حدیث نمبر: 6002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، قَالَ : قَالَ لِي يَحْيَى , حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَخْرُجُ نَارٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ ، تَحْشُرُ النَّاسَ " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ہے کہ قیامت کے قریب حضرموت " جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے " کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! ! پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ملک شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا (وہاں چلے جانا)
حدیث نمبر: 6003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُيصَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا الْبَرَانِسَ ، وَلَا الْخِفَافَ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الْوَرْسُ , وَلَا الزَّعْفَرَانُ ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کرنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! ! احرام کی حالت میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کی اجازت دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ محرم قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہیے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی، یا ایساکپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، بھی محرم نہیں پہن سکتا اور عورت حالت احرام میں چہرے پر نقاب یا ہاتھوں میں دستانے نہ پہنے۔
حدیث نمبر: 6004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ : " كَانَ يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا وَيُصَلِّي بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی سواری بٹھاتے تھے یہ وہی جگہ تھی جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی بٹھاتے اور نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کر ایاجب کہ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ میں سے بعض نے حلق اور بعض نے قصر کر ایا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو مرتبہ حلق کر انے والوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، پھر فرمایا : اور قصر کر انے والوں پر بھی۔
حدیث نمبر: 6006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَكَانَا جَمِيعًا ، وَيُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب دو آدمی خریدو فروخت کر یں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں اور اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیاردے دے اور وہ دونوں اسی پر بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی اور اگر بیع کے بعد دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تب بھی بیع لازم ہو گئی۔
حدیث نمبر: 6007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ ، فَصَنَعَ النَّاسُ ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ " ، فَرَمَى بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بر سر منبر اسے پھینک دیا اور فرمایا : میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف کر لیتا تھا واللہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا چنانچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حدیث نمبر: 6008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔
حدیث نمبر: 6009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔
حدیث نمبر: 6010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا جِسْرٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيطٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَحْسَسْتُمْ بِالْحُمَّى ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں بخار محسوس ہو تو اسے ٹھنڈے پانی سے بجھاؤ۔
حدیث نمبر: 6011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ ، تُحَدِّثُنِي بِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَذَكَرَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ مَرِيضَةً ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ " ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ ، وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى : " هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ " ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " هَذِهِ لِعُثْمَانَ " ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : اذْهَبْ بِهَذِهِ الْآنَ مَعَكَ .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مصر سے ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابن عمر ! اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے جواب دیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختلف سوال پوچھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اب آؤ میں تمہیں ان تمام چیزوں کی حقیقت سے آگاہ کروں جن کے متعلق تم نے مجھ سے پوچھا ہے، جہاں تک غزوہ احد کے موقع پر بھاگنے کی بات ہے تو میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ نے ان سے درگزر کی اور انہیں معاف فرما دیا ہے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہ جو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اس وقت بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تھا کہ (تم یہیں رہ کر اس کی تیمارداری کرو) تمہیں غزوہ بدر کے شرکاء کے برابر اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت کا حصہ بھی، رہی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اگر بطن مکہ میں عثمان سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدنا عثمان کو مکہ مکرمہ میں بھیجا تھا اور بیعت رضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا : تھا یہ عثمان کا ہاتھ ہے اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ان باتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلاجا۔
حدیث نمبر: 6012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر، مزفت اور دباء سے منع فرمایا : ہے۔
حدیث نمبر: 6013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَوْ قَالَ لَهُ غَيْرِي : مَا لِي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ ؟ فَقَالَ : " إِنْ أَمْشِي , فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى " ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ .
مولانا ظفر اقبال
کثیربن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں ؟ فرمایا : اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح بھی دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں۔
حدیث نمبر: 6014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ لَمْ يَسِرْ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہو جائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 6015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حدیث نمبر: 6016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ الصَّدَرِ ، فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَةٌ يَمَانِيَةٌ ، وَرِحَالُهُمْ الْأُدُمُ ، وَخُطُمُ إِبِلِهِمْ الْجُرُرُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ وَرَدَتْ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِذْ قَدِمُوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذِهِ الرُّفْقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعیدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حج سے واپسی کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ آ رہا تھا، ہمارا گزر ایک یمانی قافلہ پر ہوا ان کے خیمے یا کجاوے چمڑے کے تھے اور ان کے اونٹوں کی لگا میں پھندے کی طرح محسوس ہوتی تھیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس قافلہ کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ جو شخص اس سال حج کے لئے آنے والے قافلوں میں سے کسی ایسے قافلے کو دیکھنا چاہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کر ام رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ مشابہہ ہو، وہ اس قافلے کو دیکھ لے۔
حدیث نمبر: 6017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَقَالَ هَاشم : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ بیت اللہ کے کسی حصے کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 6018
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ أَبِي نَتَلَقَّى الْحَاجَّ ، فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَتَدَنَّسُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تاکہ حجاج کر ام سے ملاقات کر یں اور انہیں گناہوں کی گندگی میں ملوث ہونے سے پہلے سلام کر لیں۔
حدیث نمبر: 6019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، وَهَاشِمٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , وَبِلَالٌ , وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ ، فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ، قَالَ هَاشِمٌ : صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف میں سیدنا اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیاجب دروازہ کھلا تو سب سے پہلے داخل ہونے والا میں تھا، میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! دائیں ہاتھ کے دو ستونوں کے درمیان۔
حدیث نمبر: 6020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، وَيُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بر سر منبرارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حدیث نمبر: 6021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا ، يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ ، وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " ، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بال جمائے ہوئے یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات پر کچھ اضافہ نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 6022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُذْبَحُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، لَا مَوْتَ ، يَا أَهْلَ النَّارِ ، لَا مَوْتَ ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل جنت، جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لاکر جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک منادی پکار کر کہے گا اے جنت ! تم ہمیشہ جنت میں رہوگے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی اور اے جہنم ! تم ہمیشہ جہنم میں رہوگے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل جنت کی خوشی اور مسرت دو چند ہو جائے گی اور اہل جہنم کے غموں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 6023
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ، وَلَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تین آدمی جمع ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کیا کر یں اور کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔
حدیث نمبر: 6025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ , أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَقَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ، وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سانپ کو مار دیا کرو خاص طور پر دو دھاری اور دم کٹے سانپوں کو، کیونکہ یہ دونوں انسان کی بینائی زائل ہونے اور حمل ساقط ہوجانے کا سبب بنتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، الْإِمَامُ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " ، قَالَ : سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی چنانچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہو گی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہو گی عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہو گی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی میں نے یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ بھی فرمایا : تھا مرد اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہو گی۔
حدیث نمبر: 6027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ : مَنْ ضَفَرَ فَلْيَحْلِقْ ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کی مینڈھیاں ہوں اسے حج کا احرام ختم کرنے کے لئے حلق کر انا چاہئے اور بالوں کو کسی چیز سے جمانے کی مشابہت اختیار نہ کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بال جمائے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 6028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَامَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ؟ فَإِنَّ رَأْسَ مِئَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ ، إِلَى مَا يُحَدِّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِئَةِ سَنَةٍ ، فَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ " يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهُ يَنْخَرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک مرتبہ عشاء کی نماز پڑھائی جب سلام پھیر چکے تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا : کہ آج کی رات کو یاد رکھنا کیونکہ اس کے پورے سو سال بعد روئے زمین پر جو آج موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچے گا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات میں بہت سے لوگوں کو التباس ہو گیا ہے اور وہ " سو سال " سے متعلق مختلف قسم کی باتیں کرنے لگے ہیں دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : تھا کہ روئے زمین پر آج جو لوگ موجود ہیں اور مراد یہ تھی کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی (یہ مطلب نہیں تھا کہ آج سے سو سال بعد قیامت آ جائے گی)
حدیث نمبر: 6029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ بَقَاءَكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ ، أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ ، فَعَمِلُوا بِهَا ، حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ ، فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ عَجَزُوا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُعْطِيتُمْ الْقُرْآنَ ، فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ ، فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، فَقَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ : رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا ، فَقَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالُوا : لَا ، فَقَالَ : " فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسرمنبریہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں تمہاری بقاء کی مدت اتنی ہے جیسے عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہوتا ہے، تورات والوں کو تورات دی گئی چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا لیکن نصف النہار کے وقت وہ اس سے عاجز آگئے لہٰذا انہیں ایک ایک قیراط دے دیا گیا، پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عصرتک عمل کیا لیکن پھر وہ بھی عاجز آگئے لہٰذا انہیں بھی ایک ایک قیراط دے دیا گیا پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے مغرب تک اس پر عمل کیا چنانچہ تمہیں دو دو قیراط دے دیئے گئے اس پر اہل تورات و انجیل کہنے لگے پروردگار ! ان لوگوں نے محنت تھوڑی کی لیکن انہیں اجر زیادہ ملا اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تمہاری مزدوری میں تم پر کچھ ظلم کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، اللہ نے فرمایا : پھر میں اپنا فضل جسے چاہوں عطاء کر دوں۔
حدیث نمبر: 6030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِئَةِ ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 6031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : فتنہ یہاں سے ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حدیث نمبر: 6032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " يُقَاتِلُكُمْ يَهُودُ ، فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ ، حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہودی تم سے قتال کر یں گے اور تم ان پر غالب آجاؤ گے حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے نیچے چھپا ہو گا تو وہ پتھر مسلمانوں سے پکارپکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے آ کر اسے قتل کرو۔
حدیث نمبر: 6033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَما أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ ، بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : ابْنُ مَرْيَمَ ، فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ ، جَعْدُ الرَّأْسِ ، أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى ، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا الدَّجَّالُ ، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ " , رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ میں کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلایہ مسیح دجال ہے
حدیث نمبر: 6034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : قَالَ نَافِعٌ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا يَخْطُبُ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا نکاح نہ بھیجے۔
حدیث نمبر: 6035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنا شُعَيْبٌ ، قَالَ : قَالَ نَافِعٌ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ " , قَالَ نَافِعٌ : حَسِبْتُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔
حدیث نمبر: 6036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، حَتَّى يَدَعَهَا الَّذِي خَطَبَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے یہاں تک کہ پہلے پیغام بھیجنے والا اسے چھوڑ دے یا اسے اجازت دے دے۔
حدیث نمبر: 6037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً ، " فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو اس پر نکیر کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا۔
حدیث نمبر: 6038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَيُّمَا مَمْلُوكٍ كَانَ بَيْنَ شَرِيكَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، فَإِنَّهُ يُقَامُ فِي مَالِ الَّذِي أَعْتَقَ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَيُعْتِقُ إِنْ بَلَغَ ذَلِكَ مَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان سب سے ایک اس غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کر دیتا ہے تو اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی اور اپناحصہ آزاد کرنے والے کے پاس اگر اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہو تو وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 6039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَلَمْ أَسْأَلْ عُمَرَ فَمَنْ سِوَاهُ مِنَ النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا کسی بھی آدمی سے کچھ نہیں مانگتا۔
حدیث نمبر: 6040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے اور قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش فرمائے۔
حدیث نمبر: 6041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ أُمَّةٌ أُمِّيُّونَ ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " , وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم امی امت ہیں حساب کتاب نہیں جانتے، بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھابند کر لیا۔
…