حدیث نمبر: 6361
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6362
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ ، غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ ، يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَوْ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَا النَّخْلَ ، طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ ، أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا ، قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ ، قَالَ : فَرَأَتْ أُمُّهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ : أَيْ صَافِ , وَهُوَ اسْمُهُ ، هَذَا مُحَمَّدٌ , فَثَارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر کھجوروں کے اس باغ میں گئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس باغ میں داخل ہوئے تو ٹہنیوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے چلنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ چپکے سے جا کر ابن صیاد کی کچھ باتیں قبل اس کے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے سن لیں ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا کچھ گنگنا رہا تھا ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ وہ ٹہنیوں اور شاخوں کی آڑ لے کر چلے آ رہے ہیں تو فوراً بول پڑی صافی (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں یہ سنتے ہی وہ کود کر بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ عورت اسے چھوڑ دیتی ( اور میرے آنے کی خبر نہ دیتی) تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کر دیتا۔
حدیث نمبر: 6364
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثناء کر نے کے بعد دجال کا تذکر ہ کیا اور فرمایا : ” کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور مجھ سے پہلے جو نبی بھی آئے انہوں نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایاحتیٰ کے سیدنا نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے میں تمہارے سامنے اس کی ایک ایسی علامت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی اور وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہو سکتا۔
حدیث نمبر: 6366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ ، فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي ، فَاقْتُلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہودی تم سے قتال کر یں گے اور تم ان پر غالب آجاؤ گے حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے نیچے چھپا ہو گا تو وہ پتھر مسلمانوں سے پکارپکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کرو۔
حدیث نمبر: 6367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ , وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ ، وَمَنَّ عَلَيْهِمْ ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، إِلَّا بَعْضَهُمْ ، لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ ، وَأَسْلَمُوا ، وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ : بَنِي قَيْنُقَاعَ ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنونضیر اور بنوقریظہ کے یہودیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور نبوقریظہ پر احسان فرماتے ہوئے انہیں وہیں رہنے دیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد بنو قریظہ نے دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کر دیا اور ان کی عورتوں بچوں اور مال و دولت کو چند ایک کے استثناء کے ساتھ مسلمانوں میں تقسیم کر دیا یہ چند ایک لوگ وہ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دے دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا جن میں بنوقینقاع جو سیدنا عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنوحارثہ کے یہودی بلکہ مدینہ منورہ میں رہنے والا ہر یہودی شامل تھا۔
حدیث نمبر: 6368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا ، وَكَانَتْ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا ، فَسَأَلَتْ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا ، عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا ، وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا " ، فَقَرُّوا بِهَا ، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ , وَأَرِيحَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودونصاریٰ کو ارض حجاز سے جلاوطن کر دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح فرمایا : ” تھا تو اسی وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرما لیا تھا کیونکہ زمین تو اللہ کی اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی ہے لیکن یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں یہیں رہنے دیں وہ محنت کر نے سے مسلمانوں کی کفایت کر یں گے اور نصف پھل انہیں دیا کر یں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک ہم چاہیں گے تمہیں یہاں رہنے دیں گے (یعنی یہ ہماری صوابدید پر محمول ہو گا) چنانچہ وہ لوگ وہاں رہتے رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحا کی طرف جلا وطن کر دیا۔
حدیث نمبر: 6369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حدیث نمبر: 6370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبریہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حدیث نمبر: 6371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَخْلُفُهُ فِيهِ " ، فَقُلْتُ أَنَا لَهُ , يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ , فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے میں نے راوی سے پوچھا کہ جمعہ کے دن ایسا کر نے کی ممانعت مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” کہ جمعہ اور غیر جمعہ کو شامل ہے۔
حدیث نمبر: 6372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى بِاللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ ، فَقَدْ ذَهَبَتْ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوَتْرُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے جب طلوع فجر ہو جائے تو رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہو گیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طلوع فجر سے قبل وتر پڑھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 6373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا قَبْلَ الصُّبْحِ " ، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے وہ سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے
حدیث نمبر: 6374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 13 - 14 ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنْ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا ، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ " ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ ، وَزَادَ فِيهِنَّ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کر دی اور نہ ہم اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ میں آپ سے اپنے اس سفر میں نیکی تقویٰ اور آپ کو راضی کر نے والے اعمال کا سوال کرتا ہوں اے اللہ اس سفر کو ہم پر آسان فرما جگہ کی دوریاں ہمارے لئے لپیٹ دے اے اللہ سفر میں تو میرا رفیق ہے اور میرے اہل خانہ کا جانشین ہے اے اللہ سفر میں ہمارے رفاقت فرما ہمارے پیچھے ہمارے اہل خانہ میں ہماری جانشینی فرما اور جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو یہ دعاء فرماتے توبہ کرتے ہوئے لوٹ کر انشاء اللہ آ رہے ہیں اپنے رب کی عبادت اور اس کی تعریف کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 6375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً جَاءَهُ خَبَرٌ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا وَجِعَةٌ ، فَارْتَحَلَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعَصْرَ ، وَتَرَكَ الْأَثْقَالَ ، ثُمَّ أَسْرَعَ السَّيْرَ ، فَسَارَ حَتَّى حَانَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ ، فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا ، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا ، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " إِذَا اسْتَعْجَلَ بِهِ السَّيْرُ ، أَخَّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک مرتبہ دو نمازوں کو اکٹھا کیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ انہیں صفیہ بنت ابی عبید کی بیماری کی خبر معلوم ہوئی وہ عصر کی نماز کے بعد روانہ ہوئے اور سامان وہیں چھوڑ دیا اور اپنی رفتار تیز کر دی دوران سفر نماز نماز مغرب کا وقت آگیا ان کے کسی ساتھی نے انہیں متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے لیکن انہوں نے اسے کوئی جواب نہیں دیادوسرے نے کہا انہوں نے اسے بھی کوئی جواب نہ دیا پھر تیسرے نے کے کہنے پر بھی جواب نہ دیاچوتھی مرتبہ انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے میں جلدی ہوتی تھی تو اس نماز کو مؤخر کر کے دو نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 6376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ بِالتَّمْرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پھلوں کی بیع کھجور کے بدلے اور کھجور کی بیع پھلوں کے بدلے اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک وہ اچھی طرح پک نہ جائیں۔
حدیث نمبر: 6377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَيْفَ السُّنَّةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ صَلَّاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ وَرَاءَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا ، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، سَجَدَ مِثْلَ نِصْفِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا ، فَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ ، فَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى ، فَصَفُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ ، فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 6378
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ ، وَصَافَفْنَاهُمْ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نجد کے جانب ایک غزوے میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو ہم نے صف بندی کر لی پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 6379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّاسَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضْرَبُونَ إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ الطَّعَامَ جُزَافًا أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَنْقُلَهُ إِلَى رَحْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مارپڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔
حدیث نمبر: 6380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا فِيهَا ثَمَرَةٌ قَدْ أُبِرَتْ ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مالدار غلام کو بیچے تو اس کا سارا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے اور جو شخص پیوند کاری کئے ہوئے کھجوروں کے درخت بیچتا ہے تو اس کا پھل بھی بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے۔
حدیث نمبر: 6381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي أَحْسِبُهُ قَالَ : جَذِيمَةَ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : صَبَأْنَا ، صَبَأْنَا ، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا ، قَالَ : وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا ، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا ، أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي ، وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ , قَالَ : فَقَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرُوا لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ " مَرَّتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو غالباً بنو جذیمہ کی طرف بھیجا انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی وہ لوگ صاف لفظوں میں یہ تو نہیں کہہ سکے کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا البتہ وہ یہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنا دین بدل لیا (لفظ صبأنا کا معنی بےدین ہونا ہے) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں قیدی بنانا اور قتل کرنا شروع کر دیا اور ہم میں سے ہر آدمی کے حوالے ایک ایک قیدی کر دیاجب صبح ہوئی تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے میں نے کہا کہ میں تو اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی ایسا کرے واپسی پر لوگوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکر ہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ فرمایا : ” اے اللہ خالد نے جو کچھ کیا میں اس سے بری ہوں۔
حدیث نمبر: 6383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ ، وَتَجْحَدُهُ ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو ادھار پر چیزیں لے کر بعد میں مکر جاتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 6384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَلِلْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَالَ : " وَلِلْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا : ” اے اللہ حلق کر انے والوں کو معاف فرمادے ایک صاحب نے عرض کیا قصر کر انے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ قصر کر انے والوں کے لئے فرمایا : ” کہ اے اللہ قصر کر انے والوں کو بھی معاف فرمادے۔
حدیث نمبر: 6385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَ بِرَجْمِهِمَا ، فَلَمَّا رُجِمَا رَأَيْتُهُ " يُجَانِئُ بِيَدَيْهِ عَنْهَا لِيَقِيَهَا الْحِجَارَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت دو مرد و عورت کو سنگسار کر نے کا حکم دیا میں وہاں موجود تھا جب انہیں سنگسار کیا جانے لگا تو میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لئے جھکا پڑ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 6386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ ، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا لِكُلِّ رَجُلٍ ، ثُمَّ نَفَّلَنَا بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا : ” ہمیں مال غنیمت ملا اور ہمارا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے عطاء فرمایا : ” ۔
حدیث نمبر: 6387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّينَ فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی باندیوں کو مساجد میں آنے سے مت روکو۔
حدیث نمبر: 6388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرَجُ مَعَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ بِعَنَزَةٍ ، فَيَرْكُزُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نیزہ نکالا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سترہ کے طور پر نیزہ گاڑ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ حَدَّثَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى ، وَقَالَ مَرَّةً : إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ صدقہ حکم عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 6390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَى , مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَيُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَيُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " ، قَالَ : وَيَزْعُمُونَ ، أَوْ يَقُولُونَ : أَنَّهُ قَالَ : " وَيُهِلُّ مُهِلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ أَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ انسان احرام کہاں سے باندھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اہل شام کے لئے جحفہ اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ذات عرق کو قرن پر قیاس کر لیا۔
حدیث نمبر: 6391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي رَوَّادٍ يحدثان , عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْحَجَّ ، زَمَانَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 إِذَنْ أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً , ثُمَّ خَرَجَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا شَأْنُ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ إِلَّا وَاحِدًا ، " أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي ، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ , وَبَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، لَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ، لَمْ يَنْحَرْ ، وَلَمْ يَحْلِقْ ، وَلَمْ يُقَصِّرْ ، وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ أَحْرَمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ، فَنَحَرَ وَحَلَقَ ، ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَلِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس زمانے میں حجاج نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو کسی نے ان سے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا اور آپ کو حرم شریف پہنچنے سے روک دیا جائے گا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے اگر میرے سامنے کوئی روکاٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں۔ اس کے بعد روانہ ہو گئے چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے تو ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے پھر انہوں نے مقام قدیر سے ہدی کا جانور خریدا اور مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے وہاں پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور اس پر کچھ اضافہ نہیں کیا قربانی کی اور نہ ہی حلق یاقصر کر ایا اور دس ذی الحجہ تک کسی چیز کو بھی اپنے لئے حلال نہیں سمجھا دس ذی الحجہ کو انہوں نے قربانی کی اور حلق کروایا اور یہ رائے قائم کی کہ وہ حج اور عمرے کا طواف آغاز ہی میں کر چکے ہیں اور فرمایا : ” کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حدیث نمبر: 6392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ ، فَأَمَرَ بِهَا ، وَقَالَ : أَحَلَّهَا اللَّهُ تَعَالَى ، وَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا : ” کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 6392M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ , وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ : " الْعُمْرَةُ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ تَامَّةٌ تُقْضَى " ، عَمِلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَزَلَ بِهَا كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى .
مولانا ظفر اقبال
دوسری سند سے یوں مروی ہے کہ اشہرحج میں بھی عمرہ مکمل ادا ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے اور اللہ نے قرآن میں اس کا حکم نازل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ مَشَيْتُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْشِي " ، وَإِنْ سَعَيْتُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْعَى " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن حبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں ؟ فرمایا : ” اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) گھوڑ کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا : ” ہے۔
حدیث نمبر: 6395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِمَا ، وَلَا يَسْتَلِمُ الْآخَرَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کیا کسی اور کونے کا استلام نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 6396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ ؟ قَالَ حَسَنٌ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا , سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَجَرِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ ؟ ! فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : اجْعَلْ " أَرَأَيْتَ " بِالْيَمَنِ ! ! رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ آدمی کہنے لگایہ بتائیے اگر رش ہو تو کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” " یہ بتائیے کہ میں یمن میں رکھتا ہوں میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعٍ , أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ " ، كُلَّمَا وَضَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ ، ثُمَّ يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " عَلَى يَمِينِهِ ، " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، عَلَى يَسَارِهِ .
مولانا ظفر اقبال
واسع بن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہر مرتبہ سر جھکاتے اور اٹھاتے وقت تکبیر کا ذکر کیا اور دائیں جانب السلام علیکم ورحمتہ اللہ علیہ کا اور بائیں جانب السلام علیکم ورحمتہ اللہ کا ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 6398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَيُصِيبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا (اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے) تو کیا صفا مروہ کے درمیان سعی کر نے سے پہلے اس کے لئے اپنی بیوی کے پاس آنا حلال ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر فرمایا : ” پیغمبر اللہ کی ذات میں تمہارے لئے بہترین نمونہ موجود ہے۔
حدیث نمبر: 6399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں اکٹھے پڑھی تھی۔
…