حدیث نمبر: 6440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا ، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
حدیث نمبر: 6441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ ، قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور کدو کی نبیذ سے منع فرمایا : ” ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” ہاں طاؤس کہتے ہیں یہ بات میں نے خود سنی ہے۔
حدیث نمبر: 6442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہیں فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 6443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا ضَارِيًا أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔
حدیث نمبر: 6444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَأْذَنُوا لَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حدیث نمبر: 6445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي جَهْضَمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَحْلِلْ " ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ، فَلَمْ يَحِلُّوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے سیدنا ابوبکرو عمر و عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تو وہ بھی حلال نہیں ہوئے۔
حدیث نمبر: 6446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلْغَادِرِ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حدیث نمبر: 6448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُمَثِّلُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ مَالَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ ، فَيَلْزَمُهُ ، أَوْ يُطَوِّقُهُ ، قَالَ : يَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ , أَنَا كَنْزُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ سانپ طوق بنا کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا اور وہ اسے کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
حدیث نمبر: 6449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَنَزَلَ صَاحِبٌ لَهُ يُوتِرُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا شَأْنُكَ لَا تَرْكَبُ ؟ قَالَ : أُوتِرُ , قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک سفر میں تھے ان کا کوئی شاگرد وتر پڑھنے کے لئے اپنی سواری سے اترا تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا بات ہے تم سوار کیوں نہیں رہے ؟ اس نے کہا میں وتر پڑھنا چاہتا ہوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” کیا اللہ کے رسول کی ذات میں تمہارے لئے اسؤہ حسنہ موجود نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْشُوا السَّلَامَ ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ اور حکم الہٰی کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو۔
حدیث نمبر: 6451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ " ، " وَنَهَى عَنِ النَّجْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے نہ ملا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا : ” ہے۔
حدیث نمبر: 6452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 6453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ ، عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مشترکہ غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو وہ غلام کی قیمت لگائی جائے گی اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 6454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ ، كُنْتُ فِيهَا ، فَغَنِمْنَا إِبِلًا كَثِيرَةً ، وَكَانَتْ سِهَامُنَا أَحَدَ عَشَرَ ، أَوْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنُفِّلْنَا بَعِيرًا بَعِيرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا : ” ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا : ” ۔
حدیث نمبر: 6455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ " ، يَعْنِي : صَلَاةَ الْجَمِيعِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تنہا نماز پڑھنے سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیں درجے زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 6456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْفُوا اللِّحَى وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مونچھیں خوب اچھی طرح کتروادیا کرو اور ڈاڑھی خوب بڑھایا کرو۔
حدیث نمبر: 6457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , " كَانَ يَرْمِي الْجِمَارَ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا " ، وَيَزْعُمُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دس الحجہ کے بعد جمرات کی رمی پیدل کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرَسِهِ ، بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : ثُرَيْرٌ ، فَأَجْرَى الْفَرَسَ حَتَّى قَامَ ، ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ ، فَقَالَ : " أَعْطُوهُ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین کا ایک قطعہ جس کا نام شریر تھا بطور جاگیر کے عطاء فرمایا : ” اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تیز رفتار گھوڑے پر بیٹھ کر اسے دوڑایا پھر ایک جگہ رک کر اپناکوڑا پھینکا اور فرمایا : ” جہاں تک یہ کوڑا گیا ہے وہاں تک کہ جگہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دو ۔
حدیث نمبر: 6459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَرِهَ الْقَزَعَ لِلصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قزع سے منع فرمایا : ” ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حدیث نمبر: 6460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَوَّلُ صَدَقَةٍ كَانَتْ فِي الْإِسْلَامِ صَدَقَةُ عُمَرَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْبِسْ أُصُولَهَا ، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اسلام میں سب سے پہلاصدقہ وہ تھا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تھا اس کی اصل تو اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع صدقہ کر دو۔
حدیث نمبر: 6461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ، فَإِذَا مَرَّ بِسُجُودِ الْقُرْآنِ سَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کریم سکھاتے تھے اس دوران اگر وہ آیت سجدہ کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے تو ہم بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " يَبِيتُ بِذِي طُوًى ، فَإِذَا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ ، وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَغْتَسِلُوا ، وَيَدْخُلُ مِنَ الْعُلْيَا ، فَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ السُّفْلَى " ، وَيَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام ذی طوی میں پہنچ کر رات گزارتے صبح ہونے کے بعد غسل کرتے اور ساتھیوں کو بھی غسل کا حکم دیتے اور ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور ثنیہ سفلی سے باہر نکلتے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " يَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ " ، وَيَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے چکروں میں رمل حجر اسود سے حجر اسود تک کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيعَ لِلْخَيْلِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , يَعْنِي الْعُمَرِيَّ خَيْلِهِ ؟ قَالَ : خَيْلِ الْمُسْلِمِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی چراگاہ نقیع کو بنایا حماد کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اپنے گھوڑوں کی ؟ تو استاد نے جواب دیا نہیں بلکہ مسلمانوں کے گھوڑوں کی۔
حدیث نمبر: 6465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَتَيْنِ ، مَا سَمِعْتُهُ رَوَى شَيْئًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ " الضَّبِّ أَوْ الْأَضُبِّ " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس دو سال کے قریب آتا جاتا رہا ہوں لیکن اس دوران میں نے ان سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث نہیں سنی پھر انہوں نے گوہ والی حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 6466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُقْبَةُ أَبُو مَسْعُودٍ الْمُجَدَّرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ ، وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِي الْغَايَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور ایک جگہ مقرر کر کے شرط لگائی۔
حدیث نمبر: 6467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ الزَّكَاةِ ، زَكَاةِ الْفِطْرِ ، أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ صدقہ فطر عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 6468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا ، وَإِنَّهَا مَثَلُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ " ، قَالَ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، وَكُنْتُ مِنْ أَحْدَثِ النَّاسِ ، وَوَقَعَ فِي صَدْرِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي ، فَقَالَ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا : ” وہ کھجور کا درخت ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکر ہ کیا تو انہوں نے فرمایا : ” اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔
حدیث نمبر: 6469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " قَاطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ عَلَى الشَّطْرِ ، وَكَانَ يُعْطِي نِسَاءَهُ مِنْهَا مِئَةَ وَسْقٍ ، ثَمَانِينَ تَمْرًا ، وَعِشْرِينَ شَعِيرًا " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذِهِ الْأَحَادِيثَ إِلَى آخِرِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ طے فرمایا : ” کہ پھل کھیتی کی جو پیداوار ہو گی اس کا نصف تم ہمیں دوگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ازواج مطہرات کو اس میں سے ہر سال سو وسق دیا کرتے تھے جن میں سے اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 6470
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ أَحْمَّدٍ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي الْخَيَّاطَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ تَحْتِي امْرَأَةٌ كَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا ، فَقَالَ لِي أَبِي : طَلِّقْهَا , قُلْتُ : لَا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَدَعَانِي ، فَقَالَ : " عَبْدَ اللَّهِ ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ " ، قَالَ : فَطَلَّقْتُهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میری جو بیوی تھی وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ناپسند تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو میں نے اسے طلاق دینے میں لیت ولعل کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ۔
حدیث نمبر: 6471
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفات (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 6472
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أبي : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : كُنَّا إِذَا اشْتَرَيْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , طَعَامًا جُزَافًا مُنِعْنَا أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نُؤْوِيَهُ إِلَى رِحَالِنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ اندازے سے غلے کی خریدو فروخت کر لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح بیع کر نے سے روک دیا جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔
حدیث نمبر: 6473
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ ، جَمَعَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 6474
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ ، وَسَمِعْتُهُ سَمَاعًا , قَالَ : حَدَّثَنَا الأسود بن عامر ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ : أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا ، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ " , قَالَ شُعْبَةُ : وَذَكَرَ لِي رَجُلٌ ثِقَةٌ , عَنْ سُفْيَانَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّمَا قَالَ : مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا ، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي " , قَالَ شُعْبَةُ : فَلَا أَدْرِي قَالَ ذَا أَوْ ذَا ؟ شُعْبَةُ شَكَّ , قَالَ عَبْد اللَّهِ أَحْمَّد : قَالَ أَبِي : الرَّجُلُ الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ شب قدر کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اسے تلاش کرنا چاہتا ہے وہ اسے ستائیسویں رات کو تلاش کرے۔
حدیث نمبر: 6475
(حديث مرفوع) قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْعَاصِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، نُرِيدُ الْعُمْرَةَ مِنْهَا ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ , وَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ ؟ ! " فَقَدْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَهُ كُلَّهَا قَبْلَ حَجَّتِهِ فَاعْتَمَرْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
عکر مہ بن خالدرحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ہم لوگ مدینہ منورہ سے عمرے کا احرام باندھنا چاہتے تھے وہاں میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہو گئی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم کچھ اہل مکہ ہیں مدینہ منورہ حاضر ہوئے ہیں اس سے پہلے ہم نے حج بالکل نہیں کیا کیا ہم مدینہ سے عمرے کا احرام باندھ سکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ” ہاں اس میں کون سی ممانعت ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سارے عمرے حج سے پہلے ہی کئے تھے اور ہم نے بھی عمرے کئے ہیں۔
حدیث نمبر: 6476
(حديث مرفوع) قَالَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 هُوَ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ ، وَقَالَ عَطَاءٌ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَوْثَرُ : نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ ، حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے محارب نے کہا سبحان اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ علیہ کا قول اتنا کم وزن نہیں ہو سکتا میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکر یوں پر بہتا ہے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صحیح فرمایا : ” کیونکہ واللہ وہ خیر کثیر ہی تو ہے۔ آخر مسند عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ