حدیث نمبر: 6162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عُثْمَانَ الْأُحْمُوسِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُخَارِقُ بْنُ أَبِي الْمُخَارِق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ , وَعَمَّانَ ، أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ " ، قَالَ قَائِلٌ : وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ ، الشَّحِبَةُ وُجُوهُهُمْ ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ ، لَا يُفْتَحُ لَهُمْ السُّدَدُ ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَلَا يَأْخُذُونَ الَّذِي لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا حوض عدن اور عمان کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ شریں اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور سب سے پہلے اس حوض پر آنے والے پھکڑ مہاجرین ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا : پراگندہ بال دھنسے ہوئے چہروں اور میلے کچیلے کپڑوں والے جن کے لئے دنیا میں دروازے نہیں کھولے جاتے ناز و نعمت میں پلی ہوئی لڑکیوں سے ان کا رشتہ قبول نہیں کیا جاتا اور جو اپنی ہر ذمہ داری پوری کرتے ہیں اور اپنا حق وصول نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 6163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، حِينَ يُكَبِّرُ وَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ ، وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَحِينَ يَسْجُدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کرنماز شروع کرتے وقت اور رکوع سجدہ کرتے وقت کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6164
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ , وَهِيَ الشَّفْرَةُ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَأَرْسَلَ بِهَا ، فَأُرْهِفَتْ ، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا ، وَقَالَ : " اغْدُ عَلَيَّ بِهَا " ، فَفَعَلْتُ ، فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ ، وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ ، فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي ، فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ ، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي ، وَأَنْ يُعَاوِنُونِي ، وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا ، فَلَا أَجِدُ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ ، فَفَعَلْتُ ، فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھری لانے کا حکم دیا میں لے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیز کرنے کے لئے بھیج دیا اس کے بعد وہ چھری مجھے دیتے ہوئے فرمایا : کہ یہ چھری صبح کے وقت میرے پاس لے کر آنا میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازاروں میں نکلے جہاں شام سے درآمد کئے گئے شراب کے مشکیزے لٹک رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے چھری لی اور جو مشکیزہ بھی سامنے نظر آیا اسے چاک کر دیا اس کے بعد وہ چھری مجھے عطاء فرمائی اور اپنے ساتھ موجود صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ جانے اور میرے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا : کہ میں سارے بازاروں کا چکر لگاؤں اور جہاں کہیں بھی شراب کا کوئی مشکیزہ پاؤں اسے چاک کر دوں چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور بازاروں میں کوئی مشکیزہ ایسا نہ چھوڑا جسے میں نے چاک نہ کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 6166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ ، فَقَالَ : اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً ، فَقَالَ : مَا جِئْتُ لِأَجْلِسَ عِنْدَكَ ، وَلَكِنْ جِئْتُ أُخْبِرُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ، أَوْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ ، مَاتَ مِيتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیاہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حدیث نمبر: 6167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا يُحْسَدُ مَنْ يُحْسَدُ ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، عَلَى خَصْلَتَيْنِ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا ، فَهُوَ يُنْفِقُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ ارشادنبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے قرآن کی دولت دی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت میں مصروف رہتاہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا : ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 6168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ ، أَوْ الْيَحْصُبِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُعُودًا ، فَذَكَرَ الْفِتَنَ ، فَأَكْثَرَ ذِكْرَهَا ، حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ ؟ قَالَ : " هِيَ فِتْنَةُ هَرَبٍ وَحَرَبٍ ، ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ ، دَخَلُهَا أَوْ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي ، وَلَيْسَ مِنِّي ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ الْمُتَّقُونَ ، ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ، ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ ، لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً ، فَإِذَا قِيلَ انْقَطَعَتْ تَمَادَتْ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ ، فُسْطَاطُ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ ، وَفُسْطَاطُ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ ، إِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتنوں کا تذکر ہ فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاصی تفصیل سے ان کا ذکر فرمایا : اور درمیان میں " فتنہ اجلاس " کا بھی ذکر کیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! فتنہ احلاس سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد بھاگنے اور جنگ کرنے کا فتنہ ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ سراء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : کہ اس کا دھواں میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کے قدموں کے نیچے سے اٹھے گا اس کا گمان یہ ہو گا کہ وہ مجھ سے ہے، حالانکہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہ ہو گا میرے دوست تو متقی لوگ ہیں پھر لوگ ایک ایسے آدمی پرا تفاق کر لیں گے جو پسلی پر کو ل ہے کی مانند ہو گا۔ اس کے بعدفتنہ دھیما ہو گا جو اس امت کے ہر آدمی پر ایک طمانچہ جڑے بغیر نہ چھوڑے گا لوگ اس کے متعلق جب کہیں گے کہ یہ فتنہ ختم ہو گیا تو وہ اور بڑھ کر سامنے آئے گا اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مؤمن اور شام کو کافر ہو گا یہاں تک کہ لوگ خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے ایک خیمہ ایمان کا ہو گا جس میں نفاق نامی کوئی چیز نہ ہو گی اور دوسراخیمہ نفاق کا ہو گا جس میں ایمان نامی کوئی چیز نہ ہو گی جب تم پر ایسا وقت آ جائے تودجال کا انتظار کرو کہ وہ اسی دن یا اگلے دن نکل آتا ہے۔ فائدہ۔ اس حدیث کی مکمل وضاحت کے لئے ہماری کتاب " فتنہ دجال قرآن و حدیث کی روشنی میں " کا مطالعہ فرمائیے۔
حدیث نمبر: 6169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے ؟ فرمایا : تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطوروتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔
حدیث نمبر: 6170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الْفَجْرَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ تُوتِرُ لَكَ صَلَاتَكَ " ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْد رَبَّه ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرب ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِي ، عَنْ الزُهَرِي ، أَخْبَرَنِي سَالِمَ ، عَنْ ابْن عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتے مارنے کا حکم دیتے ہوئے خود سنا ہے
حدیث نمبر: 6172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ : قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف فرمایا : کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ ، فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوبِ ، فَبَكَى ، وَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عِنْدَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَدْ وَقَفْتَ مَعِي مِرَارًا لِمَ تَصْنَعُ هَذَا ! فَقَالَ : ذَكَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِمَكَانِي هَذَا ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ دُنْيَاكُمْ فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ میدان عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے انہوں نے سورج کو دیکھا جو غروب کے لئے ڈھال کی طرح لٹک آیا تھا وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور خوب روئے ایک آدمی نے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن آپ کے ساتھ مجھے کئی مرتبہ وقوف کا موقع ملا ہے لیکن کبھی آپ نے ایسا نہیں کیا ؟ انہوں نے فرمایا : کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آگئی وہ بھی اسی جگہ پر وقوف کئے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا : تھا لوگو ! دنیا کی جتنی زندگی گزر چکی ہے اس کے بقیہ حصے کی نسبت صرف اتنی ہی ہے جتنی اس دن کے بقیہ حصے کی گزرے ہوئے دن کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 6174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُحَنَّسَ , أَنَّ مَوْلَاةً لِابْنِ عُمَرَ أَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : وَمَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الرِّيفِ ، فَقَالَ لَهَا : اقْعُدِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقَولَ : " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
یوحنس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک باندی ان کے پاس آگئی اور کہنے لگی اے ابوعبدالرحمن آپ کو سلام ہو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا کیا مطلب ؟ اس نے کہا کہ میں کسی سرسبز و شاداب علاقے میں جانا چاہتی ہوں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : بیٹھ جاؤ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
حدیث نمبر: 6175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ ، حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ ، رَكَعَ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ يَسْجُدُ ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ ، وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ ، حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابر آجاتے پھر تکبیر کہتے جب رکوع میں جاتے تو پھر اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابر آ جائے پھر تکبیر کہتے اور رکوع میں چلے جاتے جب اپنی پشت کو بلند کرنا چاہتے تو پھر اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابرآجاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور سجدے میں چلے جاتے لیکن سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے البتہ ہر رکعت میں اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل ہوجاتی تھی۔
حدیث نمبر: 6176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے ؟ فرمایا : تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔
حدیث نمبر: 6177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَاتَهُ الْعَصْرُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔
حدیث نمبر: 6178
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْأَرْضِ ، قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ : أَيْ رَبِّ ، أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ؟ قَالَ : إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ , قَالُوا : رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ , قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ : هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ , قَالُوا : رَبَّنَا هَارُوتُ , وَمَارُوتُ , فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهَرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ ، فَجَاءَتْهُمَا ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ , فَقَالَا : وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا , فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ ، فَقَالَا : وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا , فَذَهَبَتْ ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ , فَشَرِبَا ، فَسَكِرَا ، فَوَقَعَا عَلَيْهَا ، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَفَاقَا ، قَالَتْ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَاهُ عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِينَ سَكِرْتُمَا ، فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو فرشتے کہنے لگے اے پروردگار کیا آپ زمین میں اس شخص کو اپنا نائب بنا رہے ہیں جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزی کرے گا جب کہ ہم آپ کی تحمید کے ساتھ آپ کی تسبیح اور تقدیس بیان کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا : تم دو فرشتوں کو لے آؤ تاکہ زمین پر اتارآ جائے اور ہم دیکھیں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ؟ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کو پیش کیا اور ان دونوں کو زمین پرا تار دیا گیا۔ اس کے بعد '' زہرہ " نامی سیارے کو ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شکل میں ان کے پاس بھیجا گیا وہ ان دونوں کے پاس آئی وہ دونوں اس سے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے اس نے کہا بخدا ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم یہ شرکیہ جملہ نہ کہو، ہاروت اور ماروت بولے بخدا ہم اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کر یں گے۔ یہ سن کروہ واپس چلی گئی اور کچھ دیر بعد ایک بچے کو اٹھائے ہوئے واپس آگئی انہوں نے پھر اس سے وہی تقاضا کیا اس نے کہا کہ جب تک اس بچے کو قتل نہیں کرتے اس وقت تک یہ نہیں ہو سکتا وہ دونوں کہنے لگے کہ ہم تو اسے کسی صورت میں قتل نہیں کر یں گے۔ وہ پھر واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد ہی شراب کا ایک پیالہ اٹھائے چلی آئی انہوں نے حسب سابق اس سے وہی تقاضا کیا لیکن اس نے کہا کہ جب تک یہ شراب نہ پیو گے اس وقت ایسا نہیں ہو سکتا ان دونوں نے شراب پی لی اور نشے میں آ کر اس سے بدکاری بھی کی اور بچے کو بھی قتل کر دیا اور جب انہیں افاقہ ہوا تو وہ کہنے لگی کہ تم نے جن دو کاموں کو کرنے سے انکار کیا تھا نشے میں مد ہوش ہونے کے بعد تم نے اس میں سے ایک کام کو بھی نہ چھوڑا پھر انہیں دنیا کی سزا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے دنیا کی سزا کو اختیار کر لیا۔ فائدہ۔ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز شراب ہے۔
حدیث نمبر: 6180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ سَالِمًا , يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، وَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ ، وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ ، الْمُتَشَبِّهَةُ بِالرِّجَالِ ، وَالدَّيُّوثُ ، وَثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ ، وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرَ ، وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین آدمی جنت میں داخل ہوں گے اور نہ ہی قیامت کے دن اللہ ان پر نظر کر م فرمائے گا، والدین کا نافرمان، مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت اور دیوث (وہ بےغیرت جو اپنے گھر میں گندگی کو برقرار رکھتا ہے) اور تین آدمیوں پر اللہ قیامت کے دن نظر رحم نہ فرمائے گا والدین کا نافرمان، عادی شرابی، دے کر احسان جتانے والا۔
حدیث نمبر: 6181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ , وَأَذْرُحَ ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ، لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے آگے ایک ایسا حوض ہے جو " جرباء " اور اذرح " کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو شخص وہاں پہنچ کر ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 6182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میت کو اس کے اہل محلہ کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 6183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْحُمَّى شَيْءٌ مِنْ لَفْحِِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے بجھایا کرو۔
حدیث نمبر: 6184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا , يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔
حدیث نمبر: 6185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَبَا عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , كُنَّا نُحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَلَا نَدْرِي أَنَّهُ الْوَدَاعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ أُمَّتَهُ ، وَالنَّبِيُّونَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِم وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِهِ ، أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ ، فَلَا يَخْفَيَنَّ عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ ، فَلَا يَخْفَيَنَّ عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع سے پہلے اس کا تذکر ہ کرتے تھے ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے الوداعی ملاقات ہے اس حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ " دجال " کا بھی خاصا تفصیلی ذکر کیا اور فرمایا : کہ اللہ نے جس نبی کو بھی دنیا میں مبعوث فرمایا : اس نے اپنی امت کو فتنہ دجال سے ضرور ڈرایا ہے سیدنا نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو ڈرایا تھا اور ان کے بعد بھی تمام انبیاء کر ام (علیہم السلام) ڈراتے رہے اگر تم پر کوئی بات مخفی رہ جائے تو تم پر یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہئے کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دہرایا۔
حدیث نمبر: 6186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " تُقَاتِلُكُمْ يَهُودُ ، فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي ، فَاقْتُلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہودی تم سے قتال کر یں گے اور تم ان پر غالب آجاؤ گے حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھرکے نیچے چھپا ہو گا تو وہ پتھر مسلمانوں سے پکار پکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے آ کر اسے قتل کرو۔
حدیث نمبر: 6187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آ جائے تو اسے اپنی جگہ بدل لینی چاہئے۔
حدیث نمبر: 6188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى النَّاسَ , أَنْ يَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے لوگوں کو منع کرتے ہوئے سنا ہے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا)
حدیث نمبر: 6189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ كلاهما حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : وَلَقَدْ كُنْتُ مَعَهُمَا فِي الْمَجْلِسِ ، وَلَكِنِّي كُنْتُ صَغِيرًا فَلَمْ أَحْفَظْ الْحَدِيثَ , قَالَا : سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْوِتْرُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَنْ تُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوَتْرُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار دونوں نے ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ذکر کی ہے گو کہ اس مجلس میں ان دونوں کے ساتھ میں بھی موجود تھا لیکن میں چھوٹا بچہ تھا اس لئے اسے یاد نہ رکھ سکا کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتروں کے متعلق دریافت کیا ؟ اور پوری حدیث ذکر کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 6190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوَتْرِ , قَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ ، شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وِتْرِي ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوَتْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب وتر کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ میں تو اگر سونے سے پہلے وتر پڑھنا چاہوں پھر رات کی نماز کا ارادہ بھی بن جائے تو میں وتر کی پڑھی گئی رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لیتاہوں پھر دو دو رکعتیں پڑھتا رہتا ہوں جب نماز مکمل کر لیتاہوں تو دو رکعتوں کے ساتھ ایک رکعت کو ملا کرو تر پڑھ لیتا ہوں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 6191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهِمْ إِذَا ابْتَاعُوا مِنَ الرُّكْبَانِ الْأَطْعِمَةَ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَتَبَايَعُوهَا حَتَّى يُؤْوُوا إِلَى رِحَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب لوگ سواروں سے کوئی سامان خریدتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کچھ لوگوں کو بھیجتے تھے جو انہیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کر دیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ جائیں۔
حدیث نمبر: 6192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ : يَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات فرمایا : ۔
حدیث نمبر: 6193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔
حدیث نمبر: 6194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ السَّفَرِ ، فَقَالَ : رَكْعَتَيْنِ , قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : فَإِنْ خِفْتُمْ سورة البقرة آية 229 ، وَنَحْنُ آمِنُونَ ؟ قَالَ : سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : كَذَاكَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا : کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں ہم نے کہا کہ اب تو ہر طرف امن وامان ہے جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر تمہیں خوف ہو ؟ فرمایا : یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 6195
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا أَبُو شُعْبَةَ الطَّحَّانُ جَارُ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي جَنَازَةٍ ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ ، فَأَسْكَتَهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِمَ أَسْكَتَّهُ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يُدْخَلَ قَبْرَهُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ ، فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي ، ثُمَّ أَحْيَانًا تُسْفِرُ ؟ قَالَ : كَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا , كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا .
مولانا ظفر اقبال
ابوالربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شریک تھا، ان کے کانوں میں ایک آدمی کے چیخنے چلانے کی آواز آئی انہوں نے اس کے پاس ایک آدمی کو بھیج کر اسے خاموش کروایا میں نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ نے اسے کیوں خاموش کروایا ؟ انہوں نے فرمایا : کہ جب تک مردہ قبر میں داخل نہ ہو جائے اسے اس سے اذیت ہوتی ہے میں نے ان سے پھر پوچھا کہ بعض اوقات میں آپ کے ساتھ صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتا ہوں کہ سلام پھیرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی کا چہرہ نظر نہیں آتا اور کبھی آپ خوب روشنی کر کے نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں اسی طرح نماز پڑھوں جیسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَحَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَاهُ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمَا , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشُّؤْمُ فِي الْفَرَسِ ، وَالدَّارِ ، وَالْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی تھی گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔
حدیث نمبر: 6197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ " ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوْ الْخَامِسَةِ : فَاقْتُلُوهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی یا پانچویں مرتبہ فرمایا : کہ اسے قتل کر دو۔
حدیث نمبر: 6198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 6199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي ابْنُ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ ، فَقَالَ : تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
قزعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے کسی کام سے بھیجتے ہوئے فرمایا : قریب آجاؤ تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کام سے بھیجتے ہوئے رخصت کیا تھا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : کہ میں تمہارے دین و امانت اور تمہارے عمل کا انجام اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 6200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ ، إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَجَحَتْ " ، قَالَ : فَانْظُرْ لَا تَكُونُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمانے لگے اے زبیر اللہ کے حرم میں الحاد پھیلنے کا ذریعہ بننے سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی حرم شریف میں الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہوں کا تمام انس وجن کے گناہوں سے وزن کیا جائے تو اس کے گناہوں کا پلڑا جھک جائے گا اس لئے دیکھو تم وہ آدمی نہ بننا۔
حدیث نمبر: 6201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مؤذن اس کی آواز کی انتہا تک اللہ اس کی بخشش فرما دے گا اور ہر وہ خشک اور تر چیز جس تک اس کی آواز پہنچی ہو گی وہ اس کے حق میں گواہی دے گی۔
…