حدیث نمبر: 6042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ , " يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفاء ثلاثہ جنازے کے آگے چلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَيَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جہنیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) " بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا نہایت باخبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 4627.
حدیث نمبر: 6044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَيَعْقُوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِئَةِ ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً " ، وَقَالَ يَعْقُوبُ : كَإِبِلٍ مِئَةٍ ، مَا فِيهَا رَاحِلَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 4698.
حدیث نمبر: 6045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُد ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْجُمَحِيَّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ، لَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو انہیں قبرستان نہ بناؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 1187، م: 777.
حدیث نمبر: 6046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دنیا میں شراب پیئے وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 1617، م: 1261، عبد الله العمري - وإن كان ضعيفا- قد توبع.
حدیث نمبر: 6048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ، فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ ، فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہو گی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِئَةِ ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 6498، عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار- وإن كان في حديثه ضعف- قد توبع.
حدیث نمبر: 6050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا لَا يَدْرِي مَا اللَّيْلُ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال کو پتہ نہیں چلتا کہ رات کتنی بچی ہے ؟ اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، وقوله "إن بلالا لايدري ما الليل" لم أجده في غير هذا الموضع.
حدیث نمبر: 6051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُبْصِرُ ، لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ النَّاسُ أَذِّنْ قَدْ أَصْبَحْتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو راوی کہتے ہیں کہ دراصل سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے آپ نے تو صبح کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 2656.
حدیث نمبر: 6052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحُجَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا تَطْرَحُ وَرَقَهَا " ، قَالَ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَدْوِ ، وَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ , مَا مَنَعَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ ؟ ! فَوَاللَّهِ , لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکر ہ کیا تو انہوں نے فرمایا : اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 6053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلْغَادِرِ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ : أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 6177، م: 1735.
حدیث نمبر: 6054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ " , وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی اور اس موقع پر اللہ نے ہی آیت نازل فرمائی " تم نے کھجور کا جو درخت بھی کاٹایا اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو وہ اللہ کے حکم سے تھا اور تاکہ اللہ فاسقوں کو رسوا کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 4031، م: 1746.
حدیث نمبر: 6055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، " فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول کو دیکھا تو اس نے نکیر فرماتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 301، م: 1744.
حدیث نمبر: 6056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ كَانَ " إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ ، انْصَرَفَ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو واپس جا کر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 882.
حدیث نمبر: 6057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " يَنْهَى إِذَا كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع فرماتے تھے کہ تین آدمی ہوں اور تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 6288، م: 2183.
حدیث نمبر: 6058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَةَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلٍ مَعْلُومٍ ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب تک پھل پک نہ جائے اس کی خریدو فروخت مت کیا کرو یہ ممانعت بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو فرمائی ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے بھی فرمایا : ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا پھل " اگر وہ کھجور ہو تو " کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر ، انگور ہو تو کشمش کے بدلے ناپ کر ، کھیتی ہو تو معین ناپ کر بیچے، ان تمام چیزوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا : ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ،قوله «لاتتبايعوا الثمرة حتى يبدو صلاحها» أخرجع مسلم: 1535، وقوله نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة.... أخرجه البخاري : 2205، ومسلم: 1542.
حدیث نمبر: 6059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مرنے کے بعد تم میں سے ہر شخص کے سامنے صبح شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 3240، م: 2866.
حدیث نمبر: 6060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 5142، م: 1412.
حدیث نمبر: 6061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ , طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ ! , " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا ، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ : أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَا ، فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ ، وَعَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو " ایام " کی حالت میں ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ " ایام " آنے تک انتظار کر یں اور ان سے " پاکیزگی " حاصل ہونے تک رکے رہیں پھر اپنی بیوی کے " قریب " جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جاتاجو " ایام " کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فرماتے کہ میں نے تو اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور دوسرے ایام اور ان کے بعدطہر ہونے تک انتظار کر یں پھر اس کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں جب کہ تم تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے آئے ہو تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے متعلق بتایا ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوچکی یہاں تک کہ کہ وہ تمہارے علاوہ کسی اور شخص سے شادی نہ کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 5332، م: 1471.
حدیث نمبر: 6062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 6270، م: 2177.
حدیث نمبر: 6063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ , كَيْفَ صَلَاةُ الْمُسَافِرِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنْتُمْ فَتَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُكُمْ ، وَأَمَّا أَنْتُمْ لَا تَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، لَمْ أُخْبِرْكُمْ ، قَالَ : قُلْنَا : فَخَيْرُ السُّنَنِ سُنَّةُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمن ! مسافر کی نماز کس طرح ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرو تو میں تمہیں بتادوں، نہ کروں تو نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! بہترین طریقہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی تو ہے انہوں نے فرمایا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے نکلتے تھے تو واپس آنے تک دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب.
حدیث نمبر: 6064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا بِشْرٌ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ہمارے شہر مدینہ میں ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکتیں فرما اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 6065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کی نماز عصر فوت ہو جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 626.
حدیث نمبر: 6066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنَّ مَثَلَ آجَالِكُمْ فِي آجَالِ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ امتوں کی عمروں کے مقابلے میں تمہاری عمریں ایسی ہیں جیسے عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 2268.
حدیث نمبر: 6067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ مُعْتَمِرًا ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ ، وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ سُرَيْجٌ : وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا ، إِلَّا سُيُوفًا ، وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا ، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ ، فَخَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے لیکن قریش کے کفار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبور ہو کر حدیبیہ ہی میں ہدی کا جانور ذبح کر کے حلق کروا لیا اور ان سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آئندہ سال آ کر عمرہ کر یں گے اور اپنے ساتھ ہتھیار لے کرنہیں آئیں گے البتہ تلوار کی اجازت ہو گی اور مکہ مکرمہ میں ان کا قیام قریش کی مرضی کے مطابق ہو گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال عمرہ کے لئے تشریف لائے اور شرائط صلح کے مطابق مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تین دن رکنے کے بعد قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واپسی کے لئے کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے نکل آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 2701.
حدیث نمبر: 6068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّدَ رَأْسَهُ وَأَهْدَى ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ " ، قُلْنَ : مَا لَكَ أَنْتَ لَا تَحِلُّ ؟ قَالَ : " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي ، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِي ، وَأَحْلِقَ رَأْسِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سرکے بالوں کو جمایا اور ہدی کا جانور ساتھ لے گئے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو ازواج مطہرات کو احرام کھولنے کا حکم دیا، ازواج مطہرات نے پوچھا کہ آپ کیوں حلال نہیں ہوتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں نے اپنی ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ رکھا ہے اور اپنے سر کے بال جما رکھے ہیں، اس لئے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک اپنے حج سے فارغ ہو کر حلق نہ کر ا لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4398، م: 1229.
حدیث نمبر: 6069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُوب ، وَحُمَيْدٍ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ، ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں وادی بطحاء میں پڑھیں، رات وہیں گزاری اور پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 1768.
حدیث نمبر: 6070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى ، وَعَيْنُهُ الْأُخْرَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اس کی دوسری آنکھ آنگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 7123.
حدیث نمبر: 6071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ " ، وَنَافِعٌ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے کو دیکھا ہے کہ وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 700.
حدیث نمبر: 6072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا , يَقُولُ : وَالْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : لَا تَحْلِفْ بِغَيْرِ اللَّهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ وَأَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو خانہ کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : غیر اللہ کی قسم نہ کھایا کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانے والاشرک کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَتَرَكْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ ، فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ مُرَوَّعًا ، فَقُلْتُ : مَا وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ آنِفًا ، فَقَالَ : أَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ ؟ فَقَالَ : احْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ ، فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے اٹھا اور جا کر سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بیٹھ گیا اتنی دیر میں میرا کندی ساتھی آیا اس کے چہرے کا رنگ متغیر اور پیلا زرد ہو رہا تھا اس نے آتے ہی کہا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن ! اگر میں خانہ کعبہ کی قسم کھاؤں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : کہ تمہیں خانہ کعبہ کی قسم کھانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اگر تم خانہ کعبہ کی قسم ہی کھانا چاہتے ہو تو رب کعبہ کی قسم کھاؤ کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم کھایا کرتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے باپ کی قسم نہ کھاؤ کیونکہ غیر اللہ کی قسم کھانے والا شرک کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الكندي.
حدیث نمبر: 6074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ , سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا , يَقُولُ : اللَّيْلَةَ النِّصْفُ ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا النِّصْفُ ؟ بَلْ ، خَمْسَ عَشْرَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " , وَضَمَّ أَبُو خَالِدٍ فِي الثَّالِثَةِ خَمْسِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج رات مہینے کا نصف ہو گا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ مہینہ کا نصف ہے بلکہ یوں کہو کہ پندرہ تاریخ ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے تیسرے مرتبہ راوی نے اس انگلی کو بند کر لیا جو پچاس کے عدد کی نشاندہی کر تی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1080.
حدیث نمبر: 6075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 ، قَالَ : " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت " جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " کی تفسیر میں فرمایا : کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 6531، م: 2862.
حدیث نمبر: 6076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا ، حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمیں یہاں موت نہ دیجئے گا یہاں تک کہ آپ ہمیں یہاں سے نکال کر لے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .
حدیث نمبر: 6077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا ، وَإِنَّ مَجُوسَ أُمَّتِي الْمُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ ، فَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ ، وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی قدریہ (منکر ین تقدیر) ہیں، اگر یہ بیمار ہوں تو تم ان کی عیادت کو نہ جاؤ اور اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف عمر بن عبد الله مولى غفرة، وعبد الرحمن بن صالح بن محمد الأنصاري مجهول.
حدیث نمبر: 6078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَ أَرْضًا مِنْ يَهُودِ بَنِي حَارِثَةَ ، يُقَالُ لَهَا : ثَمْغٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا نَفِيسًا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ ، قَالَ : " فَجَعَلَهَا صَدَقَةً ، لَا تُبَاعُ ، وَلَا تُوهَبُ ، وَلَا تُورَثُ ، يَلِيهَا ذَوُو الرَّأْيِ مِنْ آلِ عُمَرَ ، فَمَا عَفَا مِنْ ثَمَرَتِهَا جُعِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَالْفُقَرَاءِ ، وَلِذِي الْقُرْبَى ، وَالضَّعِيفِ ، وَلَيْسَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا جُنَاحٌ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُؤْكِلَ ، صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالًا " ، قَالَ حَمَّادٌ : فَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُهْدِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ مِنْهُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَتْ حَفْصَةُ بِأَرْضٍ لَهَا عَلَى ذَلِكَ ، وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِأَرْضٍ لَهُ عَلَى ذَلِكَ ، وَوَلِيَتْهَا حَفْصَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خیبر میں یہود بنی حارثہ کی ایک زمین حصے میں ملی جسے ثمغ کہا جاتا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ! میرے حصے میں خیبر کی زمین کا ایک ایساٹکڑا آیا ہے کہ اس سے زیادہ عمدہ مال میرے پاس کبھی نہیں آیا، میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء قریبی رشتہ داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کر دیا جسے بیچا جاسکے گا اور نہ ہبہ کیا جاسکے گا اور نہ ہی اس میں وراثت جاری ہو گی، البتہ آل عمران کے اصحاب رائے اس کے متولی ہوں گے اور فرمایا : کہ اس زمین کے متولی کے لئے خود بھلے طریقے سے اس میں سے کچھ کھانے میں یا اپنے دوست کو " جو اس سے اپنے مال میں اضافہ نہ کرنا چاہتا ہو " کھلانے میں کوئی حرج نہیں، عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں سے عبداللہ بن صفوان کو ہدیہ بھیجا کرتے تھے، سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی زمین صدقہ کر دی تھی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی انہی شرائط پر اپنی زمین صدقہ کر دی تھی اور سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ اس کی نگران تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، والشطر الأخير منه أخرجه البخاري 2777.
حدیث نمبر: 6079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ , وَأَذْرُحَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے آگے ایک ایسا حوض ہے جو " جربا " اور اذرح " کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2299.
حدیث نمبر: 6080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّمَا عَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الشِّعْبِ لِحَاجَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے راستے سے ہٹ کر ایک کونے میں چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 6081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ " ، وَقَالَ سُرَيْجٌ : ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ ، وَمَشَى أَرْبَعَةً ، فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے میں طواف کے پہلے تین چکر تیز رفتاری سے اور باقی چار چکر عام رفتار سے لگائے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 6081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1604، وفليح توبع.