حدیث نمبر: 6082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا خَرَجْنَا حُجَّاجًا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، " فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا عُمَرُ حَتَّى طَافُوا بِالْبَيْتِ " ، قَالَ : قَالَ سُرَيْجٌ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَبِالصَّفَا , وَالْمَرْوَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے اور یوم النحر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر کوئی چیز حلال نہیں کی یہاں تک کہ طواف اور سعی کر لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه.
حدیث نمبر: 6083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ حِينَ أَنَاخَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی اونٹنی کو (مزدلفہ پہنچ کر ) بٹھایا تو مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1288.
حدیث نمبر: 6084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْحَابَ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 7558، م: 2108.
حدیث نمبر: 6085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ ثَالِثِهِمَا ، وَلَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کیا کر یں۔ اور کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 6288، م: 2183.
حدیث نمبر: 6086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَمَّادٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا مَرْفُوعًا ، قَوْلُهُ : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، قَالَ : " يَقُومُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت " جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " کی تفسیر میں فرمایا : کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 4938، م: 2862.
حدیث نمبر: 6087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ ، فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ فَعَلَ ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت انشاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہئے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنِي حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ إِلَّا بِإِذْنِهِ " ، أَوْ قَالَ : " إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1412.
حدیث نمبر: 6089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادَّهَنَ بِدُهْنٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت زیتون کا وہ تیل استعمال فرماتے تھے جس میں پھول ڈال کر انہیں جوش نہ دیا گیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي.
حدیث نمبر: 6090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ كَأَنَّ الْأَذَانَ فِي أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آرہی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 995، م: 749.
حدیث نمبر: 6091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَفِي صَاعِنَا ، وَمُدِّنَا ، وَيَمَنِنَا ، وَشَامِنَا " ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " مِنْ هَاهُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، مِنْ هَاهُنَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ہمارے شہر مدینہ میں ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکتیں فرما اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطاء فرما پھر مطلع شمس کی طرف رخ کر کے فرمایا : کہ یہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 6092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلًا , وَذَكْوَانَ , وَبَنِي لِحْيَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور '' عصیہ " نے اللہ اور اس کی رسول کی نافرمانی کی، اے اللہ رعل ذکوان اور بنو لحیان پر لعنت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب.
حدیث نمبر: 6093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يُعْرَفُ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا جس سے اس کی شناخت ہو گی اور سب سے بڑا دھوکہ حکمران وقت کا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف بشر بن حرب.
حدیث نمبر: 6094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً " , قَالَ عَبْدُ الله بْنِ أَحْمَّد : قَالَ أَبِي : سَمِعْتُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ فِي سَنَةِ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ ، فِي أَوَّلِ سَنَةٍ طَلَبْتُ الْحَدِيثَ مَجْلِسًا ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْمَجْلِسَ الْآخَرَ وَقَدْ مَاتَ ، وَهِيَ السَّنَةُ الَّتِي مَاتَ فِيهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ، لكنه متابع.
حدیث نمبر: 6095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ , وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ أَبِيهِمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی تھی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 5093، م: 2225.
حدیث نمبر: 6096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَصْبُغُ هَذَا بِالزَّعْفَرَانِ ؟ قَالَ : لِأَنِّي رَأَيْتُهُ أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدَّهِنُ وَيَصْبُغُ بِهِ ثِيَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو رنگتے تھے اور زعفران کا تیل لگاتے تھے کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے کپڑوں کو زعفران سے کیوں رنگتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : کہ میں نے دیکھا ہے کہ زعفران کا تیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رنگے جانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ تھا اسی کا تیل لگاتے تھے اور اس سے کپڑوں کو رنگتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخَّرَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ، وَإِنَّمَا حَبَسَنَا لِوَفْدٍ جَاءَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں تین مرتبہ سو کر جاگے دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد آیا ہوا تھا ؟ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا : کہ اس وقت روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی شخص نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 6098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا ، " فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کی اپنی طرف نسبت کی نفی کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر ادی اور بچے کو ماں کے حوالے کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه .
حدیث نمبر: 6099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرَانِي فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ ، كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنَ الرِّجَالِ ، لَهُ لِمَّةٌ قَدْ رُجِّلَتْ ، وَلِمَّتُهُ تَقْطُرُ مَاءً ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، رَجِلَ الشَّعْرِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ میں گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا یہ مسیح دجال ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5902، م: 169
حدیث نمبر: 6100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُوصَى فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثًا إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَمَا بِتُّ لَيْلَةً مُنْذُ سَمِعْتُهَا إِلَّا وَوَصِيَّتِي عِنْدِي مَكْتُوبَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی شخص پر تین راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کی پاس لکھی ہوئی نہ ہو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دن کے بعد سے اب تک میری کوئی ایسی رات نہیں گزری جس میں میرے پاس میری وصیت لکھی ہوئی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1627.
حدیث نمبر: 6101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ بِاللَّيْلِ " ، قَالَ : فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : وَاللَّهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ ، يَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا لِحَاجَتِهِنَّ ، قَالَ : فَانْتَهَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أُفٍّ لَكَ ! أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَتَقُولُ : لَا أَفْعَلُ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی عورتوں کو رات کے وقت مسجد میں آنے کی اجازت دے دیا کرو یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 873، م: 442
حدیث نمبر: 6102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " فَعَلْتَ كَذَا ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ فَعَلَ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَعَالَى غَفَرَ لَهُ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " , قَالَ حَمَّادٌ : لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ بَيْنَهُمَا رَجُلٌ ، يَعْنِي ثَابِتًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، اتنے میں سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) آگئے اور کہنے لگے کہ وہ کام تو اس نے کیا ہے لیکن " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه مابين ثابت وبين ابن عمر
حدیث نمبر: 6103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ , فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص کھاتے وقت انشاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6104
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ كلاهما , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده من جهة بكر بن عبدالله صحيح
حدیث نمبر: 6106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ ، حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کر دو جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کر لو جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دواگربدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ يَدِهِ ، فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ ، وَلَا يَلْبَسُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نیگنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہر لگاتے تھے لیکن اسے پہنتے نہیں تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091
حدیث نمبر: 6108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں دعوت دے جائے تو اسے قبول کر لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5179، م: 1429
حدیث نمبر: 6109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا " لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن الفاظ سے قسم کھایا کرتے تھے، وہ یہ تھے " لا و مقلب القلوب (نہیں مقلب القلوب کی قسم)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6628
حدیث نمبر: 6110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ، وَقَالَ : إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ ، وَلَا آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ , وَحَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے میں نزول وحی کا زمانہ شروع ہونے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے دسترخوان بچھا یا اور گوشت لاکر سامنے رکھا انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جنہیں تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر قربان کرتے ہو، بلکہ میں صرف وہ چیزیں کھاتاہوں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ فائدہ۔ " تم لوگ " سے مراد " قوم " سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3826
حدیث نمبر: 6111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ هَمَّامٌ فِي كِتَابِي , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقُبُورِ فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو " بسم اللہ وعلی سنۃ رسول اللہ ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَصَافِحْهُ ، وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ ، فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو اس سے مصافحہ کرو اور اس کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لئے بخشش کی دعاء کرواؤ کیونکہ وہ بخشا بخشایا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، محمد بن الحارث الحارثي وعبدالرحمن بن البيلماني ضعيفان، ومحمد بن عبدالرحمن البيلماني ضعيف أيضا، وقال عنه البخاري: منكر .
حدیث نمبر: 6113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سَمِعَهُ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَالْعَاقُّ ، وَالدَّيُّوثُ ، الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخُبْثَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین آدمیوں پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے شراب کا عادی، والدین کا نافرمان اور وہ بےغیرت آدمی جو اپنے گھر میں گندگی کو برداشت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن سالم.
حدیث نمبر: 6114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ جَرْعَةً أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ ، يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے نزدیک غصہ کے اس گھونٹ سے زیادہ افضل گھونٹ کسی بندے نے کبھی نہ پیا ہو گا جو وہ اللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، على بن عاصم - وإن كان ضعيفا - قد توبع.
حدیث نمبر: 6115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر منڈوایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1726
حدیث نمبر: 6116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ جَرْعَةً ، أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے نزدیک غصہ کے اس گھونٹ سے زیادہ افضل گھونٹ کسی بندے نے کبھی نہ پیا ہو گا جو وہ اللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6116
حدیث نمبر: 6117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِهَا وَيَشْرَبُ بِهَا " ، قَالَ : وَزَادَ نَافِعٌ : وَلَا يَأْخُذَنَّ بِهَا ، وَلَا يُعْطِيَنَّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پئیے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے نافع اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ بائیں ہاتھ سے کچھ پکڑے اور نہ کسی کو کچھ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 6118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5865، م: 2091
حدیث نمبر: 6119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَذَكَرَهُ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، إِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا فِي طُهْرِهَا لِلسُّنَّةِ " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ , قَالَ أَنَسٌ : فَسَأَلْتُهُ , هَلْ اعْتَدَدْتَ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : وَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا ، إِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ ! ! .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ اپنی زوجہ کو طلاق دینے کا واقعہ تو سنایئے انہوں نے فرمایا : کہ میں نے اپنی بیوی کو " ایام " کی حالت میں طلاق دے دی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا تو انہوں نے فرمایا : اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، جب وہ " پاک " ہو جائے تو ان ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو " ایام " کی حالت میں دی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ اسے شمار نہ کرنے کیا وجہ تھی ؟ اگر میں ایسا کرتا تو لوگ مجھے بیوقوف سمجھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1471
حدیث نمبر: 6120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو جا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 700
حدیث نمبر: 6121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق ومتحد) رہیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3501، م: 1820