حدیث نمبر: 4568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، مَسْجِدَ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، وَدَخَلَ مَعَهُ صُهَيْبٌ ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : يُشِيرُ بِيَدِهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ لِرَجُلٍ : سَلْ زَيْدًا : أَسَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ وَهِبْتُ أَنَا أَنْ أَسْأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا أُسَامَةَ ، سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَقَدْ رَأَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد یعنی مسجد قباء میں نماز پڑھنے کی لئے تشریف لے گئے وہاں کچھ انصاری صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کر نے کے لئے حاضر ہوئے ان کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سلام کیا جاتا ہے تو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جواب دیتے تھے ؟ فرمایا کہ ہاتھ سے اشارہ کر دیتے تھے ۔ سفیان کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے کہا سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ سے پوچھو کہ یہ روایت آپ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خود سنی ہے ؟ مجھے خود سوال کر نے میں ان کا رعب حائل ہو گیا چنانچہ اس آدمی نے ان سے پوچھا کہ اے ابواسامہ ! کیا آپ نے یہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے انہیں دیکھا بھی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ غَزْوٍ فَأَوْفَى عَلَى فَدْفَدٍ مِنَ الْأَرْضِ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے : ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی ، توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2995، م: 1344
حدیث نمبر: 4570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : كَان ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! وَاللَّهِ " مَا أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ .
مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے، یہ وہ مقام بیداء ہے جس کے متعلق تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت کرتے ہو واللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور رکھا ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1541، م: 1187
حدیث نمبر: 4571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ ، فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 473، م: 729
حدیث نمبر: 4572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ ، أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ ، وَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ أَوْ عَنِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آ جائیں، یاد رکھو ! اس کا نام نماز عشاء ہے اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودہ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو ”عتمہ“ کہہ دیتے ہیں) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 644
حدیث نمبر: 4573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَهِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له إسنادان: الأول : سفيان، عن عبدالله بن دينار، عن ابن عمر، وهو إسناد صحيح على شرط الشيخين، والثاني: سفيان، عن هشام بن عروة، عن عروة بن الزبير، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، عروة بن الزبير لم يدرك النبى ، وقد سلف تخريجه بالإسناد الأول برقم: 4562 .
حدیث نمبر: 4574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ أَسْرَعْتُ ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَجَلَسْتُ ، فَلَمْ أَسْمَعْ حَتَّى نَزَلَ ، فَسَأَلْتُ النَّاسَ أَيَّ شَيْءٍ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا لیکن ابھی سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997
حدیث نمبر: 4575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، فَقَلَّبْتُ الْحَصَى ، فَقَالَ : " لَا تُقَلِّبْ الْحَصَى ، فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلَكِنْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ كَانَ يُحَرِّكُهُ هَكَذَا " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يَعْنِي مَسْحَةً .
مولانا ظفر اقبال
علی بن عبدالرحمن معاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھنے کا موقعہ ملا میں کنکر یوں کو الٹ پلٹ کر نے لگا، تو انہوں نے مجھے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شیطانی عمل ہے البتہ اس طرح کرنا جائز ہے جیسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ وہ اس طرح انہیں حرکت دیتے تھے۔ راوی نے ہاتھ پھیر کر دکھایا (سجدے کی جگہ پر اسے برابر کر لیتے تھے بار بار اسی میں لگ کر نماز خراب نہیں کرتے تھے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 850
حدیث نمبر: 4576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر میں جاتے وقت قرآن کریم اپنے ساتھ نہ لے جایا کرو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1869
حدیث نمبر: 4577
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) سَمِعْت سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْت سُفْيَانَ ، قَالَ : إِنَّهُ " نَذَرَ ، يَعْنِي : أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَمَرَهُ " , قِيلَ لِسُفْيَانَ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
امام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے مسجد الحرام میں اعتکاف کر نے کی منت مانی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منت کو پورا کر نے کا حکم دیا کسی نے سفیان سے پوچھا کہ یہ روایت ایوب نے نافع سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ منت مانی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4578
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر ، أَنَّهُ قَالَ : " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر مسلمان پر حق ہے کہ اس کی تین راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1627
حدیث نمبر: 4579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ ، فَبَلَغَتْ سِهَامُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا ، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4338، م: 1749
حدیث نمبر: 4580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِضَجْنَانَ ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ نَادَى أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ مُنَادِيًا فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ أَوْ الْبَارِدَةِ : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وادی ضجنان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کا اعلان کروایا ، پھر یہ منادی کر دی کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں نماز کا اعلان کر کے یہ منادی کر دیتے تھے کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَدْ اسْتَثْنَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کر لے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کر لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4582
(حديث مرفوع) قَرِأَ عَلَيَّ سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل سے پیدا ہونے والے بچے کی جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے پیٹ میں ہی بیع کر نے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2256، م:1514
حدیث نمبر: 4583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ أَوْ الْعَصَا فِيهِ مِئَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، وَقَالَ مَرَّةً : الْمُغَلَّظَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً ، فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا ألاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ وَدَعْوَى ، وَقَالَ مَرَّةً : وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ ، فَإِنِّي أُمْضِيهِمَا لِأَهْلِهِمَا عَلَى مَا كَانَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کہ دن خانہ کعبہ کی سیڑھیوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو تن تنہا شکست دی، یاد رکھو لکڑی یا لاٹھی سے مقتول ہو جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے۔ بعض اسانید کے مطابق اس میں دیت مغلظہ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹیاں بھی ہوں گی ۔ یاد رکھو ! زمانہ جاہلیت کا ہر تفاخر ،ہر خون اور ہر دعوی میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے البتہ حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ شریف کی کلید برداری کا جو عہدہ ہے میں اسے ان عہدوں کے حاملین کے لئے برقرار رکھتا ہوں جب تک دنیا باقی ہے (یہ عہدے ان ہی لوگوں کے پاس رہیں گے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف ابن جدعان
حدیث نمبر: 4584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ صَدَقَةَ ابْنُ عُمَر ، يَقُولُ : يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَسَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذي الْحُلَيْفَةِ " ، قَالُوا لَهُ : فَأَيْنَ أَهْلُ الْعِرَاقِ ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے، اہل شام جحفہ سے، اہل یمن یلملم اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔ “ لوگوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اہل عراق کہاں گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت اس کی میقات نہیں تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1525 م: 1182
حدیث نمبر: 4585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ يَحُطَّانِ الذُّنُوبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، سفيان ابن عيينة سمع من عطاء ابن السائب قبل الإختلاط
حدیث نمبر: 4586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو : ابْنِ عُمَرَ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا ، حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ، فَتَرَكْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ زمین مزارعت پر دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے بعد میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے چنانچہ ہم نے اسے چھوڑ دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3343، م: 1547
حدیث نمبر: 4587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو : سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ : " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ : " لَا مَالَ لَكَ ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا ، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے کوئی ایک تو یقیناً جھوٹا ہے اور اب تمہیں اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے، اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا مال ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کوئی مال نہیں ہے، اگر اس پر تمہارا الزام سچا ہے تو اسی مال کے عوض تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کیا تھا اور اگر اس پر تمہارا الزام جھوٹا ہے پھر تو تمہاے لئے یہ بات بہت بعید ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5312، م: 1493
حدیث نمبر: 4588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : ابْنُ عَمْرٍو ؟ قَالَ : لَا ، ابْنُ عُمَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ ، وَلَمْ يَقْدِرْ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ ، قَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، فَكَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَرِهُوا ذَلِكَ ، فَقَالَ : " اغْدُوا " ، فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور اس سے کچھ فائدہ نہ ہو سکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اعلان کروا دیا کہ کل ہم لوگ ان شاء اللہ واپس چلیں گے، مسلمانوں کو اس حکم پر اپنی طبیعت میں بوجھ محسوس ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکنے کے لئے فرما دیا ، چنانچہ اگلے دن لڑائی ہوئی تو اس میں مسلمانوں کے کئی آدمی زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن پھر یہی اعلان فرمایا کہ کل ہم لوگ ان شاء اللہ واپس چلیں گے اس مرتبہ مسلمان خوش ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ مسکر انے لگے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4325، م: 1778
حدیث نمبر: 4589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ، ثُمَّ يُعْتَقُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے سے اسے آزاد کر دے تو دوسرے کے مالدار ہونے کی صورت میں اس کی قیمت لگوائی جائے گی جو حد سے زیادہ کم یا زیادہ نہ ہو گی ( اور دوسرے کو اس کا حصہ دے کر ) غلام مکمل آزاد ہو جائے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2503، م: 1501
حدیث نمبر: 4590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ : بِعْتُ مَا فِي رُؤُوسِ نَخْلِي بِمِئَةِ وَسْقٍ ، إِنْ زَاد فَلَهُمْ ، وَإِنْ نَقَصَ فَلَهُمْ ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : " نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
اسماعیل شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے باغ کی کھجوروں کو سو وسق کے بدلے بیچ دیا کہ اگر زیادہ ہوں تب بھی ان کی اور کم ہوں تب بھی ان کی، پھر میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، البتہ اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، بَيْنَهُمَا سَالِمٌ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 882
حدیث نمبر: 4592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے وقت بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1180،
حدیث نمبر: 4593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَر ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَأَبِي ، وَأَبِي ! فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا ، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ ، وَإِلَّا فَلْيَصْمُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2679، م: 1646
حدیث نمبر: 4594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلَ ، فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ ، وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ ، إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروایا ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں ”حفیاء“ سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1870
حدیث نمبر: 4595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْعُمْرَةَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ بِمَكَّةَ أَمْرًا ، فَقَالَ : " أُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ ، فَإِنْ حُبِسْتُ ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ، فَلَمَّا سَارَ قَلِيلًا ، وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ إِلَّا سَبِيلُ الْحَجِّ ، أُوجِبُ حَجًّا ، وَقَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا ، فَإِنَّ سَبِيلَ الْحَجِّ سَبِيلُ الْعُمْرَةِ ، فَقَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ، أَتَى قُدَيْدًا ، فَاشْتَرَى هَدْيًا ، فَسَاقَهُ مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے، لوگوں نے بتایا کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں شورش بپا ہے انہوں نے فرمایا : میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، پھر چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے۔ چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور سات چکر لگا کر ایک طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ انہوں نے مقام ”قدیر“ پر پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا اور اپنے ساتھ لے گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 1639، م: 1230
حدیث نمبر: 4596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " أَتَى قُدَيْدًا ، وَاشْتَرَى هَدْيَهُ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مقام ”قدیر“ پر پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا حرم شریف پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 1639، م: 1230
حدیث نمبر: 4597
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ : أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ ، بَلَغَ الْمَوْتُ شَاةً مِنْهَا ، فَأَخَذَتْ ظُرَرَةً ، فَذَكَّتْهَا بِهِ ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے بنو سلمہ کے ایک آدمی کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو ”سلع“ میں ان کی بکریاں چرایا کر تی تھی ان بکریوں میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس باندی نے تیز دھاری دار پتھر لے کر اس بکری کو اس سے ذبح کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ 5502
حدیث نمبر: 4598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نجِيحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى ، فَلَمَّا غَرُبَتْ الشَّمْسُ ، هِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ : الصَّلَاةَ ، حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ ، وَذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ، " نَزَلَ ، فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ ، وَالْتَفَتَ إِلَيْنَا ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
بنو اسد بن عبدالعزی کے اسماعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چراگاہ کے لئے نکلے سورج غروب ہو گیا ، پھر جب رات کی تاریکی چھانے لگی تو انہوں نے اتر کر ہمیں پہلے تین اور پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1805
حدیث نمبر: 4599
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارَةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ " ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ : هِيَ النَّخْلَةُ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، فَسَكَتُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کے سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ، اس دوران میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک ہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کہیں سے کھجوروں کا ایک گچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ )“ میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے دیکھا تو اس مجلس میں شریک تمام لوگوں میں سب سے زیادہ چھوٹا میں ہی تھا ، اس لئے خاموش ہو گیا، پھر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 72، م: 2811
حدیث نمبر: 4600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے اس وقت ان کی عمر بیس سال تھی ان کے پاس ایک ڈٹ جانے والا گھوڑا اور ایک بھاری نیزہ بھی تھا ، وہ جا کر اپنے گھوڑے کے لئے گھاس کاٹنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازیں دے دے کر انہیں روکا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، و قول مجاهد: شهد ابن عمر الفتح....محمول على أنه سمع ذلك منه، لطول ملازمته له، وقد سمع منه شيئا كثيرا، و حديثه عنه في «الصحيحين الصحيحين»
حدیث نمبر: 4601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ المعنى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ ، قَالَ وَكِيعٌ السَّدُوسِيِّ أَبِي الْبَزَرِيِّ : ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ؟ فَقَالَ : قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَشْرَبُ قِيَامًا ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن عطارد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا حکم پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھا لیتے تھے۔ (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں ؟ ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو البزري لم يروعنه إلا عمران ابن حدير، قال ابو حاتم في الجرح و التعديل 9 / 282: لا يحتج به، فهو مجهول، لم يوثقه غير ابن حبان
حدیث نمبر: 4602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا " يَبْدَؤُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ عید کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 963، م: 888
حدیث نمبر: 4603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر ا دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5311، م: 1493
حدیث نمبر: 4604
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5313، م: 1494
حدیث نمبر: 4605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے، جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے ؟ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (اس میں گندگی سرایت نہیں کرتی)۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، و هذا أسناد حسن، محمد ابن إسحاق صرح بالتحديث عند دارقطني، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 4606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَقِيتُ يَوْمًا فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ ، مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے اور قبلہ کی طرف پشت کر کے قضاء حاجت فرما رہے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 148، م: 266
حدیث نمبر: 4607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ نَقِيلُ فِيهِ ، وَنَحْنُ شَبَابٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مسجد میں قیلولہ کرنے کے لئے لیٹ اور سو جاتے تھے اور اس وقت ہم جوان تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 440، م: 2479