حدیث نمبر: 5923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، فَإِنْ تَعَاهَدَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5031، م: 789.
حدیث نمبر: 5924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنَّا نَبْتَاعُ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِنَقْلِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ خرید و فروخت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس لوگوں کو بھیجتے تھے جو ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ اسے بیچنے سے پہلے اس جگہ سے ”جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے “ کسی اور جگہ منتقل کر لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، وَقَالَ : " مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قصة الاقتناء أخرجها البخاري، 5482، ومسلم 1547، والأمر بالقتل أخرجه البخاري: 3323، ومسلم: 1570.
حدیث نمبر: 5926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ , وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ , فَيُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر شخص کے سامنے جب وہ مر جاتا ہے صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے ، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہی ٹھکانہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1379، م: 2866.
حدیث نمبر: 5927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَإِسْحَاقُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ ، فَأَغْلَقَهَا ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا , مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ، ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ " ، قَالَ إِسْحَاقُ : وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون دائیں ہاتھ، ایک ستون بائیں ہاتھ اور تین ستون پیچھے چھوڑ کر نماز پڑھی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خانہ کعبہ کی دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا ، سالم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 505.
حدیث نمبر: 5927M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيسَ مِنَّا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5927M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7070، م: 98.
حدیث نمبر: 5928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانُوا يَتَوَضَّئونَ جَمِيعًا " ، قُلْتُ لِمَالِكٍ : الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں سب لوگ اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کر لیتے تھے ، میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مرد و عورت سب ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! میں نے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 193.
حدیث نمبر: 5929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا ، قَالَ : أَهْلُهَا نَبِيعُكِ عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
image
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2169.
حدیث نمبر: 5930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کسی شخص پر اگر کسی کا حق ہو تو اس پر دو راتیں اس طرح نہیں گزرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2738.
حدیث نمبر: 5931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْن عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو ، اگر تمہیں رونا نہ آتاہو تو وہاں نہ جایا کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آ پکڑے جو ان پر آیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 433.
حدیث نمبر: 5932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر کو ماہ رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1165.
حدیث نمبر: 5933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ ، قَالَ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص جب اپنے بھائی کو اے کافر ! کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2104.
حدیث نمبر: 5934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ اللَّيْلَةَ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ " ، فَاسْتَقْبِلُوهَا ، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا رخ کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 403، م: 526.
حدیث نمبر: 5935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ , أَوْ وَهْبِ بْنِ قَطَنٍ اللَّيْثِيِّ , شَكَّ إِسْحَاقُ , عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ ، فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ ، وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهَا : اجْلِسِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام ”یوحنس “کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی ایک باندی آگئی اور حالات کی سختی کا ذکر کر نے لگی اور ان سے مدینہ منورہ کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کی اجازت طلب کرنے لگی ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا : بیٹھ جاؤ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1377.
حدیث نمبر: 5936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : سَأَلْتُ مالِكًا , عَنِ الرَّجُلِ يُوتِرُ وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْتَرَ وَهُوَ رَاكِبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہو کروتر پڑھے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 999، م: 700.
حدیث نمبر: 5937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دو دو رکعتیں اور جب صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 43، م: 749.
حدیث نمبر: 5938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ قَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَقُلْ : وَعَلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو وہ «السام عليكم» کہتا ہے ، اس لئے اس کے جواب میں تم صرف «وعليك» کہہ دیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6928، م: 2164.
حدیث نمبر: 5939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ , أَنَّهُ خَرَجَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حُجَّاجًا ، حَتَّى وَرَدُوا مَكَّةَ ، فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ ، فَاسْتَلَمُوا الْحَجَرَ ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا ، ثُمَّ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ يُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ ، وَسَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ ، قَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قُلْنَا : أَهْلُ الْمَشْرِقِ ، وَثَمَّ أَهْلُ الْيَمَامَةِ ، قَالَ : فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ ؟ قُلْتُ : بَلْ حُجَّاجٌ ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ ، قُلْتُ : قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا ، فَكُنْتُ أَفْعَلُ كَذَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا مَكَانَنَا حَتَّى يَأْتِيَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، إِنَّا قَدِمْنَا ، فَقَصَصْنَا عَلَيْهِ قِصَّتَنَا ، وَأَخْبَرْنَاهُ مَا قَالَ : إِنَّكُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ ، قَالَ : أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ ، أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ ، كُلُّهُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بدر کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، مکہ مکرمہ پہنچ کر حرم شریف میں داخل ہوئے حجر اسود کا استلام کیا ، پھر ہم نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگا کر طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ، اچانک بھاری وجود کا ایک آدمی چادر اور تہبند لپیٹے ہوئے نظر آیا ، جو حوض کے پاس سے ہمیں آوازیں دے رہا تھا ، ہم اس کے پاس چلے گئے ، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا، تو پتہ چلا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگے کہ تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا : اہل مشرق ، پھر اہل یمامہ ، انہوں نے پوچھا کہ حج کرنے کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے ؟ ہم نے عرض کیا کہ حج کی نیت سے آئے ہیں ، وہ فرمانے لگے کہ تم نے اپنا حج ختم کر دیا ، میں نے عرض کیا کہ میں نے تو اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حج کیا ہے، اور ہر مرتبہ اسی طرح کیا ہے ؟ پھر ہم اپنی جگہ چلے گئے ، یہاں تک کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے ، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے سارا واقعہ ذکر کیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فتویٰ بھی ذکر کیا کہ تم نے اپنا حج ختم کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں ، یہ بتاؤ کہ کیا تم حج کی نیت سے نکلے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی حج کیا ہے اور ان سب نے اسی طرح کیا ہے جیسے تم نے کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 5940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ! فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا ، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! ! وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3753.
حدیث نمبر: 5941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ " رَأَى مَذْهَبًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَاجَهَةَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کے رخ چلتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأبي المغيرة رافع بن حنين.
حدیث نمبر: 5942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مذکرو مؤنث اور آزاد و غلام ، چھوٹے اور بڑے ہر مسلمان پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو واجب ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وهو متابع.
حدیث نمبر: 5943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ " يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ مِنَ الْحَجَرِ ، إِلَى الْحَجَرِ ، وَيَمْشِي أَرْبَعَةً " ، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں ”حجر اسود سے حجر اسود تک“ رمل اور باقی چار چکروں میں معمول کی رفتار رکھتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبد الله العمري - وإن كان ضعيفا- متابع.
حدیث نمبر: 5944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا ، وَسَائِرَ ذَلِكَ مَاشِيًا " ، وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر اور باقی ایام میں پیدل کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , كَانَ " لَا يَسْتَلِمُ شَيْئًا مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَسْتَلِمُهُمَا " وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں کرتے تھے ، صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5945
حدیث نمبر: 5946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا ، فَمَا أَحْلَلْنَا مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَحْلَلْنَا يَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے اور یوم النحر سے پہلے ہم نے اپنے اوپر کوئی چیز حلال نہیں کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِمَالِي بِثَمْغٍ ، قَالَ : " احْبِسْ أَصْلَهُ ، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں ثمغ نامی جگہ میں اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کی اصل تو اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَا صُمْتُ عَرَفَةَ قَطُّ , وَلَا صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَبُو بَكْرٍ , وَلَا عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے یوم عرفہ کا روزہ کبھی نہیں رکھا ، نیز اس دن کا روزہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما میں سے بھی کسی نے نہیں رکھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَدْرِي ، وَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سعید مقبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی شخص کے ساتھ کوئی بات کر رہے تھے، میں ان کے بیچ میں جا کر بیٹھ گیا ، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مار کر فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب دو آدمی آپس میں خفیہ بات کر رہے ہوں، تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا کر مت بیٹھو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري، وروي موقوفا وهو أصح.
حدیث نمبر: 5950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ ، وَيَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ ، وَيُلَبِّي إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ " ، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی کو رنگتے تھے ، رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہنتے تھے ، حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے تھے اور تلبیہ اس وقت پڑھتے تھے جب سواری انہیں لے کر سیدھی ہو جاتی اور بتاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله العمري.
حدیث نمبر: 5951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ مِنْ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَاءَ ، أَوْ نَحْوِ هَذَا ، فَرَآهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، إِنَّمَا هِيَ ثِيَابُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَنْفِعَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر دیکھا تو فرمایا کہ میں نے اسے تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا کیونکہ دنیا میں یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
حدیث نمبر: 5952
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
حدیث نمبر: 5953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً ، فَمَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا الْمُقَنَّعُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُوماً " ، قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتنوں کا تذکر ہ فرما رہے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی گزرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ اس موقع پر یہ نقاب پوش آدمی مظلوم ہونے کی حالت میں شہید ہو جائے گا، میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 5954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : " حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا الْجَرُّ ؟ قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابوعبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا، ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو انہوں نے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے، میں نے پوچھا ”مٹکے“ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1997، وهذا الإسناد ظاهره الانقطاع، لكن صرح قتادة عند أبي عوانة: 301/5 باتصاله كما سيرد.
حدیث نمبر: 5955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ يَذْكُرُ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ شَجَرَةً يُنْتَفَعُ بِهَا ، مِثْلَ الْمُؤْمِنِ ، هِيَ الَّتِي لَا يُنْفَضُ وَرَقُهَا " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ ، فَفَرِقْتُ مِنْ عُمَرَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَقُولُ : " هِيَ النَّخْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں ایک ایسا درخت جانتا ہوں جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور وہ مسلمان کی طرح ہے اور اس کے پتے بھی نہیں جھڑتے“ ، میں نے چاہا کہ کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ڈر گیا ، بعد میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 5956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، وَحُسَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُرَاهُ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ مَثَّلَ بِذِي الرُّوحِ ، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ حُسَيْنٌ : مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی ذی روح کا مثلہ کرے اور توبہ نہ کرے قیامت کا دن اللہ تعالیٰ اس کا بھی مثلہ کریں گے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 5957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الْمَكْتُوبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ تین مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز میں آیت سجدہ کی تلاوت فرمائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي.
حدیث نمبر: 5958
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَحْمَّد : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَوْ يَحُجَّ ، فَقَالَ : لَا تَتَزَوَّجْهَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی مکہ مکرمہ سے باہر کسی عورت سے نکاح کرنا چاہئے اور وہ حج یا عمرہ کا ارادہ بھی رکھتا ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حالت احرام میں نکاح نہ کرو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة.
حدیث نمبر: 5959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ مَقْتُولَةٍ ، فَقَالَ : " مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ ! " ثُمَّ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ یہ تو لڑنے والی نہیں تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، شريك سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 5960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا طَاوُسًا , يَقُولُ : جَاءَ وَاللَّهِ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ ، وَزَادَهُمْ إِبْرَاهِيمُ الدُّبَّاءَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ فِي حَدِيثِهِ وَالدُّبَّاءِ .
مولانا ظفر اقبال
طاؤس کہتے ہیں، واللہ ! ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1997.
حدیث نمبر: 5961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَيَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ : " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 5961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 844.