حدیث نمبر: 6241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُصَوِّرُ عَبْدٌ صُورَةً ، إِلَّا قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْيِ مَا خَلَقْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بھی تصویر سازی کرتا ہے اس سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو ۔
حدیث نمبر: 6242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، قَدْ عَلِمَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، مِنْهُنَّ عُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے ؟ انہوں نے کہا دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا : ” کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو عمرہ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 6243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يُلَقِّنُنَا هُوَ " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات سننے اور اطاعت کر نے کی شرط پر بیعت لیا کرتے تھے کہ حسب استطاعت (جہاں تک ممکن ہو گا تم بات سنو گے اور مانو گے)
حدیث نمبر: 6244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَشُقَّهُمَا ، أَوْ لِيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔
حدیث نمبر: 6245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ مُهَاجِرٍ الشَّامِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ ، أَلْبَسَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ شَرِيكٌ : وَقَدْ رَأَيْتُ مُهَاجِرًا وَجَالَسْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔
حدیث نمبر: 6246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت احزاب کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی ہے اے نبی ! صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو (ایام طہر میں طلاق دینا مراد ہے نہ کہ ایام حیض میں )
حدیث نمبر: 6247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، وَأَهْدَى ، فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى ، فَسَاقَ الْهَدْيَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَالَ لِلنَّاسِ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ , وَبِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، وَلْيُقَصِّرْ ، وَلْيَحْلِلْ ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ ، وَلْيُهْدِ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ، فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَانْصَرَفَ ، فَأَتَى الصَّفَا ، فَطَافَ بِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَأَفَاضَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ " ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج اور عمرہ کو جمع فرما لیا اور ذوالحلیفہ سے ہدی کا جانور بھی لے کر چل پڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے عمرہ کا احرام باندھا پھر حج کی نیت بھی کر لی لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا ان میں سے بعض اپنے ساتھ ہدی کا جانور بھی لے گئے اور بعض نہیں لے کر گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے سے فرمایا : ” کہ تم میں سے جو شخص اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر آیا ہے اس پر حج سے فراغت تک ممنوعات احرام میں سے کوئی چیز حلال نہ ہو گی اور جو شخص ہدی کا جانور نہیں لایا اسے چاہئے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اور بال کٹوا کر حلال ہو جائے اور پھر اگر اسے ہدی کا جانور نہ ملے تو اسے چاہئے کہ وہ تین روزے ایام حج میں اور سات روزے اپنے گھر واپس آ کر رکھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچ کر جب خانہ کعبہ کا طواف شروع کیا تو سب سے پہلے حجر اسود کا استلام کیا پھر سات میں سے تین چکر تیزی کے ساتھ اور چار اپنی عام رفتار کے ساتھ لگائے پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر صفا پہاڑی پر پہنچے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور حج سے فراغت تک ممنوعات احرام میں سے کسی چیز کو اپنے لئے حلال نہیں سمجھا دس ذی الحجہ کو قربانی کی واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے بیت اللہ کا طواف کیا اور ہر چیز ان پر حلال ہو گئی اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لانے والے تمام صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔
حدیث نمبر: 6248
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، وَتَمَتُّعِ النَّاسِ ، مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاج ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " أَلَا وَإِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " ، يَعْنِي : الْمَشْرِقَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ” فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حدیث نمبر: 6250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً ، سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ لِلَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن دستوں کو لشکر سے الگ کر کے کہیں بھیجتے تھے تو خصوصیت کے ساتھ انہیں انعام بھی عطاء فرماتے تھے جو باقی لشکر کے لئے نہیں ہوتا تھا البتہ اس میں مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے نکال لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 6251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا سورة الحشر آية 5 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی اور اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تم نے کھجور کا جو درخت بھی کاٹایا اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ اللہ فاسقوں کو رسوا کر دے۔
حدیث نمبر: 6252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا تَمْنَعُوا ، يَعْنِي : نِسَاءَكُمْ ، الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا " ، قَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ حِينَ قَالَ ذَلِكَ , فَسَبَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں مت روکا کرو اس پر بلال بن عبداللہ نے کہا کہ بخدا ہم تو انہیں روکیں گے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے سخت سست کہا۔
حدیث نمبر: 6253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ الْجِنَازَةِ ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا " وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء ثلاثہ بھی جنازے کے آگے چلتے تھے۔
حدیث نمبر: 6254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ الْجِنَازَةِ ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَمْشُونَ أَمَامَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء ثلاثہ بھی جنازے کے آگے چلتے تھے۔
حدیث نمبر: 6255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَاةَ الْعِشَاءِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ، ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منٰی میں عشاء کی دو رکعتیں پڑھی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں ہیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی ایام خلافت میں ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے مکمل کر نے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 6256
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 6257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ " ، قَالَ : وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، قِيلَ لَهُ : فَالْعِرَاقُ قَالَ : " لَا عِرَاقَ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اہل شام جحفہ سے اہل یمن یلملم اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں لوگوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اہل عراق کہاں گئے ؟ انہوں نے فرمایا : ” کہ اس وقت اس کی میقات نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 6258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ ؟ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وتر ضروری نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ” ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو۔
حدیث نمبر: 6259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَنْزِلِهِ ، فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ ! لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ ! , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا ہمارا گزر قریش کے کچھ نوجوانوں پر ہوا جنہوں نے ایک زندہ پرندہ کو باندھ رکھا ہے اور اس پر نشانہ درست کر رہے تھے اور پرندے کے مالک سے کہہ رکھا تھا جو تیر چوک جائے وہ تمہارا ہو گا اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آگئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہا ہے ؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندارچیز کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرے۔
حدیث نمبر: 6260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، وَابْنُ عَوْنٍ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ : " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی تفصیل یہ ہے کہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر لیتے تھے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 6262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو ۔
حدیث نمبر: 6263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : " إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ " , فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ ، فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتَهُ حَتَّى مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اس وقت میری تہبند نیچے لٹک رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا عبداللہ بن عمر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی تہبند اونچی کرو چنانچہ میں نے اسے نصف پنڈلی تک چڑھا لیاراوی کہتے ہیں کہ وفات تک پھر ان کا یہی معمول رہا۔
حدیث نمبر: 6264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَيَنَّ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر نے لگا کرو۔
حدیث نمبر: 6265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تِلْقَاءَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے ناراض ہو کر فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے ناک صاف نہ کرے۔
حدیث نمبر: 6266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : خَرَجَ حَاجًّا ، فَأَحْرَمَ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِي بَرْدٍ شَدِيدٍ ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا ، فَانْتَبَهَ ، فَقَالَ : مَا أَلْقَيْتَ عَلَيَّ ؟ قُلْتُ : بُرْنُسًا , قَالَ : تُلْقِيهِ عَلَيَّ وَقَدْ حَدَّثْتُكَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِهِ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حج کے ارادے سے روانہ ہوئے انہوں نے احرام باندھا تو انہیں سر کے حصے میں شدید سردی لگنے لگی میں نے انہیں ٹوپی اوڑھا دی جب وہ ہوشیار ہوئے تو فرمایا : ” کہ یہ تم نے مجھ پر کیا ڈال دیا ہے ؟ میں نے کہا ٹوپی ہے انہوں نے فرمایا : ” میں تمہیں بتا بھی چکا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ہمیں اس کے پہننے سے منع فرمایا : ” ہے لیکن تم نے پھر بھی یہ میرے او پر ڈال دی ؟
حدیث نمبر: 6267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حدیث نمبر: 6268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَعَلْنَا كَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَحَلَقَ وَرَجَعَ ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” اگر میرے سامنے کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا جبکہ ان کے اور بیت اللہ کے درمیان کفار قریش حائل ہو گئے تھے اور وہ حلق کر کے واپس آگئے تھے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 6269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قصر کر انے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ قصر کر انے والوں کے لئے فرمایا : ” کہ اے اللہ قصر کر انے والوں کو بھی معاف فرما دے۔
حدیث نمبر: 6270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تین آدمی ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کر یں۔
حدیث نمبر: 6271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، فَكَانَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہی رہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رہی علی الترتیب اس پر " محمد رسول اللہ " نقش تھا صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حدیث نمبر: 6272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وعن نافع ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِي ، وَلَمْ يَسْتَلِمْ غَيْرَهُمَا مِنَ الْأَرْكَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کیا کسی اور کونے کا استلام نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 6273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ ، كَانَ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کا بھی ہمدرد ہو اسے دوہرا اجر ملے گا۔
حدیث نمبر: 6274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں شراب پیئے اور اس سے توبہ نہ کرے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔
حدیث نمبر: 6275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا نَشْتَرِي الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جُزَافًا ، " فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ سوار ہو کر آنے والوں سے اندازے سے کوئی غلہ خرید لیتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا کہ اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ وہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔
حدیث نمبر: 6276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا يَبِعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، إِلَّا بِإِذْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔
حدیث نمبر: 6277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہم پر اسلحہ تان لے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انسان پر اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے خواہ اسے اچھا لگے یا برا بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا جائے اس لئے کہ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو اس وقت کسی کی بات سننے اور اس کی اطاعت کر نے کی اجازت نہیں۔
حدیث نمبر: 6279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ ، عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اس کے ذمے ہے کہ اسے مکمل آزاد کرے بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو عادل آدمی کے اندازے کے مطابق غلام کی قیمت پہنچتا ہو اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 6280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔
…