ہے، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے، داڑھی کو رنگنے کا جو مسئلہ ہے سو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی داڑھی رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور جہاں تک سواری پر بیٹھ کر تلبیہ پڑھنے اور احرام کی نیت کر نے کا تعلق ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ پاؤں رکاب میں رکھ دیتے اور سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے اور سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 166، م: 1187
حدیث نمبر: 4673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْعَبْدُ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ ، كَانَ لَهُ أََجْرُةُ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کا بھی ہمدرد ہو اسے دہرا اجر ملے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2550، م، 1664
حدیث نمبر: 4674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، قَالَ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، وَلَا يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے تھے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد ربنا و لک الحمد کہتے تھے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 735، م: 390
حدیث نمبر: 4675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سُرَاقَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد میں نماز نہیں پڑھتے تھے (سنتیں مراد ہیں )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ؟ فَقَالَ : صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں ایک ہی اقامت سے مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں عبداللہ بن مالک نے عرض کیا : اے عبدالرحمن ! یہ کیسی نماز ہے ؟ فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نمازیں اس جگہ ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھی ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبد الله بن مالك الهمداني - ولو لم يذكر في الرواية عنه غير أبي إسحاق السبيعي، وأبي روق الهمداني، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان - متابع
حدیث نمبر: 4677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ ، فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ ، فَرَمَى بِهِ ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091
حدیث نمبر: 4678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: م: 2265
حدیث نمبر: 4679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : " الْفِتْنَةُ هَاهُنَا ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پڑ کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3104، م: 2905
حدیث نمبر: 4680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ ، وَصَلِّ عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ ، فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ ، وَقَالَ : " آذِنِّي بِهِ " ، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، قَالَ يَعْنِي عُمَرَ : قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، فَقَالَ : " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا سورة التوبة آية 84 قَالَ : فَتُرِكَتْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مر گیا ، تو اس کے صاحبزادے ”جو مخلص مسلمان تھے“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ، یا رسول اللہ ! مجھے اپنی قمیض عطاء فرمائیے تاکہ میں اس میں اسے کفن دوں اس کی نماز جنازہ بھی پڑھایئے اور اللہ سے بخشش بھی طلب کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قمیض دے دی اور فرمایا کہ جنازے کے وقت مجھے اطلاع دینا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھانے سے روکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے دو باتوں کا اختیار ہے استغفار کر نے یا نہ کر نے کا۔ “ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، بعد میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرما دیا کہ ان میں سے جو مر جائے اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھائیں چنانچہ اس کے بعد ان کی نماز جنازہ متروک ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1269، م: 2400
حدیث نمبر: 4681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكَزَ الْحَرْبَةَ يُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سترہ کے طور پر نیزہ گاڑ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح خ: 498، م: 501،
حدیث نمبر: 4682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ ، قَالَ : أَنْتِ جَمِيلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عاصیہ“ نام بدل کر اس کی جگہ ”جمیلہ“ نام رکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2139
حدیث نمبر: 4683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ، فَاسْتَزَدْنَهُ ، فَزَادَهُنَّ شِبْرًا آخَرَ ، فَجَعَلْنَهُ ذِرَاعًا " ، فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا نَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امہات المؤمنین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بالشت کے برابر دامن کی اجازت عطاء فرمائی انہوں نے اس میں اضافے کی درخواست کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بالشت کا مزید اضافہ کر دیا اور امہات المؤمنین نے اسے ایک گز بنا لیا ، پھر وہ ہمارے پاس کپڑا بھیجتی تھیں تو ہم انہیں ایک گز ناپ کر دے دیتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح، خ : 5783، م : 2085، وهذا إسناد ضعيف لضعف زيد العمي
حدیث نمبر: 4684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَكَّهَا ، وَخَلَّقَ مَكَانَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ : 1213، م : 547، إسناده هذا قوي
حدیث نمبر: 4685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " ، قَالَ : قُلْنَا : فَإِنْ كَانُوا أَرْبَعًا ؟ قَالَ : " فَلَا يَضُرُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔ “ ہم نے پوچھا : اگر چار ہوں تو ؟ فرمایا : ” پھر کوئی حرج نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 6288، م : 2183
حدیث نمبر: 4686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان " لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِي فِي كُلِّ طَوَافٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی طواف میں حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام ترک نہیں کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 4687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَحَدُكُمْ قَالَ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص جب اپنے بھائی کو ”اے کافر“ کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح