حدیث نمبر: 5962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الضَّبِّ ؟ فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اسے کھاتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 5963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ , وَحَمْزَةَ , ابني عبد الله بن عمر ، أن عبد الله بن عمر حدثهما ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشُّؤْمُ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نحوست تین چیزوں میں ہو سکتی تھی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں ۔
حدیث نمبر: 5964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مؤمن کو ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا ۔ “
حدیث نمبر: 5965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْأَسْوَدَ كُلَّ طَوْفَةٍ ، وَلَا يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے طواف میں صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے تھے ، اس کے بعد والے دو کونوں کا استلام نہیں فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 5966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى ، إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نماز عصر کے بعد سورج ابھی جبل قعیقعان پر تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”گزشتہ امتوں کی عمروں کے مقابلے میں تمہاری عمریں ایسی ہیں جیسے دن کا یہ باقی حصہ کہ گزشتہ حصے کی نسبت بہت تھوڑا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأَ وَيَرْقُدَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، یا رسول اللہ ! اگر میں رات کو ناپاک ہو جاؤں اور غسل کرنے سے پہلے سونا چاہوں، تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شرمگاہ دھو کرنماز والا وضو کر کے سو جاؤ ۔“
حدیث نمبر: 5968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا ۔ “
حدیث نمبر: 5969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَعُصَيَّةُ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قبیلہ اسلم ، اللہ اسے سلامت رکھے ، قبیلہ غفار، اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ “
حدیث نمبر: 5970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ ، فَقَالَ : " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ : لَا خِلَابَةَ " ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی کہ لوگ مجھے بیع میں دھوکہ دے دیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے چنانچہ وہ آدمی یہ کہنے لگا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 5971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذْتُهُ " ، وَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ أَلْبَسُهُ أَبَدًا " فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
حدیث نمبر: 5972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا سَاقِطًا يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " لَا تَجْلِسْ هَكَذَا ، إِنَّمَا هَذِهِ جِلْسَةُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے نماز میں اپنا ہاتھ گرا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس طرح مت بیٹھو، یہ عذاب یافتہ لوگوں کے بیٹھنے کا طریقہ ہے ۔ “
حدیث نمبر: 5973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ الْعُمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرَقِ الْأَرُزِّ ، فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا صَاحِبُ فَرَقِ الْأَرُزِّ ؟ قَالَ : " خَرَجَ ثَلَاثَةٌ ، فَغَيَّمَتْ عَلَيْهِمْ السَّمَاءُ ، فَدَخَلُوا غَارًا ، فَجَاءَتْ صَخْرَةٌ مِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ حَتَّى طَبَّقَتْ الْبَابَ عَلَيْهِمْ ، فَعَالَجُوهَا ، فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهَا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِي أَمْرٍ عَظِيمٍ ، فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ ، لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُنْجِيَنَا مِنْ هَذَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَكُنْتُ أَحْلُبُ حِلَابَهُمَا ، فَأَجِيئُهُمَا وَقَدْ نَامَا ، فَكُنْتُ أَبِيتُ قَائِمًا وَحِلَابُهُمَا عَلَى يَدِي ، أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِأَحَدٍ قَبْلَهُمَا ، أَوْ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا ، وَصِبْيَتِي يَتَضَاغَوْنَ حَوْلِي ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا ، قَالَ : فَتَحَرَّكَتْ الصَّخْرَةُ ، قَالَ : وَقَالَ الثَّانِي : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ ، لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِمَّا خَلَقْتَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهَا ، فَسُمْتُهَا نَفْسَهَا ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ دُونَ مِئَةِ دِينَارٍ ، فَجَمَعْتُهَا ، وَدَفَعْتُهَا إِلَيْهَا ، حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ ، فَقَالَتْ : اتَّقِ اللَّهَ ، وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ ، فَقُمْتُ عَنْهَا ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا ، قَالَ : فَزَالَتْ الصَّخْرَةُ حَتَّى بَدَتْ السَّمَاءُ ، وَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنْ أَرُزٍّ ، فَلَمَّا أَمْسَى عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ ، وَذَهَبَ وَتَرَكَنِي ، فَتَحَرَّجْتُ مِنْهُ ، وَثَمَّرْتُهُ لَهُ ، وَأَصْلَحْتُهُ ، حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا ، فَلَقِيَنِي بَعْدَ حِينٍ ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ ، وَأَعْطِنِي أَجْرِي ، وَلَا تَظْلِمْنِي ، فَقُلْتُ : انْطَلِقْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا فَخُذْهَا ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ ، وَلَا تَسْخَرْ بِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي لَسْتُ أَسْخَرُ بِكَ ، فَانْطَلَقَ ، فَاسْتَاقَ ذَلِكَ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ خَشْيَةً مِنْكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا , فَتَدَحْرَجَتْ الصَّخْرَةُ ، فَخَرَجُوا يَمْشُونَ " .
حدیث نمبر: 5974
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَمَاشَوْنَ ، أَخَذَهُمْ الْمَطَرُ ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ حَطَّتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ ، فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 5975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْكِلَابِ " فَكُنْتُ فِيمَنْ بَعَثَ فَقَتَلْنَا الْكِلَابَ ، حَتَّى وَجَدْنَا امْرَأَةً قَدِمَتْ مِنَ الْبَادِيَةِ ، فَقَتَلْنَا كَلْبًا لَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کتوں کو مارنے کے لئے چند لوگوں کو بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا ، ہم لوگ کتے مارنے لگے حتی کہ ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی، ہم نے اس کا کتا بھی مار دیا ۔
حدیث نمبر: 5976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَبَاءِ الْمَدِينَةِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ ، خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ ، حَتَّى أَقَامَتْ بِمَهْيَعَةَ " ، وَهِيَ الْجُحْفَةُ ، فَأَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى الْجُحْفَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میں نے خواب میں کالی کلوٹی بکھرے بالوں والی ایک عورت کو مدینہ سے نکلتے ہوئے دیکھا ، جو مہیعہ یعنی جحفہ میں جا کر کھڑی ہو گئی“ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبائیں اور آفات جحفہ منتقل ہو گئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 5977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِي ، ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ، ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ، وَإِنْ قَبَضْتُهُ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ وَأَرْحَمَهُ وَأُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پروردگار عالم کا یہ ارشادنقل فرمایا ہے، میرا جو بندہ بھی صرف میری رضاء حاصل کرنے کے لئے میرے راستے میں جہاد کے لئے نکلتا ہے، میں اس کے لئے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاؤں گا ، یا پھر اس کی روح قبض کر کے اس کی بخشش کر دوں گا ، اس پر رحم فرماؤں گا اور اسے جنت میں داخل کر دوں گا ۔
حدیث نمبر: 5978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ صَلَوَاتٍ : رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں۔ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے ۔
حدیث نمبر: 5979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، سَمِعْتُ جَدِّي يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوتے وقت بھی مسواک ہوتی تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے ۔
حدیث نمبر: 5980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو نماز عصر سے پہلے رکعتیں پڑھ لے ۔ “
حدیث نمبر: 5981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَقَدْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ ، فَقُلْتُ : مَا حَدَّثَ ؟ فَقَالُوا : قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا تو وہ ایک حدیث بیان کر چکے تھے ، میں نے لوگوں سے وہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قبیلہ غفار، اللہ اس کی بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم اللہ، اسے سلامت رکھے ۔ “
حدیث نمبر: 5982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَشْتَرِي هَذِهِ الْحِيطَانَ تَكُونُ فِيهَا الْأَعْنَابُ ، فَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَبِيعَهَا كُلَّهَا عِنَبًا حَتَّى نَعْصِرَهُ ، قَالَ : فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِي ؟ ! سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ أَكَبَّ وَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ ، وَقَالَ : " الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ " ، فَقَالَ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُكَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَقَالَ : " لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَلِكَ بَأْسٌ ، إِنَّهُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ ، فَتَوَاطَئُوهُ ، فَيَبِيعُونَهُ ، فَيَأْكُلُونَ ثَمَنَهُ ، وَكَذَلِكَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالواحد بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا ، اے ابوعبدالرحمن ! میں یہ باغات خرید رہا ہوں ، ان میں انگور بھی ہوں گے ، ہم صرف انگوروں کو ہی نہیں بیچ سکتے جب تک اسے نچوڑ نہ لیں ؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : گویا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے پوچھ رہے ہو ، میں تمہارے سامنے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، ہم لوگ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، پھر اسے جھکا کر زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا : بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اے اللہ کے نبی ! ہم تو بنی اسرائیل کے متعلق آپ کی یہ بات سن کر گھبرا گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہو گا ، اصل بات یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اتفاق رائے سے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانا شروع کر دی ، اسی طرح شراب کی قیمت بھی تم پر حرام ہے ۔“
حدیث نمبر: 5983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي ، وَآوَانِي ، وَأَطْعَمَنِي ، وَسَقَانِي ، وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ وَأَفْضَلَ ، وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، وَمَلِكَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَلَكَ كُلُّ شَيْءٍ ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو یوں کہتے : «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِكَ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ وَلَكَ كُلُّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ» اس اللہ کا شکر جس نے میری کفایت کی ، مجھے ٹھکانہ دیا ، مجھے کھلایا پلایا ، مجھ پر مہربانی اور احسان فرمایا ، مجھے دیا اور خوب دیا۔ ہر حال میں اللہ ہی کا شکر ہے ، اے اللہ ! اے ہر چیز کے رب ! ہر چیز کے مالک اور معبود ! ہر چیز تیری ہی ملکیت میں ہے ، میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 5984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ ، نَزَلَ بِهِمْ الْحِجْرَ ، عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ ، فَعَجَنُوا مِنْهَا ، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَرَاقُوا الْقُدُورَ ، وَعَلَفُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ ، حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا ، قَالَ : " إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال قوم ثمود کے تباہ شدہ کھنڈرات اور گھروں کے قریب کسی جگہ پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا ، لوگوں نے ان کنوؤں سے پانی پیا جس سے قوم ثمود پانی پیتی تھی اور اس سے آٹا بھی گوندھا اور گوشت ڈال کر ہنڈیا بھی چڑھا دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لوگوں نے ہنڈیاں الٹا دیں اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے کوچ کر گئے اور اس کنوئیں پر جا کر پڑاؤ کیا جہاں سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب یافتہ قوم کے کھنڈرات میں جانے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آ جائے جو ان پر آیا تھا ، اس لئے تم وہاں نہ جاؤ ۔
حدیث نمبر: 5985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ عَنِ الْمُخْتَارِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ دَجَّالًا كَذَّابًا " .
مولانا ظفر اقبال
یوسف بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کوفہ کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ مختار ثقفی کے متعلق بیان کرنے لگا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر ایسی ہی بات ہے جو تم کہہ رہے ہو تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے تیس دجال و کذاب لوگ آئیں گے۔
حدیث نمبر: 5986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا " ، فَقَالَ : لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فَعَلْتُ ، قَالَ : " بَلَى , قَدْ فَعَلْتَ ، وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِالْإِخْلَاصِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نہ یہ کام کیا ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ! انہیں، اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ وہ کام تو تم نے کیا ہے لیکن اخلاص کے ساتھ " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے تمہاری بخشش ہو گئی۔
حدیث نمبر: 5987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو بَكْرٍ السَّمَّانُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا " ، قَالُوا : وَفِي نَجْدِنَا ! , قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا " ، قَالُوا : وَفِي نَجْدِنَا ! , قَالَ : " هُنَالِكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ ، مِنْهَا أَوْ قَالَ بِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! ہمارے شام اور یمن میں برکتیں عطاء فرما، ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ! ہمارے نجد کے لئے بھی دعاء فرمائیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے، یا یہ کہ وہاں سے تو شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنَ الْفِطْرَةِ حَلْقُ الْعَانَةِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ " ، وَقَالَ إِسْحَاقُ مَرَّةً : وَقَصُّ الشَّوَارِبِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زیر ناف بالوں کو صاف کرنا، ناخن کاٹنا اور مونچھیں تراشنا فطرت سلیمہ کا حصہ ہیں۔
حدیث نمبر: 5989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا : ہے (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حدیث نمبر: 5990
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا : ہے (قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حدیث نمبر: 5991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الصُّورَةِ ، وَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ چہرے پر نشان پڑنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا : ہے۔
حدیث نمبر: 5992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرٌ ، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرٌ ، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرٌ ، وَمِنْ الزَّبِيبِ خَمْرٌ ، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گندم کی بھی شراب ہوتی ہے، کھجور، جو کشمش اور شہد کی بھی شراب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 5993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُذْبَحُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ ، يَا أَهْلَ النَّارِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ ، فَازْدَادَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ ، وَازْدَادَ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل جنت، جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لا کر جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک منادی پکار کر کہے گا اے جنت ! تم ہمیشہ جنت میں رہو گے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی اور اے جہنم ! تم ہمیشہ جہنم میں رہو گے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل جنت کی خوشی اور مسرت دو چند ہو جائے گی اور اہل جہنم کے غموں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 5994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منت ماننا کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کر سکتا البتہ منت ماننے سے کنجوس آدمی کے پاس سے کچھ نکل آتا ہے۔
حدیث نمبر: 5995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَنَفِيُّ يَمَامِيٌّ ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيَّ , يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ ، أَوْ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھے یا اپنی چال میں متکبرانہ چال کو جگہ دے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا۔
حدیث نمبر: 5996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سورج اور چاند کو کسی کی موت زندگی سے گہن نہیں لگتا یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لئے جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 5997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى رِجَالٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ، فَتَرَكَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے چند آدمیوں پر نام لے بددعاء فرماتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ یہ ظالم ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بددعاء دینا چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 5998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَفْرَى الْفِرَى مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَأَفْرَى الْفِرَى مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تَرَيَا ، وَمَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے بڑاجھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے نسب کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کرے یا وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو یا وہ جو زمین کے بیج بدل دے۔
حدیث نمبر: 5999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي ، قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي ، ثُمّ قُلْتُ : ارْكَبْ أَيْ عَمِّ ، قَالَ : أَيْ ابْنَ أَخِي ، لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَوَجَدْتُهَا ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَ فَيُصَلِّيَ فِيهِ " ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي ، قَالَ : فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ ، وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں اپنے خچر پر سوار ہو کر مسجد قباء سے آرہا تھا وہاں مجھے نماز پڑھنے کا موقع بھی ملا تھا راستے میں میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہو گئی جو پیدل چلے آرہے تھے، میں انہیں دیکھ کر اپنے خچر سے اترپڑا اور ان سے عرض کیا کہ چچاجان ! آپ اس پر سوار ہوجائیے، انہوں نے فرمایا : بھتیجے ! اگر میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو مجھے سواریاں مل جاتیں، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل جاتے ہوئے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پہنچ کرنماز بھی پڑھتے تھے اس لئے جیسے میں نے انہیں پیدل جاتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح خود بھی پیدل جانا پسند کرتا ہوں یہ کہہ کر انہوں نے سوار ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے راستے پر ہو لئے۔
حدیث نمبر: 6000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ، وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ " ، يَعْنِي السَّبَّابَةَ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں بیٹھتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس پر اپنی نگاہیں جما دیتے، پھر فرماتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہادت والی انگلی شیطان کے لئے لوہے سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 6001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرٍ ، عَنْ يُحَنَّسَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
…