حدیث نمبر: 6321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2060
حدیث نمبر: 6322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، عَنْ سَعْيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 6323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم چاند دیکھ لو تب روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو اندازہ کر لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1900، م: 1080
حدیث نمبر: 6324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ يَعْقُوبُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، م: 626
حدیث نمبر: 6325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنِ الْجَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بُخْتِيَّةً ، أُعْطِيَ بِهَا ثَلَاثَ مِئَةِ دِينَارٍ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهْدَيْتُ بُخْتِيَّةً لِي ، أُعْطِيتُ بِهَا ثَلَاثَ مِئَةِ دِينَارٍ ، فَأَنْحَرُهَا ، أَوْ أَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا ، قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ انْحَرْهَا إِيَّاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہدی کے لئے ایک بختی اونٹنی لے کر گئے تھے انہیں اس کے تین سو دینار ملنے لگے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں ہدی کے لئے اپنی بختی اونٹنی لے کر آیا ہوں اب مجھے اس کے تین سو دینار مل رہے ہیں کیا میں اسی کو ذبح کروں یا اسے بیچ کر اس کی قیمت سے کوئی اور جانور خرید لوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اسی کو ذبح کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، جهم بن الجارود، مجهول
حدیث نمبر: 6326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ فِيهَا تَمَاثِيلُ طَيْرٍ وَوَحْشٍ ، فَقُلْتُ : أَلَيْسَ يُكْرَهُ هَذَا ؟ قَالَ : لَا ، إِنَّمَا يُكْرَهُ مَا نُصِبَ نَصْبًا ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ " ، وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّةً : " كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ " .
مولانا ظفر اقبال
لیث رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سالم رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے جس پر کچھ پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں میں نے عرض کیا کہ کیا یہ مکروہ نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” نہیں ناپسندیدہ وہ تصویریں ہیں جنہیں نصب کیا گیا ہو اور ان کے متعلق میرے والد صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا راوی حفص نے ایک مرتبہ یوں کہا تھا کہ اسے اس میں روح پھونکنے کا مکلف بنایا جائے گا لیکن وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح، وإسناده ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 6327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 844
حدیث نمبر: 6328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ ، وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
محا رب بن دثار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کر رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ” کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا ؟ فَقَالَ : أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ؟ ! قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا ، فَذَهَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، قَالَ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ، قَالَ رَوْحٌ : مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس شخص کے متعلق سوال ہوتے ہوئے سنا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو انہوں نے فرمایا : ” کہ کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے سائل نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا : ” اس نے بھی اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1471
حدیث نمبر: 6330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا ، فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا ، فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي ، فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ ، وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ ، وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ ، فَقَالَ لِي : لَنْ تُرَاعَ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ , لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ " ، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ : لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جو آدمی بھی کوئی خواب دیکھتا وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرتا میری خواہش ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے بیان کروں میں اس وقت غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور مسجد نبوی میں ہی سو جاتا تھا بالآخر ایک دن میں نے بھی خواب دیکھ ہی لیا اور وہ یہ کہ دو فرشتوں نے آ کر مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے جانے لگے وہ ایسے لپٹی ہوئی تھی جیسے کنواں ہوتا ہے اور محسوس ہوا کہ جیسے اس کے دوسینگ ہیں اس میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آئے جنہیں میں نے پہچان لیا میں باربار اعوذباللہ من النار کہنے لگا اتنی دیر میں ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتے کی ملاقات ہوئی وہ مجھ سے کہنے لگا کہ تم گھبراؤ نہیں۔ میں نے یہ خواب اپنی بہن ام المؤمنین سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبداللہ اچھا آدمی ہے کاش وہ رات کو بھی نماز پڑھا کرتا سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت تھوڑی دیر کے لئے سوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1121، م: 2479
حدیث نمبر: 6331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَصَنَعَ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ ، قَالَ فَبَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ ، قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ صَنَعْتُ خَاتَمًا ، وَكُنْتُ أَلْبَسُهُ ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، فَنَبَذَهُ ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برسر منبر اسے پھینک دیا اور فرمایا : ” میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف کر لیتا تھا واللہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا چنانچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2091
حدیث نمبر: 6332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2020
حدیث نمبر: 6333
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2020، وهذه الرواية مرسلة
حدیث نمبر: 6334
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يحدثان ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِالْمَدِينَةِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ " ، فَأُخْبِرَ بِامْرَأَةٍ لَهَا كَلْبٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقُتِلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کتوں کو مارنے کا حکم دیا ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیج کر اس کا کتا بھی مروا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1570
حدیث نمبر: 6336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کو قتل کر نے سے منع فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3297، م: 2233
حدیث نمبر: 6337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْهُ ، عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی دعوت دے تو اسے قبول کر لینا چاہئے خواہ وہ شادی کی ہو یا کسی اور چیز کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1429
حدیث نمبر: 6338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ، إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6288، م: 2183
حدیث نمبر: 6339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّةً مِنْ دِيبَاجٍ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّةً مِنْ دِيبَاجٍ ، فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِلْوُفُودِ وَلِلْعِيدِ وَلِلْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، حَسِبْتُهُ قَالَ : " فِي الْآخِرَةِ " ، قَالَ : ثُمَّ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَلٌ مِنْ سِيَرَاءَ حَرِيرٍ ، فَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً ، وَأَعْطَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حُلَّةً ، وَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحُلَّةٍ ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ : " شَقِّقْهَا بَيْنَ النِّسَاءِ خُمُرًا " ، وَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِحُلَّةٍ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أُرْسِلْهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَلَكِنْ لِتَبِيعَهَا " ، فَأَمَّا أُسَامَةُ فَلَبِسَهَا ، فَرَاحَ فِيهَا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةُ يُحَدَّدُ إِلَيْهِ الطَّرْفَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَسَوْتَنِيهَا ؟ قَالَ : " شَقِّقْهَا بَيْنَ النِّسَاءِ خُمُرًا " ، أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کو کچھ ریشمی جوڑے بیچتے ہوئے دیکھا تو بارگارہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عطارد کو ریشمی جوڑے بیچتے ہوئے دیکھا ہے اگر آپ اس میں سے ایک جوڑا خرید لیتے تو وفود کے سامنے اور عید اور جمعہ کے موقع پر پہن لیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا کوئی آخرت میں حصہ نہ ہو۔ کچھ عرصے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کچھ ریشمی جوڑے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کودے دیا ایک سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کودے دیا اور ایک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اسے پھاڑ کر اس کے دوپٹے عورتوں میں تقسیم کر دو اسی اثنا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے ریشم کے متعلق آپ کو جو فرماتے ہوئے سنا تھا وہ آپ ہی نے فرمایا : ” تھا اور پھر آپ ہی نے مجھے یہ جوڑا بھیج دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اسے تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لوجب کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا پہن لیا اور باہر نکل آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تیز نظروں سے دیکھنے لگے جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھور کر دیکھ رہے ہیں تو کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ ہی نے مجھے یہ لباس پہنایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے پھاڑ کر عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کر دو یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2068
حدیث نمبر: 6340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ زَيْدٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَآهُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ يَعْنِي جَدِيدًا ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ ، فَارْفَعْ إِزَارَكَ " ، قَالَ : فَرَفَعْتُهُ ، قَالَ : " زِدْ " ، قَالَ : فَرَفَعْتُهُ ، حَتَّى بَلَغَ نِصْفَ السَّاقِ ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسْتَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہنبد زمین پر لٹکاتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا : ” جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ اس پر قیامت کے دن نظر رحم نہیں فرمائے گا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
حدیث نمبر: 6341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ مِنَ الْحَيَاءِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنی بھی حیاء کیا کرو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہنے دو حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6118، م: 36
حدیث نمبر: 6342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتاہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 6343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ ، حَتَّى إِنِّي أَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِي ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " ، فَقَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْعِلْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتناپیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3681، م: 2391
حدیث نمبر: 6344
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7007، م: 2391
حدیث نمبر: 6345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَهُمَا ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے وقت اپنے کندھوں کے برابر یا قریب کر کے رفع یدین کرتے تھے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے تھے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , قَالَ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ربنا ولک الحمد کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز میں اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا : ” ہے کہ وہ اپنے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ، فَدَعَا بِهَا ، وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، بَاسِطَهَا عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو بلند کر لیتے اور دعاء فرماتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر بچھا کر رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 580
حدیث نمبر: 6349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ , قَالَ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ " ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربناولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزادے کہ یہ ظالم ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا " ، بَعْدَمَا يَقُولُ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4069
حدیث نمبر: 6351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا ، وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ ، مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ ، فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً ، وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4133، م: 839
حدیث نمبر: 6352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ، ثُمَّ صَلَّاهَا أَرْبَعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں بھی ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کر نے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 694
حدیث نمبر: 6353
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ بَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَجْفَى النَّاسِ فَنَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن امیہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکر ہ تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا تذکر ہ نہیں ملتا (اس کے باوجود سفر میں نماز قصر کی جاتی ہے ؟ ) انہوں نے فرمایا : ” کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت مبعوث فرمایا : ” ہم کچھ نہیں جانتے تھے ہم تو وہ یہ کر یں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ فِي السَّيْرِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1805
حدیث نمبر: 6355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 749
حدیث نمبر: 6356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ عَنْ عُمَرَ ، قَدْ اسْتَيْقَنَ نَافِعٌ الْقَائِلَ ، قَدْ اسْتَيْقَنْتُ أَنَّهُ أَحَدُهُمَا ، وَمَا أُرَاهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَشْتَمِلْ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ ، لِيَتَوَشَّحْ ، مَنْ كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ وَلْيَرْتَدِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوْبَانِ فَلْيَأْتَزِرْ ، ثُمَّ لِيُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص یہودیوں کی طرح نماز میں اشتمال نہ کرے بلکہ توشیح کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک تہبند اور دوسرے کو چادر بنا لے اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں بلکہ ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے تہبند بنا کر نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، لكن روي مرفوعا وموقوفا، و رجح الطحاوي و قفه
حدیث نمبر: 6357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، المعنى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ ، فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بِلَالُ ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسلمان جب مدینہ منورہ میں آئے تھے تو اس وقت نماز کے لئے اذان نہ ہوتی تھی بلکہ لوگ اندازے سے ایک وقت میں جمع ہوجاتے تھے ایک دن انہوں نے اس موضوع پر گفتگو کی اور بعض لوگ کہنے لگے کہ دوسروں کو اطلاع دینے کے لئے ناقوس بنا لیا جائے جیسے نصاریٰ کے یہاں ہوتا ہے بعض کہنے لگے کہ یہودیوں کے بگل کی طرح ایک بگل بنا لینا چاہئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ کسی آدمی کو بھیج کر نماز کی منادی کروادیا کر یں ؟ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بلال اٹھو اور نماز کی منادی کر دو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 604، م: 377
حدیث نمبر: 6358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " ، قُلْتُ لِنَافِعٍ : حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا میں نے نافع سے پوچھا سورج غروب ہونے تک ؟ انہوں نے فرمایا : ” ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 626
حدیث نمبر: 6359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ أَحْيَانًا يَبْعَثُهُ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَيُقَدَّمُ لَهُ عَشَاؤُهُ ، وَقَدْ نُودِيَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ ، ثُمَّ تُقَامُ وَهُوَ يَسْمَعُ ، فَلَا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ ، وَلَا يَعْجَلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ يَقُولُ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بعض اوقات روزے سے ہوتے وہ انہیں افطاری کا کھانا لانے کے لئے بھیجتے ان کے سامنے کھانا اس وقت پیش کیا جاتا جب مغرب کی اذان ہوچکی ہوتی نماز کھڑی ہوجاتی اور ان کے کانوں میں آواز بھی جاری ہوتی لیکن وہ اپنا کھانا ترک نہ کرتے اور فراغت سے قبل جلدی نہ کرتے پھر باہر آ کر نماز پڑھ لیتے اور فرماتے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہے جب رات کا کھانا تمہارے سامنے پیش کر دیا جائے تو اس سے اعراض کر کے جلدی نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 559
حدیث نمبر: 6360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ ، فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ ، وَهُوَ غُلَامٌ ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ , ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَأْتِيكَ ؟ " قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِطَ لَكَ الْأَمْرُ " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " وَخَبَأَ لَهُ : يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ ! ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْ هُوَ ، فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَا يَكُنْ ، هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چند صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ کے ساتھ جن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کے پاس سے گزرے وہ اس وقت بنو مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خود بھی وہ بچہ ہی تھا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا : ” کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کیا آپ میرے متعلق اللہ کا پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کیا آتا ہے ؟ اس نے کہا میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھ پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر فرمایا : ” میں نے اپنے دل میں تیرے لئے ایک چیز چھپائی ہے بتا وہ کیا ہے ؟ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی یوم تاتی السماء بدخان مبین) اپنے ذہن میں چھپائی تھی) ابن صیاد کہنے لگاوہ دخ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دور ہو تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکتا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہی دجال ہے تو تمہیں اس پر قدرت نہیں دی جائے گی اور اگر یہ وہی دجال نہیں ہے تو اسے قتل کر نے میں کیا فائدہ ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1354، م: 2931