حدیث نمبر: 4608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فِيهَا ، فَقَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَمَا تَأْمُرُ بِهِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ : أَنْ لَا تُبَاعَ ، وَلَا تُوهَبَ ، وَلَا تُوَرَّثَ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا ، غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین حصے میں ملی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق مشورہ لینا چاہا ،چنانچہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے حصے میں خیبر کی زمین کا ایک ایسا ٹکڑا آیا ہے کہ اس سے عمدہ مال میرے پاس کبھی نہیں آیا ، آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم چاہو تو اس کی اصل اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع صدقہ کر دو۔ “ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء قریبی رشتہ داروں ، غلاموں ، مجاہدین ، مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کر دیا اور فرمایا کہ اس زمین کے متولی کے لئے خود بھلے طریقے سے اس میں سے کچھ کھانے میں یا اپنے دوست کو جو اس سے اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہو ، کھلانے میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2737، م: 1632
حدیث نمبر: 4609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے جس وقت اسلام قبول کیا ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو ( اور باقی چھ کو طلاق دے دو ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده وبعمل الأئمة المتبوعین به، وهذا الإسناد، وإن كان رجاله ثقات رجال الشيخين، إلا أن معمرا رواه بالعراق، وحدث به من حفظه، فوصل إسناده وأخطأ فيه، ورواه عبدالرزاق في «المصنف» عن معمر عن الزهري مرسلا، وكذلك رواه مالك في المؤطا عن الزهري مرسلا، وهذا الصحيح، فإن معمرا كان يحدث في اليمن من كتبه، فلا يقع له الوهم، وأما ما حدث به خارج اليمين! فكان يحدث به من حفظه فيقع له بعض الوهم.
حدیث نمبر: 4610
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : رُبَّمَا " أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الْفَرِيضَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرض نماز میں ہماری امامت کرتے ہوئے ایک ہی رکعت میں دو یا تین سورتیں بھی پڑھ لیتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ لَيْلَةُ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَكَانَ فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مہینہ کبھی ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے اس لئے اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اندازہ کر لو ۔ “ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شعبان کی ٢٩ تاریخ ہونے کے بعد اگر بادل یا غبار چھایا ہوا ہوتا تو روزہ رکھ لیتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1907، م: 1080
حدیث نمبر: 4612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَلَا تُصَلُّوا حَتَّى تَبْرُزَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَلَا تُصَلُّوا حَتَّى تَغِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب سورج کا کنارہ نکلنا شروع ہو تو جب تک وہ نمایا نہ ہو جائے اس وقت تم نماز نہ پڑھو، اسی طرح جب سورج کا کنارہ غروب ہونا شروع ہو تو اس کے مکمل غروب ہونے تک نماز نہ پڑھو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 582، م: 828
حدیث نمبر: 4613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، يَقُومُ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ”جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ “ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4938، م: 2862
حدیث نمبر: 4614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْكُزُ الْحَرْبَةَ يُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات سترہ کے طور پر نیزہ گاڑ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 498، م: 501
حدیث نمبر: 4615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338
حدیث نمبر: 4616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3644، م: 1871
حدیث نمبر: 4617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَقِيتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ ، مُسْتَدْبِرَ الْبَيْتِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کی گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے اور قبلہ کی طرف پشت کر کے قضاء حاجت فرما رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 148، م: 266
حدیث نمبر: 4618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ كَان " يَرْمُلُ ثَلَاثًا وَيَمْشِي أَرْبَعًا ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ ، وَكَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي مَا بَيْنَهُمَا لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چار چکروں میں معمول کی رفتار رکھتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے تھے تاکہ استلام کر نے میں آسانی ہو سکے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1617، م: 1261
حدیث نمبر: 4619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّبِّ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ؟ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنَهَى عَنْهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جبکہ وہ منبر پر تھے، گوہ کے متعلق پوچھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے کھاتاہوں اور نہ منع کرتا ہوں ۔ “ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جو شخص اس درخت سے کچھ کھا کر آئے (کچا لہسن) تو وہ مسجد میں نہ آئے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1943
حدیث نمبر: 4620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر نفل نماز اور وتر پڑھ لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 4621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی نماز عصر عمداً فوت ہو جائے حتٰی کہ سورج غروب ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 626، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 4622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَقَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً حَيَّةً يَرْمُونَهَا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ مَنْ مَثَّلَ بِالْبَهَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک زندہ مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر نشانہ درست کر رہے ہیں اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي مُلْكِ أَلْفَيْ سَنَةٍ ، يَرَى أَقْصَاهُ كَمَا يَرَى أَدْنَاهُ ، يَنْظُرُ فِي أَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ ، وَإِنَّ أَفْضَلَهُمْ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی دو ہزار سال کے فاصلے پر پھیلی ہوئی مملکت کے آخری حصے کو اس طرح دیکھے گا ، جیسے اپنے قریب کے حصے کو دیکھتا ہو گا اور اس پورے علاقے میں اپنی بیویوں اور خادموں کو بھی اسی طرح دیکھتا ہو گا جب کہ سب سے افضل درجے کا جنتی روزانہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا ہو گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ثوير بن فاختة ضعفه ابن معين وأبو زرعة وأبو حاتم والنسائي وابن عدي وغيرهم، وقال الدارقطني علي بن الجنيد: متروك
حدیث نمبر: 4624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا ، فَهَلْ لِي تَوْبَةٌ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَكَ خَالَةٌ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَبِرَّهَا إِذَنْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش اور کوئی صورت ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ”کیا تمہارے والدین ہیں ؟“ اس نے کہا : نہیں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے متعلق پوچھا ، اس نے کہا : وہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اور ان سے حسن سلوک کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا ، وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو ”ثنیہ علیا“ سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو ”ثنیہ سفلی“ سے باہر جاتے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1575
حدیث نمبر: 4626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَعُدُّ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ وَأَصْحَابُهُ مُتَوَافِرُونَ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، ثُمَّ نَسْكُتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد کے باوجود جب درجہ بندی کرتے تھے، تو ہم یوں شمار کرتے تھے سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم یہاں پہنچ کر ہم خاموش ہو جاتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3655
حدیث نمبر: 4627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَجُلٌ فِي الْقَوْمِ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا ، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ایک آدمی کہنے لگا «الله اكبر كبيرا ، والحمدلله كثيرا ، و سبحان الله بكرة واصيلا» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد پوچھا کہ یہ جملے کس نے کہے تھے ؟ وہ آدمی بولا، یا رسول اللہ ! میں نے کہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ان جملوں پر بڑا تعجب ہوا کہ ان کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دئیے گئے ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 601
حدیث نمبر: 4628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ " إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ ، أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى ذِي طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ ، ثُمَّ يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ ، وَيَغْتَسِلَ ، وَيُحَدِّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى ، فَيَأْتِي الْبَيْتَ ، فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ ، يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ ، فَإِذَا أَتَى عَلَى الْحَجَر اسْتَلَمَهُ ، وَكَبَّرَ أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ مَشْيًا ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْحَجَرِ ، فَيَسْتَلِمُهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا الْبَابِ الْأَعْظَمِ ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ ، فَيُكَبِّرُ سَبْعَ مِرَارٍ ، ثَلَاثًا يُكَبِّرُ ، ثُمَّ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کے قریب حصے میں پہنچتے تو تلبیہ روک دیتے جب مقام ذی طوی پر پہنچتے تو وہاں رات گزارتے صبح ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھتے غسل کرتے اور بتاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، پھر چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے بیت اللہ کے قریب پہنچ کر حجر اسود کا استلام «بسم الله ، والله اكبر» کہہ کر فرماتے ، طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے، جب حجر اسود پر پہنچتے تو اس کا استلام کرتے اور تکبیر کہتے، بقیہ چار چکر عام رفتار سے پورے کرتے، مقام ابراہیم پر چلے جاتے اور اس پر کھڑے ہو کر سات مرتبہ تکبیر کہتے اور پھر یوں کہتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریفات ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1573، م: 1259
حدیث نمبر: 4629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ النَّبِيذِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ مَعَ الْأَشَجِّ ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّرَابِ ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي حَنْتَمَةٍ ، وَلَا فِي دُبَّاءٍ ، وَلَا نَقِيرٍ " ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، وَالْمُزَفَّتُ ؟ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَسِيَ ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَقَدْ كَانَ يَكْرَهُهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالخالق کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نبیذ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کا وفد اپنے سردار کے ساتھ آیا، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشروبات کے متعلق پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ حنتم ، دبا ، یا نقیر میں کچھ مت پیو ،میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابومحمد ! کیا اس ممانعت میں ”مزفت“ بھی شامل ہے ؟ میرا خیال تھا کہ شاید وہ یہ لفظ بھول گئے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے اس دن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس کا تذکر ہ کرتے ہوئے نہیں سنا تھا البتہ وہ اسے ناپسند ضرور کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ عَسْبِ الْفَحْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈ کو مادہ جانور سے جفتی کروانے کے لئے کسی کو دینے پر اجرت لینے سے منع فرمایا ہے (یا یہ کہ ایسی کمائی کو استعمال کرنے کی ممانعت فرمائی ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2284
حدیث نمبر: 4631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَال : ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ ، وَقَسَمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ ، فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لَا تَمْكُثَ إِلَّا قَلِيلًا ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ ، وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ ، أَوْ لَأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے جس وقت اسلام قبول کیا ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار کو منتخب کر لو (باقی کو فارغ کر دو چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا) اور جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے اپنی باقی بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنا سارا مال اپنے بیٹوں میں تقسیم کر دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال ہے شیطان کو چوری چھپے سننے کی وجہ سے تمہاری موت کی خبر معلوم ہو گئی اور وہ اس نے تمہارے دل میں ڈال دی ہے ہو سکتا ہے کہ اب تم تھوڑا عرصہ ہی زندہ رہو، اللہ کی قسم ! یا تو تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو اور اپنی تقسیم وراثت سے بھی رجوع کر لو، ورنہ میں تمہاری طرف سے تمہاری بیویوں کو بھی وارث بناؤں گا ( اور انہیں ان کا حصہ دلاؤں گا) اور تمہاری قبر پر پتھر مارنے کا حکم دے دوں گا اور جیسے ابو رغال کی قبر پر پتھر مارے جاتے ہیں ، تمہاری قبر پر بھی مارے جائیں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن المرفوع منه أخطأ فيه معمر، كما سلف برقم : 4609
حدیث نمبر: 4632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ ، فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ ، فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ ، فَلَمَّا قُبِضَ عَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ ، ثُمَّ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ ، فَكَانَ فِيهِ " فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ " . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : ثُمَّ أَصَابَتْنِي عِلَّةٌ فِي مَجْلِسِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فَكَتَبْتُ تَمَامَ الْحَدِيثِ ، فَأَحْسَبُنِي لَمْ أَفْهَمْ بَعْضَهُ ، فَشَكَكْتُ فِي بَقِيَّةِ الْحَدِيثِ ، فَتَرَكْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی تفصیل سے متعلق ایک تحریر لکھوائی تھی لیکن اپنے گورنروں کو بھجوانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریر اپنی تلوار کے ساتھ (میان میں) رکھ چھوڑی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر عمل کرتے رہے تاآنکہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس تحریر میں یہ لکھا تھا کہ پانچ اونٹوں پر ایک بکر ی واجب ہو گی، دس میں میں دو بکریاں ، پندرہ میں تین ، بیس میں چار اور پچیس میں ایک بنت مخاض واجب ہو گی ۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں میرے والد صاحب نے فرمایا : یہاں تک پہنچ کر مجھے عباد بن عوام کی مجلس میں کوئی عذر پیش آ گیا ،میں نے حدیث تو مکمل لکھ لی لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے اس کا کچھ حصہ سمجھ میں نہیں آیا، اس لئے مجھے بقیہ حدیث میں شک ہو گیا جس کی بناء پر میں نے اسے ترک کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعیف، سفیان بن حسین ضعيف في روايته عن الزهري، ثقة في غيره
حدیث نمبر: 4633
حَدَّثَنِي أَبِي بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمُسْنَدِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ جَمَعَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ فَحَدَّثَنَا بِهِ فِي حَدِيثِ سَالِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بِتَمَامِهِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبَّادٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مکمل مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4633
حدیث نمبر: 4634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَلَمْ يُخْرِجْهَا إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ ، قَالَ : فَأَخْرَجَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ ، فَعَمِلَ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ ، فَعَمِلَ بِهَا ، قَالَ : فَلَقَدْ هَلَكَ عُمَرُ يَوْمَ هَلَكَ وَإِنَّ ذَلِكَ لَمَقْرُونٌ بِوَصِيَّتِهِ ، فَقَالَ : كَانَ فِيهَا " فِي الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ، فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، فَابْنُ لَبُونٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ ، إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً ، فَفِيهَا حِقَّةٌ ، إِلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا جَذَعَةٌ ، إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ ، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ ، إِلَى تِسْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، فَإِذَا كَثُرَتِ الْإِبِلُ ، فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَفِي الْغَنَمِ مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا شَاتَانِ ، إِلَى مِئَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ بَعْدُ ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَ مِئَةٍ ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْغَنَمُ ، فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ " وَكَذَلِكَ لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ ، فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ ، لَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ ، وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ مِنَ الْغَنَمِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی تفصیل سے متعلق ایک تحریر لکھوائی تھی لیکن اپنے گورنروں کو بھجوانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریر اپنی تلوار کے ساتھ (میان میں) رکھ چھوڑی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس پر عمل کرتے رہے تاآنکہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس تحریر میں یہ لکھا تھا کہ پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہو گی ، دس میں دو بکریاں ، پندرہ میں تین ، بیس میں چار اور پچیس میں ایک بنت مخاض واجب ہو گی ۔ اور یہی تعداد ٣٥ اونٹوں تک رہے گی، اگر کسی کے پاس بنت مخاض نہ ہو تو وہ ایک ابن لبون مذکر (جو تیسرے سال میں لگ گیا ہو) دے دے ۔جب اونٹوں کی تعداد ٣٦ ہو جائے تو اس میں ٤٥ تک ایک بنت لبون واجب ہو گی جب اونٹوں کی تعداد ٤٦ ہو جائے تو اس میں ایک حقہ (چوتھے سال میں لگ جانے والی اونٹنی) کا وجوب ہو گا ، جس کے پاس رات کو نر جانور آ سکے ۔ یہ حکم ساٹھ تک رہے گا جب یہ تعداد ٦١ ہو جائے تو ٧٥ تک اس میں ایک جزعہ (جو پانچویں سال میں لگ جائے) واجب ہو گا ، جب یہ تعداد ٧٦ ہو جائے تو ٩٠ تک اس میں دو بنت لبون واجب ہوں گی جب یہ تعداد ٩١ ہو جائے تو ١٢٠ تک اس میں دو حقے ہوں گے جن کے پاس نر جانور آ سکے ، جب یہ تعداد ١٢٠ سے تجاوز کر جائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہو گا ۔ سائمہ (خود چر کر اپنا پیٹ بھرنے والی) بکریوں میں زکوٰۃ کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب بکریوں کی تعداد چالیس ہو جائے تو ١٢٠ تک ایک واجب ہو گی ٢٠٠ تک دو بکریاں اور تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی، اس کے بعد چار سو تک کچھ اضافہ نہیں ہو گا ، لیکن جب تعداد زیادہ ہو جائے گی تو اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری دیناواجب ہو گی ۔ نیز زکوٰۃ سے بچنے کے لئے متفرق جانوروں کو جمع اور اکٹھے جانوروں کو متفرق نہ کیا جائے اور یہ کہ اگر دو قسم کے جانور ہوں (مثلاً بکریاں بھی اور اونٹ بھی) تو ان دونوں کے درمیان برابری سے زکوٰۃ تقسیم ہو جائے گی اور زکوٰۃ میں انتہائی بوڑھی یا عیب دار بکری نہیں لی جائے گی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين في روايته، عن الزهري
حدیث نمبر: 4635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ قَالَ : شَقِيصًا لَهُ ، أَوْ قَالَ : شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا بَلَغَ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ ، فَهُوَ عَتِيقٌ ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ " قَالَ أَيُّوبُ : كَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ ، فَلَا أَدْرِي أَهُوَ فِي الْحَدِيثِ ، أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ ؟ يَعْنِي قَوْلَهُ : " فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو وہ غلام کی قیمت کے اعتبار سے ہو گا ، چنانچہ اب اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی ، باقی شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2524، م: 1501
حدیث نمبر: 4636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ ، أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا فَدْفَدًا مِنَ الْأَرْضِ أَوْ شَرَفًا ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ تَائِبُونَ ، سَاجِدُونَ عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے : اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں، سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2595، م: 1344
حدیث نمبر: 4637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً ، قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ ، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَقَامَ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمْ أَضَاعَهُ ؟ حَتَّى يَسْأَلَهُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ خَاصَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جس شخص کو رعیت کا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ذمہ داربناتا ہے، اس سے رعایا کے متعلق قیامت کے دن باز پرس بھی کرے گا کہ اس نے اپنی رعایا کے بارے اللہ کے احکامات کو قائم کیا یا ضائع کیا ؟ یہاں تک کہ اس سے اس کے اہل خانہ کے متعلق بھی خصوصیت کے ساتھ پوچھا جائے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن الحسن البصري لم يسمع هذا الحديث من ابن عمر، وله شاهد من حديث معقل بن يسار عند البخاري : 7151، ومسلم : 142
حدیث نمبر: 4638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مانگنا اپنی عادت بنا لیتا ہے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی تک نہ ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1474، م: 1040
حدیث نمبر: 4639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا عَلَى السُّوقِ ، " فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگ اندازے سے غلے کی خرید و فروخت کر لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس طرح بیع کرنے سے روک دیا جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2167، م: 1526
حدیث نمبر: 4640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَبِيعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ بِحَبَلِ حَبَلَةٍ ، وَحَبَلُ حَبَلَةٍ تُنْتَجُ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ، ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي تُنْتَجُهُ ، " فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹ کا گوشت حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کے بدلے بیچا کرتے تھے اور حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے سے مراد ”جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے“ اس کا بچہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3843، م: 1514
حدیث نمبر: 4641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ ، قَالَ : عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ يَعْنِي امْرَأَتَهُ ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : لَا ، حَتَّى يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ؟ فَقَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں میں یہ بات چھڑ گئی کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے تو کیا صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے سے پہلے اس کے لئے اپنی بیوی کے پاس آنا حلال ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ ہم نے یہ سوال سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے سے پہلے اس کے لئے یہ کام حلال نہیں ، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر فرمایا کہ پیغمبر اللہ کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 395، وأخرج الشطر الثاني منه مسلم : 1234
حدیث نمبر: 4642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : بَيْنَمَا النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ الْغَدَاةَ ، إِذْ جَاءَ جَاءٍ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ ، " وَأُمِرَ أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةُ ، فَاسْتَقْبَلُوهَا ، وَاسْتَدَارُوا ، فَتَوَجَّهُوا نَحْوَ الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کر نے کا حکم دیا گیا ہے یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنارخ کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 4488، م : 526
حدیث نمبر: 4643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ لَا يَأْكُلُ مِنْ لَحْمِ هَدْيِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی شخص تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے۔ “ اسی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تیسرے دن کے غروب آفتاب کے بعد قربانی کے جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م :1970، ابن جریج صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدلیسه
حدیث نمبر: 4644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 4645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 2003
حدیث نمبر: 4646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلفَ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 1395
حدیث نمبر: 4647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ : الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَالْعِنَبُ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا ، وَالْحِنْطَةُ بِالزَّرْعِ كَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ کٹی ہوئی کھجور کی درختوں پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے، انگور کی کشمش کے بدلے اور گندم کے بدلے گیہوں کی اندازے سے بیع کرنا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1272، م: 1542