حدیث نمبر: 6281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، رُفِعَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقِيلَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع کرے گا تو ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1735 .
حدیث نمبر: 6282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَدْخُلَ الْأَسْوَاقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بازار میں سامان پہنچنے سے پہلے تاجروں سے ملنے سے منع فرمایا : ” ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2165، م: 1517 .
حدیث نمبر: 6283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد : كَذَا قَالَ أَبِي : " كَانَ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَيُشْرِعُونَ فِيهِ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مرد اور عورتیں اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کر لیتے تھے اور اکٹھے ہی شروع کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا الإسناد ظاهرة الإرسال، وقد سلف بأسانيد متصلة برقم: 4481 و 5799 و 5928 .
حدیث نمبر: 6284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحَمَّادٌ يعني أبا أسامة , قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " إِذَا خَرَجَ ، خَرَجَ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ " ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : " وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْعُلْيَا ، وَيَخْرُجُ مِنْ ثَنِيَّةِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ داخل ہوتے تو طریق معرس (ابن نمیر کے بقول) ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو طریق شجرہ (ابن نمیر کے بقول) ثنیہ سفلی سے باہر جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1257 .
حدیث نمبر: 6285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُصَلِّي يَعْنِي يَقْرَأُ ، السَّجْدَةَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ ، حَتَّى رُبَّمَا لَمْ يَجِدْ أَحَدُنَا مَكَانًا يَسْجُدُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے علاوہ کیفیت میں آیت سجدہ کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے ہم بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کے لئے جگہ نہ ملتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1075، م: 575 .
حدیث نمبر: 6286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ يَأْمُرُ بِالْحَرْبَةِ ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا ، وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو ان کے حکم پر ان کے سامنے نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے سترہ بنا کر نماز پڑھاتے تھے اور لوگ ان کے پیچھے ہوتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح سفر میں کرتے تھے یہاں سے اسے حکمرانوں نے لیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 494، م: 501 .
حدیث نمبر: 6287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي سُبْحَتَهُ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ نَاقَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1000، م: 700 .
حدیث نمبر: 6288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي رَكْبٍ ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَلْيَحْلِفْ حَالِفٌ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : ” کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1646 .
حدیث نمبر: 6289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی عورت محرم کے بغیر تین کا سفر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338 .
حدیث نمبر: 6290
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَّد : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : مَا أَنْكَرْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا ، حَدِيثَ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ سَفَرًا ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " , قَالَ أَبِي : وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْعُمَرِيّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی عورت محرم کے بغیر تین کا سفر نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1087، م: 1338، وأما إسناد عبدالرزاق الذى ساقه المصنف، فهو ضعيف لضعف العمري .
حدیث نمبر: 6291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: بعد رقم: 1936 .
حدیث نمبر: 6292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ , أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل جاہلیت دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بھی ماہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے جب ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1126 .
حدیث نمبر: 6293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی چوری کر نے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1686 .
حدیث نمبر: 6294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا : ” ہے (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2120 .
حدیث نمبر: 6295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَأَلَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : ابْنَ عُمَرَ , فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فِي رَجَبٍ , فَسَمِعَتْنَا عَائِشَةُ ، فَسَأَلَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ؟ فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، " مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا قَدْ شَهِدَهَا ، وَمَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً قَطُّ إِلَّا فِي ذِي الْحِجَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا رجب کے مہینے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا : ” کہ ابو عبدالرحمن پر اللہ رحم فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمرہ بھی کیا یہ اس موقع پر موجود رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ کے علاوہ کسی مہینے میں بھی عمرہ نہیں فرمایا : ” ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ " ، فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ ، يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا لِحَوَائِجِهِنَّ ! ! فَقَالَ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ ، أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَتَقُولُ : لَا نَدَعُهُنَّ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو یہ سن کر سالم یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ واللہ ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنالیں گی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا : ” کہ میں تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442 .
حدیث نمبر: 6297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَسَمَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر فرمایا : ” تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2863، م: 1762 .
حدیث نمبر: 6298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ ، تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً ، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً ، لَا تَدْرِي أَيَّهُمَا تَتْبَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” منافق کی مثال اس بکر ی کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو، کبھی اس ریوڑ کے پاس جائے اور کبھی اس ریوڑ کے پاس جائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ اس ریوڑ میں شامل ہو یا اس ریوڑ میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2784 .
حدیث نمبر: 6299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ ، فَرَآهُ النَّاسُ ، فَنَهَاهُمْ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں نے بھی ایساہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کر نے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1102 .
حدیث نمبر: 6300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بناؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 751 .
حدیث نمبر: 6301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ طَاوُسًا ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَلَا تَغْزُو ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اب آپ جہاد میں شرکت کیوں نہیں کرتے انہوں نے فرمایا : ” کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 8، م: 16
حدیث نمبر: 6302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ يَؤُمُّ الْعِرَاقَ : " هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا : ” فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2905
حدیث نمبر: 6303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، سَمِعْتُ سَالِمًا , يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 865، م: 442
حدیث نمبر: 6304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
حدیث نمبر: 6305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَالِمِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِثْلُ قِيرَاطِنَا هَذَا ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ مِثْلُ أُحُدٍ ، أَوْ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا تو فرمایا : ” کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ حَصَاةٌ ، يَحُكُّ بِهَا نُخَامَةً رَآهَا فِي الْقِبْلَةِ ، وَيَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ تُجَاهَهُ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى ، فَإِنَّمَا قَامَ يُنَاجِي رَبَّهُ تَعَالَى " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وِجَاهَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ کنکر یاں ہیں اور وہ اس سے قبلہ کے جانب لگا ہوا بلغم صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 6307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى , وَمُحَمَّدٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ " ، وَقَالَ : إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ ، يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا : ” ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح بیع کرتے تھے کہ ایک اونٹنی دے کر حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچے کو (پیدائش سے پہلے ہی) خرید لیتے ( اور کہہ دیتے کہ جب اس کا بچہ پیدا ہو گا وہ میں لوں گا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2256، م: 1514، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي دِهْقَانَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ ، فَدَعَا بِلَالًا بِتَمْرٍ عِنْدَهُ ، فَجَاءَ بِتَمْرٍ أَنْكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا التَّمْرُ ؟ " فَقَالَ : التَّمْرُ الَّذِي كَانَ عِنْدَنَا أَبْدَلْنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ، فَقَالَ : " رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے وہ کھجوریں منگوائیں جو ان کے پاس تھیں وہ جو کھجوریں لے کے آئے انہیں دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعجب ہوا اور فرمایا : ” کہ یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے دو صاع دے کر ایک صاع کھجوریں لی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہماری کھجوریں تھیں وہی واپس لے کر آؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 6309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کے لئے جہنم میں ایک گھر تعمیر کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4218
حدیث نمبر: 6311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 13 - 14 ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنْ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ ، وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيدَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا ، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا " ، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کر دیا ورنہ ہم اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ میں آپ سے اپنے اس سفر میں نیکی تقویٰ اور آپ کو راضی کر نے والے اعمال کا سوال کرتا ہوں اے اللہ اس سفر کو ہم پر آسان فرما جگہ کی دوریاں ہمارے لئے لپیٹ دے اے اللہ سفر میں تو میرا رفیق ہے اور میرے اہل خانہ کا جانشین ہے اے اللہ سفر میں ہماری رفاقت فرما ہمارے پیچھے ہمارے اہل خانہ میں ہماری جانشینی فرما اور جب اپنے گھر لوٹ کر آتے تو یہ دعاء فرماتے توبہ کرتے ہوئے لوٹ کر انشاء اللہ آ رہے ہیں اپنے رب کی عبادت اور اس کی تعریف کرتے ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1342
حدیث نمبر: 6312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَحْمَرُ قَطُّ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ ، يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، يَنْطُفُ رَأْسُهُ أَوْ يُهَرَاقُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ ، جَعْدُ الرَّأْسِ ، أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا الدَّجَّالُ ، أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ ، مِنْ بَالْمُصْطَلِقِ ، مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق سرخ کا لفظ کبھی استعمال نہیں کیا انہوں نے یہ فرمایا : ” تھا کہ میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا یہ مسیح دجال ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3441
حدیث نمبر: 6313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا : ” ہے کہ ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6759
حدیث نمبر: 6314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ ، فَلَا يَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى أَسْمَاءِ صَلَاتِكُمْ ، فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَنِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں یاد رکھو اس کا نام نماز عشاء ہے اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو عتمہ کہہ دیتے ہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 644
حدیث نمبر: 6315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي أَطْرَافِ الْمَدِينَةِ ، " فَيَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَدَعَ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْنَاهُ ، حَتَّى نَقْتُلَ الْكَلْبَ لِلْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں اطراف مدینہ میں بھیجا اور تمام کتوں کو مارنے کا حکم دیا ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی ہم نے اس کا کتا بھی مار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1570
حدیث نمبر: 6316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ابْتَاعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ نَخْلًا ، فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا ، فَاجْتَمَعَا ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ تَسْتَحِلُّ دَرَاهِمَهُ ؟ ! ارْدُدْ إِلَيْهِ دَرَاهِمَهُ ، وَلَا تُسْلِمُنَّ فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " ، فَسَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَا صَلَاحُهُ ؟ قَالَ : يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کر دیا وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟ چنانچہ اس نے اس کے پیسے لوٹادئیے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة النجراني
حدیث نمبر: 6317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ، ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی اور وہ کسی عورت کی تھی چوری کر نے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1686
حدیث نمبر: 6318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَلَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ " ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ : وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ ، يَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا , فَقَالَ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ ، وَفَعَلَ اللَّهُ بِكَ ، تَسْمَعُنِي أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَتَقُولُ أَنْتَ : لَا ؟ ! قَالَ لَيْثٌ : وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو یہ سن کر سالم یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ واللہ ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنالیں گی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا : ” کہ میں تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ نہیں، البتہ انہیں پراگندہ حالت میں نکلنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 873، م: 442
حدیث نمبر: 6319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُخْرَجُ بِالْعَنَزَةِ مَعَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، لِأَنْ يَرْكُزَهَا ، فَيُصَلِّيَ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر اپنے ساتھ نیزہ لے کر نکلتے تھے تاکہ اسے گاڑ کر اس کے سامنے نماز پڑھ سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 626