حدیث نمبر: 6202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلْمُؤَذِّنِ مُنْتَهَى أَذَانِهِ ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مؤذن اس کی آواز کی انتہا تک اللہ اس کی بخشش فرمادے گا اور ہر وہ خشک اور تر چیز جس تک اس کی آواز پہنچی ہو گی وہ اس کے حق میں گواہی دے گی۔
حدیث نمبر: 6203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي ، إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہیں فرمائے گا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6204
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ , فَقَالَ مُوسَى : وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي فِي بَطْنِ الْوَادِي ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ ، وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ میں " جو ذوالحلیفہ کے بطن وادی میں تھا ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ آپ مبارک بطحاء میں ہیں موسیٰ بن عقبہ رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سالم نے بھی اسی جگہ پر اونٹنی بٹھائی تھی جہاں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی اونٹنی بٹھاتے تھے اور خوب احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑاؤ تلاش کرتے تھے جو کہ بطن وادی کی مسجد سے نشیب میں تھا اور مسجد اور راستے کے بالکل بیچ میں تھا۔
حدیث نمبر: 6206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا الظُّلْمَ ، فَإِنَّهَا الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُنَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، ثُمَّ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أَعْمَالِهِمْ " كَذَا فِي الْكِتَابِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اللہ کسی قوم پر عذاب مسلط کرتا ہے تو وہ عذاب وہاں رہنے والے تمام لوگوں کو ہوتا ہے (جن میں نیک اور بد سب ہی اس کی لپیٹ میں آتے ہیں) پھر اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کے مطابق دوبارہ زندگی دے گا کتاب میں اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 6208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قُعُودًا ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ، لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَلَغَنِي أَنَّهُ أَحْدَثَ حَدَثًا ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ ، فَلَا تَقْرَأَنَّ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي مَسْخٌ وَقَذْفٌ ، وَهُوَ فِي الزِّنْدِيقِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ فلاں شامی آپ کو سلام کہتا ہے انہوں نے فرمایا : مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے نئی رائے قائم کر لی ہے اگر واقعی یہ بات ہے تو تم اسے میری جانب سے سلام نہ کہنا کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں بھی شکلیں مسخ ہوں گی اور پتھروں کی بارش ہو گی یاد رکھو کہ یہ ان لوگوں کی ہوں گی جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہیں یا زندیق ہیں۔
حدیث نمبر: 6209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ ، يُمَثَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ ، لَهُ زَبِيبَتَانِ ، قَالَ يَلْزَمُهُ ، أَوْ يُطَوِّقُهُ ، قَالَ : يَقُولُ لَهُ : أَنَا كَنْزُكَ ، أَنَا كَنْزُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ سانپ طوق بنا کر اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا اور وہ اسے کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔
حدیث نمبر: 6210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَيُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم ثمود کے قریب ارشاد فرمایا : ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آپکڑے جوان پر آیا تھا۔
حدیث نمبر: 6212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " , وَالْقَزَعُ : أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ ، وَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعَرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع سے منع فرمایا : ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حدیث نمبر: 6213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ ، قَالَ : قَالَ الشَّعْبِيُّ : لَقَدْ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً وَنِصْفًا ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ ، فَنَادَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ ، إِنَّهُ ضَبٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا ، فَإِنَّهُ حَلَالٌ " ، أَوْ " كُلُوا ، فَلَا بَأْسَ " ، قَالَ : فَكَفَّ ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِحَرَامٍ ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ڈیڑھ دو سال کے قریب آتا جاتا رہا ہوں لیکن اس دوران میں نے ان سے اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں سنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ گوہ لائی گئی لوگ اسے کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے پکار کر کہا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے (یہ سنتے ہی صحابہ رضی اللہ عنہ رک گئے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے کھالو یہ حلال ہے اور اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ میرے کھانے کی چیز نہیں ہے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے۔
حدیث نمبر: 6214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکرو مؤنث اور آزاد و غلام سب مسلمانوں پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا : ہے۔
حدیث نمبر: 6215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ عَلَيْهِ ، وَلْيَذْكُرْهُ ، وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ ، وَلَا يَذْكُرْهَا ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے اس لئے جو شخص خواب دیکھے اسے اس پر اللہ کا شکر کرنا اور اسے بیان کر دینا چاہئے اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اللہ سے اس خواب کے شر سے پناہ مانگے اور اسے کسی سے بیان نہ کرے اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
حدیث نمبر: 6216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ، ثَائِرَةَ الشَّعْرِ ، تَفِلَةً ، أُخْرِجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَأُسْكِنَتْ مَهْيَعَةَ ، فَأَوَّلْتُهَا فِي الْمَنَامِ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ ، يَنْقُلُهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مَهْيَعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے خواب میں کالی کلوٹی بکھرے بالوں والی ایک عورت کو مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے دیکھا جو مہیعہ یعنی جحفہ میں جا کر کھڑی ہو گئی میں نے اس کی تعبیریہ لی کہ مدینہ منورہ کی وبائیں اور آفات جحفہ منتقل ہو گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 6217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَشْرَبُوا الْكَرْعَ ، وَلَكِنْ لِيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ فِي كَفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مشکیزے (یا دور حاضر میں نل کے) سے منہ لگا کر پانی مت پیا کرو بلکہ ہتھیلیوں میں لے کر پیا کرو۔
حدیث نمبر: 6218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز شراب ہے۔
حدیث نمبر: 6219
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث مذکورہ سندہی سے دوبارہ یہاں نقل کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 6220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , وَعَتَّابٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الصَّبَّاحِ الْأَيْلِيُّ ، سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُمَيَّةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : " مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا : ہے قمیض (شلوار) کے بارے بھی وہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 6221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : " كَانَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ ، وَيُوتِرُ ، رَاكِبًا عَلَى بَعِيرِهِ ، لَا يُبَالِي حَيْثُ وَجَّهَ بَعِيرُهُ " ، وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ مُوسَى : وَرَأَيْتُ سَالِمًا يَفْعَلُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں رات کی نماز اور وتر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر پڑھ لیتے تھے اور اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہو اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ الْعُمَرِيَّ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ : " يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ عَلَى دَابَّتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَكَانَ لَا يَأْتِي سَائِرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا مَاشِيًا ، ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ، وَزَعَمَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَأْتِيهَا إِلَّا مَاشِيًا ، ذَاهِبًا وَرَاجِعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر اور باقی ایام میں پیدل کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : " نَزَلُوا الْمُحَصَّبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ محصب نامی جگہ میں پڑاؤ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُنَاجِي رَجُلًا ، فَدَخَلَ رَجُلٌ بَيْنَهُمَا ، فَضَرَبَ صَدْرَهُ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ ، فَلَا يَدْخُلْ بَيْنَهُمَا الثَّالِثُ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی شخص کے ساتھ کوئی بات کر رہے تھے ایک آدمی ان کے بیچ میں جا کر بیٹھ گیا انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر مار کر فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہے جب دو آدمی آپس میں خفیہ بات کر رہے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا کر مت بیٹھو۔
حدیث نمبر: 6225M
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ : قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ ، فَأَعْطَى أَكْبَرَ الْقَوْمِ ، وَقَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أُكَبِّرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرما رہے ہیں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک حاضرین میں سب سے بڑی عمر کے آدمی کو دے دی اور فرمایا : کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے حکم دیا ہے کہ میں یہ مسواک کسی بڑے آدمی کو دوں۔
حدیث نمبر: 6227
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ ، فَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ ، صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے ایام میں عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اور فرمایا : اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا پھر انہوں نے عمرہ کی نیت کر لی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال عمرے کا احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 6228
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت میں احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔
حدیث نمبر: 6229
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ " , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6230
َقَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6231
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , وَبِلَالٌ , وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ ، وَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ، فَمَكَثَ فِيهَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ , مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ ، وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون دائیں ہاتھ، ایک ستون بائیں ہاتھ اور تین ستون پیچھے چھوڑ کرنماز پڑھی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خانہ کعبہ کی دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا سالم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔
حدیث نمبر: 6232
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 6233
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ ، قُلْتُ : أَرَدْتُ ظِلَّهَا , قَالَ : هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : لَا ، مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِكَ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى , وَنَفَحَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ , فَإِنَّ هُنَالِكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ : السُّرَرُ ، بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
عمران انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک درخت کے سائے تلے پڑاؤ کئے ہوئے تھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ اس درخت کے نیچے پڑاؤ کرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں اس کا سایہ حاصل کرنا چاہتا تھا انہوں نے پوچھا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد ؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں انہوں نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم منٰی دو پتھریلے علاقوں کے درمیان ہو یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے پھونک ماری تو وہاں سرر نامی ایک وادی آئے گی وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کر ام رضی اللہ عنہ نے استراحت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 6234
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ حلق کر انے والوں کو معاف فرما دے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! قصر کر انے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ قصر کر انے والوں کے لئے فرمایا : ” کہ اے اللہ ! قصر کر انے والوں کو بھی معاف فرمادے۔
حدیث نمبر: 6235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي بِمِنًى ، فَقَالَ : نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ ، فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ ، يَوْمَ النَّحْرِ ، فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : " أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا , أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ " , قَالَ : فَظَنَّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ، فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ ، فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ ، يَوْمَ النَّحْرِ ؟ فَقَالَ : أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا , أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ , قَالَ : فَمَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ .
مولانا ظفر اقبال
زیادہ بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا جبکہ وہ منٰی میں چل رہے تھے کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا اب بدھ کے دن عید الاضحی آگئی ہے، اب آپ کی کیا رائے ہے ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” کہ اللہ نے منت پوری کر نے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا : ” ہے وہ آدمی یہ سمجھا کہ شاید سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی بات سنی نہیں ہے لہٰذا اس نے اپنا سوال پھر دہرادیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی حسب سابق جواب دیا اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ پہاڑ کے قریب پہنچ کر اس سے ٹیک لگا لی۔
حدیث نمبر: 6236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ لِيَنْحَرَهَا بِمِنًى ، فَقَالَ : " ابْعَثْهَا ، قِيَامًا مُقَيَّدَةً " ، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں میدان منٰی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا راستے میں ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے اپنی اونٹنی کو گھٹنوں کے بل بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہتا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : ” اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ لو اور پھر اسے ذبح کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 6237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِئَةٍ ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 6238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى فِي الْبَيْتِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 6239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَقْبِضُ الْوَرِقَ مِنَ الدَّنَانِيرِ ، وَالدَّنَانِيرَ مِنَ الْوَرِقِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ ، إِنِّي كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَقْبِضُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا ، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کر نے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! ٹھہریئے میں آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں اور اس کے بدلے میں یہ اور اس کے بدلے میں وہ لے لیتا ہوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اسی دن بھاؤ کے بدلے ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن تم اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔
حدیث نمبر: 6240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزبير ، سئلوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقْدَمُ ، فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ , وَبَيْنَ الصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ تَحِلُّ ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ ، فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً ، أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شریک عامری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کسی نے حج تمتع میں حج سے پہلے عمرہ کر نے کے متعلق پوچھا میں نے ان حضرات کو یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ ہاں ! یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے تم مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرو صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ اگر یہ کام یوم عرفہ سے ایک دن پہلے ہوا ہو تو حج کا احرام باندھ لو اس طرح تمہارا حج اور عمرہ اکٹھا ہو جائے گا۔
…